← Back to Newsroom OS خبریں

دائیں بازو کے عروج کو روکنے کے لیے ممدانی کو عملی کارکردگی دکھانا ہو گی

By جدوجہد • 2025-11-13 • 10 min read

ایلکس کالینیکوس

جو بھی ہو نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابات میں ظہران ممدانی کی زبردست کامیابی نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ دایاں بازو مستقبل کا مالک نہیں ہے۔

ایک نوجوان مسلم نے عالمی مالیاتی نظام کے مرکز میں جیت حاصل کی ہے، جو فلسطین اور ٹرانس پلس حقوق کا حامی ہے۔ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم اس بنیاد پر چلائی کہ کس طرح زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور امیروں اور غریبوں کے درمیان وسیع خلیج عام شہریوں کے لیے اذیت بن چکی ہے۔

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اس کا قومی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی پر کیا اثر پڑے گا۔ ممدانی ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کے رکن ہیں، جو پارٹی کے اندر ایک بائیں بازو کے اصلاح پسند گروہ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر ڈیموکریٹس اب بھی اسی نیولبرل اتحاد میں جکڑے ہوئے ہیں جو بل کلنٹن نے 1990 کی دہائی میں بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ بنایا تھا۔

اسی حکمت عملی کے ایک اور علمبردار باراک اوبامانے ممدانی کو اپنے اثر میں لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ انہوں نے انتخابات سے قبل ممدانی کو کئی فون کیے۔ اوباما کے سابق نائب قومی سلامتی مشیر بین رہوڈز نے ممدانی کی ولولہ انگیز فتح کی تقریر کو”ٹرمپ دور کی بہترین تقریر“قرار دیا۔خود اوباما نے اپنی توجہ ان مین سٹریم ڈیموکریٹک امیدواروں پر مرکوز رکھی جو نیو جرسی اور ورجینیا کے گورنر بنے۔

اوباما اور دیگر کارپوریٹ ڈیموکریٹس نے عوام کو کسی حقیقی تبدیلی کی امید سے محروم کر کے کئی ووٹروں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف دھکیل دیا۔ ٹرمپ اور ان کی میگا تحریک نے خود کو نظام مخالف قوت کے طور پر پیش کر کے کامیابی حاصل کی۔ ممدانی نے بھی ایک نظام مخالف امیدوار کی حیثیت سے، مگر بائیں بازو سے، کامیابی حاصل کی۔

تاہم وہ ایک سوشیل ڈیموکریٹ ہیں، یعنی وہ نظام کو مکمل طور پر توڑنے کی بجائے اس کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات لانے پر یقین رکھتے ہیں۔ جب ممدانی جنوری میں عہدہ سنبھالیں گے تو ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی سے ان پر حملے کریں گے۔ وال اسٹریٹ کی کارپوریٹ دیو ہیکل کمپنیاں بھی ان پر کڑی نظر رکھیں گی۔ چنانچہ وہ ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،یعنی خود کو بیک وقت ریڈیکل اور ذمہ دار ظاہر کرنے کی۔

اسی لیے ان کی عبوری ٹیم میں زیادہ تر موجودہ یا سابقہ سٹی اہلکار شامل ہیں۔ اس ٹیم میں لینا خان بھی شامل ہیں جو بائیڈن کی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سربراہ تھیں اور وال اسٹریٹ کی ناپسندیدہ شخصیت سمجھی جاتی ہیں۔

زیادہ منفی پہلو یہ ہے کہ ممدانی نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کمشنر جیسیکا ٹش کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق وہ ایک”ارب پتی خاندان کی وارث‘‘ہیں، جس کی دولت کا اندازہ 8 ارب پاؤنڈ سے زیادہ لگایا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ کچھ شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ آخر کار انتخابات سے ایک دن قبل ممدانی نے بروکلین برج پر مارچ کی قیادت کی تھی جس میں نعرہ لگایا جا رہا تھاکہ ”امیروں پر ٹیکس لگاؤ!“

وہ اپنے بنیادی پروگرام، یعنی مفت چائلڈ کیئر، مفت اور تیز رفتار بسیں، کرایوں میں منجمدی، اور 10 برسوں میں دو لاکھ سستے گھروں کی تعمیر کے اخراجات کارپوریشنز اور دولت مند افراد پر ٹیکس بڑھا کر پورا کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ نیویارک سٹی یہ سب خود سے نہیں کر سکتا۔ 1975 میں شہر کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس بحران کے حل کے طور پر جو معاہدہ ہوا، وہ امریکہ میں نیولبرل ازم کے آغاز کی بنیادوں میں سے ایک تھا۔ اس معاہدے کے تحت شہر کو متوازن بجٹ رکھنا ہے اور ٹیکسیشن کے اختیارات ریاست نیویارک کی اسمبلی کے ماتحت کر دیے گئے۔

لہٰذا ممدانی کو اپنے مطلوبہ ٹیکسوں کے لیے ریاستی اسمبلی اور گورنر کیتھی ہوچل سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وال اسٹریٹ میں مالیاتی سرگرمیوں کے بڑھنے سے ریاستی محصولات میں اضافہ ہوگا اوراس وجہ سے انہیں وقتی سہولت حاصل ہوگی۔ تاہم ساتھ ہی ٹرمپ وفاقی امداد کے ان 5.3 ارب پاؤنڈ میں کٹوتی کرنے کی کوشش کریں گے جو نیویارک سٹی کو ملتی ہے۔

کئی حوالوں سے ممدانی کی پوزیشن 1981 تا 1986 کے دوران کین لیونگ سٹون کی قیادت میں گریٹر لندن کونسل سے مشابہت رکھتی ہے۔ ممدانی کی طرح لیونگ اسٹون بھی میڈیا سے کھیلنا جانتے تھے اور مظلوم طبقوں کے حامی تھے۔

انہوں نے اس وقت مارگریٹ تھیچر کی نیولبرل کنزرویٹو حکومت کو چیلنج کیا،جب لیبر پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار تھی۔ گریٹر لندن کونسل نے عملی اصلاحات نافذ کیں، جن میں ”فیئرز فیئر“ اسکیم قابل ذکر ہے جس نے لندن میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو نمایاں طور پر کم کر دیا تھا۔

تاہم آخرکار یہ سب بکھر گیا۔ عدالتوں نے کم کرایوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ لیونگ اسٹون نے حکومت کی جانب سے مسلط کردہ کفایت شعاری کے اقدامات کے خلاف مزاحمت سے انکار کر دیا۔ اور 1983 میں تھیچر کی زبردست انتخابی کامیابی کے بعد گریٹر لندن سکیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

امریکی وفاقی نظام ٹرمپ کو نیویارک سٹی کی حکومت ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لیکن وہ ممدانی کو کچلنے کے لیے پرعزم ہوں گے۔ ممدانی کو اپنی حاصل شدہ عوامی حمایت کو موثر تنظیمی طاقت اور اجتماعی عمل میں بدلنا ہوگا۔ورنہ وہ تمام امید اور تحریک جو انہوں نے عوام میں پیدا کی ہے، مایوسی اور غصے میں بدل کر دائیں بازو کے عروج کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔

(بشکریہ: ’سوشلسٹ ورکر‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Alex Callinicos