تہذیب کی آڑ میں وجے پرشاد کا ایران میں طبقاتی تضاد کا دفاع - روزنامہ جدوجہد
سیاوش شہابی
وجے پرشاد نے ایک ایسا متن لکھا ہے جس میں’’تہذیب‘‘بالکل وہی کردار ادا کرتی ہے جو بورژوا نظریات ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ یہ طبقاتی تضادات کو تاریخی یکجہتی، مشترکہ ثقافت، اور قومی تقدیر کی زبان میں چھپا دیتی ہے۔
ایرانیوں کا شاید سائیرس کے ساتھ کوئی تعلق ہو، سوائے اس وقت کے جب یہ تعلق پہلوی بادشاہت یا اسلامی جمہوریہ کی طرف سے پروپیگنڈا بنا دیا جائے۔لیکن ایرانی سماج کی حقیقی تاریخ، اور اس کی آزادی و رہائی کی جدوجہد، کہیں زیادہ سیاسی، طبقاتی، اور باشعور رہی ہے۔ کم از کم آئینی انقلاب کے بعد سے یہ جدوجہد بنیادی طور پر سماجی اور سیاسی رہی ہے۔
ایران کا جنگ، پابندیوں، اور سامراجی جارحیت کے خلاف دفاع لازمی ہے۔ تاہم حقیقی ایران کوئی جھوٹی تہذیبی ماہیت نہیں، نہ سامراج دشمنی کے نام پر’’مزاحمتی سرمایہ داری‘‘کی کوئی شکل، اور نہ سائیرس یا کربلا کی یاد۔ ایران ایک طبقاتی سماج ہے۔ ایک ایسا سماج جس میں سکیورٹی اسٹیٹ، کرایہ داری پر مبنی سرمایہ، عسکری اقتصادی ادارے، اور بیوروکریٹک بورژوازی نے بحران کا بوجھ مزدوروں، عورتوں، اساتذہ، پنشنرز، مہاجرین اور غریبوں پر ڈال دیا ہے۔
جب وجے پرشاد ایرانی عوام کی مزاحمت کی بات کرتے ہیں، لیکن اس کو ان کی’’تہذیب پر اعتماد‘‘کے ذریعے سمجھاتے ہیں، تو وہ بالکل اسی عنصر کو ہٹا دیتے ہیں جو کسی بھی مارکسی تجزیے کا مرکز ہونا چاہیے:پیداواری رشتے، محنت پر جبر، سماجی دولت پر قبضہ، عورتوں کے جسموں پر کنٹرول، کرایہ داری پر مبنی ارتکاز، اور ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ جو مزاحمت کے نام پر سماج کو آزاد سیاست سے محروم کرتا ہے۔
اسلامی حکومت ایران کی ان عدل کی روایات کی وارث نہیں جو نجات کی علامت تھیں۔ اس نے ان روایات کو شکست دی، بائیں بازو اور مزدور تنظیموں کو دبایا، کونسلوں کو کچلا، اور پھر عدل، مظلومیت، اور سامراج دشمنی کی زبان کو ریاستی نظریے میں بدل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب آزادی کے الفاظ کا جب تعلق مزدور طبقے کی آزاد تنظیم سے ٹوٹ جائے تو وہ طاقت کی از سرنوپیداوار کے اوزار بن جاتے ہیں۔
وجے پرشاد کی نمائندگی کرنے والی بائیں بازو کی سیاست سامراج کے خلاف جدوجہد کے نام پر سماج کو ریاست کے پیچھے نہیں چھپا سکتی۔ طبقاتی جدوجہد کے بغیر، انجمن سازی کی آزادی کے بغیر، ہڑتال کے حق کے بغیر، عورتوں کی آزادی کے بغیر، اور داخلی سرمایہ داری پرتنقید کے بغیر سامراج دشمنی محض بائیں بازو کی زبان میں لکھی ہوئی جغرافیائی سیاست بن جاتی ہے۔
ایران کا دفاع کرنا ضروری ہے،مگر نہ بطور تہذیب،نہ بطور ریاست،اور نہ بطور مزاحمت کا کوئی افسانوی استعارہ۔ایران کو طبقاتی جدوجہد کے میدان کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ایک ایسی جگہ جہاں لوگ بیک وقت سامراجی دباؤ اور اپنے ہی سرمائے اور ریاست کی بالادستی کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔