جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اعلامیہ - روزنامہ جدوجہد
10 جون 2026
عوامی مزاحمت نے محاصرے، پروپیگنڈے اور ریاستی جبر کو توڑ دیا!
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام ایک نئی عوامی مزاحمتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جدوجہد ابھی جاری ہے، مارچ ابھی آگے بڑھ رہا ہے، اور ریاست عوام کے حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ قتل، بڑے پیمانے پر زخمی کیے جانے، کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ، سڑکوں کی بندش، آنسو گیس، چھاپوں، گرفتاریوں، اور بھرپور پروپیگنڈا مہم کے باوجود، مظاہرین نے مظفرآباد کی جانب اپنا مارچ جاری رکھا ہے۔
لاکھوں مظاہرین متعدد رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے راولاکوٹ کے نواح تک پہنچ چکے ہیں۔ راولاکوٹ کے قریب ان کی آمد خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہی وہ شہر ہے جہاں 6 جون کی رات ریاست نے اس تحریک کو خون میں ڈبونے کی کوشش کی تھی۔ ریاست نے ناکہ بندیوں، ایف سی، رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کے ذریعے مارچ کو روکنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر عوام نے انہیں الگ تھلگ کرنے، خوفزدہ کرنے اور تقسیم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا!
تقریباً 24 مظاہرین کے قتل (اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، مگر انٹرنیٹ بندش نے آزادانہ تصدیق کو ناممکن بنا دیا ہے) اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے باوجود، لوگ اپنے جمہوری حقوق کے لیے لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل آئے ہیں۔ اس تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ گولیاں بنیادی جمہوری حقوق، مقامی وسائل پر اختیار، اور عوامی خودمختاری کے مطالبے کو خاموش نہیں کر سکتیں۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنماؤں، کارکنوں اور ساتھیوں کے گھروں پر ایف سی، رینجرز اور دیگر ریاستی فورسز چھاپے مار رہی ہیں۔ یہ چھاپے قیادت کو دہشت زدہ کرنے، خاندانوں کو سزا دینے، اور تحریک کی تنظیمی قوت کو توڑنے کی براہِ راست کوشش ہیں۔ یہ سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے!
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نہ صرف عوام کی جمہوری جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے بلکہ ابتدا ہی سے اس جدوجہد کا حصہ بھی ہے، اور ہمارے ساتھی اس کی اگلی صفوں میں موجود ہیں۔ JKNSF ان تمام لوگوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے گولیوں، آنسو گیس، کرفیو، ناکہ بندیوں، بلیک آؤٹ، گرفتاریوں، چھاپوں اور پروپیگنڈے کا سامنا کیا۔ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ اس تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلا نہیں جا سکتا!
ہم ایک بار پھر اپنے مطالبات دہراتے ہیں:
- پونچھ اور دیگر تمام متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر کرفیو ختم کیا جائے۔
- پورے جموں کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات فوری اور غیر مشروط طور پر بحال کی جائیں۔
- ریاستی جبر کے دوران شہید ہونے والے تمام افراد کی لاشیں فوری طور پر واپس کی جائیں، اور حکام کی جانب سے لاشیں روکنے، چھپانے، یا خاندانوں کو اپنے پیاروں کی باوقار تدفین کے حق سے محروم کرنے کی ہر کوشش بند کی جائے۔
- مظفرآباد کی جانب مارچ پر عائد تمام رکاوٹیں اور پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
- مظفرآباد کی طرف مارچ کرنے والے مظاہرین کے خلاف فائرنگ، شیلنگ، گرفتاریاں، چھاپے، یا انتظامی رکاوٹیں بند کی جائیں۔
- پاکستان سے جموں کشمیر میں بھیجے گئے ایف سی، رینجرز، پولیس نفری، اور تمام اضافی فورسز کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔
- کارکنوں، ساتھیوں اور ان کے خاندانوں کے گھروں پر چھاپے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
- جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے
- مظاہرین، کارکنوں، اور JAAC رہنماؤں کے خلاف تمام مقدمات، ایف آئی آرز، بغاوت کے الزامات، اور قانونی کارروائیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
- جموں کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس پر ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل کیے گئے افراد کے قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے۔
- جموں کشمیر کے کٹھ پتلی وزیرِ اعظم کو اس خونریزی کی نگرانی کرنے اور پاکستانی ریاستی جبر کا آلہ کار بننے پر فوری مستعفی ہونا چاہیے۔
- جموں کشمیر کے عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کے مطابق ان کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں۔
ہم پاکستان کے محنت کش طبقے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاستی پروپیگنڈے کو مسترد کرے اور جموں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا ہو۔ پاکستان کے مزدوروں، کسانوں، طلبہ، اور غریب عوام کا جموں کشمیر کے جبر میں کوئی مفاد نہیں۔ ان کا دشمن بھی وہی حکمران اشرافیہ ہے جو لوٹتی ہے، استحصال کرتی ہے، سنسرشپ نافذ کرتی ہے، اور ہر جمہوری تحریک کو کچلتی ہے۔
ہم پاکستان اور خطے بھر کی بائیں بازو اور ترقی پسند تنظیموں اور ٹریڈ یونینز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک کے ساتھ عملی یکجہتی کریں، ریاست کے جھوٹ کو بے نقاب کریں، فورسز کی تعیناتی کی مخالفت کریں، اور جموں کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق کا دفاع کریں۔
ہم عالمی محنت کش طبقے اور پوری دنیا کے محکوم عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں کشمیر کے عوامی ہجوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ قبضے، استحصال، سیاسی ماتحتی، اور ریاستی تشدد کے خلاف جدوجہد ہے۔ اس کی کامیابی صرف ایک خطے کی نہیں بلکہ ہر اس محکوم قوم اور عوام کی کامیابی ہے جو عزت، آزادی، اور اجتماعی طاقت کے لیے لڑ رہے ہیں۔
علم، جدوجہد، فتح!