← Back to Newsroom OS پاکستان

جموں کشمیر میں بھارتی مظالم قابل مذمت، بنیاد پرستی کی ہر شکل ناقابل قبول: این ایس ایف

By جدوجہد • 2025-11-15 • 8 min read

راولاکوٹ (پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر بدر رفیق نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام ایک بار پھر بھارتی فورسز اور بنیاد پرست ہندوؤں کی جارحیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد بھارت میں مقیم کشمیری طلبہ، ڈاکٹروں، پروفیسروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف بدترین کریک ڈاؤن جاری ہے، جس میں متعدد لوگوں کو اٹھائے جانے اور حراساں کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اسلامی بنیاد پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ایک بار پھر ریاستی دہشت گردی اور اجتماعی سزا کے بدنامِ زمانہ نوآبادیاتی ہتھکنڈے کے ذریعے جموں کشمیر کے عام لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنایا جا رہا ہے۔ جموں کشمیر میں گزشتہ چند دنوں میں پانچ سو کے قریب سرچ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 600 سے زائد افراد کو گرفتار کرکے غائب کر دیا گیا ہے۔ متعدد لوگوں کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل پہلگام حملے کے بعد بھی کشمیر کے اندر بدترین جبر کیا گیا تھا اور لوگوں کے گھروں کو بموں سے مسمار کیا گیا تھا۔ بھارتی ریاست اور بی جے پی کی ہندو بنیاد پرست فاشسٹ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہر بار انہی اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتی ہے۔

مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ان تمام حملوں اور جموں کشمیر کے عوام کے خلاف متعصبانہ رویّے کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ہم ہر قسم کی بنیاد پرستی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ چاہے وہ بنیاد پرستی مذہبی ہو، لسانی ہو، علاقائی ہو یا نسلی، ہندوتوا کی شکل میں ہو یا اسلامی بنیاد پرستی کی شکل میں، بنیاد پرستی کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں ہے۔

بدر رفیق کا مزید کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جموں کشمیر میں بسنے والے محنت کشوں اور ترقی پسند رجحانات رکھنے والے تمام افراد سمیت پاکستان اور بھارت کی محکوم قومیتوں، محکوم طبقات و محنت کشوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہندوتوا کی فسطائیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء کی مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔

مرکزی صدر بدر رفیق کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس بدترین نو آبادیاتی جبر کے خلاف اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی جب تک اس خطے سے نا صرف اس سامراجی قبضے کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک آزاد، خود مختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر (غیر طبقاتی سماج) کا قیام عمل میں لایا جاتا۔ بلکہ جنوبی ایشیاء میں انقلاب کی بنیاد رکھتے ہوئے عالمی امن و انقلاب کی راہیں ہموار کرنے تک یہ جدوجہد جاری و ساری رہے گی۔