بڑی بہتان تراشی کا مہینہ
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
4 جولائی کی رات جب مزدور- سپاہیوں اور کسانوں کی دونوں مجالس عاملہ کے بے ثمر اجلا س جاری تھے،اُن تک ایک پراسرار افواہ پہنچی۔ لینن کے جرمن فوجی قیادت کے ساتھ روابط سے متعلق مواد دریافت ہوا تھا؛ اگلے دِن اخباروں نے اِن دستاویزات کو شائع کرنا تھا۔پس پردہ ہونے والے لا تعداد اجلاسوں میں جانے کے لیے ہال سے گزرتے ہوئے مجلس صدارت کے اداس جوتشی اپنے قریب ترین رفقا کے سوالات سے بھی تامل اور گریز کر رہے تھے۔عام لوگوں سے تقریباً خالی ہو چکا ٹاؤرائڈ محل ہکا بکا رہ گیا۔ ’’لینن جرمن فوج کے لئے کام کر رہا ہے؟‘‘ حیرانی، تشویس اور کینہ پرور خوشی نے مندوبین کو ہیجان زدہ گروہوں میں اکٹھا کر دیا۔ سوخانوف، جو جولائی کے دنوں میں بالشویکوں کے بہت خلاف تھا، کہتا ہے، ’’یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انقلاب سے حقیقی طور پر وابستہ کسی ایک بھی شخص کو ایک لمحے کے لئے بھی کوئی شک نہیں تھا کہ یہ افواہیں سراسر بکواس تھیں۔‘‘ لیکن ایک انقلابی ماضی سے وابستہ [سوخانوف جیسے] لوگ مجلس عاملہ کے اراکین میں ایک چھوٹی سی اقلیت تھے۔سوویت کے حکمران اداروں پر بھی انقلاب کی پہلی لہر کے ساتھ مارچ میں انقلابی ہو جانے والے لوگ حاوی تھے۔ اِن صوبائی لوگوں (منشی، دکاندار، دیہاتی سربراہان) میں سیاہ صد کی بدبو والے نمائندے بھی موجود تھے۔یہ لوگ فوراً خوش ہو گئے: اسی چیز کی تو توقع تھی! اُنہیں تو یہ سب کچھ پہلے سے معلوم تھا!
واقعات کے اس اچانک اور تیز موڑ سے تشویش میں مبتلا رہنماؤں نے وقت حاصل کرنے کی کوشش کی۔شکائدز اور سریتیلی نے ٹیلی فون کر کے اخبارات کو مشورہ دیا کہ وہ اِس سنسنی خیز انکشاف کو ’’غیرمصدقہ‘‘ گردانتے ہوئے شائع کرنے سے گریز کریں۔ مدیران نے ٹاؤرائڈ محل کی اِس ’’درخواست‘‘ کو نظر انداز کرنے کی جرات نہ کی، سوائے ایک کے۔ نوووئے وریمیا (Novoe Vremya) کے طاقتور ناشر سوورن کے ایک بیٹے کے شائع کردہ چھوٹے زرد اخبار نے اگلی صبح لینن کے جرمن حکومت سے ہدایات اور پیسے لینے کے بارے میں سرکاری معلوم ہونے والی دستاویز چھاپ دی۔ سوویت کی سنسر شپ ٹوٹ گئی اور ایک دن کے اندر اندر یہ سنسنی ساری پریس میں پھیلی ہوئی تھی۔ یوں واقعات سے بھرپور اس سال کی سب سے غیرمعمولی واردات کا آغاز ہوا: ایک انقلابی پارٹی کے رہنما، جن کی زندگیوں کی کئی دہائیاں شاہی اور غیرشاہی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد میں گزری تھیں، اُنہیں ملک اور ساری دنیا کے سامنے جرمن بادشاہت کے کرائے کے ایجنٹ بنا کر پیش کیا گیا۔ اِس بہتان تراشی کو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی وسعت سے عوام میں پھیلایا گیا، جن کی وسیع اکثریت نے بالشویک رہنماؤں کے بارے میں فروری انقلاب کے بعد ہی پہلی بار سنا تھا۔ یوں کیچڑ اچھالنے کا عمل ایک کلیدی اہمیت کے حامل سیاسی عنصر میں تبدیل ہو گیا۔ اس طریقہ واردات کا محتاط معائنہ ضروری ہے۔
اس سنسنی خیز دستاویز کا بنیادی ماخذ کسی ارمولینکو نامی شخص کی گواہی تھی۔ اِس سورما کی تصویر کشی سرکاری ریکارڈوں میں تفصیل سے کی گئی ہے: جاپان کے ساتھ جنگ سے لے کر 1913ء تک کے عرصے میں وہ خفیہ پولیس کا ایک ایجنٹ تھا، کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اُسے حوالدار کے عہدے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا؛ 1914ء میں اُسے فوج میں بھرتی کر لیا گیا، اُس نے بڑی بہادری سے خود کو گرفتار کروا لیا اور جنگی قیدیوں میں پولیس کا جاسوس بن گیا۔ تاہم حراستی کیمپ کا ماحول اُسے بھایا نہیں اور ’’اپنے دوستوں کے اصرار پر‘‘، جیسا کہ وہ بتاتا ہے، اُس نے حب الوطن مقاصد کے تحت جرمنوں کی ملازمت اختیار کر لی [۱]۔ یہاں سے اُس کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔25 اپریل کو پلوں کو تباہ کرنے، فوجی رازوں کی اطلاع دینے، یوکرائن کی روس سے آزادی کی کوشش اور علیحدہ سے امن کی ایجی ٹیشن کرنے کے لئے اُسے جرمن حکام نے ’’روسی محاذ پر پھینک دیا۔‘‘ جرمن افسران کپتان شڈٹسکی اور لائبرز نے یہ امور ارمولینکو کو سونپتے ہوئے کسی عملی ضرورت کے بغیر اتفاقاً ہی، شاید اُس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اُسے کہا کہ اُس کے شانہ بشانہ لینن بھی روس میں ایسے ہی کاموں میں سرگرم ہو گا۔ یہ اِس ساری واردات کی بنیاد تھی۔
کس نے یا کس چیز نے ارمولینکو کو لینن کے خلاف بیان پر اکسایا؟ کسی صورت میں جرمن افسروں نے تو نہیں۔ تاریخوں اور حقائق کا ایک سادہ سا تقابل ہمیں اِس حوالدار کی دماغی ورکشاپ سے متعارف کروائے گا۔4 اپریل کو لینن نے فروری حکومت کے خلاف اعلان جنگ پر مبنی اپنے مشہورِ زمانہ تھیسس پیش کئے تھے۔20-21 اپریل کو جنگ جاری رکھنے کے خلاف پہلا مسلح مظاہرہ ہوا۔ اُس وقت تک لینن پر بہتان تراشی واقعی ایک طوفان بن چکی تھی۔ 25 تاریخ کو ارمولینکو کو محاذ پر ’’پھینک دیا گیا‘‘ اور اپریل کے پہلے نصف حصے میں وہ فوج کے صدر دفتر کے ساتھ رابطے میں آ رہا تھا۔ لینن کی حکمت عملی کو جرمنی کے لئے موافق قرار دینے والے اخباروں کے مبہم مضامین نے اِس خیال کو جنم دیا کہ لینن ایک جرمن ایجنٹ تھا۔ محاذ پر سپاہیوں کے نہ دب سکنے والے ’’ بالشویزم‘‘ سے نبردآزما افسران اور کمیسار تو لینن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بالکل بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔ اِس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا کہ ارمولینکو نے خود سے ہی لینن کے بارے میں بلا وجہ رائے قائم کر لی یا پھر کسی باہر کے فرد نے اُس سے یہ کہا یا اُس نے خفیہ پولیس کے حکام کیساتھ مل کر اِسے گھڑا۔دراصل بالشویکوں کے خلاف بہتان تراشی کی ضرورت اِس قدر شدید ہو چکی تھی کہ ایسا ہونا ہی تھا۔ فوج کے صدر دفتر کے عملے کے سربراہ جنرل ڈینیکن، جو بعد ازاں خانہ جنگی میں سفید فوج کا سپہ سالارِ اعلیٰ بنا اور اپنی سمجھ بوجھ میں زار کی خفیہ پولیس کے ایجنٹوں سے کچھ زیادہ بلند نہیں تھا، نے ارمولینکو کی گواہی کو بہت اہم گرادنتے ہوئے یا گرداننے کا ناٹک کرتے ہوئے 16 مئی کو ایک متعلقہ خط کے ساتھ وزیر جنگ کیرنسکی کو بھیج دیا۔ ہم گمان کر سکتے ہیں کہ کیرنسکی نے شکائدز اور سریتیلی سے تبادلہ خیال کیا ہوگا، جو اُس کے عالی مرتبت طیش کو قابو کرنے میں شاید ہی ناکام ہوئے ہوں۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ معاملہ آگے کیوں نہ بڑھ پایا۔ کیرنسکی نے بعد ازاں لکھا کہ اگرچہ ارمولینکو نے لینن کے جرمن فوجی قیادت کے ساتھ روابط کی گواہی دی تھی لیکن اُس نے ’’حسب ضرورت معتبریت‘‘ سے ایسا نہیں کیا تھا۔ یوں ارمولینکو اور ڈینیکن کی یہ رپورٹ ڈیڑھ ماہ تک دبی رہی۔ خفیہ پولیس نے ارمولینکو کو غیرضروری قرار دے کر فارغ کر دیا اور وہ دونوں طرف سے ملنے والے پیسوں سے عیاشی کرنے دور دراز کے مشرقی علاقوں کو نکل گیا۔
تاہم جولائی کے دنوں نے بالشویزم کے خطرے کی مکمل قدوقامت کو واضح کرتے ہوئے ارمولینکو کے انکشافات کی یاد تازہ کر دی۔ اُسے فوراً بالگووشچینسکبلایا گیا، لگامیں کھینچی گئیں، لیکن اپنی تخیلاتی قوت کی کمی کے پیش نظر وہ اپنے پرانے بیان میں ایک لفظ کا اضافہ نہ کر پایا۔ تاہم اُس وقت تک محکمہ انصاف اور خفیہ پولیس والے خوب سرگرم ہو چکے تھے۔ بالشویکوں کے ممکنہ مجرمانہ روابط کے بارے میں سیاستدانوں، جرنیلوں، فوجی پولیس والوں، تاجروں اور ہر پیشے کے بے شمار لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اِس تفتیش میں زار شاہی کی معزز خفیہ پولیس نے جمہوری انصاف کے نئے نویلے نمائندگان کی نسبت کہیں زیادہ ہوشمندی سے کام لیا۔ پیٹروگراڈ کی خفیہ پولیس کے سابقہ سربراہ، جناب جنرل گلوباچیف نے لکھا، ’’ایسا کوئی ثبوت کم از کم میری ملازمت کے عرصے میں خفیہ پولیس کے پاس نہیں تھا کہ لینن روس کو نقصان پہچانے کے لئے جرمن پیسے پر کام کر رہا تھا۔‘‘ ایک اور خفیہ پولیس افسر یوکوبوف ، جو پیٹروگراڈ کی فوج کے خفیہ محکمے کا سربراہ تھا، تصدیق کرتا ہے: ’’مجھے لینن اور اُس کے پیروکاروں کے جرمن فوجی قیادت سے روابط کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، لیکن مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ لینن کو وسائل کہاں سے ملتے تھے۔‘‘ یوں بالشویزم پر روزِ اول سے گہری نظر رکھنے والے زار شاہی کے جاسوسی نظام کے اِن اداروں سے [بہتان تراشی کرنے والوں کو] کوئی بھی کام کی چیز نہیں مل پائی۔
تاہم لوگ جب کچھ ڈھونڈنے لگتے ہیں، خاص کر اگر وہ برسر اقتدار ہوں تو آخر کار اُنہیں کچھ نا کچھ مل ہی جاتا ہے۔ کسی ز-برسٹین نامی آدمی، جو پیشے کے لحاظ سے بظاہر تاجر تھا، نے عبوری حکومت کی توجہ روسی نژاد مشہور جرمن سوشل ڈیموکریٹ’’پاروس (Parvus) کی قیادت میں چلنے والی سٹاک ہوم کی ایک جرمن جاسوس تنظیم‘‘ کی طرف مبذول کروائی۔ برسٹین کے بیان کے مطابق پولینڈ کے انقلابیوں گانیٹسکی اور کوزلووسکی کے ذریعے لینن اِس تنظیم کے ساتھ رابطے میں تھا۔کیرنسکی نے بعد ازاں لکھا: ’’کچھ غیرمعمولی طور پر سنجیدہ مواد، جو بدقسمتی سے قانونی نہیں بلکہ خفیہ پولیس کے کردار کا حامل تھا، کی یقینی تصدیق گانیٹسکی، جسے سرحد پر گرفتار کر لیا گیا، کی روس آمد سے ہونی تھی اور اسے بالشویک قیادت کے خلاف مستند قانونی مواد میں تبدیل کیا جانا تھا۔‘‘ گویا کیرنسکی کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ اِس مواد کو کس چیز میں تبدیل کیا جانا تھا!
تاجر برسٹین کا بیان گانیٹسکی اور کوزلووسکی کی پیٹروگراڈ اور سٹاک ہوم کے درمیان تجارتی سرگرمیوں سے متعلق تھا۔ زمانہ جنگ کی اس تجارت، جو کبھی کبھار خفیہ پیغام رسانی کے کام آتی تھی، کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ بالشویک پارٹی کا اِس تجارت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لینن اور ٹراٹسکی نے پاروس، جو اچھی تجارت کو بری سیاست سے جوڑدیتا تھا،کی کھلے عام ملامت کی تھی اور شائع شدہ الفاظ میں روسی انقلابیوں سے اُس سے تمام تعلقات منقطع کرنے کی استدعا کی تھی۔ لیکن واقعات کے بھنور میں اِس سب پر غور کون کرتا؟ سٹاک ہوم میں ایک جاسوس تنظیم، بس اتنا ہی کافی تھا۔ لہٰذا ارمولینکو نے جو شعلہ ناکامیابی سے جلایا تھا، اسے کسی اور طرف سے بھڑکایا جانے لگا۔ لیکن یہاں بھی وہ ایک مشکل میں پھنس گئے۔ فوجی قیادت کی خفیہ پولیس کے سربراہ شہزادہ ٹرکسٹانوف نے خصوصی اہمیت کے حامل الیگزینڈروف کے معاملے میں ایک تفتیشی کے سوال کے جواب میں کہا تھا، ’’ز- برسٹین ایک ایسا شخص ہے جس پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ برسٹین ایک بے ایمان قسم کا کاروباری آدمی ہے، جو کسی وعدے کا پاس نہیں کرتا۔‘‘ لیکن لینن کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کے راستے میں کیا برسٹین کی بری شہرت ایک رکاوٹ تھی؟ نہیں، برسٹین کے بیان کو ’’غیرمعمولی طور پر سنجیدہ‘‘ قرار دینے سے کیرنسکی نہیں ہچکچایا۔ تمام تحقیقات سٹاک ہوم پر مرکوز ہو گئیں۔ ایک انقلابی پارٹی،جسے 16 کروڑ افراد کی ایک قوم اقتدارِ اعلیٰ تک پہنچانے والی تھی، کے خلاف بالکل من گھڑت الزامات کی بنیاد ایک بے ایمان کاروباری آدمی اور ایک ایسے جاسوس کے انکشافات پر مبنی تھی جو دو فوجی قیادتوں کا خدمت گزار رہا تھا۔
لیکن ایک ابتدائی تفتیش کا مواد اخباروں میں کیسے شائع ہو گیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب کیرنسکی کا نامراد حملہ ایک تباہی میں بدل رہا تھا اور پیٹروگراڈ میں جولائی کا مظاہرہ بالشویکوں کی ناقابل مزاحمت بڑھوتری کو واضح کر رہا تھا؟ یہ واردات شروع کرنے والوں میں شامل اٹارنی جنرل بیسارابوف نے بعد ازاں پریس میں بیان کیا کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ پیٹروگراڈ میں عبوری حکومت کے پاس کوئی قابل بھروسہ مسلح قوتیں نہیں تھیں تو ڈسٹرکٹ صدر دفتر میں فیصلہ کیا گیا کہ رجمنٹوں کی نفسیات میں کسی تیز دوائی کے ذریعے تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ’’دستاویزات کے مواد کی خبر صدر دفتر کی قریب ترین پریوبرازنسکی رجمنٹ کو دی گئی؛ وہاں موجود لوگوں نے دیکھا کہ اِس خبر نے کتنا گہرا اثر ڈالا تھا۔ اِس وقت کے بعد سے واضح ہو گیا کہ حکومت کے ہاتھ ایک طاقتور ہتھیار آ گیا تھا۔‘‘ اِس کامیاب تجربے کے بعد محکمہ انصاف، خفیہ سروس اور فوجی قیادت کے اِن سازشیوں نے اپنی اِس دریافت کے بارے میں وزیر انصاف کو آگاہ کیا۔ پیریورزیف نے جواب دیا کہ کوئی سرکاری خبر جاری نہیں کی جا سکتی، تاہم وہاں موجود عبوری حکومت کے اراکین کی جانب سے ’’ابتدائی تفتیش کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔‘‘ قانونی یا فوجی اہلکاروں کے ناموں کو واردات کی کامیابی کے لئے ناموزوں سمجھا گیا: سنسنی خیز بہتان تراشی کو پھیلانے کے لئے ایک ’’سیاسی شخصیت‘‘ کی ضرورت تھی۔ ذاتی کاوشوں کے ذریعے سازشیوں کو بالکل اپنی ضرورت کا بندہ ڈھونڈنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔ یہ بندہ سابقہ انقلابی، دوسری دوما کا رکن، خوب چیخنے والا مقرر اور سازش کا پرجوش شوقین الیگزنسکی تھا، جو کسی وقت انتہائی بائیں بازو کا بالشویک رہا تھا۔ ایک زمانے میں لینن بھی اُس کی نظروں میں ایک مایوس کن موقع پرست ہوتا تھا۔ رجعت کے سالوں میں الیگزنسکی نے بائیں بازو کا ایک خصوصی انتہا پسند گروہ تشکیل دیا تھا، جس کی قیادت وہ جنگ کے آغاز تک بیرون ملک سے کرتا رہا۔جنگ کے آغاز کے بعد اُس نے انتہا پسند حب الوطن موقف اپنا لیا اور ہر کسی پر جرمن بادشاہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے میں مہارت حاصل کر لی۔ اِس سلسلے میں اُس نے اپنی طرح کے روسی اور فرانسیسی حب الوطنوں کے ساتھ مل کر پیرس میں جاسوسی کا وسیع کام شروع کر دیا۔ اتحادی اور غیر جانبدار ممالک کے نامہ نگاروں کی پیرس ایسوسی ایشن، جو انتہائی حب الوطن تھی اور کسی طور ایک سخت تنظیم نہ تھی، نے بھی ایک خصوصی قرارداد کے ذریعے الیگزنسکی کو ایک ’’بے ایمان بہتان تراش‘‘ قرار دینا ضروری سمجھا اور اُسے اپنے اندر سے نکال باہر کیا۔ فروری انقلاب کے بعد اِس شہرت کے ساتھ پیٹروگراڈ پہنچ کر الیگزنسکی نے بائیں بازو سے سابقہ وابستگی کی بنیاد پر مجلس عاملہ میں گھسنے کی کوشش کی۔ اپنی تمام تر رواداری کے باوجود منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے 11 اپریل کو ایک قرارداد کے ذریعے دروازہ اُس کے منہ پر پٹخ دیا اور مشورہ دیا کہ پہلے وہ اپنی عزت بحال کرنے کی کوشش کرے۔ یہ مشورہ دینا آسان تھا! یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ وہ اپنی عزت کی بحالی سے زیادہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے لئے موزوں تھا، الیگزنسکی خفیہ پولیس کے ساتھ رابطے میں آ گیا اور اپنی سازشی جبلت کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا۔ جولائی کے دوسرے نصف حصے تک وہ منشویکوں کو بھی اپنی بہتان تراشی کے بڑھتے ہوئے حلقے کی زد میں لانے لگا تھا۔ محتاط صبر کی حکمت عملی ترک کرتے ہوئے منشویک پارٹی کے رہنما ڈین نے سوویت کے جریدے ’ازوستیا‘ میں 22 جولائی کو ایک احتجاجی خط شائع کیا: ’’اِس آدمی کی حرکتوں کو روکنے کا وقت آ گیا ہے جسے سرکاری طور پر ایک بے ایمان بہتان تراش قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘ کیا واضح نہیں ہو گیا کہ ارمولینکو اور برسٹین سے متاثرہ انصاف کی دیوی کو اپنے اور عوامی رائے عامہ کے درمیان اِس الیگزنسکی سے بہتر کوئی ثالث نہیں مل سکتا تھا؟ چنانچہ اُسی کے دستخط نے انکشاف کی دستاویز کو آراستہ کیا۔
سوشلسٹ وزرا نے اِن دستاویزات کو پریس کے حوالے کرنے کے خلاف پس پردہ احتجاج کیا، دو بورژوا وزیروں نیکراسوف اور ترشچینکو نے بھی ایسا ہی کیا۔ اِن کی اشاعت کے دن 5 جولائی کو پیریورزیف، جس سے حکومت ویسے ہی جان چھڑانا چاہتی تھی، نے استعفیٰ دینا مناسب سمجھا ۔ منشویک اسے اپنی فتح قرار دے رہے تھے۔ کیرنسکی نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ وزیر کو انکشاف کے بارے میں بہت جلد باز ہونے اور یوں تفتیش میں خلل ڈالنے پر ہٹایا گیا۔ بہرحال پیریورزیف نے اگر حکومت میں اپنی موجودگی سے نہیں تو رخصتی سے سب کو اطمینان بخش دیا۔
اسی دن مجلس عاملہ کے بیورو کے اجلاس میں زینوویف نمودار ہوا اور بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کی طرف سے مطالبہ کیا کہ لینن کو الزامات سے بری کرنے اور بہتان تراشی کے ممکنہ مضمرات سے بچنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ بیورو ایک تفتیشی کمیشن کی تعیناتی سے انکار نہ کر سکا۔ سوخانوف لکھتا ہے: ’’کمیشن خود بھی سمجھتا تھا کہ لینن کی روس سے غداری کے سوال کی نہیں بلکہ صرف بہتان تراشی کے ماخذ کی تفتیش کی ضرورت تھی۔‘‘لیکن کمیشن کا سامنا وزارت انصاف کے اداروں اور خفیہ پولیس کی حاسدانہ مقابلہ بازی سے تھا، جن کے پاس اپنے کام میں بیرونی مداخلت برداشت کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔اِس وقت تک سوویت کے اداروں کو بوقت ضرورت حکومتی اداروں کو زیر کرنے میں یقینا کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ لیکن جولائی کے دنوں نے اقتدار کو سنجیدگی سے دائیں جانب منتقل کر دیا تھا، مزید برآں سوویت کمیشن کو ایک ایسا کام مکمل کرنے کی کوئی جلدی نہ تھی جو اُن لوگوں کے سیاسی مفادات سے متصادم تھا جنہوں نے اِسے یہ کام سونپا تھا۔ زیادہ سنجیدہ مصالحت پسند رہنما، یعنی منشویک اس بہتان تراشی سے صرف باضابطہ علیحدگی اختیار کرنا چاہتے تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایسی تمام صورتوں میں جب سیدھا جواب دینے سے گریز ناممکن ہوتا تھا تو وہ مختصر الفاظ میں خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے بالشویکوں کے سر پر لٹکتی زہریلی تلوار ہٹانے کے لئے انگلی تک نہیں اٹھائی۔اُن کی حکمت عملی کی مشہور زمانہ تمثیل کسی زمانے میں روم کے صوبہ دار پائلیٹ [۲] نے پیش کی تھی۔ جی ہاں، خود کو دھوکہ دئیے بغیر بھلا اُن کا طرز عمل اس سے برعکس ہو سکتا تھا؟ یہ لینن کے خلاف بہتان تراشی ہی تھی جس نے جولائی کے دنوں میں گیریزن کے ایک حصے کو بالشویکوں سے دور کر دیا تھا۔ با آسانی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر مصالحت پسند اِس بہتان تراشی کے خلاف لڑتے تو ازمائلووسکی والوں کی بٹالین مجلس عاملہ کے اعزاز میں انقلابی ترانہ پڑھنا بند کر دیتی اور اگر کشیسنسکایا کے محل نہ بھی جاتی تو اپنی بیرکوں میں واپس ضرور چلی جاتی۔
منشویکوں کی حکمت عملی کے مطابق وزیر داخلہ سریتیلی، جس نے اِس کے بعد جلد ہی بالشویکوں کو گرفتار کرنے کا بیڑا ٹھایا، نے بالشویک دھڑے کے دباؤ کے تحت مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں اعلان کیا کہ اُسے ذاتی طور پر بالشویک رہنماؤں پر جاسوسی کا شک نہیں تھا، لیکن اُس نے اُن پر سازش اور مسلح سرکشی کا الزام بہرحال عائد کیا۔ 13 جولائی کو ایک ایسی قرارداد متعارف کرواتے ہوئے جس نے درحقیقت بالشویک پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا، لائبر نے یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا: ’’میرا ذاتی خیال ہے کہ لینن اور زینوویف پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔‘‘ ایسے اعلانات کا خیر مقدم سب لوگ تاریک خاموشی سے کرتے تھے: بالشویکوں کے لئے وہ ذلیل پہلو تہی کے مترادف تھے، حب الوطنوں کے لئے غیر ضروری یا غیر منافع بخش تھے۔
17 تاریخ کو دونوں مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹراٹسکی نے کہا: ’’ایک ناقابل برداشت فضا پیدا کر دی گئی ہے، جس میں آپ کا اور ہمارا بھی دم گھٹ رہا ہے۔ لینن اور زینوویف پر غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ (آواز آئی: ٹھیک کہہ رہا ہے۔ شور و غوغہ۔ ٹراٹسکی نے بات جاری رکھی۔) یوں لگتا ہے کہ اِس ہال میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اِن الزامات سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ موجود ہیں جو چور راستے سے انقلاب میں گھس آئے ہیں۔ (شور و غوغہ۔ صدر کی گھنٹی نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کر تی ہے۔) … لینن تیس سال تک انقلاب کے لئے لڑا ہے۔ میں نے بیس سال عوام پر جبر کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ جرمن عسکریت کے لئے ہمارے اندر نفرت کے سوا کچھ نہیں ہے… ہم پر ایسا شک وہی کر سکتے ہیں جنہیں یہ نہیں پتا کہ ایک انقلابی کیا ہوتا ہے۔ جرمن عسکریت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں مجھے ایک جرمن عدالت سے آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے… یہ سب جانتے ہیں۔ہمیں جرمنی کے گماشتے کہنے کی اجازت اِس ہال میں کسی کو نہیں دی جانی چاہئے، کیونکہ یہ معقول انقلابیوں کا نہیں بلکہ بدمعاشوں کا طرز عمل ہے۔ (تالیاں اور نعرے)‘‘ اِس واقعے کو اُس وقت کی بالشویک مخالف اخباروں نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ بالشویک اخبار پہلے ہی بند کئے جا چکے تھے۔ تاہم یہ بتانا ضروری ہے کہ تالیاں اور نعرے بائیں طرف کے چھوٹے سے حصے سے ہی بلند ہوئے۔ نمائندگان کا ایک حصہ تو نفرت سے چیخ اٹھا۔ اکثریت خاموش رہی۔ تاہم کسی نے بھی، حتیٰ کہ کیرنسکی کے براہ راست ایجنٹوں نے بھی چبوترے پہ چڑھ کے سرکاری الزامات کی حمایت یا اُن کا بالواسطہ دفاع تک نہیں کیا۔
ماسکو میں، جہاں بالشویکوں اور مصالحت پسندوں کے درمیان جدوجہد کے نسبتاً دھیمے کردار کو اکتوبر میں اتنا ہی بے رحم ہو جانا تھا، مزدوروں اور سپاہیوں کی سوویتوں کے مشترکہ اجلاس نے 10 جولائی کو ایک قرارداد منظور کی کہ ’’ایک عام اعلان شائع کیا جائے گا، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ بالشویک دھڑے کے خلاف جاسوسی کا الزام ایک بہتان اور ردِ انقلاب کی سازش ہے۔‘‘ لیکن حکومتی امتزاجوں پر زیادہ براہ راست طور پر منحصر پیٹروگراڈ سوویت نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے اور اس تفتیشی کمیشن کے نتائج کا انتظار کر تی رہی جس کا اجلاس تک نہیں ہوا ۔
5جولائی کو لینن نے ٹراٹسکی کے ساتھ گفتگو میں سوال اٹھایا: ’’کیا ہم سب کو گولی سے اڑانے کی تیاری نہیں کی جا رہی ہے؟‘‘ صرف یہی منصوبہ اِس بھیانک بہتان تراشی پر سرکاری مہر ثبت کئے جانے کی وضاحت کر سکتا تھا۔ لینن کا خیال تھا کہ دشمن اپنے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کریں گے، لہٰذا اُس نے اُن کے ہاتھ نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ 6 تاریخ کی شام جرنیلوں کی تجاویز سے بھرا کیرنسکی محاذ سے واپس آیا اور بالشویکوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔ رات دو بجے حکومت نے تمام بالشویک رہنماؤں پر ’’مسلح سرکشی‘‘کا مقدمہ چلانے اور بغاوت میں حصہ لینے والی رجمنٹوں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا۔لینن کے گھر کی تلاشی اور گرفتاری کے لئے بھیجے گئے فوجی دستے کو صرف تلاشی پر ہی اکتفا کرنا پڑا، کیونکہ مکین پہلے ہی گھر سے جا چکا تھا۔ لینن پیٹروگراڈ میں ہی تھا لیکن ایک مزدور کے گھر میں چھپا ہوا تھا اور مطالبہ کیا کہ سوویت کا تفتیشی کمیشن ایسے حالات میں اُس کا اور زینوویف کا بیان لے جہاں ردِ انقلاب کے حملے کا خطرہ نہ ہو۔ کمیشن کو بھیجے گئے اعلامیے میں لینن اور زینوویف نے لکھا: ’’آج صبح (جمعہ 7 جولائی) کو دوما نے کامینیف کو بتایا تھا کہ کمیشن نے [تفتیش کے لئے] 12 بجے ایک متفقہ گھر آنا تھا۔ ہم یہ سطور 7 جولائی کی شام 6:30 بجے تحریر کر رہے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تک کمیشن نمودار ہوا ہے نہ ہی اپنے وجود کا ذرا سا اشارہ بھی دیا ہے… تفتیش میں تاخیر کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی۔‘‘ جس تفتیش کا وعدہ کیا گیا تھا اس سے سوویت کمیشن کی بے رغبتی سے لینن بالکل قائل ہو گیا کہ مصالحت پسند اِس معاملے سے جان چھڑا رہے تھے اور اُسے ردِ انقلابیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے تھے۔افسران اور جنکر، جو اُس وقت تک پارٹی کا چھاپہ خانہ تباہ کر چکے تھے، اب سڑکوں پر ہر اُس بندے کو پیٹ رہے تھے اور گرفتار کر رہے تھے جس نے بالشویکوں کے خلاف جاسوسی کے الزامات پر احتجاج کیا۔ لینن نے روپوش ہو جانے کا فیصلہ کیا، تفتیش سے نہیں بلکہ اپنی زندگی پر ہونے والے ممکنہ حملوں سے بچنے کے لیے۔
15 تاریخ کو لینن اور زینوویف نے کرونسٹٹ کے بالشویک پرچے، جسے حکام نے بند کرنے کی جرات نہیں کی تھی، میں وضاحت کی کہ وہ خود کو حکام کے حوالے کرنے کو ممکن نہیں سمجھتے: ’’اتوار کو اخبار ’نووئے وریمیا‘ میں شائع ہونے والے وزیر انصاف پیریورزیف کے خط سے یہ بالکل واضح ہوگیا ہے کہ لینن اور دوسروں پر جاسوسی کا ’مقدمہ‘ بالکل دانستہ طور پر ردِ انقلاب کی پارٹی نے گھڑا ہے۔ پیریورزیف کھلے عام تسلیم کر رہا ہے کہ اُس نے غیرمصدقہ الزامات کو اس لئے پھیلایا ہے کہ ہماری پارٹی کے خلاف سپاہیوں میں طیش ابھاراجا سکے۔ یہ کل کے وزیر انصاف کا اعتراف ہے! … فی الوقت روس میں انصاف ملنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ خود کو حکام کے حوالے کرنے کا مطلب خود کو ملیوکوف، الیگزنسکی اور پیریورزیف جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں دینا ہوگا، یعنی ایسے ردِ انقلابیوں کے ہاتھوں میں جن کے لئے ہمارے خلاف سارے الزامات محض خانہ جنگی کی واردات ہیں۔‘‘ آج ’’خانہ جنگی کی واردات‘‘ کا مطلب سمجھنے کے لئے کارل لائبنیخت اور روزا لکسمبرگ کے انجام [۳] کو یاد رکھنا ہی کافی ہے۔ لینن مستقبل میں جھانک سکتا تھا۔
مخالف کیمپ کے ایجی ٹیٹر ہزار قسم کی کہانیاں سنا رہے تھے کہ لینن کسی جنگی جہاز پر تھا، لینن ایک آبدوز میں جرمنی بھاگ گیا تھا، وغیرہ۔ اِسی دوران مجلس عاملہ کی اکثریت نے تفتیش سے فرار پر لینن کی مذمت کی۔ الزام تراشی کی سیاسی اساس اور بلوے کی صورتحال، جس میں اور جس کے لئے اسے شروع کیا گیا، کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ مصالحت پسند خالص انصاف کے علمبردار بن گئے۔ اُن کی بات ماننے والوں کا موقف بھی یہی تھا۔ 13 جولائی کو مجلس عاملہ کی ایک قرار داد نے نہ صرف لینن اور زینوویف کے طرز عمل کو ’’بالکل ناجائز‘‘ قرار دیا بلکہ بالشویک دھڑے سے بھی اپنے رہنماؤں کی ’’فوری، قطعی اور واضح‘‘ مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ دھڑے نے مجلس عاملہ کے مطالبات کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔ تاہم بالشویک صفوں میں کم از کم بالائی حلقوں میں تفتیش سے لینن کے گریز پر تذبذب موجود تھا۔[سوخانوف اور مارٹوف جیسے] انتہائی بائیں بازو کے مصالحت پسندوں میں بھی لینن کی گمشدگی نے اشتعال پیدا کیا، ایسا اشتعال جو ہمیشہ منافقانہ نہیں ہوتا تھا، جیسا کہ ہم نے سوخانوف کی مثال میں دیکھا ہے۔ ہمیں شروع سے معلوم ہے کہ خفیہ پولیس کے فراہم کردہ بہتان آمیز مواد کے بارے میں اُس کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا۔اُس نے لکھا، ’’بکواس الزام تراشی دھویں کی طرح اڑ گئی۔ یہ مصدقہ نہیں تھی اور لوگوں نے اِس پر یقین کرنا ہی چھوڑ دیا۔‘‘ لیکن سوخانوف کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ لینن نے تفتیش سے گریز کا فیصلہ کیوں کیا۔ ’’کوئی بہت خاص، بے مثال اور ناقابل فہم چیز تو تھی۔ کوئی بھی دوسرا انسان ایک عدالت اور تفتیش کا مطالبہ کرتا، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوتے۔‘‘ جی ہاں، کوئی بھی دوسرا انسان! لیکن ’کوئی بھی دوسرا انسان‘ حکمران طبقات کی اتنی غضبناک نفرت کا نشانہ نہیں بن سکتا تھا۔ لینن ’کوئی بھی دوسرا انسان‘ نہ تھا اور اُس نے ایک لمحے کے لئے بھی اُس فریضے کو فراموش نہیں کیا جو اُس کے کندھوں پر عائد تھا۔ وہ صورتحال سے نتائج اخذ کرنا جانتا تھا اور یہ ادراک بھی رکھتا تھا کہ جن فرائض کے لئے اُس نے اپنی زندگی وقف کی تھی اُن کی خاطر ’’عوامی رائے عامہ‘‘ کے اِدھر اُدھر جھولنے کو کیسے نظر انداز کیا جائے۔ غیر حقیقی مقاصد کے پیچھے بھاگنے اور خود نمائی سے اُس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
زینوویف کے ساتھ لینن نے کئی ہفتے پیٹروگراڈ کے مضافات میں سیسٹروریٹسک میں گزارے۔ وہ گھاس کے ایک ڈھیر میں راتیں گزارتے اور بارش سے پناہ تلاش کرتے رہے۔ آگ بجھانے والے عملے کے رکن کے بھیس میں لینن نے ایک ٹرین کے ذریعے فن لینڈ کی سرحد عبور کی اور ہلسنگفورس کے پولیس سربراہ، جو پٹروگراڈ کا سابقہ مزدور تھا، کے گھر چھپ گیا۔ بعد ازاں وہ روسی بارڈر کے قریب وائبورگ [۴] منتقل ہو گیا۔ ستمبر کے آخر سے وہ خفیہ طور پر پیٹروگراڈ میں رہا۔ اکتوبر کی سرکشی کے دن وہ تقریباً چار ماہ کی روپوشی کے بعد میدان میں نمودار ہوا۔
جولائی ایک بے شرم، مسلسل اور کامیاب بہتان تراشی کا مہینہ بن گیا۔ اگست تک یہ بہتان تراشی اپنی افادیت کھونے لگی تھی۔ حملے کے آغاز کے صرف ایک مہینے بعد سریتیلی نے مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں دہرانا ضروری سمجھا: ’’گرفتاریوں سے اگلے دن میں نے بالشویکوں کے سوالات کا زبانی جواب دیا تھا اور کہا تھا: ’3-5 جولائی کو سرکشی کی فرد جرم کا سامنا کرنے والے بالشویک رہنماؤں پر مجھے جرمن فوجی قیادت کے ساتھ روابط کا کوئی شک نہیں ہے۔‘‘‘ اِس سے کم کچھ کہنا ناممکن تھا؛ زیادہ کہنا بے جا ہوتا۔ مصالحت پسند پارٹیوں کی پریس بھی سریتیلی کے اِن الفاظ سے آگے نہیں گئی، چونکہ یہ پریس عین اسی وقت بالشویکوں کو جرمن عسکریت کے معاون قرار دے کر بدترین لعن طعن بھی کر رہی تھی لہٰذا مصالحت پسند اخباروں کی آواز بھی سیاسی طور پر باقی پریس کی چیخ و پکار میں شامل ہو گئی، جو بالشویکوں کو جرمن جرنیل لوڈن ڈورفکے ’’معاونین‘‘ نہیں بلکہ بھاڑے کے ایجنٹ قرار دے رہی تھی۔ مل کر گائے جانے والے اِس گیت میں سب سے بلند آواز کیڈٹوں کی تھی۔ ماسکو کے لبرل پروفیسروں کے پرچے ’رسکی ویڈوموسٹی‘ نے ایک مراسلہ شائع کیا جس کے مطابق ’پراودا‘ کے ادارتی دفاتر کی تلاشی کے دوران ایک جرمن خط ملا تھا جس میں ہپارانڈا کے علاقے کا کوئی نواب ’’بالشویکوں کی سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ اِس پر برلن میں خو ب اظہار مسرت کیا جائے گا۔‘‘ گویا فن لینڈ کی سرحد پر اِس جرمن نواب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ روسی حب الوطنوں کو کن خطوط کی ضرورت تھی۔ بالشویک بربریت کے خلاف متمدن طبقات کی پریس ایسے مراسلوں سے بھری ہوئی تھی۔
کیا ان پروفیسروں اور وکیلوں کو خود اپنے الفاظ پر اعتبار تھا؟ کم از کم دارالحکومت کے رجعتی رہنماؤں کے بارے میں یہ گمان کرنا اُن کی سیاسی فہم کو کم تر گرداننے کے مترادف ہو گا۔ اصول یا نفسیاتی امکان کے معاملات نہ بھی سہی، صرف کاروباری اور سب سے بڑھ کر مالی معاملات سے ہی اِن الزامات کا کھوکھلا پن واضح ہو سکتا تھا۔ جرمن حکومت نظریات سے نہیں لیکن پیسے سے بالشویکوں کی مدد یقینا کر سکتی تھی۔ لیکن بالشویکوں کے پاس پیسہ ہی تو نہیں تھا۔ جنگ کے دوران پارٹی کا بیرون ملک مرکز بے رحم مانگ سے نبرد آزما تھا؛ سو فرانک بہت بڑی رقم معلوم ہوتے تھے؛ مرکزی جریدہ مہینے یا دو مہینے میں صرف ایک بار شائع ہوتا تھا اور لینن بڑی احتیاط سے سطور گنتا تھا کہ کہیں بجٹ سے بڑھ نہ جائیں۔ جنگ کے سالوں میں پیٹروگراڈ کی تنظیم کے اخراجات چند ہزار روبل تھے، جو زیادہ تر غیرقانونی لیف لیٹ شائع کرنے پر خرچ ہوتے تھے۔ ڈھائی سال کے دوران اِن لیف لیٹوں کی صرف 3 لاکھ کاپیاں پیٹروگراڈ میں تقسیم کی گئیں۔ انقلاب کے بعد رکنیت اور وسائل میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ سوویت اور سوویت پارٹیوں کے لئے مزدور بخوشی چندہ دیتے تھے۔ ایک ترودووک وکیل برامسن نے سوویتوں کی پہلی کانگریس میں بتایا، ’’ انقلاب شروع ہونے کے بعد اگلے ہی دن سے سوویت کے لئے چندے، ہر طرح کے واجبات، وصولیاں اور کٹوتیاں شروع ہو گئیں… صبح سویرے سے رات گئے تک یہ چندے ٹاؤرائڈ محل میں ہمارے پاس لانے والوں کا غیرمعمولی نظارہ ہوتا تھا۔‘‘ وقت گزرنے کے ساتھ بالشویکوں کے لئے تنخواہ میں سے کٹوتیاں کرنے پر مزدور اور بھی تیار ہوگئے۔ تاہم پارٹی اور چندے میں تیز رفتار اضافے کے باوجود جسمانی تناسب کے لحاظ سے ’پراودا‘ سارے پارٹی پرچوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ روس آمد کے مختصر عرصے بعد لینن نے سٹاک ہوم میں ریڈک کو لکھا: ’’غیر ملکی سیاست کے بارے میں ’پراودا‘ کے لئے مضامین لکھو، جو انتہائی مختصر اور ’پراودا‘ کے مطابق ہوں (بہت ہی کم جگہ ہے، ہم اِسے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں)۔‘‘ مالی امور کے بارے میں لینن کے نافذ کر دہ سخت نظام کے باوجود پارٹی ہمیشہ ضرورت مند ہی ہوتی تھی۔ کسی مقامی تنظیم کے لئے دو یا تین ہزار روبل کی ادائیگی مرکزی کمیٹی کے لئے ایک سنجیدہ مسئلہ ہوتی تھی۔ محاذ پر پرچے بھیجنے کے لئے مزدوروں سے خصوصی چندہ اکٹھا کرنے کی ضرورت بار بار پڑتی تھی۔ اس کے باوجود بھی مورچوں تک پہنچنے والے بالشویک پرچوں کی تعداد مصالحت پسندوں اور لبرلوں کے پرچوں سے انتہائی کم ہوتی تھی۔ اس بارے میں مسلسل شکایات موصول ہوتی تھیں۔سپاہیوں نے لکھا، ’’ہم تک بس آپ کے پرچے کی افواہ ہی پہنچتی ہے۔‘‘ اپریل میں پارٹی کے ایک شہری اجلاس نے پیٹروگراڈ کے مزدوروں سے استدعا کی کہ تین دن میں 75 ہزار روبل اکٹھے کئے جائیں، جو چھاپہ خانے کی خریداری میں کم پڑ رہے ہیں۔ اس سے زیادہ پیسے اکٹھے ہو گئے اور پارٹی نے آخر کار اپنا چھاپہ خانہ خرید لیا، وہی والا جسے جولائی میں جنکروں نے تباہ کر دیا۔ بالشویک نعرے جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے تھے، لیکن اُن کے پروپیگنڈا کا مادی اوزار ’پراودا‘ بے حد قلیل رہتا تھا۔ بالشویکوں کی نجی زندگیوں پر بہتان تراشی کی گنجائش تو اِس سے بھی کم تھی۔ پھر پیچھے کیا بچتا ہے؟ جرمنی میں سے لینن کے سفر کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ لیکن یہ واقعہ، جسے اکثر ناتجربہ کار سامعین کے سامنے لینن کی جرمن حکومت سے دوستی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، درحقیقت اِس سے برعکس بات کو ثابت کرتا تھا۔ دشمن ملک کی حدود میں سے ایک ایجنٹ چھپ کر اور بالکل بے خطر ہو کر سفر کرتا۔ خود پر بے حد اعتماد رکھنے والا ایک انقلابی ہی زمانہ جنگ میں حب الوطنی کے قوانین کو یوں سرعام پامال کر سکتا تھا۔
پھر بھی وزارت انصاف نے بہتان تراشی کی یہ مکروہ مہم شروع کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اسے ورثے میں ایسے ملازمین ملے تھے جن کی تربیت بادشاہت کے آخری عرصے میں ہوئی تھی، جب پورے ملک کے جانے پہچانے سیاہ صد ایجنٹوں کے ہاتھوں لبرل اراکینِ دوما کے قتل بڑے منظم انداز سے چھپا دئیے جاتے تھے، جبکہ کیف میں کسی یہودی دکاندار پر عیسائی بچے کا خون پینے کا الزام لگا دیا جاتا تھا۔ 21 جولائی کو ایک سرکاری فرمان جاری کیا گیا، جس میں لینن، زینوویف، کولنٹائی اور جرمن سوشل ڈیموکریٹ پاروس سمیت کئی دوسرے لوگوں پر ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ فوجداری قوانین کی انہی شقوں، 51 ، 100 اور 108 کا اطلاق بعد ازاں ٹراٹسکی اور لیوناچارسکی پر فردِ جرم عائد کرتے وقت کیا گیا، جنہیں فوجی دستوں نے 23 جولائی کو گرفتار کر لیا۔ فرمان کے متن کے مطابق بالشویک رہنماؤں نے ’’روسی شہری ہوتے ہوئے روس کی حدود میں نقصان دہ سرگرمیوں میں مصروف دشمن ریاستوں کے ایجنٹوں سے معاہدہ کیا کہ روسی فوج اور عقب میں انتشار پھیلانے میں اُن کی معاونت کریں گے تاکہ فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ اس مقصد کے تحت اِن ریاستوں سے حاصل کئے گئے پیسوں سے اُنہوں نے آبادی اورسپاہیوں میں پراپیگنڈا کیا، جس میں اُنہیں دشمن کے خلاف فوجی کاروائی فوراً روک دینے کو کہا گیا، اِنہی مقاصد کے تحت انہوں نے 3 تا 5 جولائی 1917ء کے دوران پیٹروگراڈ میں ایک مسلح سرکشی بھی منظم کی۔‘‘ اگرچہ اُن دنوں کم از کم دارالحکومت کا ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا تھا کہ ٹراٹسکی کن حالات میں نیویارک سے کرسٹیانا اور سٹاک ہوم کے راستے پیٹروگراڈ پہنچا تھا، لیکن عدالت نے اُس پر بھی جرمنی کے راستے سفر کا الزام عائد کر دیا۔ محکمہ انصاف کی کوشش تھی کہ جو کچھ اُسے خفیہ پولیس نے فراہم کیا تھا، اُس کے حقیقی ہونے سے متعلق کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔
موخرالذکر ادارہ دنیا میں کہیں بھی اچھے افکار کا مبلغ نہیں ہوتا۔ لیکن روس کی خفیہ پولیس راسپیوٹن راج کی بھی گندی ترین نالی تھی۔ فوجی افسران، پولیس اور فوجی پولیس والوں کے ساتھ خفیہ پولیس کے برطرف ایجنٹوں کی گندی جھاگ مل کر اِس غلیظ، احمق اور انتہائی طاقتور ادارے کا عملہ تشکیل دیتی تھی۔ عسکری امور میں بیکار یہ کرنل، کپتان اور کمیشنڈ افسران پورے ملک میں جاسوس جاگیرداری کا نظام قائم کر کے سماجی اور حکومتی زندگی کی تمام شاخوں کی نگرانی کرتے تھے۔ پولیس کا ایک سابقہ منتظم کرلوف شکایت کرتا ہے، ’’صورتحال اس وقت بالکل تباہ کن بن گئی جب بدنام زمانہ خفیہ پولیس نے سول انتظامیہ کے کاموں میں بھی دخل اندازی شروع کر دی۔‘‘ خود کرلوف کے سر بھی کچھ کم غلیظ کاموں کا سہرا نہیں ہے، جن میں وزیر اعظم سٹولیپن کے قتل میں بالواسطہ شمولیت بھی شامل ہے۔ تاہم خفیہ پولیس کی سرگرمیوں نے اُس کے تجربہ کار تخیل کو بھی لرزا دیا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’دشمن کے جاسوسوں کے خلاف کچھ خاص اقدامات نہیں کئے جاتے تھے‘‘ لیکن بلیک میل کرنے کے لئے اکثر من گھڑت مقدمات بالکل بے گناہ لوگوں پر ڈال دئیے جاتے تھے۔کرلوف کا سامنا ایسے ہی ایک مقدمے سے ہوا: ’’ میں ایک خفیہ ایجنٹ کا فرضی نام سن کر حیران رہ گیا جس کے بارے میں محکمہ پولیس میں اپنی ملازمت کے دوران میں جانتا تھا کہ اُسے بلیک میل کرنے پر نکال دیا گیا تھا۔‘‘خفیہ پولیس کا ایک صوبائی سربراہ، کوئی اسٹینوف نامی شخص، جو جنگ سے پہلے نوٹری تھا، کرلوف کے جیسے الفاظ میں ہی اپنی یادداشتوں میں اِس محکمے کی کارستانیاں بیان کرتا ہے: ’’کسی کام کی تلاش میں ایجنٹ اپنے پاس سے ہی مواد گھڑ لیتے تھے۔‘‘
اسی الزام تراش کی مثال سے اِس ادارے کی ذہنی سطح کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ فروری انقلاب کے بارے میں اسٹینوف لکھتا ہے، ’’جرمن پیسے سے جرمن ایجنٹوں کے تخلیق کردہ انقلاب کا شکار ہو کر روس برباد ہو گیا۔‘‘ بالشویکوں کی طرف اِس حب الوطن نوٹری کے رویے کو مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ ’’لینن کی سابقہ سرگرمیوں، اُس کے جرمن فوجی قیادت سے روابط اور اُس کی جانب سے جرمن پیسے کی وصولی کے بارے میں خفیہ پولیس کی رپورٹیں اتنی معقول ہیں کہ اُسے فوراً لٹکا دینا چاہئے۔‘‘ اسٹینوف کے مطابق کیرنسکی نے شاید اس لئے ایسا نہیں کیا کہ وہ خود غدار تھا۔ ’’بیکار یہودی وکیل ساشکا کیرنسکی کی قیادت بالخصوص مایوس کن اور غصہ دلا دینے والی تھی۔‘‘ اسٹینوف تصدیق کرتا ہے کہ کیرنسکی ’’ایک ایسے فتنہ گر کے طور پر مشہور تھا جس نے اپنے ساتھیوں سے غداری کی۔‘‘
فروری انقلاب کے فوراً بعد چالبازوں، جعلسازوں اور بلیک میلروں پر مبنی اِس ادارے کا سربراہ ایک حب الوطن سوشل انقلابی میرونوف کو بنادیا گیا، جو بیرون ملک سے آیا تھا اور جسے ایک ’’عوامی سوشلسٹ‘‘ نائب وزیر ڈیمیانوف نے اِن الفاظ میں بیان کیا: ’’میرونوف بیرونی طور پر تو اچھا تاثر دیتا ہے… لیکن مجھے یہ جان کر حیرانی نہیں ہو گی کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ہے: ایک عام انسان شاید ہی ایک ایسے ادارے کا سربراہ بننے پر راضی ہوتا جسے ختم کر دینا چاہئے تھا اور جس کی دیواروں کو صعید سے دھونا چاہئے تھا۔‘‘ انقلاب کے پیدا کردہ اِس انتظامی الجھاؤ کے نتیجے میں خفیہ پولیس وزیر انصاف پیریورزیف کی نگرانی میں آ گئی، جو ناقابل یقین حد تک لا ابالی اور اپنے طریقوں کے بارے میں بالکل بے حس آدمی تھا۔ یہی ڈیمیانوف اپنی یادداشتوں میں کہتا ہے کہ اِس وزیر ’’کی سوویت میں کوئی ساکھ اور عزت نہیں تھی۔‘‘ خفیہ پولیس والے پہلے پہل انقلاب سے خوفزدہ تھے، لیکن میرونوف اور پیریورزیف کی سرپرستی میں جلد ہی سنبھل گئے اور اپنی پرانی وارداتوں کو نئی سیاسی صورتحال کے مطابق ڈھال لیا۔ جون میں حکومتی پریس کا بایاں بازو بھی خفیہ پولیس کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی بلیک میلنگ اور دوسرے جرائم کی خبریں شائع کر رہا تھا، جن میں ادارے کے دو اعلیٰ افسران اور اِس قابل رحم میرونوف کے پہلے نائبین شوکن اور بروئے تک ملوث تھے۔ جولائی کے بحران سے ایک ہفتہ پہلے بالشویکوں کے دباؤ کے تحت مجلس عاملہ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سوویت نمائندگان کی شمولیت سے خفیہ پولیس کا فوری ملاحظہ کیا جانا چاہئے۔یوں خفیہ پولیس والوں کے پاس اپنی ادارہ جاتی وجوہات، بلکہ روزی روٹی کی وجوہات تھیں کہ بالشویکوں پر جلد از جلد ضرب لگائی جائے۔شہزادہ لووف نے بھی بروقت ایک قانون پر دستخط کر دئیے تھے جس کی رو سے خفیہ پولیس والوں کو کسی بھی گرفتار شدہ شخص کو تین ماہ تک بند رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔
الزام تراشی اور الزام تراشوں کے کردار کے پیش نظر یہ سوال ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگ اِس بھیانک جھوٹ پر کیسے یقین کر سکتے تھے جو شروع سے آخر تک بیہودہ تھا۔ درحقیقت جنگ ، شکست، تباہی، انقلاب اور سماجی جدوجہد کی تلخی سے پیدا ہونے والے ماحول کے بغیر خفیہ پولیس کو ملنے والی کامیابی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ 1914ء کے موسم خزاں کے بعد سے روس کے حکمران طبقات کے ساتھ کچھ بھی اچھا نہیں ہوا تھا۔ زمین اُن کے پیروں کے نیچے سے سرک رہی تھی۔ اُن کے ہاتھ سے ہر چیز پھسل رہی تھی۔ ہر طرف سے وہ بدقسمتی کے نرغے میں تھے۔ وہ قربانی کا بکرا ڈھونڈے بغیر کیسے رہ سکتے تھے؟ سابقہ اٹارنی جنرل زاواڈسکی یاد کرتا ہے کہ ’’جنگ کے تشویشناک دنوں میں اچھے بھلے لوگ بھی وہاں غداری کا شک کرتے تھے جہاں وہ بظاہر، بلکہ یقینی طور پر نہیں ہوتی تھی۔ جب میں اٹارنی جنرل تھا تو اس طرح کے مقدمات کی اکثریت من گھڑت تھی۔‘‘ اِن مقدمات کا آغاز کینہ پرور ایجنٹوں نے نہیں بلکہ عام فرسودہ لوگوں نے کیا تھا جن کا دماغ پھر چکا تھا۔ لیکن جنگ کا پاگل پن اکثر قبل از انقلاب کے سیاسی بخار کے ساتھ مل کر عجیب و غریب پھل پیدا کرتا تھا۔ نامراد جرنیلوں کی طرح لبرلوں کو بھی ہر جگہ اور ہر کسی میں جرمنوں کا ہاتھ نظر آتا تھا۔ درباری مشیروں کو جرمنی سے متاثر سمجھا جاتا تھا۔ راسپیوٹن کے سارے ٹولے کو لبرلوں نے جرمن گماشتے قرار دے دیا تھا۔ زارینہ پر جاسوسی کا الزام کھلے عام اور وسیع پیمانے پر لگایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ درباری حلقوں نے بھی جرمنوں کی جانب سے اُس بحری جہاز کو ڈبونے کا ذمہ دار اُسے قرار دیا جس پر جنرل کچنر روس آ رہا تھا۔ دائیں بازو والے بھی قرض چکانے میں دیر نہیں کرتے تھے۔ زواڈسکی بتاتا ہے کہ کیسے داخلہ امور کے نائب وزیر بیلیٹسکی نے 1916ء میں قومی لبرل صنعتکار گچکوف پر ’’زمانہ جنگ میں غداری کی حدود کو چھونے والی سرگرمیوں‘‘ کا الزام عائد کرنے کی کوشش کی۔داخلہ امور کا ایک اور سابقہ نائب وزیر کرلوف بھی ملیوکوف پر سوال اٹھاتا ہے: ’’مادرِ وطن کی کس خدمت کے صلے میں اُسے (ملیوکوف) ’فن لینڈ‘ سے دو لاکھ روبل ملے، جو اُس کے گھر کے چوکیدار کے نام ڈاک کے ذریعے اُس تک پہچائے گئے؟‘‘ ’’فن لینڈ‘‘ کے گرد کومے لگانے کا مقصد یہ بتانا ہے یہ درحقیقت جرمن پیسے کا معاملہ تھا۔ تاہم ملیوکوف نے جرمنوں سے خوف کی شہرت بڑی محنت سے کمائی تھی! حکومتی حلقوں میں اِس بات کو بالعموم ثابت شدہ سمجھا جاتا تھا کہ حزب مخالف کی ساری پارٹیاں جرمن پیسے سے چل رہی تھیں۔ اگست 1915ء میں، جب دوما کی تحلیل کے پیش نظر انتشار متوقع تھا، تقریباً لبرل سمجھے جانے والے بحری وزیر گریگورووچ نے حکومت کے ایک اجلاس میں کہا: ’’جرمن مضبوط پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور حکومت مخالف تنظیموں پر پیسے کی برسات کر رہے ہیں۔‘‘ جنگ کے آغاز پر شکائدز کی نیم حب الوطن تقریر کے موضوع پر دوما کے صدر روڈزیانکو نے لکھا: ’’بعد کے واقعات نے شکائدز کی جرمن حلقوں سے قربت کو ثابت کیا۔‘‘ تاہم آپ کو ایسا کوئی ثبوت کبھی نہیں ملے گا!
اپنی ’دوسرے انقلابِ روس کی تاریخ‘ میں ملیوکوف کہتا ہے: ’’27 فروری کے انقلاب میں ’سیاہ ذرائع‘ کا کردار بالکل غیرواضح ہے، لیکن اِس کے بعد جو کچھ ہوا اُس کے پیش نظر اِس سے انکار مشکل ہے۔‘‘ سابقہ مارکسسٹ اور اب ایک رجعتی سلاو پرست پیٹر سٹرو زیادہ ٹھوس انداز میں اظہار خیال کرتا ہے: ’’ جب جرمن منصوبہ بندی اور کنٹرول کے تحت انقلابِ روس کامیاب ہو گیا تو روس کو عملی طور پر جنگ سے الگ ہونا ہی تھا۔‘‘ ملیوکوف کی طرح سٹرو بھی یہاں اکتوبر انقلاب کی نہیں بلکہ فروری انقلاب کی بات کر رہا ہے۔ پیٹروگراڈ گیریزن کے مندوبین کی جانب سے تشکیل کردہ سپاہیوں کی آزادیوں کے میگنا کارٹا ، ’فرمان نمبر 1‘ کے موضوع پر روڈزیانکو نے لکھا ہے: ’’مجھے ’فرمان نمبر 1‘ کے جرمن ماخذ پر رتی بھر شک نہیں ہے۔‘‘ ایک ڈویژن کے سربراہ جنرل بارکووسکی نے روڈزیانکو کو بتایا کہ ’’اُس کے سپاہیوں کو ’فرمان نمبر 1‘ بڑی تعداد میں جرمن مورچوں سے دیا گیا تھا۔‘‘ گچکوف، جس پر زار کے تحت ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جب [فروری انقلاب کے بعد] وزیر جنگ بن گیا تو فوراً اِس الزام تراشی کو بائیں طرف منتقل کر دیا۔ فوج کے نام گچکوف کے اپریل کے احکامات میں درج ہے: ’’ایسے افراد جو روس سے نفرت کرتے ہیں اور بلاشبہ ہمارے دشمنوں کا کام کر رہے ہیں، ہمارے دشمنوں کی مستقل خاصیت لئے ہماری فوج میں گھس چکے ہیں اور اُن کی ایما پر جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔‘‘سامراجی پالیسی کے خلاف اپریل کے مظاہرے کے موضوع پر ملیوکوف لکھتا ہے: ’’دونوں وزرا (ملیوکوف اور گچکوف) کو ہٹانے کی ذمہ داری جرمنوں نے سونپی تھی‘‘ اور مزدوروں کو مظاہرے میں شریک ہونے کے ایک دن کے 15 روبل بالشویکوں نے دئیے تھے۔یوں جرمن پیسے کی اس کنجی سے یہ لبرل تاریخ دان اُن تمام معموں کا قفل کھولتا ہے جن سے بطور سیاستدان اپنا سر ٹکراتا رہا تھا۔
حب الوطن سوشلسٹ، جو بالشویکوں کو اگر جرمن حکمران طبقے کے ایجنٹ نہیں تو غیر ارادی اتحادی کہہ کر زچ کرتے تھے، خود بھی دائیں طرف سے اِسی الزام تراشی کی زد میں تھے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ روڈزیانکو نے شکائدز کے بارے میں کیا کہا تھا۔ اُس نے کیرنسکی کو بھی نہیں چھوڑا۔ ’’بلاشبہ وہی تھا جس نے بالشویکوں کے ساتھ خفیہ ہمدردی کی وجہ سے، بلکہ شاید کچھ دوسرے ارادوں کی وجہ سے بھی عبوری حکومت کو مجبور کیا‘‘ کہ بالشویکوں کو روس آنے دیا جائے۔’’دوسرے ارادوں‘‘ کا مطلب جرمن پیسے کے شوق کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ فوجی پولیس کا جرنیل سپیری ڈووچ اپنی دلچسپ یادداشتوں میں سوشل انقلابیوں کے حلقوں میں یہودیوں کی بہتات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اُن میں کچھ روسی نام بھی نمایاں تھے، جیسا کہ مستقبل کا دیہی وزیر، جرمن جاسوس وکٹر چرنوف۔‘‘ صرف یہی فوجی پولیس والا نہیں ہے جس نے سوشل انقلابی پارٹی کے اِس رہنما پر شک کیا ہو۔ بالشویکوں کے خلاف جولائی کے بلووں کے بعد کیڈٹوں نے وزیر زراعت چرنوف کے خلاف چیخ و پکار کرنے میں ذرا دیر نہیں کی، اُس پر جرمنی سے روابط کا الزام لگایا گیا،چنانچہ اس بیچارے حب الوطن کو عارضی استعفیٰ دینا پڑا تاکہ خود کو الزامات سے بری کر سکے۔ حب الوطن مجلس عاملہ کی جانب سے منشویک سکوبیلیف کو ایک بین الاقوامی سوشلسٹ اجلاس میں شمولیت سے متعلق دی جانے والی ہدایات پر 1917ء کے موسم خزاں میں عبوری پارلیمنٹ کے چبوترے پر تبصرہ کرتے ہوئے ملیوکوف نے متن کے گہرے نحوی تجزئیے کے ذریعے اِس دستاویز کے ’’جرمن ماخذ‘‘ کو واضح کیا۔ ویسے اِن ہدایات کا انداز سارے مصالحت پسندانہ لٹریچر کی طرح واقعی فضول تھا۔ نظریات اور عزم سے عاری اور ہر طرف دہشت سے دیکھتی تاخیر زدہ جمہوریت اپنی تحریروں میں اوصاف کے اتنے ڈھیر لگا دیتی تھی کہ وہ کسی غیرملکی زبان کا برا ترجمہ معلوم ہونے لگتی تھیں، بالکل جیسے یہ جمہوریت خود بھی ایک غیرملکی ماضی کی پرچھائی ہی تھی۔ تاہم اس میں لوڈن ڈورف کا کوئی قصور نہ تھا۔
جرمنی میں سے لینن کے سفر نے وطن پرست شعلہ بیانی کو نہ ختم ہونے والے امکانات عطا کر دئیے تھے۔پہلے پہل لینن کا منافقانہ خیرمقدم کرنے والی بورژوا پریس نے اُس کا سماجی پروگرام واضح ہو جانے کے بعد ہی اُس پر ’’جرمن دوستی‘‘ کی بدکار بہتان تراشی شروع کی: ’’زمین، روٹی اور امن‘‘ [۵]، یہ نعرے تو وہ صرف جرمنی سے ہی لا سکتا ہے! اُس وقت تک ابھی ارمولینکو نے انکشافات نہیں کئے تھے۔
جب ٹراٹسکی اور امریکہ سے لوٹنے والے کئی دوسرے تارکین وطن کو شاہ جارج (King George) کے فوجی حکام نے کینیڈا میں ہالی فیکس میں روکا تو پیٹروگراڈ میں برطانوی سفیر نے انگریزی لہجے والی انوکھی روسی زبان میں پریس کو آگاہ کیا: ’’بحری جہاز کرسٹیانا فیورڈ پر سوار اِن روسی شہریوں کو ہالی فیکس میں اِس لئے روکا گیا کیونکہ برطانوی حکومت کو پتا چلا تھا کہ اُن کا تعلق روس کی عبوری حکومت کو اکھاڑنے کے ایک جرمن حمایت یافتہ منصوبے سے تھا… ‘‘ بچانن نے یہ بات 14 اپریل کو کہی تھی: اُس وقت نہ تو برسٹین اور نہ ہی ارمولینکو افق پر نمودار ہوا تھا۔ تاہم ملیوکوف نے بطور وزیر خارجہ خود کو مجبور پایا کہ روسی سفیر نابوکوف کے ذریعے برطانوی حکومت سے ٹراٹسکی کو چھوڑنے اور روس آنے کی اجازت دینے کی درخواست کرے۔ نابوکوف لکھتا ہے، ’’امریکہ میں ٹراٹسکی کی سرگرمیوں کی جانکاری رکھنے والی برطانوی حکومت تشویش میں مبتلا ہو گئی: ’یہ عداوت ہے یا نادانی؟‘ انگریزوں نے کندھے اچکائے، خطرے کو سمجھا اور ہمیں تنبیہ کی۔‘‘ تاہم برطانوی وزیر اعظم لائڈ جارج کو جھکنا پڑا۔ پیٹروگراڈ کی پریس میں برطانوی سفیر سے ٹراٹسکی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اُس نے کچھ شرمندگی سے اپنی پہلی وضاحت واپس لے لی اور اب کی بار اعلان کیا: ’’میری حکومت نے ہالی فیکس میں تارکین وطن کے گروہ کو صرف اِس مقصد سے اور اس وقت تک ہی روکے رکھا کہ روسی حکومت اُن کی شناخت کر لے… روسی تارکین وطن کو حراست میں لینے کی بس یہی کل کہانی ہے۔‘‘ یہ بچانن صرف ایک معزز آدمی ہی نہیں بلکہ سفارتکار بھی تھا۔
اپریل کے مظاہرے کے نتیجے میں حکومت سے نکلنے کے بعد، جون میں ریاستی دوما کے اراکین کے ایک اجلاس میں ملیوکوف نے لینن اور ٹراٹسکی کے جرمنی سے روابط کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے اُن کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اگلے دن سوویتوں کی کانگریس میں ٹراٹسکی نے اعلان کیا: ’’ ملیوکوف کی جانب سے اُس کے الزام کی تصدیق یا واپسی تک اُسے بے ایمان بہتان تراش ہی سمجھا جائے گا۔‘‘ ملیوکوو نے لبرل اخبار’ریخ‘ میں جواب دیا کہ وہ ’’درحقیقت اِس بات پر ناراض تھا کہ جناب لینن اور ٹراٹسکی آزاد گھوم رہے ہیں‘‘، لیکن اُس نے اُن کی گرفتاری کا مطالبہ ’’اِن بنیادوں پر نہیں کیا تھا کہ وہ جرمنی کے ایجنٹ ہیں، بلکہ اس لئے کہ انہوں نے فوجداری قوانین کی خوب خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ ملیوکوف ایک معزز آدمی ہوئے بنا ایک سفارتکار تھا۔ ارمولینکو کے انکشافات سے پہلے ہی لینن اور ٹراٹسکی کی گرفتاری کی ضرورت اُس کے سامنے بالکل واضح تھی؛ گرفتاری کو قانونی رنگ دینا تو محض تکنیک کا سوال تھا۔ یوں الزام تراشی کے اس تیز دھار بلیڈ کے قانونی شکل میں متحرک ہونے سے پہلے ہی لبرلوں کے رہنما اِس سے کھیل رہے تھے۔
عبوری حکومت کے منتظم اعلیٰ کیڈٹ نابوکوف (اِسے لند ن میں مذکورہ بالا روسی سفیر کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیا جائے) کے بیان کردہ ایک رنگین واقعے میں جرمن پیسے کے فسانے کا کردار انتہائی واضح ہو جاتا ہے۔ حکومت کے ایک اجلاس میں ملیوکوف نے کسی دوسرے سوال پر بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا: ’’یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انقلاب کو بڑھاوا دینے والے عناصر میں جرمن پیسے نے بھی اپنا کردار ادا کیا…‘‘ یہ ملیوکوف کی شخصیت کے بالکل مطابق تھا، اگرچہ الفاظ کو تھوڑا نرم کر دیا گیا تھا۔ نابوکوف کے مطابق ’’کیرنسکی غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ وہ اپنا بستہ اٹھا کر میز پر پٹختے ہوئے چلّایا: ’ ملیوکوف نے میری موجودگی میں عظیم انقلابِ روس کے مقدس نصب العین پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا میں ایک منٹ کے لئے یہاں نہیں رک سکتا۔‘‘‘ یہ کیرنسکی کی شخصیت کے بالکل مطابق تھا، اگرچہ اُس کا طرز عمل تھوڑا مبالغہ آرائی پر مبنی تھا۔ ایک روسی محاورہ ہے کہ جس کنویں سے کبھی پانی پینا ہو اُس میں تھوکنا نہیں چاہئے۔اِسی کیرنسکی کو جب اکتوبر انقلاب نے مشتعل کیا تو اِس کے خلاف استعمال کے لئے اُسے جرمن پیسے کے اِسی فسانے کے سوا کچھ نہ ملا۔ جو ملیوکوف کے منہ سے ’’مقدس نصب العین پر کیچڑ‘‘ تھا وہ برنسٹین کے منہ سے بالشویکوں پر کیچڑ اچھالنے کا مقدس نصب العین بن گیا۔
جرمنی سے دوستی اور جاسوسی کے الزامات کے اَن ٹوٹ سلسلے کا آغاز زارینہ، راسپیوٹن اور درباری حلقوں سے ہوا، جہاں سے یہ حکومت، فوجی قیادتوں، دوما اور لبرل اخبارات سے ہوتے ہوئے کیرنسکی اور کئی سوویت رہنماؤں تک پہنچا اور پھر اپنی سب سے اہم ضرب بالشویکوں پر لگائی۔ سیاسی دشمنوں کا پختہ فیصلہ تھا کہ اپنے تخیلات پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے: اُنہوں نے پرانے الزامات کو ہی ایک سے دوسری جگہ منتقل کر دیا، حرکت کی سمت دائیں سے بائیں جانب تھی۔ بالشویکوں کے خلاف جولائی کی بہتان تراشی آسمان سے بالکل نہیں گری۔ یہ خوف اور نفرت کا قدرتی پھل، شرمناک سلسلے کی آخری کڑی اور بہتان تراشی کے روایتی کلیے کی ایک نئے اور حتمی مقصد تک منتقلی تھی، جس نے کل تک الزامات لگانے اور الزامات کا سامنا کرنے والوں میں مفاہمت کروا دی۔ حکمران گروہ کی تمام تر رسوائیوں، اُن کے تمام خدشات، اُن کی تمام تلخیوں کا رخ اب اُس پارٹی کی طرف تھا جو انتہائی بائیں جانب کھڑی تھی اور انقلاب کی ناقابل تسخیر قوت کی سب سے مکمل مادی شکل تھی۔ بھلا ایسا ہو سکتا تھا کہ بالشویکوں کو خون اور غلاظت میں غرق کرڈالنے کی جان توڑ حتمی کوشش کئے بنا ہی ملکیتی طبقات اُن کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے؟ لمبے استعمال سے خوب گانٹھ دار ہو چکے بہتان تراشی کے پھندے کو آخر بالشویکوں کے گلے ہی پڑناتھا۔ خفیہ پولیس کے ایک ریٹائرڈ حوالدار کے انکشافات تو بند گلی میں پھنس چکے اِن حکمران طبقات کے ہذیان کا محض اظہار تھے۔ اِسی وجہ سے بہتان تراشی نے اتنی خوفناک قوت حاصل کر لی تھی۔
جرمن گماشتگی کا خیال محض ہذیان بھی نہ تھا۔ جرمنی میں روس کی جاسوسی سے کہیں بہتر طور پر منظم روس میں جرمنی کی جاسوسی تھی۔ یہ یاد رکھنا ہی کافی ہے کہ پرانی حکومت کے تحت بھی وزیر جنگ سوخوملینوف کو جرمنی کا معتمد آدمی قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔یہ بھی مسلمہ ہے کہ جرمن ایجنٹ نہ صرف دربار اور بلیک ہنڈرڈ کے حلقوں بلکہ بائیں بازو والوں میں بھی گھسے ہوئے تھے۔ آسٹریائی اور جرمن حکومتیں جنگ کے آغاز سے ہی یوکرائنی اور کاکیشیائی علیحدگی پسند رجحانات سے جعلی محبت کی پینگیں بڑھا رہی تھیں۔ یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ ارمولینکو، جسے جرمنوں نے 1917ء میں بھرتی کیا تھا، کو یوکرائن کی علیحدگی کی کوشش کے لئے بھیجا گیا تھا۔1914ء میں ہی سوئٹزرلینڈ میں لینن اور ٹراٹسکی نے اُن انقلابیوں سے علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا جو آسٹریا اور جرمنی کی عسکریت کا شکار ہو چکے تھے۔1917ء کے اوائل میں ٹراٹسکی نے ایک بار پھر بائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹوں، جن کے ساتھ برطانوی سفارتخانے کے ایجنٹ روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کو تحریری تنبیہ کی۔ لیکن روس کو کمزور اور زار کو خوفزدہ کرنے کے لئے علیحدگی پسندوں سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے باوجود بھی زار شاہی کو اکھاڑنے کے خیال سے جرمن حکومت بہت دور تھی۔ اِس کا بہترین ثبوت فروری انقلاب کے بعد روسی مورچوں میں پھیلایا گیا ایک اعلامیہ ہے، جسے 11 مارچ کے پیٹروگراڈ سوویت کے اجلاس میں پڑھا گیا: ’’شروع میں انگریزوں نے تمہارے زار سے ہاتھ ملائے؛ اب وہ اُس کے خلاف ہو گئے ہیں کیونکہ وہ اُن کے خود غرض مطالبات ماننے پر راضی نہیں ہو گا۔انہوں نے تمہارے زار، جو تمہیں خدا نے عطا کیا تھا، کو نکال باہر کیا ہے۔ ایسا کیوں ہوا ہے؟ کیونکہ وہ انگریزوں کے مکار منصوبوں کو سمجھ اور جان چکا تھا۔‘‘ اس دستاویز کا مواد اور شکل، دونوں اس کے اصلی ہونے کی داخلی ضمانت دیتے ہیں۔ جیسے آپ ایک جرمن لیفٹنٹ کی نقالی نہیں کر سکتے، ویسے ہی آپ اُس کے تاریخی فلسفے کی نقالی بھی نہیں کر سکتے۔ جرنیل کے منصب والا جرمن لیفٹنٹ ہاف مین قیاس کرتا ہے کہ انقلابِ روس کی منصوبہ سازی اور اس کی بنیادیں برطانیہ میں تھیں۔ تاہم اس میں ملیوکوف اور سٹرو کے نظرئیے سے کم نامعقولیت ہے، کیونکہ جرمنی آخر تک زار کے ساتھ علیحدہ امن کی توقع کرتا رہا، جبکہ لندن کو سب سے زیادہ خوف اُن کے درمیان ایک علیحدہ امن کا ہی تھا۔ زار کی بحالی کا عدم امکان بالکل واضح ہو جانے کے بعد ہی جرمن فوجی قیادت نے اپنی امیدیں انقلابی عمل کی بکھرتی ہوئی قوت کی طرف منتقل کیں۔حتیٰ کہ جرمنی میں سے لینن کے سفر کے معاملے میں بھی پہل جرمن حلقوں نے نہیں بلکہ خود لینن نے کی تھی، بلکہ سب سے پہلے منشویک مارٹوف نے کی تھی۔ جرمن فوجی قیادت صرف اس پر راضی ہوئی تھی، وہ بھی شاید ہچکچاہٹ کے بغیر نہیں۔ لوڈن ڈورف نے خود سے کہا: شاید اِسی طرف سے ہی کچھ سکون مل جائے ۔
جولائی کے واقعات کے دوران خود بالشویکوں کو ایک سوچی سمجھی بداندیشی سے بھڑکائے گئے کچھ شدت پسندانہ اقدامات میں ایک بیرونی اور مجرم ہاتھ کی تلاش تھی۔ٹراٹسکی نے اُن دنوں لکھا: ’’اس میں ردِ انقلابی اشتعال انگیزی اور جرمن ایجنٹوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ اِس سوال کا قطعی جواب دینا فی الوقت مشکل ہے۔ ہمیں ایک مستند تفتیش کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے… لیکن اب بھی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسی کسی تفتیش کے نتائج بلیک ہنڈرڈ گروہوں اور جرمن، انگریز یا سو فیصد روسی یا پھر اِن تینوں طرح کے پیسے کے خفیہ کردار پر ہی روشنی ڈالیں گے۔ لیکن کوئی بھی عدالتی تفتیش اِن واقعات کے سیاسی معنی تبدیل نہیں کرے گی۔ پیٹروگراڈ کے مزدور اور سپاہی عوام کو خریدا گیا ہے نہ خریدا جا سکتا تھا۔ وہ جرمن بادشاہ ولہم، بچانن یا ملیوکوف کے لئے کام نہیں کر رہے ہیں۔ اِس تحریک کو جنگ، آتی ہوئی بھوک، سر اٹھاتی ہوئی رجعت، حکومت کی بے رخی، مہم جوئی پر مبنی حملے، سیاسی عدم اعتماد اور مزدوروں اور سپاہیوں کی انقلابی تشویش نے ابھارا ہے… ‘‘ جنگ اور دو انقلابات کے بعد عام ہونے والی دستاویزات اور یادداشتوں میں موجود تمام مواد کسی شبے کے بغیر ثابت کرتا ہے کہ روس میں انقلابی عوامل کے لئے جرمن ایجنٹوں کی طرفداری ایک لمحے کے لئے بھی عسکری – پولیس میدان سے نکل کر بڑی سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہوئی۔ ویسے خود جرمنی میں انقلاب کے بعد کیا اِس بات پر زور دینے کی ضرورت باقی بچتی ہے؟ جرمن بادشاہت کے یہ بڑے طاقتور ایجنٹ 1918ء کے موسم خزاں میں جرمن مزدوروں اور سپاہیوں کے سامنے کتنے قابل رحم اور خصی ثابت ہوئے! ملیوکوف کہتا ہے، ’’لینن کو روس بھیجنے کا ہمارے دشمن کا حساب کتاب بالکل درست تھا۔‘‘ لیکن خود لوڈن ڈورف اِس کام کے نتائج کا تخمینہ بالکل الٹ لگاتا ہے: ’’مجھے نہیں پتا تھا کہ اِس سے ہماری اپنی طاقت کا کباڑہ ہو جائے گا۔‘‘ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکمت عملی کے دو ماہرین ، لوڈن ڈورف جس نے لینن کو جانے کی اجازت دی، اور لینن جس نے اُس کی اجازت قبول کی، میں سے لینن زیادہ دور اندیش تھا۔
اپنی یادداشتوں میں لوڈن ڈورف شکایت کرتا ہے، ’’جرمن ریاست کی حدود میں دشمن کا پراپیگنڈا اور بالشویزم ایک ہی مقصد کی تلاش میں تھے۔برطانیہ نے چین کو افیون دی تھی، ہمارے دشمنوں نے ہمیں انقلاب دیا… ‘‘ اتحادی ممالک پر لوڈن ڈورف وہی الزام لگاتا ہے جو جرمنی پر ملیوکوف اور کیرنسکی لگا رہے تھے۔ تاریخ کی بدنام منطق اپنا بے رحم انتقام اسی طرح لیتی ہے! لیکن لوڈن ڈورف یہاں رکا نہیں۔ فروری 1931ء میں اُس نے دنیا کو بتایا کہ زار شاہی روس اور سامراجی جرمنی کے خلاف جدوجہد میں بالشویکوں کی پشت پناہی بین الاقوامی اور بالخصوص یہودی مالیاتی سرمایہ کر رہا تھا! ’’ٹراٹسکی امریکہ سے سویڈن کے راستے پیٹروگراڈ آیا تھا، اُسے بین الاقوامی سرمایہ داروں نے بے شمار پیسہ دیا تھا۔ بالشویکوں کو اِس کے علاوہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے یہودی سولمسن نے بھی پیسے دئیے تھے‘‘ (لوڈن ڈورف، 15 فروری 1931ء) ۔ لوڈن ڈورف اور ارمولینکو کے بیانات میں جتنا بھی فرق ہو، ایک بات پر وہ متفق ہیں: پیسے کا ایک حصہ درحقیقت جرمنی سے آیا تھا، لوڈن ڈورف کی طرف سے نہیں بلکہ اُس کے جانی دشمن سولمسن کی طرف سے۔ اس سارے سوال کو جمالیاتی اختتام بخشنے کے لئے بس اسی بیان کی کمی رہ گئی تھی۔
لیکن نہ تو لوڈن ڈورف، نہ ہی ملیوکوف اور نہ ہی کیرنسکی نے بہتان تراشی کا یہ اوزار ایجاد کیا تھا، اگرچہ انہوں نے اس کا پہلا وسیع تر استعمال ضرور کیا۔یہ’’سولمسن‘‘ ایک یہودی اور ایک جرمن ایجنٹ کے طور پر تاریخ میں پہلے بھی کئی شکلوں میں نمودار ہو چکا ہے۔ عظیم انقلابِ فرانس کے دوران فرانس میں سویڈن کے سفیر نواب فرسن ، جو بادشاہ اور بالخصوص ملکہ کی شہنشاہی طاقت کا پرجوش حامی تھا، نے ایک سے زیادہ مرتبہ سٹاک ہوم میں اپنی حکومت کو ایسی اطلاعات بھیجیں: ’’جیکوبنوں (Jacobin) کوپروشیائی وزیر خارجہ کا سفیر یہودی ایفریم پیسے دے رہا ہے؛ [اس مقصد کے لئے] اُسے کچھ ہی عرصہ پہلے 6 لاکھ لور [۶] دئیے گئے ہیں۔‘‘ اعتدال پسند اخبار ’لی ریوولیوشنز ڈی پیرس‘ نے مفروضہ پیش کیا کہ جمہوری انقلاب کے دوران ’’پروشیائی بادشاہ کے ایجنٹ یہودی ایفریم جیسے یورپی سفارتکاروں نے بے چین اور متلون ہجوم سے روابط قائم کر لئے تھے… ‘‘ یہی فرسن کہتا ہے: ’’جیکوبن اگر اُجڈ لوگوں کو رشوت نہ دیتے تو برباد ہو جاتے۔‘‘ یعنی اگر بالشویکوں نے اُس مظاہرے کے شرکا کو یومیہ اجرت دی تو وہ صرف جیکوبنوں کی ہی پیروی کر رہے تھے! مزید برآں ’’اُجڈ لوگوں‘‘ کو دی جانے والی رشوت کے پیسے کا ماخذ دونوں صورتوں میں جرمنی ہی تھا! اٹھارہویں اور بیسویں صدی کے انقلابیوں کے اعمال میں یہ مماثلت بڑی حیران کن ہوتی، اگر اُن کے دشمنوں کے بہتانوں میں مماثلت اِس سے بھی زیادہ حیران کن نہ ہوتی۔ لیکن ہمیں جیکوبنوں تک ہی محدود رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام انقلابات اور خانہ جنگیوں کی تاریخ ہمیشہ ثابت کرتی ہے کہ خطرات میں گھرا یا اکھاڑ پھینکا گیا حکمران طبقہ اپنی بدبختی کی وجوہات اپنے اندر نہیں بلکہ غیرملکی ایجنٹوں اور سفارتکاروں میں تلاش کرتا ہے۔ ایک فاضل تاریخ دان کے طور پر ملیوکوف کے ساتھ ساتھ تاریخ کے ایک سطحی رہنما کے طور پر کیرنسکی کو بھی اِس چیز کا بخوبی علم ہو گا۔ تاہم سیاستدانوں کے طور پر وہ اپنے ہی ردِ انقلابی فرائض کے متاثرین تھے۔
وسیع پیمانے کی تمام غلط فہمیوں کی طرح غیرملکی ایجنٹوں کے انقلابی کردار کے اِن نظریات کی بھی تاریخی بنیادیں ہیں۔ہر قوم اپنے وجود کے نازک مراحل میں شعوری یا لاشعوری طور پر وسعت اور بے باکی سے دوسری اقوام کے خزانے میں سے مستعار لیتی ہے۔ مزید برآں اکثر ہوتا ہے کہ سرحد پر رہنے والے لوگ یا وطن واپس لوٹنے والے تارکین ایک ترقی پسند تحریک میں رہنما کردار ادا کرتے ہیں۔یوں قدامت پسند طبقات کو یہ نئے نظریات اور ادارے سب سے پہلے بیگانے اور غیرملکی ایجادات معلوم ہوتے ہیں۔ شہر کے خلاف دیہات، دارالحکومت کے خلاف دور دراز کے علاقے اور مزدور کے خلاف پیٹی بورژوا اپنا دفاع غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کرنے والی قومی قوت کا لبادہ اوڑھ کر کرتے ہیں۔ آخری تجزئیے میں ملیوکوف نے بالکل اُسی وجہ سے بالشویک تحریک کو ’’جرمن‘‘ قرار دیا جس کے تحت سو سال تک روسی کسان شہری کپڑوں میں ملبوس ہر شخص کو جرمن سمجھتا رہا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسان کی غلطی دیانتداری پر مبنی تھی۔
1918ء میں، یعنی اکتوبر انقلاب کے بعد امریکی حکومت کے پریس بیورو نے بڑے فاتحانہ انداز میں بالشویکوں کو جرمنوں کے ساتھ جوڑنے والی کچھ دستاویزات شائع کیں۔ اس خام جعلسازی، جو تنقید کا ایک جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی، پر کئی پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں نے بھی اعتبار کر لیا، تاوقتیکہ یہ دریافت نہ ہو گیا کہ دستاویزات کے حقیقی نسخے، جو مختلف ممالک میں مرتب ہونے چاہئے تھے، ایک ہی مشین پر مرتب کئے گئے تھے۔ جعلسازوں نے اپنے گاہکوں کی خاطر معقول ہونے کا ناٹک بھی نہ کیا: اُنہیں بخوبی علم تھا کہ بالشویکوں پر الزام تراشی کی سیاسی ضرورت ، تنقید کی آواز پر غالب آ جائے گی۔
لیکن سیاسی بہتان تراشی اتنی گھٹیا اور یک رنگی کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ سماجی سوچ بڑی کفایت شعار اور قدامت پسند ہوتی ہے۔ یہ ضرورت سے زیادہ تگ و دو نہیں کرتی۔ جب تک کچھ نیا تخلیق کرنے پر مجبور نہ ہو جائے، یہ پرانے سے ہی کام چلانے کو ترجیح دیتی ہے۔ لیکن جب نیا تخلیق کرنے پر مجبور ہو بھی جاتی ہے تو اُس میں پرانے کے عناصر شامل کر دیتی ہے۔ ہر نئے آنے والے مذہب نے کوئی نئی دیومالا تخلیق نہیں کی، بلکہ ماضی کی توہمات کو ہی نیا رنگ دیا ہے۔فلسفے کے نظام اور قانون و اخلاقیات کے نظریات یونہی تخلیق پاتے ہیں۔ مختلف افراد، حتیٰ کہ وہ بھی جن کے پاس دانش ہو تی ہے، اُسی سماج کے بے آہنگ راستوں پر آگے بڑھتے ہیں جو اُن کی پرورش کرتا ہے۔ ایک ہی کھوپڑی میں فرسودہ خیالات سے غلامانہ وابستگی کیساتھ ایک جرات مندانہ سوچ بھی پروان چڑھتی ہے۔ سرکش نظریات خود کو خام تعصبات سے ہم آہنگ کر لیتے ہیں۔ شیکسپیئر کی تخلیقی دانش اُنہی موضوعات پر پروان چڑھی تھی جو اُسے قدیم وقتوں سے ملے تھے۔ پاسکلنے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے امکانیت (Probability) کی تھیوری کا استعمال کیا تھا۔ نیوٹن نے کشش ثقل کے قوانین دریافت کئے تھے، لیکن الہام پر یقین رکھتا تھا۔ مارکونی نے جب پوپ کی رہائش گاہ پر وائرلیس سٹیشن قائم کیا تو پوپ نے اِسی ریڈیو کے ذریعے اپنی روحانی برکت تقسیم کی۔ عام حالات میں یہ تضادات اونگھتے رہتے ہیں، لیکن انقلاب کے وقتوں میں دھماکہ خیز قوت حاصل کر لیتے ہیں۔ جب مراعت یافتہ طبقات کے مادی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ اُن تمام تعصبات اور تذبذب کو حرکت میں لے آ تے ہیں جو انسانیت اپنے چھکڑے میں اپنے پیچھے گھسیٹ رہی ہوتی ہے۔ کیا ہم قدیم روس کے سرداروں کو دوش دے سکتے ہیں، جنہوں نے اپنے زوال کی داستان اُن طبقات سے اندھا دھند اُدھار لے کر گھڑی جنہیں اُن سے پہلے اکھاڑ پھینکا گیا تھا؟ یہ حقیقت کہ کیرنسکی نے کئی برس بعد اپنی یاداشتوں میں ارمولینکو کی کہانی کو دوبارہ زندہ کیا، کم از کم بھی کہا جائے تو غیر ضروری ہے۔
ہم نے تبصرہ کیا ہے کہ جنگ اور انقلاب کے اِن سالوں کی بہتان تراشی اپنی یک سُری کے حوالے سے بڑی غیرمعمولی تھی۔ تاہم اِس میں کچھ تغیر بھی تھا۔ مقدار کا اجتماع ایک نئے معیار کو جنم دیتا ہے۔ بالشویکوں پر کئے جانے والے حملوں سے موازنہ کیا جائے تو باقی پارٹیوں کی آپسی کشمکش کسی خاندانی تلخ کلامی سے زیادہ نہ تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ تصادم میں وہ مستقبل کے ایک فیصلہ کن تصادم کی تیاری ہی کر رہی تھیں۔ ایک دوسرے پر جرمن روابط کے تیز دھار الزامات لگاتے ہوئے بھی وہ حد سے تجاوز نہیں کرتی تھیں۔ لیکن بالشویکوں پر حملے میں تمام مقتدر قوتیں، حکومت، عدالتیں، خفیہ پولیس، فوجی قیادت، حکام، شہری حکومتیں، سوویت اکثریت کی پارٹیاں، اُن کی پریس اور اُن کے مقررین ایک دیوہیکل اکائی بن جاتے تھے۔ آرکسٹرا کے آلات کے مختلف سُروں کی طرح اُن کے آپسی اختلافات عمومی نتیجے کو تقویت ہی دیتے تھے۔ دو ذلیل مخلوقات کی بیہودہ ایجاد کو تاریخی حقیقت کی سطح تک بلند کر دیا گیا تھا۔ بہتان نیاگرا آبشار کی طرح بہہ رہے تھے۔ جنگ، انقلاب اور اُن لوگوں کا کردار جن پر بہتان تراشی کی جا رہی تھی، جو دسیوں لاکھ لوگوں کے رہنما تھے اور اقتدارِ اعلیٰ کی طرف اپنی پارٹی کی رہنمائی کر رہے تھے… اگر اِس کیفیت پر غور کیا جائے تو بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ جولائی 1917ء عالمی تاریخ کی بدترین بہتان تراشی کا مہینہ تھا۔
*****
[۱] ارمولینکو (Ermolenko) ایک ڈبل ایجنٹ تھا جو دونوں طرف سے پیسے کھاتا تھا۔
[۲]جس نے مسیح پر مقدمہ چلا کر اُسے سولی پر لٹکایا تھا۔
[۳] اِن دونوں جرمن انقلابیوں کو مصالحت پسندوں کی مدد سے ردِ انقلابیوں نے جنوری 1919ء میں بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
[۴] یہ پیٹروگراڈ کا وہ مزدور علاقہ نہیں جس کا ذکر متعدد بار اس کتاب میں ہوا ہے، بلکہ روسی سرحد کے قریب ایک شہر ہے۔
[۵] 1917ء میں بالشویکوں کا کلیدی نعرہ، جس کی بنیاد پر اُنہو ں نے سوویتوں میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کی۔
[۶] قدیم فرانس کا سکہ۔