خامنائی کا جنازہ: ایرانی ریاست سماجی تماشوں کی ماہر ہے
سیاوش شہابی
اگر آپ تہران کی گلیوں کے مناظر دیکھ کر الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو یاد رکھیں: فسطائیت سماجی جوش و خروش بھڑکانے میں بہت مہارت رکھتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ہم تہران میں اس طرح کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔تھوڑا سا سرچ کر کے دیکھ کیں۔ چند روز پہلے کی بات ہے،ایران کا نائب وزیر داخلہ کہہ رہا تھا کہ ایرانی معاشرے میں 60 فیصد لوگوں کی مستقبل سے کو ئی امید وابستہ نہیں۔صرف 25 فیصد کو لگتا ہے کہ ملک میں انصاف اور برابری پائے جاتے ہیں۔صرف چند ماہ پہلے، اس رژیم نے ایک سو شہروں میں قتل عام کیا۔
رژیم کا یہ کہنا کہ لوگوں میں موساد اور پہلوی خاندان کے سیل موجود ہیں، بہت مہنگا پڑنا چاہئے تھا: اس اعلان کا مطلب ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ایران میں ہر عوامی تحریک کے موقع پر،پولیس ذہنیت والی یہ کہانی حکومت اور ’مزاحمت کی مثلثـ‘ والے تجزیہ کار ہر بار دہراتے ہیں کہ مظاہروں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، نہ کہ معاشرے کی مادی قوت۔بیرونی سازش پر زور دے کر جبر کا جواز مہیا کیا جاتا ہے اور نالائقی پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔جنگ نے یہ کام اور آسان بنا دیا ہے: جو لوگ سڑکوں پر مارے گئے، انہیں از سر نو بیرونی دشمن کا آلہ کار قرار دیا جا سکتا ہے۔
فریق مخا لف بھی اپنی ہی زبان میں بات کر رہا ہے۔گزشتہ روز ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا تو سمجھوتہ ہو جائے گا یا ہم ’’کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے‘‘۔ٹرمپ کا کہنا تھاـ : ’’کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل نہیں ہو گا۔ظاہر ہے میں سمجھوتے کو ترجیع دوں گا کیونکہ میں نو کروڑ لوگوں کو زِک نہیں پہنچانا چاہتا‘‘۔
ایرانی رژیم ہو یا ٹرمپ، دونوں ایرانی معاشرے سے بالا بالا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی معاشرے کے ساتھ مل کر نہیں۔ ایک متبادل طریقہ بھی ممکن تھا۔ اب بھی ہے۔ایران کے لوگ جمہوریت ، آزادی اظہار، سیاسی جماعتوں،اورمکالمے کے ذریعے بھی تو کسی اندرونی حل تک پہنچ سکتے تھے۔
بر سر اقتدار ڈھانچہ ایسا نہیں ہونے دیتا۔اس نظام کی بقا اسی میں ہے کہ بیرونی محاذ پر تناو بنا رہے، اندرونی محاذ پر سیکیوریٹائزیشن برقرار رہے اور معاشرہ منظم نہ ہونے پائے۔ ایرنی معاشرے اور اس کی طبقاتی جدوجہد کو کہانی سے خارج کر دینے سے محض ایران کا نقصان نہیں ہوتا۔اس سے دنیا بھر میں طبقاتی جدوجہد کے خلاف بر سرِ اقتدارفسطائیت کو تقویت لتی ہے۔
ذرا نیو یارک کا تصور کیجئے! وہاں ظہران ممدانی کیا کر رہا ہے اور ٹرمپ کس طرح اس کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ایران میں معاشی بد حالی اور سماجی نا انصافیوں کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کا قتل عام اور ٹرمپ کی ممدانی سے نفرت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ دو مختلف باتیں نہیں۔
جب تک اندرونی حل سامنے نہیں آئے گا، ایران کی قسمت کا فیصلہ بیرونی قوتیں کریں گی۔
(سیاوش شہابی کی فیس بک وال سے۔ یہ پوسٹ 7 مئی کو کی گئی۔ترجمہ: فاروق سلہریا)