← Back to Newsroom OS تعلیم

’’جولائی کے دن ‘‘: تیاری اور آغاز

By جدوجہد • 2025-07-09 • 65 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

1915ء میں روس کے جنگی اخراجات 10 ارب روبل تھے؛ 1916ء میں 19 ارب؛ 1917ء کے پہلے نصف حصے میں 10.5 ارب روبل۔ 1918ء کے آغاز تک قومی قرضہ 60 ارب ہو جانا تھا، یعنی کہ ملک کی مجموعی دولت کے تقریباً برابر، جس کا تخمینہ 70 ارب تھا۔ مرکزی مجلس عاملہ ایک جنگی قرضے کی استدعا کی تیاری کر رہی تھی، جسے ’’قرضہ ء آزادی‘‘ کا منافقانہ نام دیا گیا تھا، جبکہ حکومت بھی اس سادہ سے نتیجے پر پہنچ رہی تھی کہ ایک بڑے بیرونی قرضے کے بغیر نہ صرف درآمدات کی ادائیگی ناممکن تھی، بلکہ داخلی واجبات تک بھی ادا نہیں ہو سکتے تھے۔ تجارتی میزان کی واجبات والی طرف مسلسل بڑھ رہی تھی۔ اتحادی ممالک روسی کرنسی روبل کو اس کے حال پر چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔ سوویت کے جریدے ’ازوستیا‘ کے پہلے صفحے پر ’قرضہ ء آزادی‘ کی استدعا شائع ہونے کے صرف ایک دن بعد حکومتی جریدے ’وائستنک‘ نے روبل کی قدر میں تیز گراوٹ کا اعلان کیا۔چھاپہ خانے افراطِ زر کی رفتار کے مطابق نہیں چل پا رہے تھے۔ ذی عزت پرانے بینک نوٹ، جن کی سابقہ قوت خرید کا سحر ابھی تک باقی تھا، کی جگہ پر سرخ رنگ کے نوٹ شائع کرنے کی تیاری ہو رہی تھی، جو ’کیرنکیوں‘ (Kerenkies) کے نام سے مشہور ہوئے۔اِس نام کے ذریعے بورژوا اور مزدور، دونوں اپنے اپنے انداز میں حقارت کا اظہار کر رہے تھے۔
الفاظ میں تو حکومت نے صنعت کی ریاستی ریگولیشن کا پروگرام اپنا لیا تھا اور اس مقصد کے لئے جون کے اواخر میں کچھ بھدے سے ادارے بھی قائم کر دئیے تھے۔ لیکن پارسا عیسائی کی روح اور جسم کی طرح فروری حکومت کے قول اور فعل میں بھی مسلسل تضاد جاری تھا۔نجی افراد کے مفادات کو لگام دینے کی بجائے موزوں طریقے سے چنے گئے ریگولیشن کے یہ ادارے ایک لڑکھڑاتے اور بکھرتے ہوئے ریاستی اقتدار کے خطرات سے سرمایہ دار کو بچانے کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے۔ صنعت کا انتظامی اور تکنیکی عملہ پرتوں میں تقسیم ہو رہا تھا؛ مزدوروں کے اشتراکی رجحانات سے خوفزدہ بالائی پرتیں فیصلہ کن طور پر سرمایہ دار کی طرف جا رہی تھیں۔ مزدوروں نے اُن جنگی آرڈروں کی طرف ایک حقارت آمیز رویہ اپنا لیا تھا جن کے ذریعے ٹوٹ پھوٹ سے دوچار فیکٹریوں کو ایک یا دو سال کی پیشگی ضمانت دی گئی تھی۔ لیکن سرمایہ دار بھی پیداوار کا ذوق کھو رہے تھے، کیونکہ منافعے کم اور مشکلات زیادہ تھیں۔ اوپر سے فیکٹریوں کی دانستہ بندش اب زیادہ منظم ہو رہی تھی۔ دھات کی پیداوار کو 40 فیصد کم کر دیا گیا تھا؛ ٹیکسٹائل کی صنعت کو 20 فیصد۔ تمام ضروریات زندگی کی رسد ناکافی تھی۔ افراطِ زر میں اضافے اور صنعت کے زوال کے مطابق ہی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ مزدور اُس انتظامی و تجارتی نظام پر تسلط کے خواہشمند تھے جو اُن کے مقدروں کا فیصلہ اُن سے خفیہ کرتا تھا۔ وزیر محنت سکوبیلیف لمبے چوڑے اعلانات میں مزدوروں کو فیکٹریوں کی انتظامیہ میں مداخلت کے نقصانات کی تبلیغ کر رہا تھا۔ 24 جون کو ’ازوستیا‘ نے کئی پلانٹوں کو بند کرنے کی ایک نئی تجویز کی خبر دی۔ اسی طرح کی خبریں صوبوں سے بھی آ رہی تھیں۔صنعت سے بھی زیادہ تباہ حال ریلوے ٹرانسپورٹ تھی۔ آدھے ریلوے انجنوں کو بڑے پیمانے کی مرمتوں کی ضرورت تھی؛ زیادہ تر ریل گاڑیاں محاذ پر تھیں؛ ایندھن کی قلت تھی۔ریلوے کے مزدوروں اور کلرکوں کے ساتھ وزارت مواصلات کی مسلسل کشمکش جاری تھی۔ خوراک کی مصنوعات کی رسد مسلسل کم ہو رہی تھی۔ پیٹروگراڈ میں آٹے کا ذخیرہ صرف دس یا پندرہ دن کے لئے ہی کافی تھا؛ دوسرے شہری مراکز میں اِس سے کچھ ہی زیادہ عرصے کے لئے۔ ریل گاڑیوں کی نیم مفلوجی اور ریلوے ہڑتال کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ مل کر اس آٹے کی قلت سے مسلسل ایک قحط کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ مستقبل میں کوئی درخشاں امید نہیں تھی۔ مزدوروں کو انقلاب سے یہ توقع تو نہیں تھی۔
سیاست کے میدان میں چیزیں اِس سے بھی بدتر تھیں۔افراد کی طرح حکومتوں، قوموں اور طبقات کی زندگی میں بھی تذبذب کی کیفیت سب سے بدترین ہوتی ہے۔ تاریخی مسائل کو حل کرنے کا سب سے بے رحم طریقہ ایک انقلاب ہوتا ہے۔ انقلاب میں حیلے بہانے شامل کرنا سب سے تباہ کن حکمت عملی ہوتی ہے۔ ایک بیمار جسم میں نشتر اتار دینے والے جراح کی طرح انقلابی پارٹی کے پاس بھی پس و پیش کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تاہم فروری کے دھڑن تختے سے برآمد ہونے والا دوہرا نظامِ حکومت، بلکہ منافقت کا نظامِ حکومت، ایک منظم تذبذب کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہر چیز حکومت کے خلاف جا رہی تھی۔ اِس کے پرانے دوست، مخالف بن رہے تھے؛ اِس کے مخالف، دشمن بن رہے تھے؛ اِس کے دشمن ہتھیار اٹھا رہے تھے۔ کیڈٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی، جو اُن تمام لوگوں کی سیاسی قیادت تھی جن کے پاس کھونے کو کچھ تھا، کی ایما پر رد انقلاب کھلے عام اپنی صفیں سیدھی کر رہا تھا۔ موغیلیف کے صدر دفتر میں ایک لاکھ بے چین کمانڈروں کی نمائندگی کرنے والی ’افسران کی انجمن‘ کی رہنما کمیٹی اور پیٹروگراڈ میں کاسک دستوں کی یونین کی کونسل، ردِ انقلاب کے دو عسکری لیور (Lever) تھے۔ سوویتوں کی جون کانگریس کے فیصلے کے باوجود ریاستی دوما نے اپنے ’’نجی اجلاس‘‘ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کی عبوری کمیٹی اُس تمام تر ردِ انقلابی کام کو ایک قانونی لبادہ فراہم کرتی تھی جسے بینک اور اتحادی ممالک کے سفارتخانے بڑے پیمانے پر مالی معاونت فراہم کر رہے تھے۔ دائیں اور بائیں،دونوں اطراف سے مصالحت پسندوں کو خطرہ تھا۔ دونوں طرف پریشانی کے عالم میں دیکھتے ہوئے حکومت نے خفیہ طور پر ایک حکومتی جاسوس ادارے، یعنی ایک خفیہ سیاسی پولیس کو منظم کرنے کے لئے رقم جاری کی۔جون کے وسط میں تقریباً اسی وقت ہی حکومت نے آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کے لئے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔ حکومت میں کیڈٹوں کی شمولیت کے باوجود لبرل پریس نے اِس سرکاری طور پر مقرر کردہ تاریخ کے خلاف ایک ہٹ دھرم مہم چلائی جس پر کسی کو یقین نہیں تھا اور جس کا دفاع کسی نے بھی سنجیدگی سے نہیں کیا۔ آئین ساز اسمبلی کا عکس، جو مارچ کے ابتدائی دنوں میں بڑا شوخ تھا، اب ماند اور دھیما پڑ گیا تھا۔ ہر چیز حکومت کے خلاف جا رہی تھی، حتیٰ کہ اُس کے اپنے نیم دلانہ بہتر ارادے بھی۔ 30 جون کو کہیں جا کے حکومت نے دیہاتوں کے شاہی سرپرستوں، یعنی ’زیمسکی نچالکوں‘[۱] کو معزول کرنے کی ہمت مجتمع کی، جن کی زار الیگزینڈر سوم کی جانب سے تعیناتی کے دن سے ہی اُن کا نام سارے ملک کے لئے نفرت انگیز تھا۔ مجبوری اور تاخیر سے کی جانے والی اِس جزوی اصلاح نے عبوری حکومت پر قابل نفرت بزدلی کی مہر ہی ثبت کی۔ اِس وقت تک شاہی اشرافیہ اپنے خوف سے نکل رہی تھی۔ زمین مالکان متحد ہو رہے تھے اور دباؤ ڈال رہے تھے۔ جون کے آخر میں دوما کی عبوری کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زمینداروں کو ’’جرائم پیشہ عناصر‘‘ کی جانب سے ابھارے گئے کسانوں سے بچانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں۔ یکم جولائی کو ماسکو میں ’زمین مالکان کی کُل روس کانگریس‘ کا اجلاس ہوا، جس میں وسیع اکثریت نوابوں کی تھی۔ حکومت بل کھا رہی تھی اور کبھی کسانوں تو کبھی زمینداروں کو الفاظ سے لبھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
محاذ کی صورتحال بدترین تھی۔ دشمن پر حملہ، جو داخلی کشمکش میں کیرنسکی کی فیصلہ کن چال بن گیا تھا، انتشار میں اپنی موت آپ مر رہا تھا۔ سپاہی لڑنا ہی نہیں چاہتے تھے۔شہزادہ لووف کے سفارتکار اتحادی ممالک کے سفارتکاروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے تھے۔ اُنہیں قرضے کی اشد ضرورت تھی۔ اپنی مضبوطی کا مظاہرہ کرنے کے لئے اِس خصی اور بیکار حکومت نے فِن لینڈ پر حملہ کر دیا، اپنے تمام غلیظ ترین کاموں کی طرح یہ کام بھی اِس نے سوشلسٹوں کے ہاتھوں سے کروایا ۔ عین اِسی وقت یوکرائن کے ساتھ تنازعہ ابھر چکا تھا اور وہ کھلی علیحدگی کی طرف گامزن تھا۔
وہ دن گزر چکے تھے جب فرانس کا سوشلسٹ وزیر جنگ البرٹ تھامس درخشاں انقلاب اور کیرنسکی کے قصیدے گایا کرتا تھا۔ فرانسیسی سفیر پیلیولوگ ، جس نے راسپیوٹن دیوان خانوں کی خوشبو کو بڑی گہرائی سے محسوس کیا تھا، کی جگہ جولائی کے آغاز میں ’’ریڈیکل‘‘ نولنز (Noulens) نے لے لی۔ صحافی کلاڈ اینٹنے اِس نئے سفیر کو پیٹروگراڈ پر تعارفی لیکچرمیں بتایا کہ فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے، دریائے نیوا کے اُس پار وائبورگ کا علاقہ پھیلا ہوا ہے۔ ’’یہ بڑی فیکٹریوں کا علاقہ ہے،جہاں بالشویکوں کا مکمل قبضہ ہے۔ وہاں لینن اور ٹراٹسکی آقاؤں کی طرح حکومت کرتے ہیں۔‘‘ اِسی علاقے میں مشین گن رجمنٹ کی بیرکیں بھی ہیں، جن میں تقریباً دس ہزار بندے اور ایک ہزار سے زائد مشین گنیں ہیں۔ نہ تو سوشل انقلابیوں اور نہ ہی منشویکوں کی رسائی اِس رجمنٹ کی بیرکوں تک ہے۔ نولنز نے حیرانی سے پوچھا، ’’اگر لینن اور ٹراٹسکی نے پیٹروگراڈ پر قبضہ کرنا چاہا تو اُنہیں کون روکے گا؟حکومت اِس صورتحال میں کیا کرے گی؟‘‘ سپاہی نے جواب دیا، ’’حکومت کر بھی کیا سکتی ہے؟ آپ کو جان لینا چاہئے کہ حکومت کے پاس اخلاقی طاقت کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے…یہ اخلاقی طاقت بھی مجھے اب بڑی کمزور لگتی ہے… ‘‘
کوئی راستہ نہ ملنے پر عوام کی ابھری ہوئی توانائی خود کو خودکفیل سرگرمیوں، چھاپہ مار توضیحات اور وقفے وقفے سے قبضوں میں ضائع کرنے لگی۔ مزدور، سپاہی اور کسان اُن مسائل کو جزوی طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں اُن کے تخلیق کردہ اقتدار نے حل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ رہنماؤں کا تذبذب عوام کے اعصاب کو سب سے زیادہ تھکا دیتا ہے۔ بے ثمر انتظار اُنہیں مجبور کر رہا تھا کہ [حکومت اور سوویت کے ] اُن دروازوں پر زیادہ سے زیادہ اصرار کے ساتھ دستک دیں جو کھلتے نہیں تھے۔ کبھی یہ مایوسی درحقیقت پھٹ بھی پڑتی تھی۔ سوویتوں کی کُل روس کانگریس کے دنوں میں ہی مزدوروں اور سپاہیوں کے پاس یہ دیکھ لینے کے خاصے مواقع تھے کہ سوویت رہنماؤں کا اُن کی طرف رویہ اور احساس کیا تھا۔ کیرنسکی کے بعد سریتیلی بھی نہ صرف بیگانہ بلکہ پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی اکثریت کے لئے ایک نفرت انگیز شخصیت بن چکا تھا۔ انقلاب کے کناروں (Fringes) پر انارکسٹوں کا اثرورسوخ بڑھ رہا تھا، جنہوں نے اب تک اپنا کلیدی کردار ڈرنووو کے گرمیوں والے گھر میں خودساختہ انقلابی کمیٹی میں ادا کیا تھا۔ لیکن مزدوروں کی زیادہ منظم پرتوں، حتیٰ کہ پارٹی کے وسیع حلقوں کا صبر بھی جواب دینے لگا تھا، یا پھر وہ اُن لوگوں کی باتوں پر کان دھرنے لگے تھے جن کا صبر جواب دے چکا تھا۔ 18 جون کے مظاہرے نے سب کے سامنے واضح کر دیا تھا کہ حکومت کو کوئی حمایت حاصل نہیں تھی۔ نہ صرف مصالحت پسند رہنماؤں بلکہ بالشویکوں کے بااختیار اداروں کے بارے میں بھی سوچتے ہوئے سپاہی اور مزدور پوچھتے تھے، ’’یہ اوپر بیٹھے لوگ کچھ کرتے کیوں نہیں ہیں؟‘‘
بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اجرتوں میں اضافے کی جدوجہد مزدوروں میں تحرک پیدا کر رہی تھی اور اُن کے اعصاب پر حاوی ہو رہی تھی۔ جون کے دوران دیوہیکل پیوٹیلوف فیکٹری، جہاں 36000 مزدور کام کرتے تھے، میں یہ سوال شدت پکڑ گیا ۔ 21 جون کو فیکٹری کے کچھ حصوں میں ہنر مند مزدوروں کی ہڑتال پھوٹ پڑی۔ ان بکھری ہوئی شورشوں کی بے ثمری کا ادراک صرف پارٹی کو تھا۔ اگلے دن بالشویکوں کی قیادت میں کلیدی مزدو ر تنظیموں اور 70 فیکٹریوں کے نمائندگان کے ایک اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ’’پیوٹیلوف کے مزدوروں کا نصب العین سارے پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ کا نصب العین ہے‘‘، لیکن ساتھ ہی پیوٹیلوف کے مزدوروں سے استدعا کی گئی کہ ’’اپنے جائز غصے کو قابو میں رکھیں۔‘‘ ہڑتال ملتوی کر دی گئی۔ لیکن اگلے 12 دنوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ فیکٹریوں کے مزدور سلگ رہے تھے اور راستے کی تلاش میں تھے۔ ہر پلانٹ کا اپنا تضاد تھا اور اِن سارے تضادات کا رجحان اوپر حکومت کی طرف تھا۔ ریل انجن بریگیڈ کی ٹریڈ یونین کی وزارتِ مواصلات کے نام رپورٹ میں لکھا گیا: ’’ہم آخری بار اعلان کر رہے ہیں: صبر کی بھی حد ہوتی ہے؛ ہم ایسے حالات میں بالکل نہیں رہ سکتے ہیں… ‘‘ نہ صرف مانگ اور بھوک بلکہ منافقت، بے کرداری اور دھوکہ بازی کے خلاف یہ ایک شکوہ تھا۔ ’’ایک شہری کی ذمہ داریاں نبھانے اور بھوک میں خود پر قابو رکھنے کی نہ ختم ہونے والی نصیحتوں‘‘ کے خلاف خصوصی غم و غصے سے اِس رپورٹ میں احتجاج کیا گیا تھا۔
مارچ میں مجلس عاملہ کی جانب سے عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی اِس شرط پر کی گئی تھی کہ انقلابی فوجی دستوں کو دارالحکومت سے ہٹایا نہیں جائے گا۔ لیکن وہ دن اب بہت پرانے ہو چکے تھے۔ گیریزن بائیں جانب جب کہ سوویت کے حکمران حلقے دائیں جانب جا چکے تھے۔ گیریزن کے ساتھ کشمکش ختم نہیں ہوئی تھی۔ اگرچہ کسی یونٹ کو مکمل طور پر دارالحکومت سے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا، لیکن تذویراتی ضروریات کے بہانے زیادہ انقلابی یونٹوں میں سے کمپنیاں محاذ پر بھیج کر اِنہیں بڑے منظم طریقے سے کمزور کر دیا گیا۔محاذ پر حکم عدولی اور فوجی احکامات پر عمل نہ کرنے پر زیادہ سے زیادہ یونٹوں کو تحلیل کرنے کی افواہیں مسلسل دارالحکومت پہنچ رہی تھیں۔ دو سائبریائی ڈویژنوں کو فوجی طاقت سے تحلیل کرنا پڑا۔دارالحکومت کے قریب ترین موجود صرف پانچویں فوج (Fifth Army) کے ہی 87 افسران اور 12725 سپاہیوں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ محاذ، دیہات، مزدور علاقوں اور بیرکوں کی بے چینی کو اپنے اندر مجتمع کرنے والا پیٹروگراڈ گیریزن مسلسل بھڑک رہا تھا۔ چالیس سے پچاس سال تک کی عمر کے یہ باریش آدمی پاگل پن کی حد تک اصرار کر رہے تھے کہ اُنہیں کھیتوں میں کام کے لئے گھروں کو بھیجا جائے۔ پہلی مشین گن رجمنٹ، پہلی بم بردار رجمنٹ، ماسکو رجمنٹ، 180ویں پیادہ رجمنٹ اور وائبورگ کے علاقے میں پھیلی ہوئی دوسری رجمنٹیں مسلسل اِس پرولتاری مضافات کے گرم چشموں سے دُھل کر نکھر رہی تھیں۔ ہزاروں مزدور بیرکوں میں سے گزر رہے تھے، اُن میں انتھک بالشویک ایجی ٹیٹروں کی بھی کمی نہ تھی۔ اُن میلی اور خستہ حال دیواروں کے سائے میں برجستہ جلسے تقریباً ہر وقت منعقد ہو رہے تھے۔ حملے کے پیش نظر بلائے گئے حب الوطن مظاہروں کے ختم ہونے سے پہلے 22 جون کو مجلس عاملہ کی ایک موٹر گاڑی ’’کیرنسکی کے لئے آگے بڑھو!‘‘ کا پلے کارڈ لگائے سیمپسونیوسکی شاہراہ پر سے گزر رہی تھی۔ ماسکو رجمنٹ نے اِن حب الوطن ایجی ٹیٹروں کو روکا، پلے کارڈ پھاڑ دیا اور موٹر گاڑی کو مشین گن رجمنٹ کے حوالے کر دیا۔
بالعموم مزدوروں سے زیادہ بے چین سپاہی تھے، اس لئے کہ اُنہیں محاذ پر بھیج دئیے جانے کا براہ راست خطرہ لاحق تھا اور اس لئے بھی کہ سیاسی حکمت عملی کی باریکیوں کو سمجھنا اُن کے لئے زیادہ مشکل تھا۔ مزید برآں ہر ایک کے پاس اپنی رائفل تھی؛ فروری کے بعد سے سپاہی اِس رائفل کی آزادانہ طاقت کو ضرورت سے زیادہ گمان کرنے لگے تھے۔ ایک پرانے مزدور بالشویک لزڈن نے بعد میں بتایا کہ 180ویں ریزرو رجمنٹ کے سپاہیوں نے اُس سے کہا : ’’وہ بالشویک رہنما وہاں کشیسنسکایا کے محل [۲] میں کیا کر رہے ہیں؟ آؤ کیرنسکی کو لات مار کے باہر نکالتے ہیں!‘‘ رجمنٹوں کے جلسوں میں مسلسل قراردادیں پاس ہوتی تھیں، جن میں حکومت کے خلاف حتمی اقدام اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا۔ فیکٹریوں سے مندوبین یہ سوال لے کر کسی رجمنٹ کے پاس جاتے تھے: کیا سپاہی سڑکوں پر نکلیں گے؟ جنگ کی طوالت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی استدعا کے ساتھ مشین گن رجمنٹ والوں نے اپنے نمائندے گیریزن کے دوسرے یونٹوں میں بھیجے۔ اِن میں ایک زیادہ بے صبر مندوب نے بات میں اضافہ کر دیا: پاولوف اور ماسکو رجمنٹ اور پیوٹیلوف کے چالیس ہزار مزدور ’’کل‘‘ باہر نکل رہے ہیں۔مجلس عاملہ کی سرکاری نصیحتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ ہر لمحے خطرہ بڑھ رہا تھا کہ محاذ اور صوبوں کی حمایت نہ مل پانے پر پیٹروگراڈ ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گا۔ 21 جون کو لینن نے ’پراودا‘ میں پیڑوگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں سے استدعا کی کہ اُس وقت تک انتظار کیا جائے جب تک واقعات کے تحت عوام کی بہت بڑی تعداد پیٹروگراڈ کے ساتھ نہیں مل جاتی۔ ’’ہم تمہارے غصے کو سمجھتے ہیں، ہم پیٹرزبرگ کے مزدوروں کے اشتعال کو سمجھتے ہیں، لیکن ہم اُن سے کہتے ہیں: کامریڈ، ایک فوری حملہ بے موقع و محل ہو گا۔‘‘ بظاہر لینن کے ’’بائیں طرف‘‘ کھڑے رہنما بالشویکوں کا ایک نجی اجلاس اگلے دن اِس نتیجے پر پہنچا کہ سپاہی اور مزدور عوام کے گرم مزاج کے باوجود ابھی لڑائی نہیں کھولنی چاہئے: ’’انتظار کرنا بہتر ہو گا، تاکہ حکمران پارٹیاں خود کو اچھی طرح رسوا کر لیں، پھر کھیل ہمارا ہو گا۔‘‘ ضلعی منتظم لیٹسس، جو اُن دنوں سب سے بے صبرا تھا، یہی اطلاع دیتا ہے۔ مرکزی کمیٹی زیادہ سے زیادہ مجبور ہو رہی تھی کہ فوجی دستوں اور فیکٹریوں میں ایجی ٹیٹر بھیج کر اُنہیں حتمی اقدام سے روکے۔ پریشانی سے سر کو جھٹکتے ہوئے وائبورگ کے بالشویک اپنے دوستوں سے شکوہ کرتے تھے: ’’ہمیں آگ بجھانے کا کام کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ تاہم ایک دن کے لئے بھی سڑکوں پر آنے کی استدعائیں ختم نہیں ہوئیں۔ اِن میں کچھ کا کردار واضح طور پر اشتعال انگیز ہوتا تھا۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم نے سپاہیوں اور مزدوروں سے استدعا کرنا لازمی سمجھا: ’’بالشویک فوجی تنظیم کے نام سے دی جانے والی سڑک پر آنے کی کسی کال پر یقین نہ کیا جائے۔ فوجی تنظیم آپ کو کوئی اقدام اٹھانے کو نہیں کہہ رہی ہے۔‘‘ پھر زیادہ اصرار کے ساتھ کہا: ’’فوجی تنظیم کی طرف سے باہر نکلنے کی کال دینے والے ایجی ٹیٹر یا مقرر سے صدر یا سیکرٹری کا دستخط شدہ اجازت نامہ طلب کریں۔‘‘
کرونسٹٹ کے مشہور یاکورنی چوک Yakorny Square) (پر زیادہ سے زیادہ بے باکی سے انارکسٹ اپنی آواز بلند کر رہے تھے اور ایک کے بعد دوسری دھمکی دی جا رہی تھی۔ 23 جون کو یاکورنیچوک کے مندوبین نے کرونسٹٹ سوویت کی اجازت کے بغیر وزارتِ انصاف سے پیٹروگراڈ کے انارکسٹوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ مطالبہ نہ مانا گیا تو جہازی جیل پر حملہ کر دیں گے۔ اگلے دن اورانین بام کے نمائندوں نے وزارتِ انصاف کو مطلع کیا کہ اُن کے گیریزن کو بھی کرونسٹٹ کی طرح ڈرنووو کے گرمیوں والے گھر سے کی جانے والی گرفتاریوں پر تشویش تھی اور وہ اپنی’’مشین گنوں کو صاف‘‘ کر رہے تھے۔ بورژوا پریس فوراً سے پہلے اِن دھمکیوں کی بنیاد پر اپنے مصالحت پسند اتحادیوں کو لعنت ملامت کرنے لگی۔ 26 جون کو بم بردار محافظ رجمنٹ کے مندوبین محاذ سے اپنی ریزرو بٹالین کے پاس آئے اور اعلان کیا: ’’رجمنٹ عبوری حکومت کے خلاف ہے اور اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کا مطالبہ کرتی ہے۔رجمنٹ کیرنسکی کی طرف سے شروع کئے گئے حملے کو مسترد کرتی ہے اور اِس اندیشے کا اظہار کرتی ہے کہ سوشلسٹ وزیروں کے ساتھ ساتھ مجلس عاملہ بھی بورژوازی کے ساتھ مل گئی ہے۔‘‘ مجلس عاملہ کے جریدے نے اِس دورے کی خبر بڑے حقارت آمیز انداز میں شائع کی۔
نہ صرف کرونسٹٹ بلکہ ہلسنگفورس میں اپنی کلیدی چھاؤنی سمیت بالٹک کا پورا بحری بیڑا سلگ رہا تھا۔ بیڑے میں بالشویکوں کا رہنما بلاشبہ اینٹونوف- اووسینکو تھا، جس نے کئی سال پہلے ایک نوجوان افسر کے طور پر 1905ء میں سیباٹوپول کی سرکشی میں حصہ لیا تھا۔ وہ رجعت کے سالوں میں ایک منشویک، جنگ کے دوران ایک مہاجر انٹرنیشنلسٹ اور پیرس میں جریدے ’ناشے سلووو‘ کی اشاعت میں ٹراٹسکی کا معاون تھا، بیرون ملک سے آمد کے بعد وہ بالشویکوں میں شامل ہو گیا تھا۔ سیاسی طور پر متزلزل لیکن ذاتی طور پر جرات مند، من موجی اور بے نظم لیکن پہل قدمی اور حاضر جوابی کے قابل اینٹونوف اگرچہ اُن دنوں زیادہ مشہور نہیں تھا لیکن اُسے مستقبل کے انقلابی واقعات میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اپنی یادداشتوں میں وہ بیان کرتا ہے، ’’ہم پارٹی کی ہلسنگفورس کمیٹی والوں نے صبر اور سنجیدہ تیاری کی ضرورت سمجھ لی تھی۔ مزید برآں ہمیں مرکزی کمیٹی سے بھی یہی ہدایات ملی تھیں۔ لیکن ہم نے ایک دھماکے کی ناگزیریت کو دیکھ لیا تھا اور تشویش کے ساتھ پیٹرزبرگ کی طرف دیکھ رہے تھے۔‘‘ پیٹرز برگ میں ایک دھماکے کے عناصر روز بروز جمع ہو رہے تھے۔ دوسری مشین گن رجمنٹ، جو پہلی سے کم باشعور تھی، نے اقتدار کی سوویت کو منتقلی کی قرارداد منظور کی۔ تیسری پیادہ رجمنٹ نے چودہ متبادل کمپنیاں بھیجنے سے انکار کر دیا۔ بیرکوں میں جلسے زیادہ سے زیادہ طوفانی کردار اختیار کر رہے تھے۔ یکم جولائی کو بم بردار رجمنٹ کے ایک اجلاس میں فوجی کمیٹی کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا اور نعرے لگا کر منشویک مقررین کو بات کرنے سے روک دیا گیا: حملہ مردہ باد! کیرنسکی مردہ باد! گیریزن میں مشین گن والے توجہ کا مرکز تھے۔ وہی تھے جنہوں نے جولائی کے سیلاب کے بند توڑے۔
ہم نے پہلے ہی انقلاب کے اول مہینے کے واقعات میں پہلی مشین گن رجمنٹ کا نام سنا ہے۔سرکشی کے فوراً بعد ’’انقلاب کے دفاع کے لئے‘‘ خود سے ہی اورانین بام سے پیٹروگراڈ آ جانے والی اِس رجمنٹ نے مجلس عاملہ کی مخالفت شروع کر دی تھی۔مجلس عاملہ نے ایک قرارداد منظور کی: اورانین بام کو شکریے کے ساتھ رجمنٹ کو واپس بھیجا جائے۔ لیکن مشین گن والوں نے دارالحکومت چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا تھا: ’’ ردِ انقلابی عناصر سوویت پر حملہ کر کے پرانی حکومت کو بحال کر سکتے ہیں۔‘‘ مجلس عاملہ کو بات ماننا پڑی اور کئی ہزار مشین گن والے اپنی مشین گنوں سمیت پیٹروگراڈ میں ہی رہے۔ اُنہوں نے دارالعوام کی عمارت میں رہائش اختیار کر لی اور سوچنے لگے کہ اگلی منزل کیا ہو گی۔ تاہم اُن میں ایک بڑی تعداد پیٹروگراڈ کے مزدوروں کی بھی تھی ، اِس لئے یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ بالشویک کمیٹی نے اِن مشین گن والوں کا پورا خیال رکھنے کی ذمہ داری اٹھا لی ۔ بالشویک کمیٹی کی وساطت سے ہی اُنہیں پیٹر اور پال کے قلعے سے خوارک کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔یہاں سے ایک دوستی کی شروعات ہوئی، جو جلد ہی لازوال بن گئی۔ 21 جون کو مشین گن والوں نے ایک عوامی جلسے میں قرارداد پیش کی: ’’مستقبل میں صرف اسی صورت میں محاذ پر کمک بھیجی جائے گی جب جنگ کا کردار انقلابی ہو گا۔‘‘ 2 جولائی کو ’’آخری‘‘ متبادل کمپنی کو محاذ پر رخصت کرنے کے لئے رجمنٹ نے دارالعوام میں الوداعی جلسہ بلایا۔ مقررین میں لیوناچارسکی اور ٹراٹسکی شامل تھے۔ حکام نے اِس اتفاق کو غیرمعمولی اہمیت دی۔ سپاہی زھلناور پرانے بالشویک نان کمیشنڈ افسر لاشیوچ نے رجمنٹ کی طرف سے اِس کا جواب دیا۔ مزاج بہت پر جوش تھا۔اُنہوں نے کیرنسکی کی مذمت کی اور انقلاب سے وفاداری کا اعادہ کیا، لیکن کسی نے بھی مستقبل قریب کے بارے میں کوئی عملی تجویز نہیں دی۔ تاہم اُن آخری دنوں میں کچھ ہو جانے کی توقع شہر میں مسلسل کی جا رہی تھی۔ ’’جولائی کے دن‘‘ اپنے سے پہلے ہی اپنی پرچھائی ڈال رہے تھے۔ سوخانوف یاد کرتا ہے، ’’ہر جگہ، سوویت کے تمام کونے کھدروں میں، مارنسکی محل میں، لوگوں کے گھروں میں، چوکوں چوراہوں اور شاہراہوں پر، بیرکوں اور فیکٹریوں میں کسی مظاہرے کی توقع کی باتیں ہو رہی تھیں، جو آج نہیں تو کل ہونا ہی تھا… کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کون کہاں کس چیز کے لئے مظاہرہ کرے گا، لیکن شہر خود کو کسی دھماکے کی نہج پر محسوس کر رہا تھا۔‘‘ دھماکہ واقعی ہوا۔ اِس کا محرک اوپر کے حکمران حلقے بنے۔
جس دن ٹراٹسکی اور لیوناچارسکی مشین گن والوں سے مخلوط حکومت کے دیوالیہ پن کے بارے میں خطاب کر رہے تھے، چار کیڈٹ وزیروں نے حکومت سے الگ ہو کر مخلوط حکومت کو پارہ پارہ کر دیا۔ انہوں نے ایک معاہدے کو جواز بنایا جو اُن کے مصالحت پسند ساتھیوں نے یوکرائن کے ساتھ کیا تھا، ایسا معاہدہ جو اُن کے سامراجی عزائم کے لئے ناقابل قبول تھا۔ تاہم اِس علیحدگی کی حقیقی وجہ اِس حقیقت میں مضمر تھی کہ عوام کو نکیل ڈالنے میں مصالحت پسند تاخیر کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ [مخلوط حکومت سے علیحدگی کے لئے] اِس وقت کا انتخاب حملے کی اُس ناکامی کے پیش نظر کیا گیا جسے سرکاری طور پر تسلیم تو نہیں کیا گیا لیکن باخبر لوگوں کے لئے اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہ تھی۔ اِن لبرلوں نے محاذ پر شکست اور بالشویکوں سے نبرد آزما اپنے بائیں بازو کے اتحادیوں کو اُن کے حال پر چھوڑنا مناسب سمجھا۔ اِن کیڈٹوں کے استعفے کی خبر فوراً پورے دارالحکومت میں پھیل گئی اور تمام تضادات کی سیاسی عمومیت کاری ایک نعرے، بلکہ ایک بلند پکار میں کر دی: ’’آؤ اِس مخلوط حکومت کی بکواس کو ختم کر دیں۔‘‘ مزدوروں اور سپاہیوں نے سوچا کہ اجرتوں، روٹی کی قیمت اور محاذ پر جان دینے کے مقصد جیسے تمام دوسرے سوالوں کا انحصار اِس سوال پر تھا کہ مستقبل میں ملک پر کس نے حکمرانی کرنا تھی، بورژوازی نے یا اُن کی اپنی سوویت نے؟ اِن توقعات میں خوش فہمی کا ایک عنصر بھی شامل تھا، کیونکہ عوام کو امید تھی کہ اقتدار کی تبدیلی سے اُن کے سارے سلگتے ہوئے مسائل حل ہو جائیں گے۔ لیکن آخری تجزئیے میں وہ درست تھے: اقتدار کے سوال نے ہی تو سارے انقلاب کی سمت، یعنی ہر کسی کے مقدر کا تعین کرنا تھا۔ یہ سوچنا ملیوکوف کو کم تر خیال کرنے کے مترادف ہو گا کہ کیڈٹوں نے سوویت کو کھلے عام سبوتاژ کرنے کے اِس عمل کے نتائج کی پیش بینی نہیں کی ہو گی۔ لیکن لبرلزم کے یہ رہنما دانستہ طور پر مصالحت پسندوں کو ایک ایسی مشکل صورتحال میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں سے وہ صرف سنگینوں کے ذریعے ہی نکل سکیں۔ اُن دنوں ملیوکوف کو پورا یقین تھا کہ بے باکی سے کچھ خون بہا دینے سے صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔ 3 جولائی کو کئی ہزار مشین گن والوں نے اپنی رجمنٹ کی کمپنی اور رجمنٹ کمیٹیوں کے ایک اجلاس کو روک کر اپنا ایک چیئرمین منتخب کیا اور ایک مسلح مظاہرے کے سوال پر فوری غور کا مطالبہ کیا۔ یہ جلسہ آغاز سے ہی ایک طوفان تھا۔محاذ کے مسئلے کے ساتھ حکومت کا بحران بھی گھل مل گیا۔ جلسے کے چیئرمین، بالشویک گولوون نے یہ تجویز دے کر بریکیں لگانے کی کوشش کی کہ پہلے دوسرے یونٹوں اور بالشویکوں کی فوجی تنظیم سے بات کی جائے۔ لیکن تاخیر کی ہر تجویز سے سپاہیوں کا صبر جواب دینے لگتا تھا۔ اس جلسے میں ایک انارکسٹ بلیچ مین نمودار ہوا، جو 1917ء کے پس منظر میں ایک چھوٹی لیکن شوخ شخصیت تھا، اُس کے نظریات تو محدود تھے لیکن عوام کا کچھ احساس رکھتا تھا، اپنی محدود اور ہمیشہ بھڑکی ہوئی ذہانت میں مخلص تھا، اُس کی قمیض سینے سے کھلی ہوتی تھی اور گھنگرالے بال ہر طرف پرواز کر رہے ہوتے تھے۔ اِس طرح کے جلسوں میں بلیچ مین کا استقبال کچھ نیم طنزیہ ہمدردی سے کیا جاتا تھا۔ یہ درست ہے کہ مزدور، بالخصوص دھاتکاری کے مزدور اُس کی طرف سرد مہری اور بے چینی کا رویہ رکھتے تھے۔ لیکن سپاہی بڑے مزے سے اُس کی تقاریر پر ہنستے تھے، ایک دوسرے کو کہنیاں مارتے تھے اور بامعنی تبصروں سے اُسے مزید اکساتے تھے۔ وہ اُس کی انوکھی وضع قطع، غیر معقول قطعیت اور سِرکے جیسے ترش یہودی امریکی لہجے کو پسند کرتے تھے۔ جون کے آخر تک بلیچ مین اِس طرح کے برجستہ جلسوں میں ایک دریائی مچھلی کی طرح تیر رہا تھا۔ اُس کی رائے ہمیشہ اُس کے ہمراہ ہوتی تھی: ہاتھوں میں ہتھیار اٹھا کے باہر نکلنا ضروری ہے۔ اور تنظیم؟ ’’سڑک پر خود ہی تنظیم بن جائے گی۔‘‘ اور کرنا کیا ہے؟ ’’جس طرح زار کو اکھاڑ پھینکا تھا، اگرچہ اُس وقت کوئی پارٹی بھی اِس کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی، اسی طرح عبوری حکومت کو بھی اکھاڑنا ہے۔‘‘ یہ تقایر اُس وقت مشین گن والوں کے جذبات کے عین مطابق تھیں، مزید برآں ایسے جذبات صرف اُنہی کے نہیں تھے۔ جب اپنے رہنماؤں کی ہدایات کے خلاف نیچے والوں نے مزاحمت کی تو بہت سے بالشویکوں نے بھی اظہارِ اطمینان کیا۔ ترقی پسند مزدوروں کو یاد تھا کہ فروری میں فتح سے بالکل قبل اُن کے رہنما اعلانِ شکست کی تیاری کر رہے تھے؛ مارچ میں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار بھی نیچے والوں کے عمل کے ذریعے ہی حاصل کئے گئے تھے؛ اپریل میں ملیوکوف کا دھڑن تختہ بھی اُن رجمنٹوں نے ہی کیا تھا جو خود سے سڑک پر آئی تھیں۔ اِن حقائق کی یادداشت نے عوام کے تناؤ بھرے اور بے صبر مزاج کو شدید تر کر دیا تھا۔
بالشویکوں کی فوجی تنظیم کو جب فوری اطلاع دی گئی کہ مشین گن والوں کا جلسہ نقطہ ابال کے قریب ہے تو اُس نے ایک کے بعد دوسرا ایجی ٹیٹر وہاں بھیجا۔ جلد ہی فوجی تنظیم کا رہنما نیوسکی خود آ گیا، جو سپاہیوں میں بڑا عزت دار آدمی تھا۔ اُنہوں نے بظاہر تو اُس کی بات مان لی۔ لیکن اُس کے جانے کے بعد جلسے کا مزاج پھر سے بدل گیا۔ فوجی تنظیم کا ایک اور رہنما پوڈووئسکی بتاتا ہے، ’’ہمیں بہت حیرانی ہوئی جب شام سات بجے ایک گھڑ سوار اپنا گھوڑا سرپٹ دوڑا کر ہمیں اطلاع دینے آیا کہ … مشین گن والوں نے ایک بار پھر باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ پرانی رجمنٹ کمیٹی کی جگہ اُنہوں نے اب ایک عبوری انقلابی کمیٹی منتخب کر لی تھی، جس میں سیماشکو کی سربراہی میں ہر کمپنی سے دو افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ خصوصی طور پر تعینات کئے جانے والے مندوبین پہلے ہی حمایت حاصل کرنے کے لئے کارخانوں اور رجمنٹوں کے چکر لگا رہے تھے۔ مشین گن والے اپنے بندے کرونسٹٹ بھیجنا بھی نہیں بھولے۔ اِس طرح سے باضابطہ تنظیموں سے ایک درجہ نیچے اور جزوی طور پر اُن کی سرپرستی میں، زیادہ بے قرار رجمنٹوں اور فیکٹریوں کے درمیان نئے عارضی تعلقات قائم ہو گئے۔ سوویت سے الگ ہونے کا عوام کا کوئی ارادہ نہیں تھا؛ بلکہ اِس کے برعکس وہ تو چاہتے تھے کہ سوویت اقتدار پر قبضہ کرے۔ بالشویک پارٹی سے الگ ہونے کا تو عوام کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن وہ محسوس کر رہے تھے کہ پارٹی تذبذب کا شکار تھی۔ وہ اِسے ابھارنا چاہتے تھے، مجلس عاملہ کے سامنے گھونسہ لہرانا چاہتے تھے، بالشویکوں کو تھوڑا دھکا لگانا چاہتے تھے۔ یوں مستقل طور پر تو نہیں لیکن فوری صورتحال کے پیش نظر نمائندگی کا ایک برجستہ نظام تشکیل پا گیا، نئی گرہیں باندھی گئیں، سرگرمی کے نئے مراکز قائم کئے گئے ۔ مزاج اور حالات میں تبدیلیاں اِتنی تیز اور گہری تھیں کہ سوویتوں جیسی انتہائی لچکدار تنظیمیں بھی ناگزیر طور پر پیچھے رہ گئیں اور عوام ہر نئے موڑ پر اُس وقت کے تقاضوں کے مطابق نئے ذیلی ادارے تخلیق کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اِن فوری اقدامات کے دوران ایسے حادثاتی عناصر بھی اکثر نمایاں ہو جاتے تھے جو ہمیشہ قابل بھروسہ نہیں ہوتے تھے۔ انارکسٹ جلتی پر تیل پھینکتے تھے۔ لیکن کئی نئے اور بے صبرے بالشویک بھی ایسا ہی کرتے تھے۔تخریب کار بھی ملوث تھے، شاید جرمن ایجنٹ بھی، لیکن سو فیصدی روسی خفیہ پولیس کے ایجنٹوں کی شمولیت سب سے زیادہ یقینی تھی۔ ایک پیچیدہ عوامی تحریک کا تجزیہ اُس کے علیحدہ علیحدہ اجزا میں کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟ واقعے کا عمومی کردار تو بالکل واضح ہے۔ پیٹروگراڈ اپنی قوت کو محسوس کر رہا تھا، اِس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا، یہ صوبوں یا محاذ کی کیفیت پر غور نہیں کر رہا تھا اور بالشویک پارٹی بھی اب اِسے قابو کرنے کے قابل نہیں تھی۔ مزدور اور سپاہی صرف تجربے سے ہی سیکھ سکتے تھے۔
فیکٹریوں اور رجمنٹوں کو سڑک پر بلاتے ہوئے مشین گن والوں کے مندوبین یہ بتانا نہیں بھولے کہ مظاہرے کو مسلح کیا جانا تھا۔ ہاں، اِس کے برعکس ہو بھی کیسے سکتا تھا؟ آپ غیرمسلح ہو کر تو دشمن کی ضربوں کا سامنا نہیں کر سکتے؟ مزید برآں، بلکہ شاید یہی کُل بات تھی، ہمیں اپنی طاقت دکھانی ہے اور ہتھیار کے بغیر سپاہی کی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ اِس بات پر ساری رجمنٹیں اور ساری فیکٹریاں متفق تھیں:اگر ہمیں باہر نکلنا ہے تو ڈھیر سارے ہتھیاروں کے ساتھ نکلنا ہو گا۔ مشین گن والوں نے وقت ضائع نہیں کیا: ایک بڑا کام شروع کرنے کے بعد وہ اِسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں تفتیشی عدالت کی رپورٹ نے رجمنٹ کے اہم رہنماؤں میں شامل سیماشکو کی سرگرمیوں کو اِن الفاظ میں بیان کیا: ’’اُس نے فیکٹریوں سے موٹر گاڑیاں منگوائیں، اُنہیں مشین گنوں کے ساتھ مسلح کیا، اُنہیں ٹاؤرائڈ محل اور دوسرے مقامات پر بھیجا، راستوں کا تعین کیا،اپنی ذاتی قیادت میں اپنی رجمنٹ کو شہر میں لایا، ماسکو رجمنٹ کی ریزرو بٹالین کو باہر آنے پر مائل کرنے کے لئے اُس کے پاس گیا، جس میں وہ کامیاب رہا، مشین گن رجمنٹ کے سپاہیوں کو بالشویکوں کی فوجی تنظیم کی رجمنٹوں کی حمایت کی یقین دہانی کروائی، کشیسنسکایا کے محل میں مقیم اِس تنظیم اور بالشویکوں کے رہنما لینن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، فوجی تنظیم کی حفاظت کے لئے سنتری روانہ کئے… ‘‘ یہاں لینن کا حوالہ صرف تصویر کو مکمل کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ اِس دن یا اِس سے پہلے دنوں میں لینن پیٹروگراڈ میں تھا ہی نہیں۔ وہ 29 جون سے فِن لینڈ کے ایک مکان میں بیمار پڑا تھا۔ لیکن اس بات کے علاوہ فوجی عدالت کے اہلکار نے مختصر الفاظ میں مشین گن والوں کی بے قرار تیاریوں کی کافی حد تک درست عکاسی کی ہے۔ بیرکوں میں بھی ایسی ہی بے چینی سے کام جاری تھا۔ جن سپاہیوں کے پاس رائفلیں نہیں تھیں اُنہیں فراہم کی جا رہی تھیں، کچھ کو بم بھی دئیے جا رہے تھے، فیکٹریوں کی طرف سے فراہم کردہ ہر ٹرک پر تین مشین گنیں نصب کی جا رہی تھیں۔ رجمنٹ کو پوری عسکری صف بندی کے ساتھ سڑک پر آنا تھا۔
فیکٹریوں میں بھی تقریباً یہی کام ہو رہا تھا۔ مشین گن والوں یا ہمسایہ فیکٹری سے مندوبین آتے تھے اور مزدوروں کو سڑک پر آنے کی کال دیتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اِن مندوبین کا ہی انتظار ہوتا تھا۔ کام فوراً رک جاتا تھا۔ رینالڈ فیکٹری کا ایک مزدور اپنی کہانی سناتا ہے: ’’رات کے کھانے کے بعد کئی مشین گن والے اِس درخواست کے ساتھ آئے کہ ہم اُنہیں کچھ موٹر ٹرک دیں۔ ہمارے گروہ (بالشویکوں) کے احتجاج کے باوجود ہمیں ٹرک دینا پڑے… اُنہوں نے فوراً ٹرکوں پر مشین گنیں نصب کیں اور انہیں نیوسکی شاہراہ پر لے گئے۔اُس وقت ہم اپنے مزدوروں کو مزید قابو میں نہیں رکھ سکتے تھے… وہ فیکٹری کی وردیوں میں ہی باہر چلے گئے…‘‘ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فیکٹریوں میں موجود بالشویکوں کے [مسلح مظاہرے کے خلاف] احتجاج ہمیشہ زور دار نہیں ہوتے تھے۔ سب سے طویل جدوجہد پیوٹیلوف فیکٹری میں ہوئی۔ دوپہر تقریباً دو بجے خبر پھیل گئی کہ مشین گن یونٹ سے ایک وفد آیا ہے اور جلسہ بلا رہا ہے۔ تقریباً دس ہزار افراد جمع ہو گئے۔ حوصلہ افزائی کے نعروں میں مشین گن والوں نے بتایا کہ کیسے اُنہیں 4 جولائی کو محاذ پر جانے کا حکم ملا تھا لیکن اُنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ’’جرمن پرولتاریہ کے خلاف جرمن محاذ پر نہیں جائیں گے بلکہ اپنے سرمایہ دار وزیروں کے خلاف نکلیں گے۔‘‘ احساسات بہت بلند ہو چکے تھے۔مزدور چیخ رہے تھے، ’’آؤ،آگے بڑھتے ہیں!‘‘ فیکٹری کمیٹی کے سیکرٹری، جو ایک بالشویک تھا، نے اعتراض کیا کہ پارٹی سے ہدایات مانگی جائیں۔ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی: ’’بالکل نہیں! تم پھر سے چیزوں کو موخر کرنا چاہتے ہو۔ ہم مزید اِس طرح سے نہیں رہ سکتے…‘‘ چھ بجے کے قریب مجلس عاملہ کے نمائندے آئے، لیکن مزدوروں نے اُن کی بات تو بالکل بھی نہیں سنی۔ جلسہ جاری رہا، یہ نجات کا راستہ تلاش کرنے والے بے شمار عوام کا تناؤ بھرا سر کش جلسہ تھا، جو یہ سننے کو تیار نہیں تھے کہ ایسا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تجویز پیش کی گئی کہ مجلس عاملہ کے پاس وفد بھیجا جائے، یعنی ایک اور تاخیر، لیکن پہلے ہی کی طرح جلسہ منتشر نہیں ہوا۔ تقریباً اسی وقت مزدوروں اور سپاہیوں کا ایک گروہ خبر لایا کہ وائبورگ کے علاقے والے پہلے ہی ٹاؤرائڈ محل کی طرف نکل پڑے تھے۔ اُنہیں مزید قابو کرنا اب ناممکن تھا۔ اُنہوں نے باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پیوٹیلوف فیکٹری کا ایک مزدور ایفی موف بھاگ کر پارٹی کی مقامی کمیٹی کے پاس پوچھنے گیا: ’’ہم کیا کریں؟‘‘ اُسے جواب ملا: ’’ہم مظاہرے میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن ہم مزدوروں کو اُن کے حال پر بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں اُن کے ساتھ جانا چاہئے۔‘‘ اِسی وقت کمیٹی کا ایک رکن چڈگن نمودار ہوا اور بتایا کہ تمام علاقوں میں مزدور باہر نکل رہے تھے اور ’’نظم و نسق برقرار رکھنا‘‘ پارٹی کے لوگوں کا کام تھا۔ اِس طرح تحریک کے نرغے میں آ کر بالشویک اپنی مرضی کے برخلاف اس میں گھسٹتے چلے گئے۔اِس دوران وہ ایک ایسے عمل کا جواز بھی تلاش کر رہے تھے جو باضابطہ پارٹی فیصلوں سے یکسر متصادم تھا۔
سات بجے تک دارالحکومت کی صنعتی زندگی بالکل رک چکی تھی۔ ایک کے بعد دوسری فیکٹری باہر آگئی، قطارباندھی اور اپنے سرخ محافظوں (Red Guard) کے دستے کو مسلح کر دیا۔ وائبورگ کا مزدور میٹیلیف بتاتا ہے، ’’بے شمار مزدوروں کے درمیان سینکڑوں نوجوان سرخ محافظ اپنی رائفلیں لوڈ کر رہے تھے۔ باقی گولیاں بھر رہے تھے، اپنی پیٹیاں کس رہے تھے، گولیوں کے تھیلے یا بکس باندھ رہے تھے، سنگینوں کوسیدھا کر رہے تھے۔ جن مزدوروں کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ سرخ محافظوں کی تیاری میں مدد کر رہے تھے… ‘‘ وائبورگ کے علاقے کی کلیدی شاہراہ سیمپسونیوسکی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس کے دائیں اور بائیں طرف مزدوروں کی ٹھوس صفیں کھڑی تھیں۔ شاہراہ کے درمیان میں مشین گن رجمنٹ مارچ کر رہی تھی، جو مظاہرے کی ریڑھ کی صف تھی۔ ہر کمپنی کے آگے مشین گنوں سے مسلح ایک موٹر ٹرک تھا۔ مشین گن رجمنٹ کے پیچھے مزدور تھے۔ مظاہرے کے عقبی محاذ کے طور پر ماسکو رجمنٹ کے دستے آئے تھے۔ ہر دستے کے اوپر ایک بینر لہرا رہا تھا: ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘ مارچ کے جنازے اور یکم مئی کے مظاہرے میں شاید زیادہ لوگ تھے، لیکن جولائی کا مظاہرہ اس سے انتہائی زیادہ مشتاق، رعب دار اور متجانس تھا۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص لکھتا ہے، ’’سرخ پرچموں تلے صرف مزدور اور سپاہی مارچ کر رہے تھے۔سرکاری اہلکاروں کے طرّے، طلبہ کے چمکدار بٹن اور ’ہمدرد بیگمات‘ کی ٹوپیاں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ یہ سب چار مہینے پہلے فروری کی باتیں تھیں۔آج کی تحریک میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ آج کے جلوس میں دارالحکومت کے صرف عام غلام ہی شامل تھے۔‘‘ مسلح مزدوروں اور سپاہیوں سے بھری موٹر گاڑیاں ہر طرف سڑکوں پر پھر رہی تھیں، ہر طرف مندوبین، ایجی ٹیٹر، معائنہ کار، ٹیلی فون والے اور مزدوروں اور رجمنٹوں کو باہر بلانے والے دستے تھے۔ اُن سب نے اپنی سنگینیں سیدھی کر رکھی تھیں۔ کچھ لوگوں کو جوش دلاتے اور کچھ دوسرے لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہوئے اسلحے سے لیس ٹرکوں نے فروری کے دنوں کی یادتازہ کر دی تھی۔ کیڈٹ نابوکوف لکھتا ہے: ’’وہی پاگل، وحشت ناک اور درندوں جیسے چہرے جو ہم نے فروری کے دنوں میں دیکھے تھے‘‘ ، یعنی اُس انقلاب کے دن جسے لبرلوں نے سرکاری طور پر عظیم الشان اور خونریزی سے پاک قرار دیا تھا۔ نو بجے تک سات رجمنٹیں ٹاؤرائد محل کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ راستے میں اُن کے ساتھ فیکٹریوں اور نئے فوجی دستوں کی صفیں بھی شامل ہوتی گئیں۔ مشین گن رجمنٹ کی تحریک نے ایک وبا جیسی وسیع طاقت حاصل کر لی تھی۔ ’’جولائی کے دن‘‘ شروع ہو چکے تھے!
جلوس کے دوران جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ گولیوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ایک مزدور کوروٹکوف کے مطابق، ’’اُنہوں نے شاہراہ لٹینی پر ایک گودام سے ایک مشین گن اور [مظاہرے پر گولیاں چلانے والے] ایک افسر کو گھسیٹ کر باہر نکالا، جسے اُنہوں نے موقع پر ہی مار دیا۔‘‘ مظاہرے سے قبل ہی ہر طرح کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ روشنی کی شعاعوں کی طرح ہر قسم کے خدشات پھوٹ رہے تھے۔ایسی کون سی قابل تصور بات ہو گی جس کی اطلاع خوفزدہ مرکزی علاقوں کے ٹیلی فونوں سے نہیں دی گئی؟ کہا گیا کہ شام آٹھ بجے ایک موٹر گاڑی وارسا سٹیشن پر کیرنسکی کو گرفتار کرنے کے لئے پہنچی، جو اُسی دن محاذ پر روانہ ہوا تھا، لیکن ٹرین نکل چکی تھی اور گرفتاری نہیں ہو سکی۔ ایک سازش کے ثبوت کے طور پر اِس واقعے کو بعد ازاں ایک سے زیادہ بار دہرایا گیا۔تاہم یہ بات نامعلوم رہی کہ اُس موٹر گاڑی میں کون تھا اور اُس کے مشکوک ارادوں کو کس نے دریافت کیا۔ اُس شام مسلح افراد سے بھری موٹر گاڑیاں ہر طرف بھاگ رہی تھیں، اِس لئے ظاہر ہے کہ وارسا سٹیشن کے مضافات میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ کیرنسکی کے بارے میں گالم گلوچ کئی جگہوں پر سنی جا سکتی تھی۔اگر یہ کہانی بالکل من گھڑت نہیں تھی تو یہی چیز اِس کی بنیاد تھی۔
3 جولائی کے واقعات کی تصویر کشی’ ازوستیا‘ نے کچھ یوں بیان کی: ’’شام پانچ بجے مسلح ہو کر پہلی مشین گن رجمنٹ اور ماسکو، بم بردار اور پیولووسکی رجمنٹوں کا ایک حصہ باہر آیا۔ اُن کے ساتھ مزدوروں کے ہجوم بھی شامل ہو گئے… آٹھ بجے تک اسلحے سے لیس اور سرخ پرچم اور سوویتوں کو اقتدار کی منتقلی کے مطالبے کے پلے کارڈ اٹھائے رجمنٹوں کے کچھ حصے کشیسنسکایا کے محل کی طرف جوق در جوق جانے لگے۔ بالکونی سے تقاریر کی گئیں… ساڑھے دس بجے ٹاؤرائڈ محل کے سامنے والے چوراہے پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا… سپاہیوں نے ’کل روس مرکزی مجلس عاملہ‘ کے لئے ایک وفد منتخب کیا، جس نے یہ مطالبات پیش کئے: دس بورژوا وزیروں کی معزولی، سارا اقتدار سوویتوں کے پاس، حملے کا خاتمہ، بورژوا پریس کے چھاپہ خانوں کی ضبطی، زمین کی ریاستی ملکیت، پیداوار پر ریاستی کنٹرول۔‘‘ رجمنٹوں کی بجائے ’’رجمنٹوں کے کچھ حصے‘‘ اور ساری فیکٹریوں کی بجائے ’’مزدوروں کے ہجوم‘‘ جیسی کچھ غلط بیانیوں سے قطع نظر، کہا جا سکتا ہے کہ سریتیلی اور ڈین کی اِس سرکاری رپورٹ میں واقعات کی عمومی تصویر کو مسخ نہیں کیا گیا۔ بالخصوص یہ درست طور پر مظاہرے کے دو مرکزی مقامات کے بارے میں بتاتی ہے: کشیسنسکایا کی رہائش گاہ اور ٹاؤرائڈ محل۔ روحانی اور جسمانی لحاظ سے تحریک اِن دو متضاد مراکز کے گرد گھوم رہی تھی: ہدایات ، قیادت اور اثرانگیز تقاریرکے لئے یہ کشینسکایا کے گھر آئی؛ مطالبات پیش کرنے اور اپنی طاقت سے تھوڑا ڈرانے کے لئے یہ ٹاؤرائڈ محل گئی۔
سہ پہر تین بجے کشینسکایا کے گھر منعقد ہونے والے بالشویکوں کے ایک اجلاس میں مشین گن والوں کے دو مندوبین یہ اطلاع لے کر آئے تھے کہ اُن کی رجمنٹ نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کسی کو اس کی توقع تھی نہ خواہش۔ ٹامسکی نے اعلان کیا: ’’باہر نکلنے والی رجمنٹوں نے مظاہرے کے سوال پر غور کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کو مدعو نہ کر کے رفاقت کا لحاظ نہیں کیا۔ مرکزی کمیٹی اِس اجلاس میں تجویز پیش کرتی ہے: اول، عوام کو روکنے کے لئے استدعا جاری کی جائے؛ دوم، ایک اعلانِ عام تیار کیا جائے جس میں مجلس عاملہ پر اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے زور ڈالا جائے۔ اِس وقت ایک مظاہرے کی بات بالکل ناممکن ہے، جب تک کہ ہم ایک نئے انقلاب کے خواہش مند نہ ہوں۔‘‘ ٹامسکی ایک پرانا مزدور بالشویک تھا، جس نے کئی سالوں کی سخت محنت سے پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری کا لوہا منوایا تھااور بعد ازاں ٹریڈ یونینوں کے رہنما کے طور پر مشہور ہوا۔وہ بالعموم اپنی شخصیت کی وجہ سے عوام کو عمل پر اکسانے سے زیادہ روکنے کی طرف مائل ہوتا تھا۔ لیکن اِس موقع پر وہ لینن کی سوچ پر ہی عمل پیرا تھا: ’’اس وقت ایک مظاہرے کی بات بالکل ناممکن ہے، جب تک کہ ہم ایک نئے انقلاب کے خواہش مند نہ ہوں۔‘‘10 جون کو ایک پرامن مظاہرے کی کوشش کو بھی مصالحت پسندوں نے سازش قرار دے دیا تھا۔ اجلاس کی ایک وسیع اکثریت نے ٹامسکی کی حمایت کی۔ ہمیں ہر قیمت پر حتمی تصادم کو موخر کرنا چاہئے۔ محاذ پر حملے نے سارے ملک کو سخت تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔لیکن اِس حملے کی طرح شکست کی ساری ذمہ داری بالشویکوں پر ڈالنے کے حکومتی منصوبے کی ناکامی بھی ناگزیز ہے۔ ہمیں مصالحت پسندوں کو وقت دینا چاہئے کہ وہ اپنا بیڑا خود ہی غرق کر لیں۔ وولوڈارسکی نے مشن گن والوں کو اجلاس کی طرف سے جواب دیا کہ رجمنٹ کو پارٹی کے فیصلے ماننے چاہئیں۔ مشین گن والے احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ چار بجے مرکزی کمیٹی نے بھی اِس اجلاس کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ عوام کو باہر نکلنے سے روکنے کے لئے مرکزی کمیٹی کے اراکین علاقوں اور فیکٹریوں میں پھیل گئے۔ ایسی ہی استدعائیں اگلی صبح پہلے صفحے پر شائع کرنے کے لئے ’پراودا‘ کو بھی بھیجی گئیں۔مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس کی توجہ اس فیصلے کی طرف مبذول کروانے کے لئے سٹالن کو تعینات کیا گیا۔ اِس لئے بالشویکوں کے ارادوں کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ اُن کی مرکزی کمیٹی نے مزدوروں اور سپاہیوں کے نام استدعا جاری کی تھی: ’’نامعلوم افراد… آپ کو مسلح ہو کر سڑکوں پر آنے کا کہہ رہے ہیں‘‘ اور اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کال کسی بھی سوویت پارٹی کی طرف سے نہیں دی جا رہی ہے۔ پارٹی اور سوویت، دونوں کی مرکزی کمیٹیوں نے یہی سفارش کی، لیکن عوام نے اِسے مسترد کر دیا۔
رات 8 بجے مشین گن رجمنٹ اور جلد ہی ماسکو رجمنٹ بھی کشیسنسکایا کے محل پہنچ گئیں۔ نیوسکی، لاشیوچ اور پوڈووئسکی جیسے مشہور بالشویکوں نے اِن رجمنٹوں کو واپس بھیجنے کی کوشش کی۔ نیچے سے انہوں نے جواب دیا: لعنت! لعنت! بالشویک بالکونی پر سپاہیوں کے ایسے نعرے پہلے کبھی نہیں سنے گئے تھے؛ یہ ایک تشویشناک علامت تھی۔ رجمنٹوں کے پیچھے فیکٹریاں بھی مارچ کرنے لگیں: ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘ ’’دس سرمایہ دار وزیر مردہ باد!‘‘ یہ 18 جون کے ہی بینر تھے، لیکن اب اِنہیں سنگینوں کے اوپر اٹھا لیا گیا تھا۔ مظاہرہ ایک دیوہیکل حقیقت بن گیا تھا۔ کیا کیا جانا چاہئے تھا؟ کیا بالشویک ایک طرف کھڑے ہو سکتے تھے؟ پیٹروگراڈ کمیٹی کے اراکین نے اجلاس کے مندوبین اور رجمنٹوں اور فیکٹریوں کے نمائندگان کے ساتھ مل کر ایک قرارداد منظور کی: معاملے پر ازسرِ نو غور کیا جائے، عوام کو قابو کرنے کی بیکار کوششیں ختم کی جائیں اور بڑھتی ہوئی تحریک کی رہنمائی اس طرح سے کی جائے کہ حکومتی بحران کا فیصلہ عوام کے مفادات کے حق میں ہو؛ اس مقصد کے لئے مزدوروں اور سپاہیوں سے استدعا کی جائے کہ پرامن طریقے سے ٹاؤرائڈ محل جائیں، مندوبین منتخب کریں اور اُن کے ذریعے مجلس عاملہ کے سامنے مطالبات پیش کریں۔ وہاں موجود مرکزی کمیٹی کے اراکین نے طریقہ کار میں اس تبدیلی کی منظوری دے دی۔ بالکونی سے سنائے جانے والے اِس نئے فیصلے کا خیر مقدم نعرے لگا کر اور انقلابی ترانہ گا کر کیا گیا۔ پارٹی نے اب تحریک کی اجازت دے دی تھی۔ مشین گن والے سکون کا سانس لے سکتے تھے۔ رجمنٹ کا ایک حصہ فوراً پیٹر اور پال کے قلعے چلا گیا تاکہ اپنے گیریزن پر اثر انداز ہو اور ضرورت پڑنے پر اُس کے حملے سے کشیسنسکایا کے محل کو بچائے، جسے ایک تنگ سی کرونورسکی نہر ہی قلعے سے جدا کرتی تھی۔
مظاہرے کی کلیدی صفیں نیوسکی شاہراہ پر آگئیں، جو بورژوازی، افسر شاہی اور افسروں کی شریان تھی، یوں ایک طرح سے وہ غیرملک میں داخل ہو گئیں۔ پگڈنڈیوں، کھڑکیوں اور بالکونیوں سے ہزاروں آنکھیں اُنہیں کسی نیک نیت سے نہیں دیکھ رہی تھیں۔ تازہ دم عوام مسلسل آ رہے تھے۔ سرخ کے اوپر سنہری حروف والے تمام بینر ایک ہی صدا بلند کر رہے تھے: ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘ مظاہرے نے نیوسکی شاہراہ کو بھر دیا اور سیلابی دریا کی طرح ٹاؤرائڈ محل کی طرف بڑھنے لگا۔ ’’جنگ مردہ باد!‘‘ کے بینر افسروں کی شدید مخاصمت کو ابھار رہے تھے، جن میں کئی جنگی معذور بھی شامل تھے۔ طلبہ، کالج کی لڑکیاں اور اہلکار ہاتھ ہلا کر اور چیخ کر سپاہیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اُنہیں بھڑکانے والے جرمن ایجنٹوں کی کوشش ہے کہ جرمن بادشاہ کے سپاہیوں کو پیٹروگراڈ میں گھسا کر آزادی کا گلا گھونٹ دیں۔ اِن مقررین کے لئے اِن کے اپنے اخذ کردہ نتائج ناقابل تردید تھے۔ مزدوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلکار کہہ رہے تھے کہ ’’جاسوس اِنہیں دھوکہ دے رہے ہیں‘‘، مزدور جواب میں غرّا رہے تھے۔کچھ زیادہ مہربان کہہ رہے تھے کہ’’اِنہیں جنونیوں نے بھٹکا دیا ہے!‘‘ باقی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے، ’’جاہل لوگ ہیں۔‘‘ لیکن مزدوروں کے پاس ناپ تول کے اپنے پیمانے تھے۔ جو نظریات اُنہیں آج سڑکوں پر لائے تھے وہ اُنہوں نے جرمن جاسوسوں سے نہیں سیکھے تھے۔ مظاہرین نے بڑی تہذیب سے اِن برجستہ معلمین کو پرے ہٹا دیا اور آگے بڑھ گئے۔ نیوسکی شاہراہ کے حب الوطنوں کو اس اقدام نے پاگل کر دیا۔ حملہ آور گروہ، جن کی قیادت زیادہ تر جنگی معذور اور سینٹ جارج بٹالین کے گھڑ سوار کر رہے تھے، مظاہرے کے مختلف حصوں پر ہلہ بول کر بینر چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ مختلف جگہوں پر تصادم ہوئے۔ ماحول گرم ہو گیا۔ گولیاں چلنے لگیں۔ ایک چلی، پھر ایک اور چلی۔کسی کھڑکی سے؟ انچکن محل سے؟ سڑک پر سے ہوا میں گولیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ جواب دیا گیا۔ مختصر وقت میں ساری سڑک پر افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ولکان فیکٹری کا ایک مزدور بتاتا ہے کہ تقریباً آدھی رات کو بم بردار رجمنٹ پبلک لائبریری کے پاس نیوسکی شاہراہ پر سے گزر رہی تھی، کسی نے اُن پر کہیں سے گولی چلا دی، کئی منٹ تک گولیاں چلتی رہیں۔ ہر طرف دہشت پھیل گئی۔ مزدور ساتھ والی سڑکوں پر منتشر ہونے لگے۔ سپاہی نیچے لیٹ گئے، اُنہوں نے ایسا جنگ کی درسگاہ میں سیکھا تھا۔ نیوسکی شاہراہ پر آدھی رات کا یہ منظر، جس میں بم بردار رجمنٹ کے سپاہی سڑک پر لیٹے ہوئے تھے، ایک شاندار نظارہ تھا۔ نیوسکی شاہراہ کے پُشکن اور گوگول جیسے موسیقاروں نے تو کبھی اِس کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ لیکن اِس موسیقی میں حقیقت تھی: وہاں سڑک پر ہلاک اور زخمی لوگ پڑے ہوئے تھے۔

٭٭٭٭٭

ٹاؤرائڈ محل اُن دنوں اپنی ہی ایک زندگی جی رہا تھا۔ کیڈٹوں کے استعفے کے پیش نظر مزدور- سپاہی اور کسان، دونوں مجالس عاملہ نے سریتیلی کے اِس خیال پر غور کے لئے مشترکہ اجلاس منعقد کیا تھا کہ مخلوط حکومت کی لاٹھی توڑے بغیر سانپ کو کیسے مارا جائے۔ اگر بے چین مضافات مداخلت نہ کرتے تو اِس کاروائی کا راز آخر کار دریافت ہو ہی جانا تھا۔ مشین گن رجمنٹ کے مظاہرے کی تیاریوں کی اطلاع ملنے پر اِن رہنماؤں کے چہروں پر غصے اور پریشانی کے آثار نمودار ہوئے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سپاہی اور مزدور ہمارے اخباروں میں نجات بھری قرارداد کا انتظار بھی نہ کریں؟ بالشویکوں کی طرف ترچھی نگاہوں سے دیکھا گیا۔ لیکن اِس بار تو مظاہرے نے اُنہیں بھی بے خبری میں آن لیا تھا۔ کامینیف اور وہاں موجود پارٹی کے دوسرے نمائندگان تو اس بات پر بھی راضی تھے کہ اجلاس کے بعد فیکٹریوں اور بیرکوں میں جا کر عوام کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ اسے بعد ازاں مصالحت پسندوں نے ایک عسکری چال قرار دیا۔ مجلس عاملہ نے حسب معمول اعلامیہ جاری کر کے کسی بھی قسم کے مظاہرے کو انقلاب سے غداری قرار دے دیا۔ لیکن پھر بھی وہ حکومتی بحران کا کیا حل نکالتے؟ ایک راستہ ڈھونڈ لیا گیا: کابینہ کو اپنے حال پر چھوڑ کر مجلس عاملہ کے صوبائی اراکین کی آمد تک سارے سوال کو موخر کر دیا جائے۔ چیزوں کو طول دے کر اپنے تذبذب کے لئے وقت حاصل کرنا، کیا یہ سب سے زیادہ ہوشیار سیاسی حکمت عملی نہیں ہے؟
مصالحت پسند صرف عوام کے خلاف مزاحمت میں ہی وقت کے ضیاں کو بے عقلی سمجھتے تھے۔ سرکاری ڈھانچے کو فوراً ’’سرکشی‘‘ کے خلاف متحرک کیا گیا، وہ فوراً ہی کسی مظاہرے کو ’’سرکشی‘‘ قرار دے دیتے تھے۔ اِن رہنماؤں نے حکومت اور مجلس عاملہ کی حفاظت کے لئے ہر جگہ مسلح قوتیں تلاش کیں۔ شکائدز اور صدارتی انتظامیہ کے دوسرے اراکین کے دستخطوں کے ساتھ کئی فوجی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ بکتربند گاڑیاں، توپیں اور گولے ٹاؤرائڈ محل بھجوائے جائیں۔ ساتھ ہی تقریباً ہر رجمنٹ کو احکامات موصول ہوئے کہ محل کی حفاظت کے لئے مسلح دستے بھیجے جائیں۔ لیکن بات یہاں پر ہی نہیں رکی۔ اُن کے بیورو نے محاذ پر موجود پانچویں فوج، جو دارالحکومت کے قریب ترین تعینات تھی، کو اُسی دن تار کے ذریعے حکم دیا کہ ’’ ایک گھڑ سوار ڈویژن، ایک پیادہ بریگیڈ اور بکتر بند گاڑیاں پیٹروگراڈ بھیجی جائیں۔‘‘ منشویک ووئٹنسکی کو مجلس عاملہ کی حفاظت کا فریضہ سونپا گیا تھا، اُس نے بعد زاں تبصرہ کرتے ہوئے ساری بات بیان کی: ’’3 جولائی کا سارا دن ٹاؤرائڈ محل کی قلعہ بندی کے لئے دستوں کو جمع کرنے میں گزر گیا… اہم مسئلہ کم از کم کچھ کمپنیوں کو لانا تھا… ایک وقت میں تو ہمارے پاس بالکل بھی کوئی قوتیں نہیں تھیں۔ ٹاؤرائڈ محل کے دروازے پر چھ افراد کھڑے ہوئے تھے، جو ہجوم کو بالکل بھی قابو نہیں کر سکتے تھے… ‘‘ اور دوبارہ وہ کہتا ہے: ’’مظاہرے کے پہلے دن ہمارے پاس صرف سو افراد تھے، ہمارے پاس کوئی قوتیں نہیں تھیں۔ ہم نے ایک درخواست کے ساتھ ساری رجمنٹوں میں اپنے کمیسار بھیجے کہ ہمیں محافظ دستہ بنانے کے لئے سپاہی دئیے جائیں۔ لیکن ہر رجمنٹ دوسری کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا کرتی ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس بے حرمتی کو روکنے پر مجبور ہو گئے اور محاذ سے دستے بلوا لئے۔‘‘ مصالحت پسندوں پر اس سے زیادہ سخت طنز کرنا مشکل ہو گا۔ لاکھوں مظاہرین سوویتوں کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ شکائدز، جو سوویت نظام کی قیادت میں ہونے کی وجہ سے منطقی طور پر وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار تھا، اِنہی مظاہرین کے خلاف مسلح قوتیں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ جمہوریت کو اقتدار دینے کے حق میں پھٹنے والی اِس دیوہیکل تحریک کو جمہوری رہنماؤں نے جمہوریت پر ہی ایک مسلح گروہ کا حملہ قرار دے دیا۔
اسی وقت ٹاؤرائڈ محل میں سوویت کے مزدور حصے میں ہونے والا اجلاس لمبے وقفے کے بعد جاری تھا۔ پچھلے دو مہینوں کے دوران فیکٹریوں میں ضمنی انتخابات کے نتیجے میں اس حصے کی ترکیب اتنی بدل چکی تھی کہ مجلس عاملہ کو بالشویکوں کے حاوی ہو جانے کا سنجیدہ خطرہ لاحق تھا۔ اس حصے کا مصنوعی طور پر تاخیر زدہ اجلاس، جسے کچھ ہی دن پہلے آخر کار خود مصالحت پسندوں نے ہی بلایا تھا، اتفاقاً مسلح مظاہرے کے وقت ہو رہا تھا۔ اخباروں کو یہ بالشویکوں کی کارستانی لگ رہی تھی۔ اپنی تقریر میں زینوویف نے اظہار خیال کہ مصالحت پسند چونکہ بورژوازی کے اتحادی ہیں، لہٰذا ردِ انقلاب کے خلاف وہ کوئی جدوجہد کر سکتے ہیں نہ ہی اُن کی نیت ہے، اُن کے لئے لفظ ’’ردِ انقلاب‘‘ کا مطلب صرف بلیک ہنڈرڈ والوں کی غنڈہ گردی ہے،نہ کہ اِس کا حقیقی مطلب، یعنی محنت کش عوام کی مزاحمت کے مراکز کا درجہ رکھنے والی سوویتوں کا گلہ گھونٹنے کے لئے ملکیتی طبقات کا سیاسی اتحاد۔ اُس کی تقریر ٹھیک نشانے پر بیٹھی۔ سوویت میں خود کو پہلی بار اقلیت میں پا کر منشویکوں نے تجویز پیش کی کہ کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے اور نظم و نسق کو قائم رکھنے کے لئے سب لوگ مزدور علاقوں میں جائیں۔ لیکن پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی! مسلح مزدوروں اور مشین گن والوں کے ٹاؤرائڈ محل کی طرف جلوس کی خبر نے ہال میں خوب تناؤ پیدا کر دیا۔ کامینیف چبوترے پر چڑھ گیا: ’’یہ مظاہرہ ہم نے نہیں بلایا ہے۔ عوام خود سڑک پر آئے ہیں… لیکن عوام جب باہر نکل آئیں تو ہماری جگہ اُن کے درمیان ہے… ہمارا موجودہ فریضہ یہ ہے کہ تحریک کو ایک منظم کردار عطا کریں۔‘‘ کامینیف نے اِس تجویز کے ساتھ بات ختم کی کہ تحریک کی قیادت کے لئے پچیس افراد کا ایک کمیشن منتخب کیا جائے۔ ٹراٹسکی نے اِس تجویز کی حمایت کی۔ شکائدز کو ایک بالشویک کمیشن بن جانے کا ڈر تھا، اُس نے سوال کو مجلس عاملہ پر چھوڑ دینے پر ناکام اصرار کیا۔ بحث گرما گرمی تک پہنچ گئی۔ آخر کار یہ جان کر کہ وہ سب مل کر بھی اجلاس کا صرف ایک تہائی تھے، منشویک اور سوشل انقلابی ہال سے نکل گئے۔ یہ جمہوریت پسندوں کی پسندیدہ چال بنتی جا رہی تھی؛ جس وقت سے اُنہوں نے اکثریت کھوئی تھی وہ سوویتوں کا بائیکاٹ کرنے لگے تھے۔ حزب اختلاف کی عدم موجودگی میں 276 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں مجلس عاملہ سے اقتدار پر قبضے کی استدعا کی گئی۔ کمیشن کے پندرہ اراکین کے لئے فوراً انتخابات ہوئے۔ اقلیت کے لئے دس نشستیں چھوڑ دی گئیں، یہ دس نشستیں خالی ہی رہیں۔ ایک بالشویک کمیشن کے انتخاب نے دوستوں اور دشمنوں، دونوں پر واضح کر دیا کہ اِس وقت کے بعد سے پیٹروگراڈ سوویت کے مزدور حصے کو ایک بالشویک گڑھ بن جانا تھا۔ یہ آگے کی طرف ایک بڑا قدم تھا! اپریل میں بالشویکوں کا اثرورسوخ پیٹروگراڈ کے تقریباً ایک تہائی مزدوروں تک پھیل چکا تھا؛ اُن دنوں کی سوویت میں اُنہیں بالکل معمولی سا مقام حاصل تھا۔ اب جولائی کے آغاز میں سوویت کا مزدوروں والا دو تہائی حصہ بالشویک اراکین پر مشتمل تھا۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ عوام میں اُن کا اثرورسوخ فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکا تھا۔
ٹاؤرائڈ محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر پرچموں، گیتوں اور بینڈ باجے کے ساتھ محنت کش مردو خواتین کا ایک سیلاب بہہ رہا تھا۔ ہلکا توپخانہ اُن کے ساتھ آ رہا تھا، اس کے کمانڈر نے بے خودی کے عالم میں اطلاع دی کہ اُس کے ڈویژن کی ساری توپیں مزدوروں کے ساتھ تھیں۔ ٹاؤرائڈ محل کی قریبی شاہراہ اور چوک لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ سب لوگ محل کے مرکزی داخلی راستے پر سجے چبوترے کے گرد جمع ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ شکائد ز ایک ایسے آدمی کی شکل کے ساتھ مظاہرین کے پاس باہر آیا جسے غیرضروری طور پر اُس کے کام سے روک دیا گیا ہو۔ سوویت کے اِس مشہور صدر کا استقبال غیردوستانہ خاموشی سے کیا گیا۔ تھکی اور بیٹھی ہوئی آواز میں شکائدز نے وہی رسمی باتیں دہرائیں جو گزشتہ لمبے عرصے سے وہ کرتا آرہا تھا۔ اُس کے ساتھ آنے والے ووئٹنسکی کا استقبال بھی کچھ زیادہ بہتر انداز میں نہیں کیا گیا۔ ملیوکوف کے مطابق ’’تاہم ٹراٹسکی، جس نے اعلان کیا تھا کہ اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کا وقت آچکا تھا، کے لئے خوب تالیاں بجیں اور نعرے لگائے گئے۔‘‘ ملیوکوف کا یہ جملہ دانستہ طور پر مبہم ہے۔ کسی بھی بالشویک نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ ’’وقت آ چکا تھا۔‘‘ پیٹروگراڈ کی چھوٹی سی ڈفلون فیکٹری کے ایک مشین چلانے والے مزدور نے بعد ازاں ٹاؤرائڈ محل کے سامنے ہونے والے اِس جلسے کے بارے میں بتایا: ’’مجھے ٹراٹسکی کی تقریر یاد ہے، جس نے کہا تھا کہ اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔‘‘ اس مشین چلانے والے مزدور نے تاریخ کے پروفیسر کی نسبت درست طور پر تقریر کی اساس بیان کی ہے۔ بالشویک مقررین کے منہ سے مظاہرین نے سوویت کے مزدور حصے میں ابھی ابھی حاصل کی گئی فتح کے بارے میں سنا، اِس حقیقت نے اُنہیں تقریباً وہی واضح اطمینان بخشا جو سوویت اقتدار کے عہد میں داخلے نے بخشنا تھا۔
مجالس عاملہ کا مشترکہ اجلاس ایک بار پھر آدھی رات سے پہلے منعقد ہوا۔ (بالکل اسی وقت جب بم بردار رجمنٹ کے سپاہی نیوسکی شاہراہ پر لیٹے ہوئے تھے۔) ڈین کی تجویز پر فیصلہ کیا گیا کہ صرف وہی لوگ اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں جو پیشگی اس کے فیصلوں کا دفاع اور اُن پر عملدرآمد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایک نیا پیغام تھا! منشویکوں نے سوویت کو مزدوروں اور سپاہیوں کی پارلیمنٹ قرار دیا تھا، لیکن اب یہ لوگ اسے مصالحت پسند اکثریت کے انتظامی ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب سے صرف دو مہینے بعد اقلیت بن جانے پر یہی مصالحت پسند پورے جوش و خروش سے سوویت میں جمہوریت کے اصولوں کا دفاع کر رہے ہوں گے۔ تاہم سماجی زندگی کے تمام فیصلہ کن لمحات کی طرح آج بھی جمہوریت کو رکھ چھوڑا گیا تھا۔ مزھرایونٹسی [۳]کے بہت سے اراکین احتجاجاً باہر نکل گئے۔ بالشویک وہاں موجود نہیں تھے۔ وہ کشیسنسکایا کے محل میں کل کی تیاری کر رہے تھے۔ اجلاس کی مزید کاروائی کے دوران ہال میں مزھرایونٹسی والے اور بالشویک نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ اُن سے وہ مینڈیٹ کوئی نہیں چھین سکتا جو منتخب کرنے والوں نے اُنہیں دیا ہے۔ اس اعلان پر اکثریت خاموش رہی، ڈین کی قرارداد خاموشی سے گمنامی میں کہیں کھو گئی۔ حالت نزاع کی طرح یہ اجلاس طویل ہوتا گیا۔ تھکی ہوئی آوازوں میں مصالحت پسند ایک دوسرے کو یقین دلاتے رہے کہ وہ درست تھے۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کی حیثیت سے سریتیلی نے اپنے ملازمین کی شکایت کی: ’’مجھے ابھی ابھی ڈاک اور ٹیلی گراف کے مزدوروں کی ہڑتال کا پتا چلا ہے… سیاسی مطالبات کے حوالے سے اُن کے نعرے بھی یہی ہیں: سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘
ہر طرف سے ٹاؤرائڈ محل کو گھیرے ہوئے مظاہرین کے مندوبین نے اجلاس میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔ تشویش اور مخاصمت کے ساتھ اُنہیں اجازت دے دی گئی۔ تاہم مندوبین کا خیال تھا کہ اِس بار تو مصالحت پسند ان کی بات مان ہی لیں گے۔کیا منشویک اور سوشل انقلابی اخباروں نے کیڈٹوں کے استعفے پر مشتعل ہو کر آج ہی اپنے بورژوا اتحادیوں کی سازشوں اور سبوتاژ کا پردہ خود چاک نہیں کیا تھا؟ مزید برآں سوویت کا مزدوروں والا حصہ بھی ایک سوویت حکومت کا حمایتی بن چکا تھا۔ وہ اب مزید کس چیز کا انتظار کر رہے تھے؟ لیکن امید اور غصے کی آمیزش پر مبنی اُن کی گرمجوش استدعائیں اِس مصالحت کی پارلیمان کے حبس زدہ ماحول میں بے اثر اور نامناسب ثابت ہوئیں۔ اِن رہنماؤں کو بس ایک ہی فکر تھی: اپنے اِن بن بلائے مہمانوں سے جلد از جلد کیسے جان چھڑائی جائے۔ انہیں باہر برآمدے میں یا سڑک پر واپس مظاہرین کے پاس جانے کا کہنا تو نامناسب تھا۔ برآمدے میں مشین گن رجمنٹ کے سپاہی بڑے اشتیاق سے اس ارتقا پذیر ہوتی ہوئی بحث کو سن رہے تھے، جس کا واحد مقصد صرف وقت حاصل کرنا تھا۔ مصالحت پسندوں کو صرف قابلِ بھروسہ رجمنٹوں کی آمد کا انتظار تھا۔ ڈین چلّایا، ’’انقلابی لوگ سڑکوں پر ہیں، لیکن یہ لوگ ردِ انقلابی کام کر رہے ہیں۔‘‘ ڈین کی حمایت ابرامووچ نے بھی کی، جو یہودی بَنڈ کے رہنماؤں میں شامل تھا، ایک قدامت پسند اصول پرست جس کی ہر جبلت کو انقلاب نے مشتعل کر دیا تھا۔ اُس نے واضح حقیقت کے برخلاف دعویٰ کیا کہ ’’ہم ایک سازش کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘ اور بالشویکوں کو تجویز پیش کی کہ وہ کھلے عام تسلیم کریں کہ ’’یہ سب اُن کا کیا دھرا ہے۔‘‘ سریتیلی نے بحث کو گہرا کر دیا: ’’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس‘ کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر جانا کیا سوویتوں کی حمایت کے لئے ہے؟ اگر سوویتوں کی خواہش ہوتی تو اقتدار اُنہیں مل سکتا تھا۔ سوویتوں کی منشا کے راستے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے… ایسا مظاہرہ انقلاب کا نہیں بلکہ ردِ انقلاب کا راستہ ہے۔‘‘ اِس طرح کے خیالات کو مزدوروں کے مندوبین شاید سمجھ نہیں سکتے تھے۔ اُنہیں یوں محسوس ہوا کہ بڑے رہنما تھوڑے پاگل ہو گئے ہیں۔ اجلاس نے آخر کار 11 کے مقابلے میں تمام ووٹوں سے قرارداد منظور کی کہ ایک مسلح مظاہرہ انقلابی فوج کی پیٹھ میں چھراگھونپنے کے مترادف ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔ اجلاس صبح پانچ بجے ختم ہوا۔
عوام کو اُن کے علاقوں میں واپس بھیج دیا گیا۔اسلحہ سے لیس گاڑیاں ساری رات چلتی رہیں اوررجمنٹوں، فیکٹریوں اور علاقائی مراکز کو متحد کرتی گئیں۔ فروری کے دنوں کی طرح عوام نے دن کی جدوجہد کی میزان مرتب کرنے میں ساری رات گزاری۔ لیکن اب کی بار انہوں نے یہ کام مسلسل صلاح مشورہ کرنے والی فیکٹری، پارٹی اور رجمنٹ تنظیموں پر مشتمل پیچیدہ نظام کی مدد سے کیا۔ مزدور علاقوں میں یہ بات صاف سمجھی جا رہی تھی کہ تحریک آدھے راستے میں نہیں رک سکتی تھی۔ مجلس عاملہ نے اقتدار کا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا۔ عوام نے اِسے تذبذب گردانا۔ نتیجہ واضح تھا: ہمیں مزید دباؤ ڈالنا ہو گا۔ٹاؤرائڈ محل میں مجالس عاملہ کے اجلاس کے ساتھ ہی جاری بالشویکوں اور مزھرایونٹسی والوں کے رات کے اجلاس میں بھی دن کی میزان مرتب کی گئی اور اگلے دن کا تناظر تشکیل دیا گیا۔ علاقوں سے آنے والی اطلاعات سے پتا چل رہا تھا کہ مظاہرے نے پہلی بار عوام کے سامنے اقتدار کا سوال صاف صاف پیش کر کے اُنہیں متحرک کر دیا تھا۔ کل فیکٹریوں اور رجمنٹوں کو جواب تلاش کرنا تھا اور دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں مضافات میں روک نہیں سکتی تھی۔ بحث اب اس بارے میں نہیں تھی کہ عوام کو اقتدار پر قبضے کے لئے بلایا جائے یا نہ بلایا جائے، جیسا کہ دشمنوں نے بعد میں دعویٰ کیا، بلکہ اس بارے میں تھی کہ اگلی صبح مظاہرے کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جائے یا اِس کی قیادت کی جائے۔
صبح تین بجے پیوٹیلوف فیکٹر ی کے مزدور ٹاؤرائڈ محل کی طرف روانہ ہوئے۔ 80 ہزار مزدوروں کا ہجوم تھا جن میں بیشتر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تھے۔ مظاہرہ رات گیارہ بجے شروع ہوا تھا اور تاخیر سے آنے والی کئی فیکٹریاں راستے میں اِس کے ساتھ مل گئی تھیں۔ رات کے باوجود ناروا گیٹ کے مقام پر لوگوں کا اِتنا رش تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا گویا پورے علاقے میں اُس رات کوئی بھی اپنے گھر نہیں رُکا تھا۔خواتین نے کہا کہ ’’ہر کسی کو جانا چاہئے، گھروں کو ہم دیکھ لیں گی۔‘‘ ’نجات دہندہ کے گرجے‘ (Church of the Savior) کے گھنٹہ گھر سے مشین گن کی گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ نیچے سے گھنٹہ گھر پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ ’’بازار کے قریب مظاہرین پر جنکروں [۴] اور طلبہ نے حملہ کر دیا اور اُن کے پلے کارڈ چھیننے کی کوشش کی۔ مزدوروں نے مزاحمت کی۔ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ کسی نے گولی چلا دی۔ اِن ستور کے مصنف کا سر پھٹ گیا، بھگدڑ میں اُس کی پسلیاں اور سینہ بری طرح کچلا گیا۔‘‘ یہ الفاظ مزدور ایفی موف کے ہیں، جسے ہم پہلے ہی جانتے ہیں۔ اب خاموش ہو چکے شہر میں سے گزرتے ہوئے پیوٹیلوف کے مزدور آخر ٹاؤرائڈ محل پہنچے۔ ریازانوف، جو اُس وقت ٹریڈ یونینوں کے ساتھ قریبی طور پر وابستہ تھا، کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ایک وفد کو مجلس عاملہ میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ بھوکے اور انتہائی تھکے ہوئے مزدوروں کی وسیع تعداد سڑک اور باغ میں پھیلی ہوئی تھی، اکثریت سستانے کے لئے فوراً لیٹ گئی اور مجلس عاملہ کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔ ساری پیوٹیلوف فیکٹری صبح تین بجے زمین پر ٹاؤرائڈ محل کے گرد لیٹی ہوئی تھی، جہاں جمہوری رہنما [اپنی حفاظت کے لئے] محاذ سے دستوں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے،یہ فروری اور اکتوبر کے درمیان انقلاب کے نقطہ عروج کے انتہائی حیران کن مناظر میں سے ایک تھا۔ گیارہ سال پہلے اِنہی مزدوروں کی بڑی تعداد نے مسیح کے مجسموں اور مذہبی پرچموں کے ساتھ سرما محل کی طرف جنوری کے جلوس میں حصہ لیا تھا [۵]۔ اُس اتوار کی دوپہر کو زمانے بیت چکے تھے؛ اگلے چار مہینوں میں کئی اور زمانے بیت جائیں گے!
ٹاؤرائڈ محل کے صحن میں لیٹے پیوٹیلوف فیکٹری کے اِن مزدوروں کا دھندلا منظر بالشویک رہنماؤں اور منتظمین کے اجلاس پر منڈلا رہا تھا، وہ اگلے دن کے منصوبوں پر بحث کر رہے تھے۔ کل پیوٹیلوف کے مزدور کام سے انکار کر دیں گے، جی ہاں، ساری رات کی شب بیداری کے بعد وہ بھلا کیا کام کر سکیں گے؟ زینوویف کو ٹیلی فون پر بلایا گیا۔ کرونسٹٹ سے راشکولنیکوف [۶] نے یہ بتانے کے لئے فون کیا تھا کہ کل صبح سویرے قلعے کی فوج پیٹروگراڈ کی طرف روانہ ہو نے والی تھی اور دنیا کی کوئی طاقت اُسے روک نہیں سکتی تھی۔تار کی دوسری جانب بحری درسگاہ کا یہ زیر تربیت افسر شش و پنج میں مبتلا تھا: کیا مرکزی کمیٹی اُسے سوویتوں سے علیحدہ ہونے کا حکم دے گی اور اُن کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو دے گی؟ پیوٹیلوف فیکٹری کے خانہ بدوش کیمپ جیسے منظر کے ساتھ اب جہازیوں کے اُس جزیرے کا معنی خیز منظر بھی شامل ہو گیا جو رات کو جاگ کر پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی مدد کی تیاری کر رہا تھا۔ صورتحال بالکل واضح تھی۔پس و پیش کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ٹراٹسکی نے آخری بار پوچھا: کیا ہم اب بھی اِسے ایک غیرمسلح مظاہرہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ نہیں، اِس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! دسیوں ہزار غیر مسلح مزدوروں کو جنکروں کا ایک گروہ بھیڑ بکریوں کی طرح منتشر کر سکتا تھا۔ سپاہی اور مزدور اِس تجویز کو ایک پھندا سمجھتے۔ جواب واضح اور معقول تھا۔ سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پارٹی کی طرف سے عوام کو اگلے دن مظاہرہ جاری رکھنے کا کہا جائے۔ ٹیلی فون کی دوسری طرف نڈھال راشکولنیکوف کے ذہن کو زینوویف نے آرام بخش دیا۔ فوری طور پر مزدوروں اور سپاہیوں کے نام پیغام تیار کیا گیا: سڑکوں پر نکل آؤ! مظاہرہ روکنے کے مرکزی کمیٹی کے دوپہر کے پیغام کو چھاپہ خانوں پر روک لیا گیا، لیکن اِس کی جگہ نیا پیغام اتنی جلدی شائع نہیں ہو سکتا تھا۔ اگلی صبح ’پراودا‘ میں ایک خالی صفحہ بالشویکوں کے خلاف تباہ کن شہادت بن جائے گا: عین آخری لمحے خوفزدہ ہو کر اُنہوں نے سرکشی کی استدعا واپس لی ہے؛ یا شاید اِس کے برعکس، اُنہوں نے سرکشی کے حق میں ایک پرامن مظاہرے کی استدعا منسوخ کی ہے۔ اسی اثنا میں بالشویکوں کا حقیقی فیصلہ ایک علیحدہ لیف لیٹ پر شائع کیا گیا۔ اِس نے مزدوروں اور سپاہیوں سے استدعا کی کہ ’’ایک پرامن اور منظم مظاہرے کے ذریعے مجلس عاملہ کے جاری اجلاس کی توجہ اپنی خواہش کی طرف مبذول کروائی جائے۔‘‘ نہیں، یہ سرکشی کا پروانہ تو نہیں تھا۔

*****

[۱] یہ زار شاہی کی طرف سے تعینات کئے جانے والے دیہی حکام تھے، جنہیں مقامی کسان آبادی پر انتظامی اور قانونی اختیارات حاصل تھے۔
[۲] اس محل کو بالشویکوں نے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا تھا۔
[۳] منشویکوں اور بالشویکوں کی طرح ’مزھرایونٹسی‘ بھی روسی سوشل ڈیموکریٹ لیبر پارٹی (RSDLP) کا ایک دھڑا تھا جو 1913ء میں قائم ہوا۔ یہ دھڑا نظریات کے حوالے سے بالشویکوں کے قریب تھا۔ ٹراٹسکی اس کے رہنماؤں میں شامل تھا۔ 1917ء میں یہ بالشویکوں میں ضم ہو گیا۔اس انضمام میں ٹراٹسکی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
[۴] اشرافیہ کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے جونیئر افسران۔ اِن کا کردار انقلاب کے دوران اور بعد کے عرصے میں اتنہائی رجعتی اور ردِ انقلابی تھا۔
[۵] یہاں 1905ء کے انقلاب کے آغاز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ جلوس ایک مذہبی پیشوا ’فادر گاپون‘ کی قیادت میں نکالا گیا تھا، جس پر گولی چلنے کے بعد 1905ء کا انقلاب پھٹ پڑا تھا۔
[۶] راشکولنیکوف ایک سرگرم بالشویک تھا جسے پارٹی نے مارچ 1917ء میں کام کے لئے کرونسٹٹ بھیج دیا تھا۔ وہ وہاں سے ایک بالشویک پرچہ بھی شائع کرتا تھا۔ بعد ازاں خانہ جنگی کے دوران وہ سرخ بحری بیڑوں کا کمانڈر بھی رہا۔ 1921-23ء وہ افغانستان میں سوویت یونین کا سفیر رہا۔ پھر بلغاریہ اور ڈنمارک وغیرہ میں سوویت یونین کی نمائندگی کرتا رہا۔ کئی دوسرے جانباز بالشویکوں کی طرح اُس نے سٹالن کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا اور انقلاب کی افسر شاہانہ زوال پذیری کے خلاف جدوجہد کرتا رہا۔مارچ 1938ء میں اُسے سٹالن نے سوویت یونین سے باہر ہی قتل کروا دیا۔