← Back to Newsroom OS تعلیم

جنگی جنون کو رد کریں — جنوبی ایشیا میں امن، یکجہتی اور سوشلسٹ انقلاب کے لیے متحد ہوں

By جدوجہد • 2025-05-08 • 8 min read

پریس ریلیز (جاری کردہ: پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)، جموں کشمیر این ایس ایف (JKNSF)، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ (RSF); تاریخ: 7 مئی 2025ء)

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین، جموں کشمیر این ایس ایف اور ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے حکمران طبقات کی جانب سے ابھارے جانے والے جنگی جنون کو خطے کے محنت کش عوام کو سختی سے مسترد کرنا چاہئے۔ جنگ نہ صرف کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو مزید طاقت دے کر دونوں ممالک کے غریب عوام کو بدحالی، بربادی اور محرومی کی دلدل میں مزید دھکیلتی ہے۔

دونوں ریاستیں گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اپنے داخلی سیاسی و معاشی بحرانوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور دشمنی پر مبنی بیانئے کو وقتاً فوقتاً فروغ دیتی آئی ہیں۔جبکہ امن اور مذاکرات برائے مذاکرات کے منافقانہ سلسلوں کے ادوار بھی آتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری قومی آزادی کی جائز اور مستند تحریکوں کو پراکسی جنگوں کا آلہ کار بنانے کی مکروہ اور قابلِ مذمت روش بھی دونوں طرف سے اپنائی گئی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ ہو یا دہشت گردی‘ ان دونوں کا خمیازہ ہمیشہ محنت کش طبقات کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ جبکہ سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کے لیے یہ خونریزیاں صرف منافع خوری اور تسلط کے ذرائع کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ہم تمام محنت کشوں، ٹریڈ یونینوں اور طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جنگی جنون کے خلاف آواز بلند کریں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان امن، بھائی چارے اور طبقاتی یکجہتی کا پیغام عام کریں۔

ہم بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف تمام مسلح کارروائیاں (چاہے وہ بالواسطہ ہوں یا براہِ راست) بند کی جائیں۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں ایک بڑی جنگ ایسی تباہی اور بربادی پر منتج ہو سکتی ہے جس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے اور جس میں کروڑوں لوگ مارے جائیں گے۔جبکہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید بھوک، بیماری اور معذوری آنے والی نسلوں کا مقدر ہو گی۔ لہٰذا ریاستی وسائل کو اسلحے اور جنگی ساز و سامان پر ضائع کرنے کے بجائے عوام کو تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے۔

آخر میں ہم ولادیمیر لینن کے اس تاریخی مؤقف کو دہراتے ہیں کہ جب تک سامراجی سرمایہ داری کا نظام قائم ہے، جنگیں اور بربادیاں جاری رہیں گی۔ علاوہ ازیں جموں کشمیر سمیت خطے میں آباد ہر محکوم قوم کا حق ہے کہ وہ اپنے مقدر کا تعین پرامن اور جمہوری طریقے سے کر سکے۔ چنانچہ خطے کے عوام کو رنگ، نسل، مذہب اور قومیت کے تمام تعصبات کو مسترد کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی مشترکہ جدوجہد میں اترنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی سوشلسٹ انقلاب کی اہم کڑی کی حیثیت سے جنوب ایشیا کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن ہی اس خطے میں آباد 2 ارب سے زائد انسانوں کی ترقی، خوشحالی اور نجات کی ضامن ہو سکتی ہے۔