← Back to Newsroom OS پاکستان

بھارتی فورسز کا کریک ڈاؤن: دوران حراست تضحیک و تذلیل نے کشمیری دکاندار کو خودسوزی پر مجبور کر دیا

By جدوجہد • 2025-11-27 • 10 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک کشمیری دکاندار نے پولیس کے کریک ڈاؤن اور اپنے بیٹے کی حراست کے صدمے میں خود کو آگ لگا لی، جس سے وہ ایک روز بعد دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے جاری سخت سکیورٹی اقدامات پر نئے سوالات کھڑ ے کر دیے ہیں۔

’اے پی‘ کے مطابق 55 سالہ خشک میوہ فروش بلال احمد وانی کو رواں ماہ نئی دہلی کے مہلک دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے چند گھنٹے بعد انہیں تو چھوڑ دیا، مگر ان کے بڑے بیٹے جاسر بلال وانی کو بدستور زیرحراست رکھا۔

وانی کے گھر والوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بار بار کی تفتیش، ذلت آمیز رویے اور بیٹے کی گرفتاری نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے خودسوزی کی۔پولیس نے بھی وانی کی ہلاکت کوخود کو لگائی گئی آگ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 10 نومبر کو نئی دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔بھارتی تحقیقاتی اداروں نے فوری طور پر اپنی توجہ جموں کشمیر پر مرکوز کر دی اور خطے میں بڑے پیمانے پر چھاپے، گرفتاریاں اور پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوا۔ سینکڑوں افراد اب بھی زیرحراست ہیں۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ دھماکے سے چند گھنٹے قبل جموں کشمیر سے دہلی کے نواح تک سرگرم ایک مشتبہ شدت پسند نیٹ ورک کو توڑا گیا تھا۔ فریدآباد میں کم از کم 7 افراد، جن میں دو کشمیری ڈاکٹر بھی شامل تھے، گرفتار کیے گئے اور بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد ہوا۔

14 نومبر کو یہی بارودی مواد، جسے فریدآباد سے لا کر سری نگر کے ایک پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا، اچانک پھٹ گیا، جس سے کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی روز پولیس نے بلال احمد وانی کے بیٹے جاسر کو گرفتار کیا۔ایک دن بعد وانی، ان کے چھوٹے بیٹے اور بھائی،جو فزکس کے لیکچرر ہیں،کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔وانی اور ان کا چھوٹا بیٹا شام تک رہا کر دیے گئے، جبکہ ان کے بھائی کو بعد میں وانی کی موت کے بعد چھوڑا گیا۔

گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ سب بے گناہ تھے اور حکام انہیں محض قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔وانی گھر واپس آئے تو شدید ٹوٹ چکے تھے۔ اگلی صبح وہ گھر سے باہر نکلے، اپنے اوپر پٹرول ڈالا اور آگ لگا لی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، مگر تین اسپتالوں میں منتقل کیے جانے کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔

جموں کشمیر میں اس سے پہلے بھی بڑے پیمانے پر سکیورٹی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، مگر مقامی لوگوں کے مطابق اس بار کا کریک ڈاؤن 2019 کے بعد سب سے شدید ہے، جب بھارت نے جموں کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کر دیا تھا اور خطے پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔

نئی دہلی دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی ایک کشمیری شخص کے نام پر رجسٹر تھی، اور مشتبہ خودکش حملہ آور عمر ان نبی کومرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے،، جو ایک ڈاکٹر بتایا جا رہا ہے۔

حکام نے اس کا خاندانی گھر سری نگر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں مسمار کر دیا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو بھارتی فورسز ماضی میں بھی مشتبہ افراد کے گھروں کے ساتھ کرتی رہی ہیں۔

این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ بلال وانی کا بیٹا جاسرعمر ان نبی کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرتا تھااور ڈرونز میں ترمیم کرنے اور راکٹ بنانے کی کوششوں میں تکنیکی مدد فراہم کرتا تھا۔

اسی الزام کے پس منظر میں پولیس نے وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک کے نام پر ڈاکٹرز، انجینئرز اور طلبہ کی سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔ متعدد کشمیری ڈاکٹروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسے غیر معمولی، مداخلت پسند اور خوف پھیلانے والا عمل قرار دیا ہے۔

بھارت کے سابق انٹیلی جنس افسر اویناش موہنانے نے کہا کہ تعلیم یافتہ افراد کا ایسے نیٹ ورکس میں شامل ہوناگہرے غصے کی علامت ہے، کیونکہ کشمیریوں کی سیاسی خواہشات طویل عرصے سے دبائی جا رہی ہیں اور لوگ خود کوبے اختیار اور تحقیر زدہ محسوس کرتے ہیں۔

بین الاقوامی کرائسز گروپ کے سینئر تجزیہ کار پرتویندونتی کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد سے سیاسی بے دخلی نے ایک خاموش لیکن گہرا غصہ پیدا کیا ہے، جو دوبارہ ابھر رہی عسکریت پسندی کو تقویت دے رہا ہے۔ان کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن عدم تحفظ کے احساس کو اور بھی بڑھا رہا ہے، جس سے کشیدگی کم ہونے کی بجائے مزید بھڑکنے کا خدشہ ہے۔