← Back to Newsroom OS پاکستان

جموں کشمیر: پی ٹی آئی کی بھارتی میڈیا والی منافقت

By جدوجہد • 2026-06-15 • 9 min read

فاروق سلہریا

جموں کشمیر میں جاری عوامی تحریک ،لانگ مارچ اور انہیں دبانے کے لئے ریاستی جبر یا معصوم ریاستی باشندوں کی ہلاکتوں کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دو کام کر رہی ہے۔

ایک ،وہ اپنے روایتی انداز میں ہر ریاستی ظلم کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے ۔گولی ایک بھی چلے تو پی ٹی آئی والے بتائیں گے کہ سو گولیاں داغی گئیں۔

دوم، نہ صرف ان کے کارکن بیرون ملک جموں کشمیر ڈائیسپورا کے احتجاجی جلسوں میں شریک ہو رہے ہیں بلکہ سوات میں پی ٹی آئی کی جانب سے یکجہتی مظاہرہ بھی کیا گیا جبکہ علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ سمیت اس جماعت کی قیادت جموں کشمیر میں جاری جبر کی مذمت بھی کر رہے ہیں۔بہ الفاظ دیگر، پی ٹی آئی جموں کشمیر میں ریاستی جبر کی مسلسل مذمت کر رہی ہے(لیکن ان کا وزیر اعلی چپ ہے)۔

مندرجہ بالا،ان دونوں کاموں کا مقصد صرف اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ وہ موجودہ حکومت اور اس کی سر پرستی کرنے والے ٹولے کو زچ کرنا چاہتے ہیں۔

۱۔ریاست جموں کشمیر کے حوالے سے پی ٹی آئی اور فوج(بشمول جہادی ٹولے)، یا پی ٹی آئی اور نواز لیگ و پیپلز پارٹی کے موقف میں رتی برابر فرق نہیں۔ یہ سب ریاست جموں کشمیر کے حق خود ارادیت کی نفی کرتے ہیں(’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘اس نفی کا سرکاری وریاستی موقف ہے )۔ اس کا تازہ ترین اظہار علیمہ خان کی صحافیوں سے حالیہ بات چیت تھی جس میں وہ ریاستی جبر کی یہ کہہ کر مذمت کر رہی تھیں کہ اس سے جموں کشمیر کے لوگ پاکستان سے بد ظن ہوں گے، ہندوستان کو فائدہ ہو گا اور یہ کہ ’جموں کشمیر ہمارا ہے‘۔

۲۔ ایک واقعہ: جب عمرا ن خان وزیر اعظم تھے تو ایک تقریب کے دوران ، جب فردوس عاشق اعوان نے انہیں آزادجموں کشمیر کاجھنڈا تھمانے کی کوشش کی تو انہوں نے یہ جھنڈا اٹھانے سے انکار کر دیا۔

۳۔ جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنی اور اس پلیٹ فارم سے 2023 میں پہلا لانگ مارچ ہوا تو ریاست جموں کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ اس لانگ مارچ کے راستے میں پی ٹی آئی کی کٹھ پتلی حکومت نے ہر طرح کے روڑے اٹکائے۔ لگ بھگ وہی پراپیگنڈہ کیا گیا جو اس وقت نواز لیگ کی حکومت کر رہی ہے۔

۴۔جموں کشمیر میں،پی ٹی آئی نے 2021 کی حکومت 12 مہاجر نشستوں سے ’فیض‘ یاب ہو کر ہی بنائی تھی۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومتیں تھیں۔ ان دونوں صوبوں سے زیادہ تر پی ٹی آئی کے امیدوار جیت کر آئے۔ پی ٹی آئی نے کبھی نہ تو ان نشستوں پر اعتراض کیا نہ ان کے مبینہ ’انتخابی نتائج‘ پر۔

۵۔پی ٹی آئی نے کبھی ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بات نہیں کی۔ 2019 ء میں جب مودی نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کر کے لداخ کو جموں کشمیر سے علیحدہ کیا تو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی۔اس بھارتی اقدام کا جوابی اقدام تو یہ بنتا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی تقسیم کو، برابری کی بنیادپر کسی جمہوری انتظام کے مطابق،ختم کر کے بی جے پی کی ہندتوا سیاست کو جواب دیا جاتا مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے ریاست کی جغرافیائی یکجہتی کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔الٹا گلگت بلتستان میں حکومت بنائی۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور کے اکثر حامیوں کو تو شائد یہ بھی علم نہ ہو کہ مودی سرکار نے جو کچھ 2019 میں کیا،پاکستان نے وہ 1950 کی دہائی میں کر دیا تھا ۔ 1970 کی دہائی میں، بھٹو نے غیر اخلاقی، غیر قانونی اقدامات پر آئین کا غلاف چڑھانے کی کوشش کی۔

۶۔ جموں کشمیر پر پی ٹی آئی کا موجودہ منافقانہ موقف ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو بھارت کے مین اسٹریم،سرمایہ دارد گودی میڈیا کی طرح لگتا ہے۔ بھارتی میڈیا کو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں تو ہر طرح کا ظلم نظر آتا ہے مگر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اسے انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔