جموں کشمیر انتفادہ نے ثابت کیا: عورت کے بغیر تحریکیں تعمیر نہیں ہو سکتیں
جے کے این ایس ایف
جموں کشمیر میں جاری عوامی مزاحمت کی سب سے اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین مسلسل دھرنوں، احتجاجی مظاہروں، عوامی اجتماعات اور احتجاجی مارچوں میں شریک ہو رہی ہیں، جن میں 5 جولائی کے شاندار مارچ بھی شامل ہیں۔
ان کی موجودگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عوامی حقوق کی جدوجہد اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک معاشرے کے نصف حصے کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔ اس تحریک میں خواتین کی شمولیت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے تکالیف، محنت، ثابت قدمی اور مزاحمت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ خواتین ہمیشہ سے آزادی کی جدوجہد کا حصہ رہی ہیں، خواہ وہ جموں کشمیر کا یہ حصہ ہو یا بھارتی زیرِ قبضہ جموں کشمیر۔ انہوں نے اس معاشرے کا بوجھ ہمیشہ اپنے کندھوں پر اٹھایا، اگرچہ ان کی اس قربانی کو شاید ہی کبھی وہ اہمیت دی گئی جس کی وہ مستحق تھیں۔ غیر یقینی حالات میں انہوں نے اپنے گھر سنبھالے، بے روزگاری کے ماحول میں بچوں کی پرورش کی اور مہنگائی، ریاستی جبر اور بے دخلی کے تمام بوجھ خاموشی سے برداشت کیے۔
جموں کشمیر کی بے شمار خواتین کی زندگی معاشی مجبوریوں کے باعث ہونے والی ہجرت سے بھی گہرے طور پر متاثر ہوئی ہے۔ روزگار کی تلاش میں مردوں کو اپنے گھروں سے دور جانا پڑتا ہے اور پیچھے رہ جانے والی خواتین خاندان سنبھالتی ہیں، گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، بزرگوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور برسوں انتظار کی زندگی گزارتی ہیں۔ کبھی بیٹے کا انتظار، کبھی بھائی کا، کبھی شوہر کا۔ وہ ایک ایسے دن کی منتظر رہتی ہیں جب اس خطے کے لوگ عزت، وقار اور اپنے مستقبل پر اپنے سیاسی اختیار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
خواتین معیشت سے بھی الگ نہیں ہیں بلکہ اس کا ایک بنیادی حصہ ہیں، مگر اکثر سب سے زیادہ استحصال کا شکار بھی وہی ہوتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بہت سی خواتین نجی سکولوں اور مقامی تعلیمی اداروں میں انتہائی کم اجرت پر تدریسی خدمات انجام دیتی ہیں۔ وہ پورے معاشرے کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتی ہیں لیکن بدلے میں نہ انہیں مناسب احترام ملتا ہے، نہ روزگار کا تحفظ اور نہ ہی ایسی تنخواہ جس سے باعزت زندگی گزاری جا سکے۔ ان کی محنت گھروں کو چلانے، سکولوں کو قائم رکھنے اور معاشرے کو زندہ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔
اسی لیے جب خواتین سڑکوں پر نکلتی ہیں تو یہ محض علامتی شرکت نہیں ہوتی بلکہ ان تمام دکھوں، محرومیوں اور استحصال کا سیاسی اظہار ہوتی ہے جو برسوں سے گھروں کی چار دیواری میں دبے رہتے ہیں۔ یہ اس محنت کی آواز ہے جس پر پورا معاشرہ کھڑا ہے، مگر جسے تاریخ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔
موجودہ تحریک میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت نے اس جدوجہد کو مزید طاقت، وسعت اور گہرائی عطا کی ہے۔ خواتین 5 جولائی سے پہلے بھی اس تحریک کا حصہ تھیں۔ اس مرحلے کے آغاز ہی سے وہ مزاحمت میں شریک رہی ہیں، اور ہماری ساتھی خواتین نے پہلے خواتین مارچ کو منظم کرنے اور کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مرحلے پر ان کی شرکت کو آزادانہ طور پر فروغ نہیں پانے دیا گیا۔ بعض قدامت پسند رجحانات نے کبھی روایت کے نام پر، کبھی احتیاط کے نام پر اور کبھی تحریک کے تحفظ کے نام پر خواتین کے کردار کو محدود رکھنے کی کوشش کی۔
حالیہ دنوں میں خواتین کی بھرپور شرکت دراصل اسی محدود سوچ کا جواب ہے۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی تحریک عوام کو محدود کر کے محفوظ نہیں بنائی جا سکتی۔ خواتین کو جدوجہد کے حاشیے پر رکھنے کی ہر کوشش، خواہ وہ کتنی ہی خیرخواہی کے نام پر کیوں نہ کی جائے، درحقیقت تحریک کو کمزور کرتی ہے۔ ایک عوامی تحریک اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ محکوم طبقات کو اپنی آواز، اپنے غصے اور اپنی سیاسی قوت کے ساتھ اس میں شریک ہونے کا پورا موقع دے۔
جموں کشمیر کی خواتین کے پاس اس جدوجہد کا حصہ بننے کی ہر وجہ موجود ہے۔ ریاستی جبر ان کے گھروں تک پہنچتا ہے، مہنگائی ان کے چولہوں کو متاثر کرتی ہے، بے روزگاری ان کے خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، ہجرت ان کی زندگیوں کا رخ بدل دیتی ہے اور کم اجرت ان کی محنت کا استحصال کرتی ہے۔ اس لیے خواتین کی شرکت تحریک پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جموں کشمیر کی عوامی تحریک کا مستقبل خواتین، طلبہ، نوجوانوں اور معاشرے کے تمام محکوم طبقات کی فعال، منظم اور خودمختار شرکت سے وابستہ ہے۔ خواتین کی شرکت کو اس تحریک کے ایک عارضی مرحلے کے طور پر نہیں بلکہ اس کی مستقل طاقت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔