← Back to Newsroom OS خبریں

جنگ گروپ نے 129 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو برطرف کر دیا، روزنامہ آواز بھی بند

By جدوجہد • 2025-06-23 • 9 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)پاکستان کے بڑی میڈیا گروپ ’جنگ‘ کے لاہور آفس سے 129صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ جنگ گروپ کے ہی زیر سایہ چلنے والے اخبار روزنامہ ’آواز‘ کو بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ آواز کی بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ گروپ کے 129 میڈیا ورکرز کو نکالنے کے بعد یہ فیصلہ ملک کا سب سے بڑا میڈیا گروپ رکھنے والا ادارہ ورکرز کے لیے مزید قیامت خیز بن گیا ہے۔

اس سے پہلے جنگ گروپ انتظامیہ کی طرف سے روزنامہ وقت، روزنامہ عوام، دی نیشن، دی پوسٹ اور ورلڈ کال جیسے بہترین اداروں کو بھی مختلف اوقات میں غیر منصفانہ، استحصالی اور ظالمانہ فیصلوں کے تحت بند کیا گیا۔ ان اداروں میں بھی ہزاروں ورکرز بیروزگار ہوئے۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے جنگ گروپ کے لاہور آفس سے 129 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کو میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی قتل عام کے مترادف قرار دیا ہے۔عہدیداروں نے کہا ہے کہ معاشی بحران کے باوجود اداروں کو میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اجلاس میں سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی، نائب صدر ندیم زعیم، جنرل سیکرٹری قمر زمان بھٹی، جوائنٹ سیکرٹریز مدثر حسین تتلہ، شیر علی خٹک، خزانچی نسیم قریشی، جاوید فاروقی، فہیم گوہر بٹ، صلاح الدین بٹ، ذیشان شہزاد، شاہد رضوی، افضال ایوبی، طلال اسحاق، پرویز الطاف، مسعود ظفر، کاشف سلمان، انیلا ندیم، خلیق کیانی، عمر حفیظ، اجاز مقبول، خرم گلزار اور دیگر شریک ہوئے۔

عہدیداروں کا کہنا تھا کہ میڈیا انڈسٹری کے بحران کی قیمت میڈیا ورکرز سے زبردستی وصول کرنا غیر انسانی عمل ہے۔ جنگ گروپ کا یہ عمل اس کے مالکان کی دولت اور منافع کو تحفظ دینے کے لیے ہے، جبکہ کارکنوں کو نکال کر ان کے اہل خانہ کو فاقوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

پنجاب یو جے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ گروپ کے ان اقدامات کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور برطرف کیے گئے ورکرز کے لیے قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی۔

پنجاب یو جے نے پی ایف یو جے اور ایپنک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ گروپ کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک چلائیں۔پنجاب یو جے کی جانب سے لاہور میں احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ایک اور پریس ریلیز میں لاہور کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار ’آواز‘ کی بندش کے فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ پنجاب یو جے کے صدر میاں شاہد ندیم اور جنرل سیکریٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ جنگ گروپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ادارہ ’آواز‘کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔پنجاب یو جے نے تمام صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں۔اگر جنگ گروپ انتظامیہ نے اپنی روش نہ بدلی تو دیگر اداروں کے کارکنوں کی خوشحالی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔اگر جنگ گروپ نے اشتہارات اور اداروں کے دباؤ پر ادارے بند کیے ہیں تو یہ ایک بڑی قومی غلطی تصور ہو گی۔اداروں کا آمرانہ طرز عمل ہمیشہ تباہی لاتا ہے۔جب جب اس ملک کا حق لکھا گیا، صحافیوں نے جانیں قربان کیں، کارکنوں کو بیروزگار کر کے قومی زندگی اور اداروں کی آبرو کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔اگر کارکن مر گئے تو ادارے بھی ختم ہو جائیں گے۔پنجاب یو جے اس عمل کے خلاف سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، پیمرا، پریس کونسل اور پی ایف یو جے، ایف آئی یو جے کے پلیٹ فارم سے احتجاج کرے گی۔