← Back to Newsroom OS پاکستان

جموں کشمیر میں جنسی استحصال کے خلاف بغاوت

By جدوجہد • 2025-03-03 • 11 min read

عروج امجد

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی اور ہراسانی کے معاملات میں اضافہ اس نوآبادیاتی نظام کی ناکامیوں کا واضح اظہار ہے۔ ان واقعات نے خواتین کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کرتے نظام کی سفاکیت سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ وہ ادارے جن کا مقصد عوام کو سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے،انہی کے ہاتھوں اب عام شہریوں کی عزتیں تک محفوظ نہیں ہیں۔

برطانوی شہریت کی حامل کشمیری خاتون نے پریس کانفرنس میں سارے ثبوتوں کے ساتھ یہاں کے سرکاری محکموں میں خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں سے پردہ اٹھا دیاہے۔ خاتون کوریاستی پولیس کے ایک انسپکٹر نے جنسی طور پر ہراساں کیا اور اس کے بعد انصاف کے حصول کی جنگ لڑتے ہوئے ہرروز اسے اس سماج کے ہاتھوں ہراساں ہونا پڑا۔ یہ ایک واقعہ اداروں کی آپسی ساز باز اور عوام کے ساتھ بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ حقیقت میں یہ معاملہ عوامی ایکشن کمیٹی اور سوشل میڈیا کی بدولت عوامی کچہری میں آیا،جس نے اس نظام کے اندر خواتین کے ساتھ ہونے والے جبر،عدم احتساب اور شفافیت کی کمی کو اجاگر کیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام خاتون کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں میرپور سے بڑی تعداد میں لوگوں،خاص کر خواتین نے شرکت کی۔ اسی دوران ہمیں سٹیج سے ایک اور متاثرہ خاتون کی روداد سننے کو ملی جس کی شادی شدہ زندگی بلیک میلنگ اور جنسی ہراسگی کی وجہ سے اجڑ گئی اور انصاف کے نام پہ اسے ہر در پر برہنہ کیا جاتا رہا۔

خاتون نے اداروں کے ہاتھوں بلیک میلنگ اور جنسی طور پر ہراساں ہونے کے اپنے تکلیف دہ تجربے کو عوام کے سامنے پیش کیا، اور اس مسئلے کی وسیع اور پیچیدہ نوعیت کی نشاندہی کی۔ خاتون کے مطابق تفتیشی افسر سے لے کر اس محکمہ کے اعلی افسران تک سب اس کھیل کا حصہ رہے۔ یاد رہے کہ چند دن قبل میرپور چیک پوسٹ پر انہی سرکاری ملازمین نے سیاحوں کی گاڑی کو روک کر خاتون سمیت تمام سیاحوں کے ساتھ بد تمیزی کی۔ محافظ بننے کے نام پر ان کو ہراساں کیا جاتا رہا۔ یہ وہی نظام اور اس کے رکھوالے ہیں جن کو برٹش کشمیری خاتون کے کیس نے ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔

اس سے قبل بھی جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے خواتین اور خاص کر کم عمر بچیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات منظر عام پر آتے دکھائی دیے۔ سکول جاتی بچیوں کو سکول کی نقل و حمل کے دوران، سکول کے اساتذہ، ٹیوشن پڑھانے آنے والے ٹیوٹر کے ذریعے اور حتیٰ کہ مدرسے تک میں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح پھر پڑوسیوں، سیاسی چہروں اور بلیک میلر گروہوں کی ہوس کا شکار بنتی ہیں اور اپنے عزت بچانے کے نام پر سالوں تک بلیک میلنگ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی خبریں اگر منظر عام پر آ بھی جائیں تو کچھ روز سوشل میڈیا کی سرخی بن کر پھر منوں مٹی تلے دب جاتی ہیں اور وہ سارا کھیل دوبارہ سے شروع ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف جموں کشمیر تک محدود نہیں ہے، بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ نیشنل اسمبلی میں پیش کردہ ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ تین سالوں میں یعنی 2022 سے اب تک 63,000 سے زیادہ واقعات خواتین کے خلاف تشدد کے رجسٹر کیے گئے، جن میں گھریلو تشدد، جنسی استحصال، کام کی جگہوں پر صنفی امتیاز، اور غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے کیونکہ بیشتر لوگ سماجی دباؤ کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ نہیں کرتے۔ یہ سب واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

پاکستان عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے معاملے میں 145ویں نمبر پر ہے، جبکہ افغانستان آخری 146ویں نمبر پر ہے۔ وزارت صحت کے زیر اہتمام 2017 اور 2018 میں کیے گئے ’پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے‘کے مطابق 28 فیصد خواتین نے 15 سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی مرحلے پر جسمانی تشدد کا سامنا کیا ہے۔

اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں میں بھی خواتین کے ساتھ زیادتی کے کئی واقعات سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں تعلیم کے نام پر بلیک میل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی ادارے بھی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہیں اور وہاں بھی انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے 2018 میں کیے گئے تجزیے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1/3 خواتین کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کو نہ صرف جنسی تشدد کا سامنا ہے بلکہ انہیں بہت سے دیگر حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ جنسی تشدد کے علاوہ خواتین کو زچگی کے دوران اموات، بیٹی کی پیدائش پر قتل، تعلیم سے محرومی، تیزاب پھینکنے، زبردستی شادی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح پدرانہ نظام اور سماجی ساخت خواتین کو مظلوم اور کمزور بناتا ہے۔

جنسی تشدد کے مسئلے کو طبقاتی استحصال کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ نظام جو خواتین کو ان کے گھروں سے لے کر کام کرنے کی جگہوں اور تعلیمی اداروں تک ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے، ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ گھروں میں عورتیں گھریلو تشدد اور معاشرتی جبر کا شکار ہیں، جبکہ کام کی جگہوں پر ان کے ساتھ ہراسانی اور جنسی تشدد معمول بن چکا ہے۔ تعلیمی ادارے جہاں انہیں تعلیم کے ذریعے آزاد کیا جانا چاہئے تھا، وہاں بھی وہ جنسی استحصال اور صنفی امتیاز کا سامنا کرتی ہیں۔ یہ نظام عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں ایک نچلے درجے کی مخلوق کے طور پر دیکھتا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سمیت دنیا بھر میں خواتین پر ہونے والے جبر کے خاتمے اور انکے حقوق و وقار کی جدوجہد کے لئے اس نظام کی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں ایک آخری جنگ لڑنی ہوگی جس میں ان ذہنی بیمار لوگوں کو سزا دینی ہوگی،جو ایسے جرائم میں ملوث ہیں اور انہیں جرائم بھی نہیں سمجھتے۔ تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر موجود ہراسانی کمیٹیاں ناکافی اور ناکام ہو چکی ہیں، اور اس معاشرے کی بنیادوں کو اصلاح کے ذریعے درست بنانے کی تمام کوششیں بے سود ہیں۔

دنیا بھر میں جنسی تشدد کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمیں اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا جو انسانوں کو بری طرح کچل رہا ہے اور جس نے صنف کی تقسیم کے ذریعے انسانوں کی زندگیاں تقسیم کر دی ہیں۔ یہ جنگ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھے گی جو انسانیت کو اس کے عروج تک لے جائے گی۔ جہاں خواتین کو انسان سمجھا جائے اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔