بوسنیا کی جنگ میں مبینہ”اسنائپر ٹورازم“ میلان میں اطالوی شہریوں کے خلاف تحقیقات شروع
لاہور(جدوجہد رپورٹ)اٹلی کے شہر میلان میں استغاثہ نے ان اطالوی شہریوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990 کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران سرب فوجیوں کو رقم دے کر سارا یوو کا سفر کیا اور وہاں عام شہریوں پر گولیاں چلائیں۔
’گارڈین‘ کے مطابق 1992 سے 1996 تک جاری رہنے والے سارا یوو کے محاصرے میں 10ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ شہر پر چار سال تک گولہ باری اور اسنائپر فائرنگ جاری رہی، جسے جدید تاریخ کا سب سے طویل محاصرہ کہا جاتا ہے۔
محاصرے کے دوران اسنائپر فائرنگ سب سے خوفناک چیز تھی۔ فوجی پہاڑیوں سے سڑکوں پر چلنے والے عام لوگوں، حتیٰ کہ بچوں کو بھی نشانہ بناتے تھے۔
الزام ہے کہ کچھ اطالوی اور دیگر مغربی شہری، جنہیں ”اسنائپرٹورسٹ“ کہا جا رہا ہے، نے سرب فوجیوں کو پیسے دے کر شہر کے اردگرد پہاڑوں پر لے جانے کا انتظام کروایا تاکہ وہ وہاں سے عام لوگوں پر تفریحاً فائرنگ کر سکیں۔ یہ وہی فوج تھی جس کے سربراہ راڈووان کاراژچ کو 2016 میں نسل کشی کے جرم میں سزا ہوئی۔
میلان کے پراسیکیوٹر الیساندرو گوبی کی سربراہی میں تحقیقات کا مقصد ان اطالوی شہریوں کی نشاندہی کرنا ہے جن پر”ظالمانہ مقصد سے دانستہ قتل“کے الزامات لگ سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ میلان کے مصنف ایزیو گاوازینی کی درخواست پر شروع کیا گیا، جنہوں نے اس بارے میں شواہد اکٹھے کیے۔ سارا یوو کی سابق میئر بینیامینا کارچ نے بھی اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائی۔
گاوازینی کے مطابق انہوں نے 1990 کی دہائی میں اطالوی اخبارات میں ”اسنائپرٹوراسٹوں“کے بارے میں خبریں پڑھی تھیں۔ تاہم 2022 میں سلووینیا کے ہدایت کار میرین زوپانیچ کی دستاویزی فلم سارا یوو سفاری‘ دیکھنے کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے تحقیق شروع کی۔
اس فلم میں ایک سابق سرب فوجی نے دعویٰ کیا تھا کہ مغربی ممالک کے کچھ لوگ پہاڑوں سے عام شہریوں پر گولیاں چلاتے تھے۔ سرب سابق فوجیوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
گاوازینی نے کہا کہ”میں نے فلم کے ہدایت کار سے رابطہ کیا اور پھر مزید ثبوت جمع کیے۔ کافی شواہد اکٹھے ہونے پر میں نے مقدمہ پراسیکیوٹرز کے سامنے پیش کر دیا۔“
ان کا کہنا تھا کہ”کئی اطالوی اس میں ملوث تھے۔ صرف اطالوی نہیں بلکہ جرمن، فرانسیسی اور انگریز شہری بھی۔ یہ امیر لوگ تھے جنہوں نے تفریح کے لیے پیسے دے کر وہاں جا کر عام لوگوں پر گولیاں چلائیں۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ”یہ لوگ اٹلی کے شمالی شہر ٹریئیسٹے میں اکٹھے ہوتے، وہاں سے بلغراد جاتے اور سرب فوجی انہیں سارا یوو کے پہاڑوں پر لے جاتے۔ یہ دراصل جنگی سیاحت کی ایک خوفناک شکل تھی۔“
گاوازینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ مشتبہ اطالویوں کی شناخت کر لی ہے جن سے آئندہ ہفتوں میں تفتیش کی جائے گی۔
سارا یوو میں سب سے مشہور اسنائپر حملہ 1993 میں ہوا، جب ایک جوڑا ایک پل پار کرتے ہوئے مارا گیا۔ ان کی کہانی پر’رومیو اینڈ جولیٹ ان سارایوو‘نامی فلم بنی، جو جنگ کی بے رحمی کی علامت بن گئی۔
شہر کی مرکزی سڑک ”میشا سیلیمووچ بلیوارڈ“کو”اسنائپر ایلی“کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں سے گزرنا بہت خطرناک تھا مگر ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے یہی راستہ تھا۔ ٹراموں اور بسوں کی کھڑکیاں گولیوں سے چھلنی تھیں اور جگہ جگہ”اسنائپر سے خبردار رہیں“کے بورڈ لگے تھے۔
گاوازینی کے وکیل نکولا بریجیڈا نے کہا کہ”گاوازینی کی تحقیق کے بعد جو شواہد اکٹھے ہوئے ہیں وہ مضبوط ہیں، اور ان کی بنیاد پر حقیقی مجرموں تک پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔“