بین الاقوامی کارکنان کا 70 کشتیوں پر مشتمل ’عالمی ریزیلئنس فلوٹیلا‘ غزہ کے لیے روانگی کو تیار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)دنیا بھر سے آئے ہوئے بین الاقوامی کارکنان اتوار کے روز شمال مشرقی اسپین سے غزہ کی جانب 70 کشتیوں پر مشتمل ایک بڑا فلوٹیلا لے کر روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد اسرائیل کی تباہ کن بحری ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے فوری انسانی امداد غزہ تک پہنچانا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ مہم، جسے ’گلوبل ریزیلئنس فلوٹیلا‘ کا نام دیا گیا ہے، ایک سال سے بھی کم عرصے میں ہونے والی دوسری بڑی کوشش ہے اور اس بار سرگرم رضاکاروں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تقریباً 70 ممالک کے ایک ہزار کے قریب رضاکار اس سفر میں شریک ہیں۔
کشتیوں میں غذائی سامان، ادویات، اسکول بیگز اور فلسطینی بچوں کے لیے اسٹیشنری لدی ہوئی ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ مشن فلسطینی سول سوسائٹی تنظیموں، بحری سلامتی کے ماہرین اور معروف بین الاقوامی این جی اوز،جن میں گرین پیس اور اوپن آرمز بھی شامل ہیں،کے تعاون سے ترتیب دیا گیا ہے۔ بارسلونا کی میونسپل حکومت نے بھی اس مہم کی غیر معمولی حمایت کی ہے۔
فلوٹیلا کے ترجمان پابلو کاسٹییا نے بارسلونا میں صحافیوں کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ’’غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی میں عالمی طاقتوں کی شراکت داری کو بے نقاب کرنا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور سمندر و خشکی کے ذریعے ایک مستقل انسانی راہداری کھولنے‘‘ کا دباؤ بڑھانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اوراسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیلی حملوں کے باعث عالمی توجہ غزہ سے ہٹ رہی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل محاصرہ سخت کر رہا ہے، آبادکار بستیاں پھیلا رہا ہے اور قبضے کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔
غزہ پٹی 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی میں ہے، جبکہ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی اسرائیل کی جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، ہسپتال بند پڑے ہیں اور 24 لاکھ کی آبادی میں سے لگ بھگ 15 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ روانگی اس وقت ہو رہی ہے جب اکتوبر 2025 میں پہلے گلوبل ریزیلئنس فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر متعدد کارکنان کو گرفتار اور پھر ملک بدر کر دیا تھا۔ 2010 کی معروف ’ماوی مرمرہ‘ کارروائی سے لے کر 2018 اور 2025 کی فلوٹیلا مہمات تک، اسرائیل تمام ایسی کوششوں کو بین الاقوامی پانیوں میں ہی روک چکا ہے۔ 2008 میں فری غزہ موومنٹ کی دو کشتیاں واحد مثال ہیں جو کامیابی سے غزہ پہنچ سکیں۔
تقریباً دو دہائیوں سے محاصرے میں پھنسا غزہ ایک بار پھر تباہی، بھوک، بیماری اور بے گھری کی تصویر بنا ہوا ہے، جسے اکثر ’’دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ نئے فلوٹیلا کی روانگی اس گھمبیر انسانی بحران کے مقابل عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے بسی کو ایک بار پھر واضح کر رہی ہے۔