← Back to Newsroom OS خبریں

بلوچ، کشمیری خواتین کی جدوجہد: برقعے بارے لبرل بھی غلط تھے، ملا بھی

By Roznama Jeddojehad • 2026-07-08 • 2 min read

فاروق سلہریا

گیارہ ستمبر کے بعد، برقعے پر دنیا بھر میں بحث ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم دنیا میں یہ بحث سو سال سے جاری ہے۔جب سے جدیدیت نے مغربی سامراج کی شکل میں مسلم دنیا کا رخ کیا ہے، یہ بحث جاری ہے۔

افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد یہ بحث ایک تو اس لئے اہم ہو گئی کہ اس قبضے کو جواز دینے کے لئے بتایا گیا کہ افغانستان پر سامراجی یلغار کا مقصد افغان عورت کی برقعے سے آزادی ہے جو طالبان نے اس پر مسلط کیا ہے۔

ادہر، فرانس جیسے ملکوں نے سیکولر زم کے نام پر فرانس میں برقعہ پہننے پر ایک طرح کی پابندی لگا دی۔ بعد ازاں، یورپ کے دیگر ممالک میں بھی حجاب پر مختلف طرح کی پابندیاں لگیں یا حجاب پر زبردست بحث ہوئی۔

اس بحث میں ایک طرف اسلامو فوبک لبرل تھے جو با پردہ، حجاب یا برقعے والی خواتین کو ڈی ہیومنائز کر رہے تھے(اور کرتے آ رہے ہیں)۔ دوسری طرف ملاں تھے جو یہ دعوی کر رہے تھے (اور کرتے ہیں) کہ چادر اور چار دیواری میں عورت محفوظ رہتی ہے۔

چند سال پہلے بلوچ عورت سر پر چادر لئے ،بعض اوقات منہ پر نقاب لئے ریاستی جبر کے خلاف سڑک پر نکلی تو مزاحمت کی علامت بن گئی۔

اب جموں کشمیر انتفادہ کے دوران ریاستی عورت بلوچ عورت کی طرح سر پر چادرلئے ،کبھی منہ پر نقاب لئے سڑک پر نکل آئی ہے۔

دونوں کی ہمت،جرات اور بہادری نے ثابت کیا ہے کہ اسلاموفوبک لبرل بھی غلط تھے، اور ملاں بھی۔

اسلاموفوبک لبرل کو ہم بتانا چاہتے ہیں:چادر اور برقعہ عورت پر مسلط کیا جاتا ہے ۔ لباس کی وجہ سے لیکن عورت انسان کے درجے سے نہیں گر جاتی۔

ملاں کو ہم بتانا چاہتے ہیں:چادر اور چار دیواری بندوق والے کے سامنے کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتے۔

ستم ظریفی دیکھئے! بندوق والے جب چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں تو بلوچستان سے لے کر جموں کشمیر تک، ملاں ریاست کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔

اسلامو فوبک لبرل بھی بلوچ یا جموں کشمیر کی عورت (جو اب اپنی بہادری کا سڑک پر کھڑے ہو کر اظہار کر رہی ہے) کا ساتھ دینے کی بجائے ریاست کے پنجابی شاونسٹ بیانئے کا پرچار کرتا نظر آتا ہے۔

(لباس پر راقم کا تیس سال سے شائع شدہ موقف: ریاست کو حق نہیں کہ ڈریس کوڈ لاگو کرے۔ ڈریس کوڈ افغانستان اور ترکی میں بھی غلط ہے، فرانس اور سوئٹزر لینڈ میں بھی غلط ہے۔ ہمیں ایسے سماج کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی جہاں عورت کا تحفظ لباس سے وابستہ ہو نہ اس کی تکریم لباس سے وابستہ ہو۔ وہ اپنے وجود، بدن اور لباس کا فیصلہ خود کر سکے اور اس کو کسی قسم کا کوئی خوف یا خدشہ نہ ہو)۔