← Back to Newsroom OS خبریں

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اعلامیہ

By Roznama Jeddojehad • 2026-06-11 • 4 min read

10 جون 2026

عوامی مزاحمت نے محاصرے، پروپیگنڈے اور ریاستی جبر کو توڑ دیا!

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام ایک نئی عوامی مزاحمتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جدوجہد ابھی جاری ہے، مارچ ابھی آگے بڑھ رہا ہے، اور ریاست عوام کے حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ قتل، بڑے پیمانے پر زخمی کیے جانے، کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ، سڑکوں کی بندش، آنسو گیس، چھاپوں، گرفتاریوں، اور بھرپور پروپیگنڈا مہم کے باوجود، مظاہرین نے مظفرآباد کی جانب اپنا مارچ جاری رکھا ہے۔

لاکھوں مظاہرین متعدد رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے راولاکوٹ کے نواح تک پہنچ چکے ہیں۔ راولاکوٹ کے قریب ان کی آمد خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہی وہ شہر ہے جہاں 6 جون کی رات ریاست نے اس تحریک کو خون میں ڈبونے کی کوشش کی تھی۔ ریاست نے ناکہ بندیوں، ایف سی، رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کے ذریعے مارچ کو روکنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر عوام نے انہیں الگ تھلگ کرنے، خوفزدہ کرنے اور تقسیم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا!

تقریباً 24 مظاہرین کے قتل (اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، مگر انٹرنیٹ بندش نے آزادانہ تصدیق کو ناممکن بنا دیا ہے) اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے باوجود، لوگ اپنے جمہوری حقوق کے لیے لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل آئے ہیں۔ اس تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ گولیاں بنیادی جمہوری حقوق، مقامی وسائل پر اختیار، اور عوامی خودمختاری کے مطالبے کو خاموش نہیں کر سکتیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنماؤں، کارکنوں اور ساتھیوں کے گھروں پر ایف سی، رینجرز اور دیگر ریاستی فورسز چھاپے مار رہی ہیں۔ یہ چھاپے قیادت کو دہشت زدہ کرنے، خاندانوں کو سزا دینے، اور تحریک کی تنظیمی قوت کو توڑنے کی براہِ راست کوشش ہیں۔ یہ سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے!

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نہ صرف عوام کی جمہوری جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے بلکہ ابتدا ہی سے اس جدوجہد کا حصہ بھی ہے، اور ہمارے ساتھی اس کی اگلی صفوں میں موجود ہیں۔ JKNSF ان تمام لوگوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے گولیوں، آنسو گیس، کرفیو، ناکہ بندیوں، بلیک آؤٹ، گرفتاریوں، چھاپوں اور پروپیگنڈے کا سامنا کیا۔ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ اس تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلا نہیں جا سکتا!
ہم ایک بار پھر اپنے مطالبات دہراتے ہیں: