← Back to Newsroom OS ادارتی

جنگ کے سائے: قومی شاؤنزم نہیں سوشلسٹ انٹرنیشنلزم

By جدوجہد • 2025-05-08 • 13 min read

اداریہ جدوجہد

برصغیر پاک و ہند میں پونے دو ارب انسانوں پر ایک بار پھر جنگ کے سامنے منڈلا رہے ہیں۔ جموں کشمیر کی متنازعہ سرزمین جنگ کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی جنگ کا میدان بن چکی ہے۔ 6اور7مئی کی درمیانی رات بھارت کی جانب سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مختلف مقامات اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دو شہروں میں کیے گئے میزائل حملوں کے بعد صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔

بھارت کے میزائل حملوں اور سیز فائر لائن(لائن آف کنٹرول،ایل او سی) پر پاک بھارت افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں اب تک 35سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور 60سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بھی شامل ہے۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہروں احمد پورشرقیہ بہاولپور، مریدکے لاہور، شکر گڑھ اور سیالکوٹ میں میزائل داغے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور کوٹلی شہر میں بھی میزائل حملے کیے گئے۔ پاکستانی فوج نے بھی جوابی کارروائی کے طور پر بھارت کے 5طیارے تباہ کرنے، بریگیڈ ہیڈکوارٹر اورفوجی چوکیوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کے کم از کم تین جنگی طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ایئرفورس نے ان کے تباہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور چوکیوں کی تباہی کی البتہ بھارتی فوج نے بھی تردید کی ہے۔

ایل او سی پر فائرنگ کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی املاک کا بھی بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع نیلم میں قائم نیلم جہلم اور نوسیری ڈیم کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

دونوں ریاستوں کے درمیان یہ حالیہ جنگی ماحول بھی جموں کشمیر کے تنازع پر ہی بنا ہے۔ 22اپریل کو بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں کے نہتے سیاحوں پر حملے اور 26ہلاکتوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا اور اس کا بدلہ لینے کے لیے ہی اس جنگی جنون کو مودی حکومت نے اس خطے کے پونے دو ارب محنت کشوں پر مسلط کیا۔ پاکستانی ریاست نے اس حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی تردید کی، تاہم کسی بھی حملے کی صورت بھرپور جواب دینے کا اعلان بھی کیا۔ بھارت نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کیے گئے میزائل حملوں کے حوالے سے بھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر کیے گئے ہیں اور پاکستان کی فوجی تنصیبات کو اس میں کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
تاہم اس میزائل حملے کے ساتھ ہی ایل او سی پر شدید گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے دو طرفہ گولہ باری کی زد میں رہنے والی ایل او سی پر6سال کی جنگ بندی کے بعد گولہ باری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے اور دونوں اطراف انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

ادھر ’بی بی سی‘ کے مطابق کالعدم جیش محمد کے سربراہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس حملے میں ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔تاہم پاکستان نے سرکاری سطح پر اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا اس بیان کو خوب اچھال رہا ہے۔

جموں کشمیر کے تنازع پر دونوں ملکوں کے درمیان تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں، جبکہ کئی مواقع ایسے آئے ہیں، جب دونوں فوجیں جنگ کے دہانے پر پہنچ کر واپس لوٹی ہیں۔ ایل او سی پر فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ البتہ طویل عرصے سے لیکن وقفے وقفے کے ساتھ جاری رہا ہے۔ بھارت کا الزام رہا ہے کہ پاکستان سے عسکریت پسند بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں آتے ہیں۔ جموں کشمیر میں مسلح تحریک کے دوران کم از کم 50ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ مسلح حملوں کا سلسلہ 90کی دہائی کی نسبت کم ضرور ہوا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارت پر بلوچستان، خیبرپختوا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں عسکری حملوں کا الزام عائد کیاجاتارہا ہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں سابق عسکری رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار بھارتی خفیہ اداروں کو قرار دیا گیا ہے اور بھارتی میڈیا نے بھی ان حملوں کی بالواسطہ ذمہ داری قبول کی ہے۔

موجودہ جنگی صورتحال کی وجہ بننے والے پہلگام حملے کے ساتھ جہاں پاکستان کا تعلق جوڑا جا رہا ہے، وہاں جموں کشمیر میں تعینات بھارتی افواج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی ناکامی پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ سکیورٹی کی ناکامی کے ذمے داروں کا تعین کرنے کی بجائے براہ راست پاکستان پر الزام عائد کر کے ایک جنگی جنون اور بدلے کے نام پر قومی شاؤنزم کو ابھارا گیا ہے۔

کسی بھی سطح کی جنگ میں سب سے پہلے سچ کا قتل ہوتا ہے۔ اس لیے وار پروپیگنڈہ میں سچ کو تلاش کرنا ناممکن ہو کر رہ جاتا ہے۔ میڈیا اور ریاستی پروپیگنڈہ کی زد میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور پر جنگی جنون اور قومی شاؤنزم مسلط کر دیا جاتا ہے۔ یہ جنگی جنون حکمران طبقات کو داخلی تضادات سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ استحصال کو جاری رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو اکثریت پسندانہ مودی حکومت نے اس جنگی جنون کو داخلی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ماضی میں بھی اس جنگی جنون کو انتخابی سیاست میں کامیابی اور ہندو مسلم تقسیم کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی اس جنگی جنون کو ہائبرڈ رجیم اور بالخصوص فوجی اشرافیہ کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کے لیے اس جنگی جنون کا استعمال کیا گیا ہے۔ حالیہ دفاعی بجٹ میں اضافی کی تجویز بھی اسی جنگی جنون کی آڑ میں ہی باآسانی عوام کے لیے قابل قبول بنائی جا سکتی تھی۔

جنگ کے ان تمام تر مفادات کے پیش نظر یہ کہنا بھی کسی طور درست نہیں کہ جنگ محض اس لیے شروع کی جاتی ہے کہ داخلی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے، دیگر ایسے عوامل بھی ہوتے ہیں، جو جنگ کی ناگزیریت کا باعث بنتے ہیں۔ جنگ شروع کرنا تو شاید حکمرانوں کے بس میں ہوتا ہے، لیکن جنگ کو روکنا ان کے ہاتھوں میں نہیں ہوگا۔ جنگی جنون کو داخلی ضرورتوں کے تحت ابھارا جاتا ہے، لیکن یہ کیفیت بعض اوقات باضابطہ جنگ کے آغاز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد مودی حکومت کو بھی شاید اسی قسم کی صورتحال کا سامنا تھا۔ تاہم جتنا محدود پیمانے پر جنگ کو سمیٹنے کی کوشش کی جائے، موجودہ حالات میں ہی کوئی ایک واقعہ، ایک اٹھایا گیا قدم محدود پیمانے اور بفر زون طرز کے علاقے پر مرکوز جنگی کیفیت کو ایک بڑی جنگ میں تبدیل کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

دوسری جانب سول آبادی کو نشانہ بنانے والی کسی بھی نوعیت کی عسکری کارروائی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ساتھ ہی براہ راست فوجی قبضے اور جبر کے خلاف رد عمل دکھانے والے انسانوں پریہ پابندی بھی نہیں عائد کی جا سکتی کہ وہ اس جبر کے خلاف رد عمل کے لیے کون سا طریقہ اپنائیں۔ دوسری جانب آزادی کی جدوجہد کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے اور تذویراتی پراکسی وار کے لیے استعمال کرنے کو بھی کوئی جواز مہیا نہیں کیا جا سکتا۔ جموں کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کا سرحدی یا زمین کا تنازع نہیں، بلکہ جموں کشمیر میں بسنے والے مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے حق آزادی اور حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس تنازع کا حل جنگ کی صورت ممکن نہیں بلکہ جموں کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جنگ تباہی اور بربادی کا موجب بنتی ہے۔ انسانیت کا خون بہتا ہے اور جنگ کا سب سے پہلا شکار پھر غریب اور کمزور انسان ہی بنتے ہیں۔ جنگ کی ابتدائی جھلکیوں میں ہی ہونے والی ہلاکتوں نے ہی جنگ کی ہولناکیوں کی جھلک بھی دکھا دی ہے۔ ایسی کیفیت میں بائیں بازو کی تنظیموں کے لیے قومی شاؤنزم میں غرق ہونے کی بجائے جنگ مخالف آواز بلند کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھارت، پاکستان اور جموں کشمیر کے محنت کشوں اور بالخصوص بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو اس جنگی جنون کو مسترد کرنا چاہیے۔ جنگ مسلط کرنے کی کوششوں کو ترک کرنے کے لیے حکمرانوں پر زور دینا چاہیے۔ جنگی جنون پھیلانے والے کارپوریٹ میڈیا کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ برصغیر بھر میں بسنے والے محنت کشوں اور نوجوانوں کو قومی شاؤنزم اور جنگی جنون کی نہیں بہتر زندگی، تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور رہائش کی ضرورت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے کے تابع ان مصنوعی سرحدوں میں مقید رہتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ جنگی جنون، مذہبی انتہاء پسندی، فرقہ واریت اور انسانیت دشمن ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے کے لیے آگے بڑھیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کریں اور اس خطے کی سوشلسٹ فیڈریشن کر پرچم بلند کریں، جہاں تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے محنت کش اپنی واضح شناخت کے ساتھ نسل انسانی کی زندگیوں کی تعمیر کے مشترکہ سفر کا آغاز کر سکیں۔