← Back to Newsroom OS پاکستان

خواتین کا عالمی دن :پاکستان و جموں کشمیر میں تقاریب، اسلام آباد میں 44 سے زائد گرفتار

By جدوجہد • 2026-03-09 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اسلام آباد میں’عورت مارچ‘کے شرکا کو اتوار کے روز محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی ریلی سے پہلے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں خواتین کے حقوق کی معروف کارکنان اور مارچ کے منتظمین شامل ہیں۔

’ڈان کے مطابق‘پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکنان کو سپر مارکیٹ ایف 6کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین نے نیشنل پریس کلب تک مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم وہاں پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کر کے ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

ویمن پولیس اسٹیشن کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق 19 خواتین کارکنان کو حراست میں لیا گیا، جن میں معروف سماجی کارکن فرزانہ باری، ان کی دو بیٹیاں اور انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 44 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں 25 مرد اور 19 خواتین شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ144نافذ ہونے کی وجہ سے یہ اجتماع غیر قانونی تھا۔ اس قانون کے تحت کسی مخصوص علاقے میں محدود مدت کے لیے چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

تاہم دوسری طرف سول سوسائٹی کے کارکن طارق محمود غوری نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 25 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین کارکنان جب گرفتار مظاہرین سے ملنے ویمن پولیس اسٹیشن پہنچیں تو انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔

غوری کے مطابق مظاہرین صرف سپر مارکیٹ کے قریب جمع ہوئے تھے اور ان کا ڈی چوک کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔

ادھر پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ نے بھی مارچ روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے باعث تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال سے بچنے کے لیے مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

اسلام آباد میں گرفتاریوں اور پر امن مارچ کے انعقاد کر روکنے کے خلاف پاکستان سمیت اس کے زیر انتظام علاقوں میں شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کا حکومت کا ایک آمرانہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں سمیت پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی دنیا بھر کی طرح محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں بھی اسلام آباد میں گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی اور گرفتاری شدگان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

جموں کشمیر میں راولاکوٹ، کھائی گلہ، ہجیرہ، مظفرآباد سمیت دیگر جگہوں پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے سیمینارز اور افطار ڈنر کا انعقاد کیا اور جموں کشمیر کی آزادی، سرمایہ داری اور پدرشاہی نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔ ان تقاریب میں ایران پر سامراجی جارحیت کی مذمت کی گئی اور فوری طور پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ خواتین نے افغانستان میں بمباری کی بھی مذمت کی اور افغانستان میں طالبان رژیم کے خواتین دشمن قوانین کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان میں غیر ملکی مبصرین کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے حکومت کے انتخاب کا مطالبہ کیا گیا۔