جرمنی کے بوخن والڈ جلا وطنی کیمپ میں جلا وطن بین الاقوامی کمیونسٹوں کو خراج عقیدت
لاہور(جدوجہد رپورٹ)ہفتہ، 11اکتوبر2025کو تنظیم ’Les amis d’Arbeiter und Soldat‘ کی کال پر جرمنی کے بوخن والڈ میموریل میں ان بین الاقوامی کمیونسٹوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جو اس کیمپ میں جلاوطن کیے گئے تھے۔
’انٹرنیشنل ویوپوائنٹ‘ کے مطابق یہ نازی جرمنی کا ایک بڑا کنسنٹریشن اور جبری مشقت کا کیمپ تھا، جسے 11 اپریل 1945 کو خود قیدیوں نے آزاد کرایا تھا۔ یہ سیاسی قیدیوں کے لیے مرکزی حراستی کیمپ بھی تھا۔ ان قیدیوں میں اسٹالنزم کی لیفٹ ونگ اپوزیشن اور فورتھ انٹرنیشنل کے کئی ساتھی شامل تھے، جنہوں نے خوفناک حالات کے باوجود مزاحمت جاری رکھی اور اپنے انقلابی پروگرام کا دفاع کیا۔
ان انقلابی قیدیوں نے غیر معمولی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجنوں یہودی جلاوطنوں کو یقینی موت سے بچایا، انہوں نے انہیں اپنے’سرخ مثلث‘دے دیے، جو سیاسی قیدیوں کی شناخت کا نشان تھا۔
جب کیمپ آزاد ہوا تو فرانسیسی انقلابی مارسل بوفغیرے (Marcel Baufrère)، آسٹریا کے ارنسٹ فیڈرن (Ernst Federn)،کارل فشر (Karl Fischer)، اور بلجیم کے فلوراں گالوئے (Florent Galloy) نے ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کیا، جو’بوخن والڈ ڈیکلریشن آف انٹرنیشنلسٹ کمیونسٹس‘کے نام سے مشہور ہوا۔ اس اعلامیے کی چند کاپیاں شائع کی گئیں اور جرمن بولنے والے قیدیوں میں تقسیم کی گئیں۔
11 اکتوبر کی اس یادگار تقریب میں شرکاء جب خاموشی سے کیمپ کے دروازوں سے گزر رہے تھے تو ان انقلابیوں کی تصاویر کے ساتھ مارٹن موناٹ (Martin Monath) اور مارسل اک (Marcel Hic) کی تصویریں بھی نمایاں طور پر آویزاں تھیں۔
یہ اس مرکزی میدان کے قریب تھا، جہاں تقریباً اڑھائی لاکھ افراد اس کیمپ سے گزرے اور ان میں سے 56ہزار جان سے گئے، وہاں ان فورتھ انٹرنیشنل کے ملیٹنٹ کارکنان کو پہلی بار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اسی دوپہر قریبی شہر وائمار (Weimar) میں بوخن والڈ اعلامیے کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں مورخین اور کارکنان نے شرکت کی۔