بھارت میں ہندوتوا قوانین کا راج: ایک اور تاریخی مسجد کو مندر قرار دے دیا گیا - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد رپورٹ)مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں قائم صدیوں پرانی کمال مولا مسجد کو ہائی کورٹ نے جمعے کے روز ایک قدیم ہندو مندر قرار دے دیا، جس کے بعد اس تاریخی مقام پر مسلمانوں کی آمد و نماز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ عمارت بھوجشالا کمپلیکس کا حصہ ہے، جو ایک محفوظ آثار قدیمہ کا مقام سمجھا جاتا ہے۔ 2003 کے ایک انتظام کے تحت یہاں منگل کو ہندو رسومات اور جمعے کو مسلمانوں کی نماز کی اجازت تھی۔ تاہم عدالت نے ایک عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے ’’وگدیوی‘‘ یعنی ’’گھوش کی دیوی‘‘ کا مندر قرار دیا اور مسلمانوں کے دعوے کو مسترد کر دیا، البتہ متبادل زمین مانگنے کی اجازت دی ہے۔
فیصلے کے بعد اتوار کو کمپلیکس میں زعفرانی پرچم لہرائے گئے، نوجوان بھجنوں پر رقص کرتے دکھائی دیے اور ہندو کارکنوں نے دیوی کا عارضی بت نصب کیا۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
مورخ آڈری ٹرشکے نے اس فیصلے کی بنیاد بنے آثار قدیمہ کے سرویز کو ’’سیاسی طور پر جانبدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بھارت میں مساجد کو نشانہ بنانے کے وسیع رجحان کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ سرگرمیاں ’’ہندو قوم پرستی کی جڑوں میں موجود اسلاموفوبیا‘‘ کو مضبوط کرتی ہیں اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔
مسلم فریقین نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ اُن کی اجتماعی یادداشت کو بھی مٹانے کے مترادف ہے۔