جنوری اور فروری میں 99 بلوچ جبری گمشدگی کا شکار ہوئے: سمی دین بلوچ
لاہور(جدوجہد رپورٹ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ جنوری 2025میں بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں کے 88کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 43کیس مکران ڈویژن رپورٹ ہوئے۔ فروری کے پہلے عشرے میں 11بلوچ جبری طور پر گمشدہ ہوئے۔
’وائس پی کے‘ کی رپورٹ کے مطابق سمی دین بلوچ نے کراچی پریس کلب میں لالہ وہاب بلوچ اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے ڈاکٹر توصیف احمد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نمائندوں نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کو ایک معمول بنانے کے عمل کی مذمت کی۔
انکا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ہیومن رائٹس ڈپارٹمنٹ کے مرتب کردہ اعداد و شمار صرف ان معاملوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
انکا کہنا تھا کہ فروری کے پہلے عشرے میں بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ فروری میں جبری طور پر گمشدہ ہونے والے 11افراد میں وسیم ملنگ، سہیل عبداللہ، شاہجہان غلام محمد، عبدالجمیل، حاجی حبیب، محمد اقبال، عبدالرحمن، اسد بلوچ فیض محمد، سمیع اللہ خلیل، رحمان اور عارف پیر بخش شامل ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اساتذہ، طلبہ اور تعلیم یافتہ افراد تیزی سے ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں، بہت سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد بعد میں مردہ پائے گئے ہیں۔ انہوں کہا کہ یہ ہلاکتیں ڈیتھ سکواڈز کے ذریعے کیے گئے ماورائے عدالت قتل ہیں، جن میں خاص طور پر بلوچ نوجوانوں، طلبہ، شاعروں اور دانشوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حالیہ متاثرین میں تربت میں قتل ہونے والے ایم فل سکالر اللہ داد بلوچ اور بلوچ ماہر تعلیم شریف ذاکر شامل ہیں۔