← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

بھارت کی سب سے قیمتی برآمد دنیا بھر میں پھیلے لاکھوں بھارتی مزدور ہیں

By جدوجہد • 2025-10-24 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارت اپنی معیشت کے نئے روٹ پر گامزن ہے جہاں مصنوعات یا خدمات کی برآمد کی بجائے سب سے زیادہ قیمتی برآمد اُس کی لیبر فورس یعنی مزدوروں کی برآمد ہے۔ عالمی لیبر مارکیٹ میں اس کی افرادی قوت کو متحرک کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق بھارتی حکومت نے ایسی پالیسیاں ترتیب دینا شروع کردی ہیں جن کا مقصد بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کو بڑھانا اور ساتھ ہی مزدوروں کی حفاظت، باعزت واپسی اور دوبارہ انضمام کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت خارجہ نے اکتوبر میں متوقع اَورسیز موبلٹی بل پیش کیا ہے، جو 1983 کے امیگریشن ایکٹ کی جگہ لے گا اور بیرون ملک کام کرنے والے بھارتی شہریوں کے حقوق کو بہتر بنائے گا۔

پچھلے چند برسوں میں بھارت نے یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک سمیت کم از کم 20 ملکوں کے ساتھ مزدوروں کے لیے معاہدے کیے ہیں۔ مثال کے طور پر میزورام کے 21 سالہ وونال پیکا جاپان میں آٹو مکینک کے طور پر کام کرنے کے خواہشمند ہیں اور نئی ویزا اسکیم کے تحت جاپانی زبان سیکھ کر بیرون ملک ملازمت کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

عالمی سطح پر مزدوروں کی کمی نے بھارت کے لیے یہ موقع پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی نوجوان آبادی کو عالمی لیبر مارکیٹ میں متعارف کروائے۔ اندازوں کے مطابق 2030 تک دنیا کو 45 سے 50 ملین مزدوروں کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت بھارت ہر سال تقریباً 7 لاکھ مزدور بیرون ملک بھیجتا ہے، جسے حکومت 1.5 ملین تک بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے۔

یہ پالیسی صرف روزگار کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ بھارت کے لیے معاشی حکمت عملی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے مزدوروں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم بھارتی معیشت کے لیے ایک اہم ستون بن چکی ہیں۔

تاہم چیلنجز بھی نمایاں ہیں۔ بہت سے مزدور مستقل طور پر بیرون ملک رہنا چاہتے ہیں، اور واپسی کے بعد اُن کی سماجی و معاشی بحالی ایک بڑا سوال ہے۔ یورپ اور ایشیا کے بعض ممالک میں مقامی آبادی کے ردعمل نے اس پالیسی کے اثرات پر نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

بھارت کی یہ حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے کہ لیبر اب صرف ایک انسانی وسیلہ نہیں بلکہ ایک تجارتی سرمایہ بن چکا ہے، جو ملک کی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کی سیاسی و معاشی موجودگی کو بھی مستحکم کر رہا ہے۔