بلوچ عورت کے غم میں الباکستانی شاؤنسٹ ایک دم فیمن اسٹ کیوں بن گئے؟
فاروق سلہریا
معروف کینیڈین سکالر اور صحافی نومی کلائن کی کتاب ”شاک تھراپی“ (Shock Therapy)میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ حکمران طبقہ عوام دشمن معاشی منصوبے لاگو کرنے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کرتے ہیں جب لوگ یا کسی ملک کے شہری کسی گہرے صدمے کی حالت (Shock)میں ہوتے ہیں۔
نومی کلائن کا یہ کہنا درست ہے کہ نیو لبرل معاشی اقدامات (نج کاری، ڈاون سائزنگ، ترقی میں ریاست کے کردار کا خاتمہ، ٹیرف میں کمی یا خاتمہ)سب سے پہلے لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں متعارف کرائے گئے۔ چلی میں وہاں کی کمیونسٹ پارٹی نے الیکشن جیت کر حکومت بنائی۔ اس حکومت کے سربراہ ڈاکٹر الاندے تھے۔1970 میں،تاریخ میں پہلی بار کسی ملک میں کمیونسٹ پارٹی الیکشن میں جیت کر بر سر اقتدار آئی تھی(صوبائی سطح پر سب سے پہلے کیرالہ میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی نے اعزاز حاصل کیا)۔ڈاکٹر الاندے نے بے شمار عوام دوست اصلاحات متعارف کرائیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ چلی کی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی بڑی اشتراکی جماعتوں میں شمار ہوتی تھی (یہ بھی پڑھئے)۔
جس طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں امریکی سامراج کو سوشلسٹ اور ترقی پسند حکومتیں قبول نہ تھیں، چلی میں بھی ڈاکٹر الاندے کی حکومت واشنگٹن کو نا قابل قبول تھی۔
چلی کی فوج کے ساتھ مل کر رژیم چینج کا بندوبست کیا گیا۔1973 میں الاندے حکومت کی جگہ جنرل آگستو پنوشے کی قیادت میں ایک خونی آمریت ملک پر مسلط کی گئی۔ اس فوجی بغاوت میں ڈاکٹر الاندے ہاتھ میں پستول لئے،لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ ملک بھر میں ہزاروں کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کو یا تو ہلاک کیا گیا، جیلوں میں ڈال کر ٹارچر کیا گیایا انہیں زیر زمین جانا پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں جلا وطن ہوئے۔ جلا وطنوں کی ایک بڑی تعداد سویڈن آ گئی۔ اَسی کی دہائی میں سویڈن کے اندر سب سے بڑی مہاجر کمیونٹی چلی کی کمیونٹی سمجھی جاتی تھی۔
یادش بخیر: الاندے حکومت کا تختہ بھی گیارہ ستمبر کو الٹا گیا تھا (جب امریکی 9/11 کی سالانہ تقریب منعقد کرتے ہیں تو چلی کے لوگ سامراج کو الاندے حکومت کے خلاف ہونے والے گیارہ ستمبر کی یاد دلاتے ہیں)۔
ایسے میں کہ جب چلی کے لوگ صدمے کی حالت میں تھے، پنوشے آمریت نے نئیو لبرل معاشی منصوبے شروع کئے اور عوام دوست اصلاحات کا خاتمہ کر نا شروع کر دیا۔
شاک تھراپی کی تھیوری کے مطابق جنگ، قدرتی آفات یا پنوشے آمریت کی شکل میں جب لوگ شاک کی حالت میں جاتے ہیں تو ایسے صدمات کو حکمران طبقہ اپنے معاشی مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ جب انسان صدمے سے دو چار ہوں تووہ فوری طور پر رد عمل دینے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہ منجمند ہو جاتے ہیں۔ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ وقتی طور پر بے عمل ہو جاتے ہیں۔ گو نومی کلائن نے اپنا نظریہ معیشیت تک ہی رکھا مگر اسے سیاست کے حوالے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اکثر اوقات،شاک تھراپی کی تھیوری سیاست بارے بھی درست ہے۔
بانو ساتکزئی اور شاک تھراپی
چند روز قبل، جب بلوچستان میں بانو ساتکزئی (معلوم نہیں ان کا نام شیتل کیوں مشہور کیا گیا) کے ساتھ ہونے والے ظلم کی ویڈیو وائرل ہوئی تو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے ایسے کئی حلقے سوشل میڈیا پر بانو ساتکزئی کی حمایت میں سامنے آئے جو عام طور پر غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں جب نور مقدم کا سر ایک ارب پتی جنونی نے کاٹ دیا یا چند روز قبل،اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی تو عورت مارچ کو گالیاں دی جا رہی تھیں۔ کہا جا رہا تھا: میرا جسم میری مرضی کا یہی انجام ہوتا ہے۔
یہ غیرت برگیڈ بانو ساتکزئی کے معاملے میں اس حوالے سے چپ رہا۔اچانک اربن مڈل کلاس کو کراچی سے لاہور تک، بلوچ عورت پر ہونے والے ظلم،بلوچستان کے سرداری نظام اور میرا جسم میری مرضی کا الاپ راگتے سنا جا سکتا تھا۔ معلوم نہیں، خواجہ آصف نے مندرجہ ذیل بیان دیا تھا یا نہیں (سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی باتوں کا اعتبار ذرا مشکل ہوتا ہے)۔ اگر نہیں بھی دیا،اور یہ جعلی بیان ہے تو بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قسم کا بیانیہ پروان چڑھایا گیا۔ اگر بیان دیا ہے تو سمجھئے حکمران طبقے کے افراد نے خود شاک تھراپی کا سیاسی استعمال کیا۔
خواتین،بچوں یا سویلین افراد کی جان کوئی بھی لے،کسی بھی مقدس یا غیر مقدس بہانے سے یہ جان لی جائے۔۔۔ہم اس ظلم کے خلاف ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی اگر مگر نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جب بالا دست طبقے بانو ساتکزئی ہو یا نور مقدم یا حمیرا اصغر۔۔۔شاک تھراپی کو اپنی سیاست،اپنی آئیڈیالوجی پروان چڑھانے کے لئے استعمال کریں تو اس گھناونے کھیل کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ محنت کش طبقے اور نوجوانوں کو ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔
اسمیں شک نہیں کہ بلوچ سماج میں پشتون،سندھی، سرائیکی،یا ریاست جموں کشمیر کی مختلف اکائیوں کی طرح، بے شمار قابل افسوس سماجی اقدار موجود ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس اندورونی ظلم (internal oppression) کو بہانہ بنا کر ان خطوں کے لوگوں سے ان کا حق خود ارادی اور ان کے جمہوری حقوق چھین لئے جائیں۔
ہم نے دیکھا،جیسا کہ خواجہ آصف والے ٹویٹ سے ظاہر ہوتا ہے،بانو ساتکزئی کے قتل کو بہانہ بنا کر بلوچ قومی تحریک کو ڈِس کریڈٹ کرنے،اس کی ساکھ ختم کرنے، اس کو بدنام کرنے، اس کے جائز مطالبات کو ناجائز ثابت کرنے کے لئے شاک تھراپی کا استعمال کیا گیا۔
یہ ایک روایتی سامراجی اور استعماری طریقہ کار ہے: ہندوستان میں ستی ہوتی ہے لہذا یہاں پر گوروں کی حکومت ہونی چاہئے، افغانستان میں عورتوں پر برقع مسلط کر دیا گیا ہے لہذا یہاں امریکہ کو حملے کی اجازت ہے، ایران میں (ان)مذہبی جنونیوں کی حکومت ہے (جو ہماری بات نہیں مانتے) اس لئے اس پر ہمارے بدمعاش اسرائیل (جو ایرانی ملاوں سے زیادہ مذہبی جنونی ہے) کو بم گرانے کی اجازت ہے۔ظلم،جبر،استحصال سامراج کرے یا اس کے مقامی گماشتے، نا قابل قبول ہے۔
کیا کیا جائے
لیکن عورت پر ظلم،پدر سری، غیرت کے نام پر قتل ایک مسئلہ تو ہے؟
ابھی چند دن قبل، ہندوستان میں ایک نوجوان ٹینس سٹار کو اس کے باپ نے اس لئے قتل کر دیا کہ گاوں کے لوگ اسے بیٹی کی کمائی کھانے کا طعنہ دیتے تھے۔ عورت بلوچ ہو یا سندھی اور پنجابی یا ہندوستان کی کسی ریاست سے۔۔۔ان سب کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ پھر یہ محض عورت کی جدوجہد نہیں۔ عورت کی آزادی کے بغیر قومی اور طبقاتی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی۔بطور سوشلسٹ ہم ہر طرح کے استحصال اور جبر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لئے غیرت کے نام پر قتل ہو یا افغانستان کی خواتین پر کالج کے دروازے بند کر دئے جائیں، ہمیں یہ سارے مسئلے حل کرنے ہیں۔ مسئلہ حل کرنے کے لئے،پہلے اس مسئلے کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ایک طرف اگر برصغیر کی عورت کے مشترکہ مسائل ہیں وہاں ہر علاقے کی کچھ مقامی خصوصیات بھی ہیں۔ ذیل میں بلوچ دانشور زولفقارعلی زلفی کی فیس بک پوسٹ نقل کر رہا ہوں جس میں بانو ستاکزئی کے قابل مذمت قتل کے حوالے سے انہوں نے ہم سب کو دعوت فکر دی ہے:
”بلوچستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل نئی چیز نہیں ہے۔ سیاہ کاری ہمارے سماج میں ایک معمول کا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان ہر مہینے دو تین ریکارڈڈ آنر کلنگ کی رپورٹیں شائع کرتا ہے۔ کونسل صرف وہ رپورٹیں شائع کرتا ہے جو دستاویزی صورت میں درج ہوں وگرنہ بلوچستان کے طول و عرض میں متعدد چیخیں دب جاتی ہیں۔حالیہ سانحہ بھی ایک معمول کے واقعے کی طرح دب جاتا اگر قاتل اپنی سفاکیت کو خود ویڈیو کی صورت محفوظ کرکے شیئر نہ کرتے۔ اس ویڈیو پر مختلف اقسام کے ردعمل سامنے آئے مگر دو رجحانات حاوی رہے۔ ایک گروہ نے سانحے کو افسانوی رنگ دے کر مقتول خاتون کو ہمت و جرات کا استعارہ قرار دیا۔ دوسرے گروہ (بیشتر پنجابی) نے اس سانحے کو بنیاد بنا کر بلوچ قومی تحریک کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بیہودہ کوشش کی۔بلوچستان میں سیاہ کاری ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ پیچیدہ پیداواری رشتے، طویل نوآبادیاتی نظام اور اس کے نتیجے میں قبائلی نظم و ضبط کی شکست و ریخت نے صنفی سوال کو از حد گنجلک بنا دیا ہے۔ نوآبادیاتی جبر، پرتشدد قومی تحریک، عورت کا اس میں فعال کردار اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال نے معاملے کی پیچیدگی کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ اس تناظر میں مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو افسانوں، ناولوں یا فلموں کی صورت بیان کرنا آگاہی بڑھا سکتا ہے لیکن کسی مخصوص حقیقی سانحے کو افسانہ بنا کر پیش کرنا سانحے کی شدت کو کم کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔حالیہ سانحہ جس میں احسان سمالانی اور بانو ساتکزئی کو پسند کی شادی کرنے کی پاداش میں باقاعدہ جرگے کے ذریعے گولی مار کر قتل کیا گیا کو افسانہ بنا کر پیش کرنا، حقیقی کرداروں کو شیتل و زرک کے نام سے معروف کرکے لڑکی کی عظمت کے گُن گانا مسئلے کی تفہیم میں مدد کرنے کی بجائے اسے گلوریفائی کرتا نظر آیا۔ لڑکی کا جملہ ”صرف گولی مارنے کی اجازت ہے اس کے سوا کچھ نہیں“ کسی جرات مندی کی نہیں بیچارگی اور عدم تحفظ کی علامت ہے۔ یقیناً سماج کے ٹھیکے داروں نے جرگے کے ذریعے صرف گولی مار کر قتل کرنے کا فیصلہ سنایا ہوگا۔ لڑکی اپنے قاتلوں کو یاد دلا رہی ہے کہ ہمیں صرف قتل کرنے کا حکم ملا ہے تشدد یا توہین سے گریز کیا جائے۔ اس کے باوجود احسان کو متعدد گولیاں مار کر اس کے خون سے ہاتھ دھونے کا وحشت ناک عمل بھی انجام دیا جاتا ہے۔ اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا کر دیگر خواتین کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اختیار اور آزادی کے مطالبے کی کیا قیمت ادا کرنی ہوگی۔ قومی جبر کا شکار بلوچ معاشرہ ہمہ اقسام کے تشدد کا روزانہ مشاہدہ و تجربہ کرتے کرتے خود بھی ایک متشدد سماج بن چکا ہے۔ قدیم روایات اور جدید معیارِ زندگی کے تضادات نے معاشرے کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔ تشدد کے اس سلسلے کی سب سے بڑی قیمت محنت کش طبقے کی عورتیں اور بچے ادا کر رہے ہیں۔ یہ عمل کسی بھی صورت گلوریفائی کرنے کی متقاضی نہیں ہے۔ بانو کوئی مزاحمت کار نہیں تھی۔ وہ ایک عام سی لڑکی تھی جس نے اپنے جواں سپنوں کو تعبیر دینے کا فطری قدم اٹھایا اور اس کی پاداش میں بے رحمی سے قتل کردی گئی۔ بانو سمیت سیاہ کاری کے نام پر قتل کی گئیں اور مستقبل میں قتل ہونے والی تمام عورتیں زندگی اور آزادی کی طلب گار ہیں۔ انہیں سوشل میڈیائی ٹرینڈز بنا کر دو دن کا ماتم کرنا دوہرا ظلم ہے۔ ہم جانتے ہیں سیاہ کاری محض نام نہاد غیرت سے منسلک نہیں ہے۔ اس قبیح رسم کے ذریعے پیسے کمانے کی ہوس بھی شامل ہے۔ اسی طرح وٹہ سٹہ، کم عمری کی شادی اور خون بہا کے طور پر اس کی دشمن کو حوالگی بھی قتل کے مترادف ہیں۔اب چوں کہ صنفی جبر کوئی علیحدہ اکائی نہیں بلکہ اس کا قومی و طبقاتی جبر سے گہرا تعلق ہے اس لئے چند افراد کو سزائیں دینے یا لعن طعن کرنے سے کسی حل کی امید رکھنا عبث ہے۔یہ ہمہ گیر، طویل اور صبر آزما جدوجہد ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین قیادت سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ قومی جبر کے پہلو میں اپنی صنف پر جاری تشدد کے خلاف بھی عوام کو منظم کرے۔دوسرا گروہ یعنی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جنہوں نے اس سانحے کو بلوچ تحریک کے خلاف بیانیہ بنانے کا سنہری موقع سمجھا، ہماری نسبت زیادہ مریضانہ کیفیت میں مبتلا ہیں۔ وہ سیاہ کاری کی منفی روایت سے نبرد آزما بلوچ عورت کی بے بسی اور مظلومیت کو ریاستی بیانیے کی حقانیت ثابت کرنے کا ہتھیار بنانے کی غیر انسانی حرکت میں مشغول ہیں۔بلوچ عورت سے صرف سیاہ کاری کے نام پر زندگی نہیں چھینی جا رہی بلکہ اس کا گلا جبری گم شدگان کے متاثرین کی صورت بھی کاٹا جارہا ہے۔ محنت کش بلوچ عورت قومی، طبقاتی اور صنفی تشدد کا بیک وقت سامنا کر رہی ہے جس نے اس کی زندگی کو مرد کی نسبت زیادہ مشکل اور بدنما بنا رکھا ہے۔ ایسے میں اس پر جاری صنفی جبر کو اس پر ہونے والے طبقاتی و قومی جبر کا جواز بنانا ایک نئی قسم کا تشدد ہے۔میری نگاہ میں ریاستی بیانیے سے چپکے افراد کے بیہودہ مباحث کو نظر انداز کرکے ہمیں اپنے سماج کو مزید بہتر بنانے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں ہر بانو اور احسان کے لئے لڑنا ہوگا۔ صرف اس لئے نہیں کہ انہیں محبت کرنے کی آزادی ملے بلکہ اس لئے کہ وہ ایک آزاد انسان کی صورت زندہ رہ سکیں۔ کوئی بانو بندوقوں کے سائے میں درخواست نہ کرے کہ صرف گولی مارو یا میرے شوہر کو میرے بعد قتل کرو۔ یاد رہے، بانو کا شوہر صرف قتل نہیں ہوتا یا خود بانو محض قتل نہیں ہوتی بلکہ بانو کا شوہر جبراً لاپتہ بھی ہوتا ہے، اس کی مسخ لاش بھی ملتی ہے، بانو کو دیکھ کر نوآبادیاتی جج عدالت چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے، مقید بانو اپنے ہتھکڑی لگے والد کو گلے لگاتے روہانسی بھی ہوتی ہے۔
یہ جدوجہد طویل اور صبر آزما ہے۔ متاثرین کو گلوریفائی کرکے ذہنی مشت زنی کی بجائے بے رحم حقائق کا بے رحمی سے سامنا کرنا ہوگا۔“
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

