بی بی حوری اب اس دنیا میں نہیں رہیں، مگر ان کی جدوجہد جاری ہے
محمد اکبر نوتزئی
”میرے بیٹے کی کوئی خبر نہیں ہے، نہ معلوم ہے کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا۔۔۔میں 14 سال سے سڑکوں پر ہوں۔۔۔ میں بوڑھی ہو گئی ہوں، اور گاڑی سے اترتے وقت لوگ میرا ہاتھ پکڑ کر اتارتے ہیں، مگر میں یہاں احتجاج کرتی ہوں تاکہ مجھے انصاف ملے۔“
یہ الفاظ مرحومہ بی بی حوری کے ہیں، جنہیں ایک مختصر ویڈیو کلپ میں محفوظ کیا گیا ہے جو ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔
2012 سے، جب اُن کا بیٹا بلوچستان میں لاپتہ ہوا، بی بی حوری لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی مظاہروں میں مستقل شریک رہتی تھیں۔ اپنی عمر رسیدگی کے باوجود وہ صبح سے شام تک احتجاجی کیمپوں میں بیٹھی رہتی تھیں، اپنے بیٹے گل محمد مری کی محبت میں، اور اس امید پر کہ وہ صحیح سلامت واپس آ جائے گا۔
70سال کی عمر میں یہ بیوہ منگل کے روز وفات پا گئیں،جنہوں نے معاشرتی روایتوں کو توڑتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکل کر سڑکوں پر، عدالتوں اور پولیس تھانوں میں انصاف کے لیے جدوجہد کی۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز(وی بی ایم پی)کے چیئرمین نصراللہ بلوچ یاد کرتے ہیں کہ ”وہ اپنے لاپتہ بیٹے کی بیٹی کو ساتھ لے کر لاپتہ افراد کے کیمپ میں آیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ عید کے دن بھی وہ کیمپ آتی تھیں۔“
بی بی حوری کوپیارسے اماں حوری بھی کہا جاتا تھا۔ ان کا تعلق کوہلو سے تھا، جو مشرقی بلوچستان میں مری قبیلے کا اکثریتی علاقہ ہے۔
چوتھی بلوچ بغاوت کے خاتمے کے بعدان کا خاندان دیگر مری قبائل کے ساتھ افغانستان منتقل ہوگیا۔ اس بغاوت میں زیادہ تر مری قبائل کے افراد شامل تھے۔افغانستان سے واپسی پر وہ نیوکاہان میں آ کر آباد ہوئے، جو ہزارگنجی کے قریب کوئٹہ کے مضافات میں واقع ہے۔
نصراللہ بلوچ کے یاد کرتے ہیں کہ ”جب ان کے کزن ڈاکٹر محمد اکبر مری 2010 میں لاپتہ ہوئے تو گل محمد نے ان کی بازیابی کے لیے جدوجہد شروع کی، کیونکہ (ڈاکٹر مری کے) بچے اتنے کم سن تھے کہ باہر آ کر آواز نہیں اٹھا سکتے تھے۔اس کی بجائے وہ خود دو ہی سال کے اندر لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے۔“
بزرگ خاتون کے ساتھ مظاہروں میں شریک رہنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ بی بی حوری 2023 میں اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنیں، جب کئی بلوچ خاندانوں نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔
اس وقت لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل تھے، لیکن ان کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ جب وہ دارالحکومت پہنچے تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن برسائے گئے۔
اسلام آباد کے علاوہ ضعیف العمر بی بی حوری نے مستونگ، کوئٹہ، دالبندین سمیت کئی جگہوں پر عوامی جلسوں اور احتجاجوں میں شرکت کی۔ وہ بھیڑ میں کھڑی ہو کر اپنے بیٹے کی تصویر اٹھاتی تھیں اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتی تھیں۔
صحافی منیزے جہانگیر نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ”بی بی حوری جیسی بے شمار عورتیں ہیں جو اپنے بیٹوں، بھائیوں یا شوہروں کو تلاش کرتی رہتی ہیں، اور کبھی کبھی بغیر یہ جانے مر جاتی ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔“
اپنی تعزیتی پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ ”حوری اپنے بیٹے کے بچوں کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں، جو باپ کے بغیر بڑے ہو رہے ہیں۔ وہ کہتی تھیں کہ وہ بوڑھی ہیں، مگر بچوں کے لیے بارش اور سخت دھوپ کا مقابلہ کرتی رہتی تھیں۔“
سابق وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ایکس پر افسوس کا اظہار کیا کہ بی بی حوری کا قانونی کیس آگے بڑھانے والا اب کوئی نہیں رہا، کیونکہ ان کی بیٹی ایمان مزاری جیل میں ہیں،جو یہ مقدمہ لڑرہی تھیں۔
(بشکریہ:’ڈان‘، ترجمہ:حارث قدیر)
