← Back to Newsroom OS پاکستان

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا موقف - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-06-10 • 3 min read

مورخہ: 9 جون 2026

بلیک آؤٹ، گولیوں اور ناکہ بندی کے باوجود: جموں کشمیر میں محاصرے اور جبر کا پانچواں دن

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عوامی تحریک کے خلاف جاری محاصرے، کرفیو، انٹرنیٹ بندش، اور ریاستی جبر و قتل و غارت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ پانچ دن سے پاکستانی ریاست نے جموں کشمیر کو دنیا سے کاٹ رکھا ہے۔ انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں، شہروں کو عسکری چھاونی کی شکل دے دی گئی ہے، اور ایف سی، رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری ایک جمہوری عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

تاہم اس کریک ڈاؤن، رابطوں کے بلیک آؤٹ، اور عوام کو خوفزدہ، تقسیم اور تنہا کرنے کی ہر کوشش کے باوجود، جموں کشمیر کے عوام نے ریاست کو للکار دیا ہے۔ انہوں نے خوف کی دیوار توڑ دی، رکاوٹیں عبور کیں، پروپیگنڈے کو مسترد کیا، اور بڑی تعداد میں مظفرآباد کی جانب بڑھتے رہے۔ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ جب جدوجہد مشترکہ دکھ، غصے اور اجتماعی عزم پر قائم ہو تو کوئی بلیک آؤٹ انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتا۔

7 اور 8 جون کی رات، ریاستی فورسز نے راولاکوٹ، پونچھ میں مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی۔ اب تک دستیاب اطلاعات کے مطابق کم از کم 13 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ پونچھ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس نے پورے علاقوں کو کھلی جیل میں بدل دیا ہے تاکہ عوام کو الگ تھلگ کیا جا سکے، ریاستی تشدد کی اصل شدت کو چھپایا جا سکے، اور خوف کے ذریعے عوام کے حوصلے توڑے جا سکیں۔

آج 9 جون کو، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مظاہرین نے مظفرآباد کی جانب اپنا لانگ مارچ جاری رکھا۔ کوٹلی میں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پاکستانی فورسز نے ایک بار پھر عوام پر براہِ راست فائرنگ کی ہے۔ کم از کم 6 اموات کی اطلاعات ہیں، جبکہ اصل تعداد ابھی تصدیق طلب ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اصل تعداد 8 سے 11 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ریاست ایک جائز سیاسی تحریک کو خون میں ڈبونے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ تشدد بھی لوگوں کو تاریخی تعداد میں مظفرآباد کی طرف بڑھنے سے نہیں روک سکا۔

جے کے این ایس ایف اس جبر، سنسرشپ، کرفیو اور پروپیگنڈے کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔ مگر ہم ان عوام کی جرات کو سلام بھی پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے سامنے رکھے گئے جبر کے ہر ہتھیار کو للکارا۔ ان کی مزاحمت نے اس ریاست کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے جو عوام کے جمہوری مطالبات کا جواب دینے کے لیے بلیک آؤٹ، گولیوں، ناکہ بندی اور جھوٹ کا سہارا لیتی ہے۔ عوامی تحریک کو بلیک آؤٹ، گولیوں، بغاوت کے مقدمات یا کٹھ پتلی اداروں کے ذریعے کچلا نہیں جا سکتا۔ ہر موت، ہر زخم، ہر گرفتاری، اور ہر توہین آمیز سلوک عوام کے غصے کو مزید گہرا کرے گا اور قابض نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کرے گا۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں: