← Back to Newsroom OS پاکستان

جبر کا راستہ بند گلی ہے

By Roznama Jeddojehad • 2026-06-23 • 5 min read

 طلعت بٹ

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی جدوجہد اب اُن 38 مطالبات کی فہرست میں قید نہیں رہی جن سے اس کا آغاز ہوا تھا۔ راٹھور حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور طاقت کے زعم سے خطے کی سیاست، اس کے حالات اور عوامی مزاحمت کے رخ کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا ہے۔ یہ تبدیلی نعروں اور مطالبات سے کہیں آگے کی چیز ہے — یہ مزاج، سمت اور اجتماعی شعور کی تبدیلی ہے، اور جو کوئی یہ خوش فہمی پالے بیٹھا ہے کہ معاملہ پھر سے اپنے نقطۂ آغاز پر لوٹ جائے گا، وہ تاریخ سے ناواقف ہے۔

سچ یہ ہے کہ عوام کو ایک طویل اور بے رحم جدوجہد کے لیے کسی نے مجبور کیا ہے تو وہ خود ریاست ہے۔ ابتدا میں لوگ چند مختصر اور بنیادی مطالبات لے کر، محض چند دن کی محدود تحریک کے ارادے سے نکلے تھے۔ مگر 5 جون کی شب  جس طرح پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش، شٹر ڈاؤن، احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا ایک منظم، مربوط اور آہنی سلسلہ کھڑا ہوا ہے، اس کی شدت ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ جس نے سمجھا تھا کہ ڈنڈے اور دھمکی سے لوگ گھروں میں دبک جائیں گے، اُس کا اندازہ غلط نکلا۔

یہ بحران کسی اور کا نہیں، ریاست اور نظام کا اپنا کیا دھرا ہے۔

یہ صورتِ حال آسمان سے نازل نہیں ہوئی؛ یہ سراسر ریاستی رویوں اور پالیسیوں کی پیداوار ہے۔ سامنے چند چھوٹے مطالبات تھے — ایسے مطالبات جو میز پر بیٹھ کر، تھوڑے سے تدبر اور ذرا سی نیک نیتی سے، چند گھنٹوں میں حل ہو سکتے تھے۔ مگر اس کے بجائے جانی نقصانات کیے گئے، دہشت گردی کے مقدمات تھوپے گئے، پابندیاں لگائی گئیں، کرفیو نافذ کیا گیا، انٹرنیٹ بند کیا گیا اور سب سے بڑھ کر مذاکرات سے صاف انکار کر دیا گیا۔

یہ اقدامات طاقت کی علامت نہیں، اقتدار کے دیوالیہ پن کی نشانی ہیں۔ جب حکمران دلیل کے بجائے بندوق، اور گفتگو کے بجائے ہتھکڑی کا سہارا لیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ انہی اقدامات نے تحریک کو ایک نئے اور کہیں زیادہ سخت مرحلے میں دھکیلا، اور آزاد کشمیر کی مجموعی سیاست، عوامی مزاحمت کے انداز اور جدوجہد کی سمت کو بنیادوں سے بدل کر رکھ دیا۔ گفتگو کے دروازے بند کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ بند دروازے بغاوت کے راستے کھولتے ہیں۔

ایک طویل عوامی دور کا آغاز ہو چکا

اب یہ بات کان کھول کر سن لینی چاہیے: اگر موجودہ تحریک وقتی طور پر پیچھے ہٹ بھی جائے، یا موجودہ احتجاجی کال ختم بھی ہو جائے، تب بھی بنیادی حقیقت نہیں بدلے گی — جموں کشمیر طویل عوامی تحریکوں کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جس کا پلٹنا اب ممکن نہیں۔ عوام کو محض طاقت کے بل بوتے پر دبا دینے کی سوچ دراصل اسی فرسودہ جاگیردارانہ ذہنیت کی باقیات ہے جو عوام کو فریقِ مذاکرات نہیں، بلکہ زیرِ نگیں رعایا اور پاؤں کی جوتی سمجھتی ہے۔

 تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اس تکبر کے خلاف رہا ہے۔ جس کسی نے بھی عوامی شعور کو طاقت سے روندنے کی کوشش کی، اسے بالآخر اسی شعور اور اجتماعی جدوجہد کے ہاتھوں ذلت آمیز پسپائی نصیب ہوئی۔ آج وقت کا دو ٹوک تقاضا یہ ہے کہ حالات کو اُن کی اصل سنگینی میں سمجھا جائے، کیونکہ یہ وہ عوام نہیں رہے جنہیں خوف یا لالچ سے خاموش کرا لیا جائے۔

ویڈیو پیغامات کا تماشا کس کو بے وقوف بنا رہا ہے؟

گرفتاریوں، جھوٹے مقدمات اور تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کے بعد دباؤ کے تحت ویڈیو پیغامات جاری کروا کر آخر کیا حاصل کیا جا رہا ہے؟ کیا واقعی یہ گمان کر لیا گیا ہے کہ عوام اتنے سادہ لوح ہیں کہ ان ہتھکنڈوں کو پہچان نہ سکیں، یا ان کے پاس ان کا توڑ موجود نہ ہو؟

یہ عوام کی اجتماعی دانش کی کھلی توہین ہے۔ جبر کی چھاؤں میں اگلوائے گئے بیانات نہ کسی کو قائل کرتے ہیں، نہ کسی تحریک کی ساکھ کو خراش پہنچاتے ہیں؛ اُلٹا یہ ریاستی بیانیے کا بھرم تار تار کر دیتے ہیں اور رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملا دیتے ہیں۔ ایک باشعور سماج میں زبردستی اگلوائے گئے الفاظ کسی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ 

واحد راستہ: مذاکرات، مذاکرات اور صرف مذاکرات

اس سارے منظرنامے میں ایک ہی حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے: حکومت کے پاس واحد حل مذاکرات ہے، مذاکرات ہے، اور صرف مذاکرات ہے۔ طاقت کا استعمال عوام کو مزید بھڑکانے اور خطے کو انتشار کی آگ میں جھونکنے کے سوا کچھ نہیں — اور یہ آگ نہ ریاست کو بخشے گی، نہ حکمرانوں کو، نہ اس خطے کو۔

بات صاف ہے، اور اسے گول مول کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ آج، اسی گھڑی، مذاکرات کی میز سجائی جائے۔ اور اگر آج بھی پرانا نظام بچانے کے لئے، تشدد کو دلیل پر ترجیح دی گئی، تو یہ بات پتھر پر لکیر سمجھ لی جائے کہ سب کچھ بکھر جانے، تلخیاں ناقابلِ تلافی حد تک بڑھ جانے اور بہت کچھ کھو دینے کے بعد بھی، آخرِ کار بیٹھ کر مذاکرات ہی کرنے پڑیں گے۔

فرق صرف اتنا ہوگا کہ آج کے مذاکرات وقار اور برابری کی سطح پر ہوں گے، اور تاخیر کے بعد کے مذاکرات محرومیوں، نقصانات اور پچھتاووں کے بھاری بوجھ تلے۔ تاریخ نے ہر اُس حکمران کو یہ سبق سکھایا ہے جو وقت پر نہ سنبھلا — سوال صرف اتنا ہے کہ یہ سبق آج سیکھا جائے گا یا قیمت چکانے کے بعد۔