← Back to Newsroom OS تعلیم

دارالحکومت کی فتح

By جدوجہد • 2025-09-16 • 82 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

سب کچھ بدل گیا ہے اور پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔ انقلاب نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، پھوٹ کو گہرا کر دیا ہے، کچھ کو ڈرا دیا ہے، کچھ کو تلخ بنا دیا ہے، لیکن ابھی تک ایک بھی چیز کا یکسر خاتمہ نہیں کیا ہے۔ شاہی سینٹ پیٹرزبرگ [۱] مرا نہیں ہے، بلکہ صرف غنودگی میں ڈوبا محسوس ہوتا ہے۔ انقلاب نے بادشاہت کے آہنی مجسموں کے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے تھما دئیے ہیں۔ حکومتی عمارات کے ماتھوں پر دیو قامت سرخ پھریرے لٹک رہے ہیں۔ لیکن محلات، وزرا اور صدر دفاتر اِن سرخ پرچموں سے بالکل علیحدہ زندگی گزارتے محسوس ہوتے ہیں جنہیں خزاں کی بارشوں نے اور بھی پھیکا کر دیا ہے۔ جہاں کہیں ممکن تھا، عصائے شاہی تھامے دو سَر والے عقابوں [۲] کو اکھاڑ دیا گیا ہے، لیکن زیادہ تر جگہوں پر اُنہیں ڈھانپ دیا گیا ہے یا پینٹ پھیر دیا گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ سارا پرانا روس ہی طیش سے اپنے جبڑے کھولے گھات لگائے بیٹھا ہے۔
چوراہوں پر پولیس والوں کی حقیر صورتیں اُس انقلاب کی یاد دلاتی ہیں جس نے ’’فرعونوں‘‘ کا خاتمہ کر دیا ہے، جو وہاں زندہ مجسموں کی طرح کھڑے ہوتے تھے۔ مزید برآں پچھلے تقریباً دو ماہ سے روس کو ’جمہوریہ‘ پکارا جا رہا ہے۔ اور زار کا خاندان ٹوبولسک میں ہے۔ ہاں، فروری کے طوفان نے اپنے نشانات چھوڑے ہیں۔ لیکن زار کے جرنیل اب بھی جرنیل ہی ہیں، سنیٹر اب بھی سنیٹر ہیں، شاہی مشیر اپنی شان و شوکت کا دفاع کرتے ہیں، درجات کی فہرست [۳] آج بھی لاگو ہے۔ ٹوپیوں کے رنگین فیتے اور طُرّے افسرشاہانہ درجہ بندی کی یاد دلاتے ہیں؛ عقاب والے زرد بٹن ابھی تک طالب علم کی نشانی ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ زمیندار اب بھی زمیندار ہیں، دور دور تک جنگ کے خاتمے کا امکان نہیں ہے، اتحادی ممالک کے سفارتکار پہلے سے کہیں زیادہ ڈھٹائی سے روس کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔
سب کچھ پہلے جیسا ہے، پھر بھی کسی کو خبر نہیں۔ شاہی اشرافیہ محسوس کر رہی ہے کہ اُسے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے؛ لبرل بورژوازی اب شاہی اشرافیہ کے قریب آ گئی ہے۔ روسی عوام ایک حب الوطن دیومالا سے ایک خوفناک حقیقت بن چکے ہیں۔ پیروں تلے زمین لرز رہی ہے۔ اُن حلقوں میں تصوف بھڑک اٹھا ہے جو کچھ ہی عرصہ پہلے تک شاہی حلقوں کی توہمات کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
دلال، وکلا اور رقاصائیں اُس گرہن کو کوس رہے ہیں جو عنقریب عوامی اخلاقیات کو لگنے والا ہے۔ آئین ساز اسمبلی پر اعتماد روز بروز اُٹھتا چلا جا رہا ہے۔ گورکی اپنے پرچے میں تہذیب و ثقافت کے ناگہانی زوال کی پیش گوئی کر رہا ہے۔ بھوک اور ہذیان میں مبتلا پیٹروگراڈ سے زیادہ پرامن اور خوشحال صوبوں کی طرف نقل مکانی، جو جولائی کے دنوں کے بعد سے مسلسل بڑھ رہی تھی، اب ایک بھگدڑ میں بدل چکی ہے۔ ایسے معزز خاندان جو دارالحکومت سے نکل نہیں پائے ہیں، پتھر کی دیواروں اور آہنی چھتوں کی آغوش میں خود کو حقیقت سے بچانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ لیکن طوفان کی بازگشت ہر طرف سے اپنا راستہ بنا رہی ہے: منڈی میں سے، جہاں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے اور ہر چیز کی قلت ہے؛ معزز پریس میں سے، جو نفرت اور خوف کی چیخ میں بدلتی جا رہی ہے؛ مچلتی ہوئی سڑکوں میں سے، جہاں وقتاً فوقتاً گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں؛ اور بالآخر گھر کے پچھلے دروازے میں سے، اُس ملازم میں سے جو اب اطاعت شعار نہیں رہا ہے۔ یہاں انقلاب سب سے نازک جگہ پر ضرب لگاتا ہے: گھریلوغلاموں کی سرکشی خاندان کا معمول بالکل توڑ دیتی ہے۔
پھر بھی روز مرہ کا معمول خود کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ سکولوں کے بچے ابھی تک پرانا نصاب پڑھ رہے ہیں، حکام ابھی تک وہی بیکار دستاویزات مرتب کر رہے ہیں، شاعر وہی اشعار کہہ رہے ہیں جو کوئی نہیں پڑھتا، خادمہ بھی بچوں کو ایوان زاریوچ [۴] کی وہی دیومالائی کہانیاں سنا رہی ہے۔صوبوں سے آنے والی تاجروں اور اشرافیہ کی بچیاں موسیقی سیکھ رہی ہیں یا شوہر تلاش کر رہی ہیں۔ پیٹر اور پال کے قلعے کی وہی پرانی توپ اب بھی دوپہر کا اعلان کرتی ہے۔ مارینسکی تھیٹر میں نیا سنگت ناچ چل رہا ہے اور وزیر خارجہ ترشچینکو ، جو سفارت سے زیادہ فنِ رقص پر عبور رکھتا ہے، رقاصہ کے آہنی پنجوں کی مدح سرائی کا وقت نکالتا ہے اور یوں حکومت کے استحکام کا مظاہرہ کرتا ہے۔
پرانی عیاشی کی باقیات بے شمار ہیں اور تگڑے پیسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فوجی افسران اب بھی گھوڑوں کو ایڑ لگاتے ہیں اور مہمات ڈھونڈتے ہیں۔ مہنگے ریستورانوں کے نجی ضیافت خانوں میں بے لگام پارٹیاں جاری ہیں۔ آدھی رات کو برقی بتیاں بجھ جانے سے جوا خانوں کی چمک دمک ماند نہیں پڑتی ہے، جہاں موم بتی کی روشنی میں شیمپین جگمگاتی ہے، جہاں نامور جرمن جاسوسوں کو نامور جواری ٹھگتے ہیں، جہاں یہودی سمگلروں سے شاہ پرست سازشی شرطیں باندھتے ہیں اورجہاں داؤ پر لگنے والی بے پناہ رقمیں عیاشی اور افراطِ زر، دونوں کی شدت کا پتہ دیتی ہیں۔
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ہجوم سے لدی ایک کھٹارہ، گندی اور سست رفتار ٹرام گاڑی، اپنی حالت نزاع میں مبتلا اِس پیٹروگراڈ سے مزدوروں کے اُس ٹھکانے تک لے جائے جہاں زندگی ایک نئی امید کے جوش و جذبے سے سرشار ہے؟ سمولنی انسٹیٹیوٹ کا نیلا اور سنہری محراب دور سے سرکشی کے صدر دفتر کا پتا دے رہا ہے۔ یہ شہر کے ایک کونے میں واقع ہے، جہاں ٹرام گاڑی کی پٹری ختم ہوتی ہے اور دارالحکومت کے مرکز کو مضافات سے جدا کرتے ہوئے دریائے نیوا جنوب کی طرف گہرا موڑ لیتا ہے۔ سرمئی رنگ کی لمبی تین منزلہ عمارت، جہاں اشرافیہ کی لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں، اب سوویتوں کا گڑھ ہے۔ اِس کی طویل غلام گردشیں شاید منظر کشی کے قوانین سکھانے کے لئے بنائی گئی تھیں۔ اِن غلام گردشوں میں کئی کمروں کے دروازوں کے اوپر ابھی تک تختیاں نصب ہیں: ’’اساتذہ کا کمرہ‘‘، ’’جماعت سوم‘‘، ’’جماعت چہارم‘‘، ’’نگرانِ اعلیٰ۔‘‘ لیکن پرانی تختیوں کے ساتھ یا اُن کے اوپر پنوں یا میخوں سے کاغذ کے ٹکڑے نصب کر دئیے گئے ہیں، جن پر انقلاب کی عجیب و غریب علامات درج ہیں: Tz-K P-S-R، S-D منشویک، S-D بالشویک، بائیں S-R ، انارکسٹ- کمیونسٹ، Tz-I-K کا کمرۂ ارسال، وغیرہ۔ باریک بین جان ریڈ دیواروں پر ایک اعلان نامے کا مشاہدہ کرتا ہے: ’’کامریڈ، اپنی صحت کی خاطر سفائی کا خاص خیال رکھیں۔‘‘ افسوس، کوئی بھی صفائی کا خیال نہیں رکھتا، حتیٰ کہ فطرت بھی نہیں۔ اکتوبر کا پیٹروگراڈ بارش کی چھتری تلے زندگی گزار رہا ہے۔ لمبے عرصے سے صاف نہ کی جانے والی سڑکیں گندی ہیں۔ سمولنی کے صحن میں بے شمار جوہڑ بن گئے ہیں ۔ سپاہیوں کے بوٹوں کے ساتھ یہ کیچڑ راہداریوں اور ہالوں میں آ جاتا ہے۔ لیکن اب کوئی بھی نیچے نہیں دیکھ رہا ہے۔ ہر کسی کی نظر سامنے ہے۔
سمولنی زیادہ سے زیادہ مضبوطی اور تحکم سے احکامات جاری کر رہا ہے، کیونکہ عوام کی پرجوش حمایت اِسے بلند کر رہی ہے۔ تاہم مرکزی قیادت اُس انقلابی نظام کی صرف بالائی کڑیوں پر مشتمل ہے جس نے بحیثیت مجموعی انقلاب کو مکمل کرنا ہے۔ سب سے اہم عوامل نیچے رونما ہو رہے ہیں اور ایک طرح سے خود سے ہی ہو رہے ہیں۔ اِن دنوں اور راتوں میں فیکٹریاں اور بیرکیں ہی تاریخ کی کلیدی بھٹیاں ہیں۔ جیسے فروری میں انقلاب کی بنیادی قوتیں وائبورگ کے علاقے میں مرکوز تھیں۔ لیکن آج اِس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو فروری میں نہیں تھی:اِس کی اپنی طاقتور تنظیم، جسے اب ہر کوئی جانتا اور مانتا ہے۔ گھروں، فیکٹریوں، کلبوں اور بیرکوں کے تمام تانے بانے ’مکان نمبر 33 ، خیابانِ سیمسونیوسکی ‘سے ملتے ہیں، جہاں بالشویکوں کی علاقہ کمیٹی، وائبورگ سوویت اور عسکری صدر دفتر موجود ہیں۔ علاقے کی مزدور ملیشیا سرخ محافظوں میں ضم ہو رہی ہے۔ علاقے کا سارا کنٹرول مزدوروں کے پاس ہے۔ اگر حکومت سمولنی پر حملہ کرتی ہے تو اکیلا وائبورگ کا علاقہ ہی دوبارہ ایک مرکز قائم کر سکتا ہے اور آگے کے حملے کی ضمانت دے سکتا ہے۔
کہانی کا انت قریب آ رہا تھا، لیکن حکمران حلقے سوچ رہے تھے یا سوچنے کا ناٹک کر رہے تھے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ برطانوی سفارتخانہ، جس کے پاس پیٹروگراڈ کے واقعات پر نظر رکھنے کی اپنی وجوہات تھیں، کو لندن میں روسی سفیر کے مطابق قابل اعتماد معلومات ملیں کہ سرکشی ہونے والی ہے۔ ناگزیر سفارتی ظہرانے پر برطانوی سفیر بچانن کے متفکر سوالات کا جواب ترشچینکو نے بھرپور یقین دہانی سے دیا: ’’ایسا کچھ نہیں ہو سکتا‘‘؛ حکومت باگ ڈور کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ بعد ازاں لندن میں روسی سفارتخانے کو انقلاب کی اطلاع برطانوی ٹیلی گراف ایجنسی کے مراسلوں کے ذریعے ملی۔
کان مالک آور باخ نے نائب وزیر پالچنسکیسے ایک ملاقات کے دوران دوسرے اہم امور پر تبادلہ خیال کے بعد اتفاقاً ’’سیاسی افق پر چھائی سیاہ گھٹاؤں‘‘ کے بارے دریافت کیا ۔اُسے انتہائی تسلی بخش جواب ملا: معمول کا اگلا طوفان ہے، اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں؛ یہ بھی گزر جائے گا اورمطلع صاف ہو جائے گا، ’’سکون کی نیند سوئیں۔‘‘ خود پالچنسکی اپنی گرفتاری سے پہلے دو یا تین بے خواب راتیں گزارنے والا تھا!
مصالحت پسند رہنماؤں کی طرف کیرنسکی جتنا روکھا رویہ اپناتا تھا، اُسے اتنا ہی یقین ہوتا تھا کہ وہ مشکل کی گھڑی میں برقت اُس کی مدد کو آئیں گے۔ مصالحت پسند جتنے کمزور ہوتے گئے، اتنی ہی احتیاط سے اپنے ارد گرد خوش فہمی کا ماحول قائم رکھنے لگے۔ اپنے پیٹروگراڈ کے میناروں اور صوبوں اور محاذ کی بالائی تنظیموں کے درمیان باہمی حوصلہ افزائی کے الفاظ کا تبادلہ کرتے ہوئے منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے ایک جعلی رائے عامہ تخلیق کر لی تھی، یوں اپنا خصی پن چھپا رہے تھے اور اپنے دشمنوں سے زیادہ خود کو بیوقوف بنا رہے تھے۔
گراں بار اور بیکار ریاستی مشینری، جو مارچ کے سوشلسٹوں اور زارشاہی کی افسر شاہی کے ملاپ پر مبنی تھی، خود فریبی کے کام کے لئے بہترین تھی۔ مارچ کے نیم پکے سوشلسٹ ڈرتے تھے کہ بیوروکریٹ کے سامنے ناپختہ سیاست کار نہ لگیں۔ بیوروکریٹ ڈرتا تھا کہ کہیں نئے نظریات کی گستاخی نہ کر بیٹھے۔ یوں سرکاری جھوٹوں کا ایک جال قائم ہو چکا تھا، جس میں جرنیل، ڈسٹرکٹ اٹارنی، اخباروں والے، کمیسار اور فوجی نائبین وغیرہ جتنے اعلیٰ عہدے پر براجمان ہوتے تھے، اُتنا ہی جھوٹ بولتے تھے۔ پیٹروگراڈ کا فوج کمانڈر بڑی اطمینان بخش رپورٹیں مرتب کرتا تھا، کیونکہ غیر اطمینان بخش حقیقت کا سامنا کرنے والے کیرنسکی کو اُس کی اشد ضرورت تھی۔
دوہرے اقتدار کی روایات بھی اِسی سمت میں عمل پیرا تھیں۔ کیا عسکری انقلابی کمیٹی کی توثیق کے بعد فوجی صدر دفتر کے احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا تھا؟ پورے شہر میں گشت کرنے والے دستے معمول کے مطابق ہی گیریزن کے سپاہیوں پر مشتمل تھے اور طویل عرصے سے ایسے شوق سے گشت کی ڈیوٹی پر نہیں گئے تھے جیسے اب جا رہے تھے۔ عوام میں بے چینی؟ یہ ’’سرکش غلام‘‘ تو ہمیشہ ہی بے چین ہوتے ہیں۔ گیریزن اور مزدور علاقوں کی جھاگ ہی سرکشی کی کسی کوشش میں شریک ہو گی۔ سوویت کا سپاہیوں والا حصہ صدر دفتر کے خلاف ہے؟ لیکن مرکزی مجلس عاملہ کا عسکری شعبہ تو کیرنسکی کے ساتھ ہے نا! بالشویکوں کے سوا ساری منظم جمہوریت حکومت کی حامی ہے۔ مارچ کا گل رنگ ہالہ اب سرمئی دھند میں تبدیل ہو گیا تھا اور چیزوں کی حقیقت کو چھپا رہا تھا۔
سمولنی اور صدر دفتر میں قطع تعلق کے بعد ہی حکومت نے صورتحال کی طرف کچھ سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ تاہم وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی فوری خطرہ تو نہیں ہے، لیکن اب کی بار ہمیں بالشویکو ں کا خاتمہ کرنے کے لئے موقع کا فائدہ اٹھانا ہو گا۔ مزید برآں اتحادی ممالک بھی سرما محل پر بھرپور دباؤ ڈال رہے تھے۔ 24 تاریخ کی رات حکومت نے اپنی ہمت یکجا کی اور ایک قرارداد منظور کی: عسکری انقلابی کمیٹی کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز ؛ سرکشی کی وکالت کرنے والے بالشویک پرچوں کو بند کرنا؛ محاذ اور مضافات سے قابل اعتماد فوجی دستے بلانا۔ ساری عسکری انقلابی کمیٹی کی گرفتاری کی تجویز اصولی طور پر قبول کر لی گئی تھی، تاہم اِس پر عملدرآمد ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اتنے بڑے کام کے لئے پہلے عبوری پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کی جائے۔
حکومت کے فیصلے کی خبر فوراً سارے شہر میں پھیل گئی۔24 تاریخ کی رات کو سرما محل کے ساتھ واقع مرکزی صدر دفتر میں عسکری انقلابی کمیٹی کے بااعتماد یونٹوں میں شامل پیولووسکی رجمنٹ کے سپاہی سنتری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جو کچھ بھی پیولووسکی والے سن سکے، اُنہوں نے فوراً سمولنی کو منتقل کر دیا۔ انقلابی مرکز والوں کو ہمیشہ پتا نہیں ہوتا تھا کہ اِس خودرو خفیہ شعبے کے پیغامات کو کیسے بروئے کار لایا جائے۔ لیکن اِس شعبے نے انتہائی قابل قدر کام سرانجام دیا۔ سارے شہر کے مزدوروں اور سپاہیوں کو دشمن کے ارادوں کی خبر ہو گئی اور اُن کی مزاحمت کی تیاری پختہ ہو گئی ۔
صبح سویرے حکومت نے جارحانہ کاروائی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ دارالحکومت کے فوجی سکولوں کو لڑائی کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا گیا۔ دریائے نیوا میں کھڑے جنگی جہاز ’آرورا‘، جس کا عملہ بالشویکوں کا ہمدرد تھا، کو نکل جانے اور باقی کے بحری بیڑے سے ملنے کا حکم دیا گیا۔ ہمسایہ مقامات سے فوجی دستے بلا لئے گئے: زارسکوئی سیلو سے یلغاری دستوں کی ایک بٹالین، اورانین بام سے جنکر، پاولووسک سے توپخانہ۔ شمالی محاذ کے صدر دفتر کو فوراً قابل اعتماد دستے دارالحکومت بھیجنے کو کہا گیا۔ عسکری پیش بندی کے اقدامات کے طور پر یہ احکامات جاری کئے گئے: سرما محل کا پہرہ بڑھایا جائے؛ دریائے نیوا کے پل اٹھا لئے جائیں؛ جنکر تمام موٹر گاڑیوں کی تلاشی لیں؛ سمولنی کے ٹیلی فون کاٹ دئیے جائیں۔ وزیر انصاف ملیانٹووچ نے ضمانت پر رہا ہونے والے اُن تمام بالشویکوں کو فوراً گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا جو حکومت مخالف سرگرمیوں کے ذریعے خود کو دوبارہ نظر میں لے آئے تھے۔ اِس حملے کا ہدف بالخصوص ٹراٹسکی تھا۔ وقت کی کایا پلٹ کی غمازی اِس حقیقت سے ہوتی ہے اپنے پیش رو زارُڈنی کی طرح ملیانٹووچ بھی 1905ء کے پیٹروگراڈ سوویت کے مقدمے میں ٹراٹسکی کا وکیل تھا۔ تب بھی معاملہ سوویت کی قیادت کا تھا۔ دونوں مرتبہ الزامات کی نوعیت ایک سی تھی، فرق صرف یہ تھا کہ سابقہ حامی جب الزام تراش بنے تو انہوں نے جرمن پیسے کے ’چھوٹے سے الزام‘ کا اضافہ بھی کر دیا ۔
فوج کے صدر دفتر سے ایک کے بعد ایک دستاویز آ رہی تھی: کوئی بغاوت برداشت نہیں کی جائے گی؛ ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی؛ صدر دفتر کے احکامات کے بغیر گیریزن کے دستے بیرکوں سے نہیں نکل سکتے؛ ’’پیٹروگراڈ سوویت کے تمام کمیسار ہٹائے جائیں‘‘؛ ’’کورٹ مارشل کے لئے‘‘ اُن کی غیر قانونی سرگرمیوں کی تفتیش کی جائے۔ اِن ہیبت ناک احکامات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِن پر کس نے اور کیسے عملدرآمد کرنا تھا۔ ذاتی ذمہ داری پر کمانڈر نے مطالبہ کیا کہ موٹر گاڑیوں کے مالکان انہیں صدر دفتر کے حوالے کر دیں ’’تاکہ غیر قانونی قبضوں سے بچا جا سکے‘‘، لیکن کسی نے جواب میں انگلی بھی نہیں ہلائی۔
دھمکیوں اور تنبیہوں کے معاملے میں مرکزی مجلس عاملہ بھی کسی سے کم نہیں تھی۔ کسان مجلس عاملہ، شہری دوما، منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی مرکزی کمیٹیاں بھی اُس کے پیچھے پیچھے تھیں۔ یہ سارے ادارے ہی ادبی وسائل سے مالا مال تھے۔ دیواروں اور جنگلوں پر چسپاں کئے جانے والے اعلانوں میں بس مٹھی بھر دیوانوں، خونریز تصادموں کے خطرے اور ردِ انقلاب کی ناگزیریت کی باتیں تھیں۔
صبح 5:30 بجے بالشویکوں کے چھاپہ خانے پر جنکروں کے ایک دستے کے ساتھ حکومتی کمیسار نمودار ہوا اور باہر نکلنے کے راستے بند کرنے کے بعد مرکزی جریدے اور سپاہیوں کے پرچے کو فوراً بند کرنے کا صدر دفتر کا حکم نامہ دکھایا۔ ’’کیا؟ صدر دفتر؟ وہ ابھی تک موجود ہے؟ جاؤ بھائی! یہاں عسکری انقلابی کمیٹی کی توثیق کے بغیر کوئی حکم نہیں مانا جاتا۔‘‘ لیکن اِس وضاحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ چھپائی کی پلیٹیں توڑ دی گئیں، عمارت کو تالہ لگا دیا گیا۔ حکومت نے اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی۔
بالشویک چھاپہ خانے سے ایک مزدور اور ایک مزدور لڑکی بھاگم بھاگ سمولنی پہنچے اور وہاں اُنہیں ٹراٹسکی اور پوڈووئسکی ملے۔[چھاپہ خانے والوں کا کہنا تھا کہ کمیٹی اگر جنکروں سے حفاظت فراہم کرے تو مزدور پرچہ نکال سکتے ہیں۔ حکومتی حملے کے پہلے جواب کی صورت جلد ہی نکال لی گئی۔ لیٹووسکی رجمنٹ کو حکم جاری کیا گیا کہ مزدور پریس کے دفاع کے لئے فوراً ایک کمپنی روانہ کی جائے۔ چھاپہ خانے کے قاصدوں نے اصرار کیا کہ چھٹی سیپر بٹالین کو بھی بلایا جائے: یہ قریبی ہمسائے اور وفادار دوست تھے۔ دونوں پتوں پر فوراً ٹیلی فونو گرام بھیجے گئے۔ لیٹووسکی اور سیپر بٹالین والے کسی تاخیر کے بغیر آ گئے۔ تالہ توڑ دیا گیا اور کام شروع ہو گیا۔ حکومت کی جانب سے بند کیا جانے والا پرچہ چار گھنٹے بعد اُس کمیٹی کے دستوں کی حفاظت میں نکل آیا جو خود گرفتاری کی مستوجب تھی۔ یہ سرکشی تھی۔ یہ ایسے ہی آگے بڑھی!
اسی دوران جنگی جہاز ’آرورا‘ نے سمولنی سے پوچھا: ہم سمندر میں چلے جائیں یا دریائے نیوا میں ہی رہیں؟ وہی جہازی، جنہوں نے اگست میں کورنیلوف کے خلاف سرما محل کی حفاظت کی تھی، اب کیرنسکی سے حساب چکتا کرنے کو بے تاب تھے۔ حکومتی حکم کو کمیٹی نے فوراً منسوخ کر دیا اور عملے کو حکم نمبر 1218 ملا: ’’پیٹروگراڈ گیریزن پر ردِ انقلابی قوتوں کے حملے کی صورت میں جنگی جہاز آرورا کو کھینچ کشتیوں (Tug Boats) ، دخانی کشتیوں اور بادبانی کشتیوں کے ذریعے اپنی حفاظت کرنی ہے۔‘‘ جنگی جہاز نے گرمجوشی سے اِس حکم پر عملدرآمد کیا جس کا وہ انتظار ہی کر رہا تھا۔
یہ دو مزاحمتی اقدامات، جن کی تجویز مزدوروں اور جہازیوں نے دی تھی اور جن پر گیریزن کی ہمدردی کی بدولت بالکل بے خوفی سے عملدرآمد کیا گیا، بنیادی اہمیت کے حامل سیاسی واقعات بن گئے۔ عملداری کے استصنام کی آخری باقیات بھی خاک میں گئیں۔ واقعات کے شرکا میں سے ایک لکھتا ہے، ’’فوراً واضح ہو گیا کہ کام ہو چکا تھا!‘‘ اگر نہیں بھی ہوا تھا تو کم از کم اُس سے کہیں آسان ثابت ہو رہا تھا جتنا ہر کوئی کل تک سوچ رہا تھا۔
پرچوں کو بند کرنے کی کوشش، عسکری انقلابی کمیٹی کے خلاف قانونی کاروائی کی قرارداد، عسکری انقلابی کمیٹی کے کمیساروں کو ہٹانے کا حکم، سمولنی کے ٹیلی فونوں کا کاٹے جانا، یہ ساری اشتعال انگیزیاں حکومت پر ایک ردِ انقلابی کُو کا جرم ثابت کرنے کو کافی تھیں۔ اگرچہ سرکشی جارحیت میں کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن یہ جتنی دفاعی معلوم ہواُتنی ہی کامیابی سے آگے بڑھتی ہے۔ بالشویکوں کے ادارتی کمروں کے دروازے پر چھوٹا سا سرکاری تالہ کوئی خاص عسکری اقدام نہیں ہے۔ لیکن لڑائی کا کیسا شاندار سگنل ہے! تمام علاقوں اور گیریزن کے تمام یونٹوں کو ٹیلی فونو گرام کے ذریعے واقعے سے آگاہ کر دیا گیا: ’’رات کے دوران عوام دشمنوں نے حملہ کیا ہے۔ سازشیوں کے حملے کے خلاف مزاحمت کی قیادت عسکری انقلابی کمیٹی کر رہی ہے۔‘‘ سازشیوں سے مراد سرکاری حکومت کے ادارے تھے۔ انقلابی سازشیوں کے قلم سے یہ اصطلاح غیر متوقع معلوم ہوتی تھی، لیکن صورتحال اور عوام کے جذبات کے عین مطابق تھی۔ اپنے تمام منصبوں سے فارغ، تاخیر زدہ دفاع پر مجبور، ضروری قوتوں کو متحرک کرنے یا ڈھونڈنے میں بھی ناکام حکومت نے ایک بکھری ہوئی، منصوبے سے عاری اور بے ربط کاروائی کی تھی، جو عوام کی نظروں میں ایک خبیث کوشش جیسی تھی۔ کمیٹی کے ٹیلی فونو گراموں نے حکم دیا: ’’رجمنٹ کو لڑائی کے لئے تیار کیا جائے اور مزید احکامات کا انتظار کیا جائے۔‘‘ یہ اقتدارِ اعلیٰ کی آواز تھی۔ کمیٹی کے کمیسار، جنہیں حکومت نے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا، دوہرے اعتماد سے اُن تمام لوگوں کو ہٹاتے رہے جنہیں ہٹانا اُنہوں نے ضروری سمجھا۔
دریائے نیوا میں موجود ’آرورا‘ نہ صرف سرکشی کا زبردست لڑاکا یونٹ بلکہ استعمال کے لئے تیار ریڈیو سٹیشن بھی تھا۔ بیش بہا فوقیت! جہازی کرکوف یاد کرتا ہے: ’’ہم نے ٹراٹسکی کے الفاظ نشر کئے کہ ردِ انقلاب نے حملہ کر دیا تھا۔‘‘ یہاں بھی دفاعی شکل میں پورے ملک کو سرکشی کی کال دی جا رہی تھی۔ پیٹروگراڈ کی طرف جانے والے راستوں کی حفاظت کرنے والے گیریزنوں کو ’آرورا‘ کے ریڈیو کے ذریعے ردِ انقلابی دستوں کو روکنے اور بوقت ضرورت طاقت کے استعمال کا حکم جاری کیا گیا۔ تمام انقلابی تنظیموں کو پابند کر دیا گیا کہ ’’اجلاس مسلسل جاری رکھیں اور سازشیوں کی سرگرمی اور منصوبوں کے بارے میں تمام ممکنہ معلومات اکٹھی کریں۔‘‘
عسکری انقلابی کمیٹی نے کچھ تاخیر سے سمولنی کی قلعہ بندی کا کام شروع کیا۔ 24 تاریخ کی رات تین بجے عمارت سے نکلتے ہوئے جان ریڈ نے داخلی راستوں پر مشین گنیں اور دروازوں اور ملحقہ چوراہوں پرگشت کرنے والے محافظ دستے دیکھے۔ اِن دستوں کو ایک دن قبل لیٹووسکی رجمنٹ اور مشین گن والوں کی ایک ایک کمپنی نے مضبوط بنا دیا تھا۔ دن کے دوران پہرہ مسلسل بڑھتا رہا۔ شلیاپنیکوف لکھتا ہے، ’’سمولنی کے علاقے میں مجھے وہی منظر نظر آیا جو فروری انقلاب کے پہلے دنوں میں ٹاؤرائڈ محل کے ارد گرد نظر آتا تھا۔‘‘ سپاہیوں اور مزدوروں کی وہی کثیر تعداد اور ہر طرح کے ہتھیار۔صحن میں لکڑیوں کے بے شمار ڈھیر لگا دئیے گئے تھے جو رائفل کی گولیوں کے خلاف بہترین آڑ فراہم کر سکتے تھے۔ موٹر ٹرکوں پر خوراک کا سامان اور اسلحہ آ رہا تھا۔ ’’سارے سمولنی کو ایک فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ستونوں کے سامنے توپیں نصب تھیں اور ان کے ساتھ مشین گنیں بھی… تمام راہداریوں میں مزدوروں، جہازیوں، سپاہیوں اور ایجی ٹیٹروں کے برق رفتار قدموں کی خوشگوار دھپ دھپ … ‘‘ سرکشی کے منتظمین پر ناکافی عسکری احتیاط کا الزام (جو بے بنیاد نہیں ہے) عائد کرتے ہوئے سوخانوف لکھتا ہے: ’’24 تاریخ کے دوپہر اور شام کو کہیں جا کر وہ سرخ محافظوں اور سپاہیوں کے مسلح دستوں کو سمولنی لائے… 24 تاریخ کی شام تک سمولنی کا دفاع کچھ معقول لگنے لگا تھا۔‘‘
یہ معاملہ غیر اہم نہیں ہے۔ سمولنی میں بالشویکوں کے زیر قیادت سرگرم تمام انقلابی تنظیموں کے سربراہ جمع تھے۔ اُس دن حملے کا حتمی فیصلہ کرنے کے لئے بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کا اہم اجلاس یہاں ہی ہو رہا تھا۔ گیارہ اراکین موجود تھے۔ لینن ابھی تک وائبورگ کے علاقے میں روپوشی سے نمودار نہیں ہوا تھا۔ زینوویف بھی اجلاس میں موجو دنہیں تھا۔ ڈزرزھنسکی کے جذباتی الفاظ میں وہ ’’چھپ رہا تھا اور پارٹی کے کام میں حصہ نہیں لے رہا تھا۔‘‘ دوسری طرف کامینیف اگرچہ زینوویف کا ہم خیال ہی تھا، تاہم سرکشی کے صدر دفتر میں بہت متحرک تھا۔ اجلاس میں سٹالن بھی موجود نہیں تھا۔ وہ بالعموم سمولنی آیا نہیں ہے اور مرکزی جریدے کے ادارتی دفتر میں ہی سارا وقت گزارا۔ اجلاس کی صدارت ہمیشہ کی طرح سویڈلوف نے کی۔ اجلاس کے باقاعدہ منٹس اگرچہ بہت نامکمل ہیں، تاہم تمام بنیادی چیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انقلاب کے رہنماؤں اور اُن کے درمیان کام کی تقسیم کی جانکاری کے لئے وہ ناگزیر ہیں۔
یہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں پورے پیٹروگراڈ پر مکمل تسلط کا سوال تھا۔ اِس کا مطلب اُن تمام سیاسی اور تکنیکی اداروں پر قبضہ تھا جو ابھی تک حکومت کے ہاتھوں میں تھے۔ سوویتوں کی کانگریس کو اپنا اجلاس ایک سوویت اقتدار کے تحت منعقد کرنا تھا۔ عسکری انقلابی کمیٹی اور بالشویکوں کی فوجی تنظیم کی جانب سے رات کے حملے کے تمام عملی اقدامات کا تعین کر لیا گیا تھا یا کیا جا رہا تھا۔ مرکزی کمیٹی نے ساری بحث کو سمیٹنا تھا۔
سب سے پہلے کامینیف کی تجویز منظور کی گئی: ’’آج مرکزی کمیٹی کا کوئی بھی رکن خصوصی اجازت کے بغیر سمولنی سے باہر نہیں جا سکتا۔‘‘اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کی پیٹرو گراڈ کمیٹی کے اراکین کو یہاں ڈیوٹی پر معمور رکھا جائے۔ منٹس میں مزید درج ہے: ’’ٹراٹسکی نے تجویز پیش کی کہ ڈاک، ٹیلی گراف اور ریلوے کے مزدوروں سے رابطہ قائم کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کے دو اراکین اور حکومت پر نظر رکھنے کے لئے ایک تیسرے رکن کو عسکری انقلابی کمیٹی کے اختیار میں دے دیا جائے۔‘‘ ڈزرزھنسکی کو ٹیلی گراف کے مزدوروں اور ببنوف کو ریلوے مزدوروں کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سویڈلوف کی تجویز پر پہلے پوڈووئسکی کو عبوری حکومت کی نگرانی سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ منٹس کے مطابق: ’’پوڈووئسکی پر اعتراضات؛ سویڈلوف کو نامزد کر دیا گیا… ‘‘ ملیوٹن، جو ایک معیشت دان گردانا جاتا تھا، کو سرکشی کے دوران خوراک کی فراہمی کو منظم کرنے کا کام سونپا کیا۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں سے مذاکرات کا کام کامینیف کو سونپا گیا، جو ایک ماہر لیکن بہت ڈھیلے مذاکرات کار کے طور پر مشہور تھا: ’’ڈھیلا‘‘ صرف ایک بالشویک معیار کے مطابق۔ ’’ٹراٹسکی نے تجویز پیش کی کہ پیٹر اور پال کے قلعے میں ایک ریزرو صدر دفتر بھی قائم کیا جائے اور اِس مقصد کے لئے مرکزی کمیٹی کے ایک رکن کو وہاں بھیج دیا جائے۔‘‘ فیصلہ کیا گیا کہ ’’عمومی نگرانی کے لئے لاشیوچ اور بلاگنراووف کو تعینات کیا جائے؛ سویڈلوف کو قلعے سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ذمہ داری سونپی جائے۔‘‘ مزید برآں ’’مرکزی کمیٹی کے تمام اراکین کو قلعے کے پاس (Pass) جاری کئے جائیں۔‘‘
پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق تمام باگ ڈور سویڈلوف کے ہاتھوں میں تھی، جو پارٹی کے کیڈروں کو ہر کسی سے بہتر جانتا تھا۔ وہ سمولنی کو پارٹی مشین سے رابطے میں رکھتا تھا، عسکری انقلابی کمیٹی کو ضروری کارکنان فراہم کرتا تھا اور تمام نازک امور پر مشورے کے لئے مرکزی کمیٹی میں بلایا جاتا تھا۔ چونکہ عسکری انقلابی کمیٹی کی رکنیت کافی وسیع اور کسی حد تک ڈھیلی ڈھالی تھی، لہٰذا زیادہ خفیہ کام بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے قائدین کے ذریعے کئے جاتے تھے، یا پھر سویڈ لوف کے ذریعے، جو اکتوبر کی سرکشی کا غیر اعلانیہ لیکن حقیقی ’’جنرل سیکرٹری‘‘ تھا۔
اُن دنوں سوویتوں کی کانگریس کے لئے دوسرے صوبوں سے آنے والے بالشویک مندوبین سب سے پہلے سویڈلوف کے ہتھے چڑھتے تھے اور وہ اُنہیں ایک منٹ کے لئے بھی بلاوجہ فارغ نہیں رہنے دیتا تھا۔ 24 تاریخ تک پیٹروگراڈ میں دو یا تین سو صوبائی مندوبین پہنچ بھی چکے تھے اور اُن کی اکثریت کو کسی نہ کسی طرح سرکشی کے کاموں میں شامل کر لیا گیا تھا۔ دوپہر دو بجے وہ سمولنی میں مرکزی کمیٹی کی رپورٹ سننے کے لئے ایک پارٹی اجلاس میں اکٹھے ہوئے۔ اُن میں کامینیف اور زینوویف جیسے متذبذب لوگ بھی شامل تھے، جو انتظار کی پالیسی پر گامزن تھے؛ بہت سے نئے آنے والے بھی تھے جو پوری طرح قابل اعتماد نہیں تھے۔ اِس اجلاس کے سامنے سرکشی کا سارا منصوبہ آشکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جو بات بھی کسی بڑے اجلاس میں کی جاتی ہے ، باہر نکل ہی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ حملے پر سے دفاعی لبادہ اتارنا ابھی تک بھی ممکن نہ تھا، بصورت دیگر گیریزن کے کچھ یونٹ تذبذب کا شکار ہو جاتے۔ تاہم مندوبین کو یہ سمجھانا ضروری تھا کہ ایک فیصلہ کن جدوجہد شروع ہو چکی تھی،جس کی تاج پوشی کانگریس ہی کرے گی۔
لینن کے تازہ مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے ٹراٹسکی نے واضح کیا کہ اگر معروضی حالات سرکشی کو ممکن اور ناگزیر بنا دیں تو ’’ایک سرکشی مارکسزم کے اصولوں سے متضاد نہیں ہوتی۔‘‘ اقتدار کے راستے پر موجود مادی رکاوٹوں کو ضرب لگا کر توڑنا ہو گا… ‘‘ ابھی تک عسکری انقلابی کمیٹی دفاعی حکمت عملی سے آگے نہیں بڑھی ۔ تاہم اِس دفاع کو وسیع تناظر میں سمجھا جانا چاہئے۔ مسلح قوتوں کی مدد سے بالشویک پریس کی اشاعت کو یقینی بنانا یا پھر ’آرورا‘ کو دریائے نیوا کے پانیوں میں رکھنا، ’’کامریڈ کیا یہ اپنا دفاع نہیں ہے؟ یہ دفاع ہی ہے!‘‘ اگر حکومت ہمیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہمارے پاس ایسی کسی صورتحال سے نبٹنے کے لئے سمولنی کی چھت پر مشین گنیں موجود ہیں۔ ’’کامریڈ یہ بھی ایک دفاعی اقدام ہی ہے۔‘‘ ایک تحریری سوال آیا کہ عبوری حکومت کا کیا کرنا ہے؟ اگر کیرنسکی نے سوویتوں کی کانگریس کی اطاعت نہ کرنے کی کوشش کی؟ ترجمان ٹراٹسکی نے جواب دیا: اگر کیرنسکی نے سوویتوں کی کانگریس کی اطاعت نہ کرنے کی کوشش تو ایسے میں حکومت کی مزاحمت ’’ایک سیاسی نہیں بلکہ پولیس کا مسئلہ پیدا کر دے گی۔‘‘ کم و بیش ایسا ہی ہوا۔
اُسی وقت ٹراٹسکی کو شہری دوما کے ایک وفد سے ملاقات کے لئے باہر بلالیا گیا۔ دارالحکومت ابھی تک خاموش تھا، لیکن تشویشناک افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ بلدیہ کے سربراہ نے سوالات پوچھے: کیا سوویت ایک سرکشی کا ارادہ رکھتی ہے؟ شہر میں نظم و نسق قائم رکھنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور اگر دوما نے انقلاب کو تسلیم نہ کیا تو؟ یہ معزز لوگ کچھ زیادہ ہی جاننا چاہتے تھے۔ جواب دیا گیا: اقتدار کے سوال کا فیصلہ سوویتوں کی کانگریس کرے گی۔ آیا یہ سب کچھ ایک مسلح جدوجہد پر منتج ہو گا؟ ’’اِس کا انحصار سوویتوں سے زیادہ اُن لوگوں پر ہے جو عوام کی متفقہ منشا کے برخلاف اقتدار پر قابض ہیں۔‘‘ اگر سوویتوں کی کانگریس اقتدار قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو پیٹروگراڈ سوویت اُس کی اطاعت کرے گی۔ لیکن یہ واضح ہے کہ حکومت خود ایک تصادم چاہ رہی ہے۔ عسکری انقلابی کمیٹی کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ مزدور اور سپاہی ایک بے رحم مزاحمت سے ہی جواب دے سکتے ہیں۔ جرائم پیشہ گروہوں کے تشدد اور لوٹ مار کا کیا کرنا ہے؟ آج کمیٹی کے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق: ’’ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر انتشار، لوٹ مار، خنجر زنی یا گولی باری کی کسی کوشش کی صورت میں اُنہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔‘‘ جہاں تک شہری دوما کا سوال ہے تو کسی تنازعے کی صورت میں قانونی طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں: تحلیل اور نئے انتخابات۔ وفد غیر مطمئن واپس گیا۔ لیکن اُنہیں اور کیا توقع تھی؟
ٹراٹسکی نے اجلاس میں واپسی پر کہا: ’’یاد رکھیں کامریڈ، کچھ ہفتے قبل جب ہم نے اکثریت حاصل کی تو ہم محض ایک نام تھے۔ ہمارے پاس نہ چھاپہ خانہ تھا، نہ پیسے، نہ شعبے۔ اور آج گرفتار شدہ عسکری انقلابی کمیٹی کے پاس شہری دوما اپنا وفد بھیج رہی ہے‘‘ تاکہ شہر اور ریاست کا مقدر معلوم کر سکے!
ابھی کل ہی سیاسی طور پر جیتا گیا پیٹر اور پال کا قلعہ آج عسکری انقلابی کمیٹی کے مکمل اختیار میں ہے۔سب سے انقلابی مشین گن یونٹ کی صف بندی کی جا رہی ہے۔ کولٹ مشین گنوں کی صفائی کا وسیع کام جاری ہے، جن کی تعداد 80 ہے۔ دریائی گودی اور ٹروئٹسکی پُل پر کنٹرول کے لئے مشین گنوں کو قلعے کی دیواروں پر نصب کیا جا رہا ہے۔ قلعے کے دروازوں پر پہرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ مضافاتی علاقوں میں گشت کے لئے دستے بھیجے جا رہے ہیں۔ لیکن صبح کے اِن گھنٹوں کی گرما گرمی میں پتا چلتا ہے کہ خود قلعے میں صورتحال یقینی نہیں ہے۔ سائیکل بٹالین میں گڑبڑ ہے۔خوشحال اور مالدار کسانوں میں سے بھرتی کئے جانے والے گھڑ سواروں کی طرح یہ سائیکل والے بھی شہر کی درمیانی پرتوں سے تعلق رکھتے تھے اور فوج کا سب سے قدامت پسند حصہ تھے۔ کم از کم روس جیسے پسماندہ ملک میں زنجیر سے جڑی دو چرخیوں کے اوپر بیٹھا انسان خود کو دوسروں سے ممتاز محسوس کرنے لگتا ہے اور اُس کا تکبر اُس کے ٹائروں کی طرح ہی پھولنے لگتا ہے۔ امریکہ میں اِسی چیز کے لئے ایک موٹر گاڑی درکار ہوتی ہے۔
جولائی کی تحریک کو کچلنے کے لئے محاذ سے لائی جانے والی سائیکل بٹالین نے بڑی سرگرمی سے [اُس وقت بالشویکوں کے صد ر دفتر] کشیسنسکایا کے محل پر حملہ کیا تھا اور بعد ازاں حکومت کے سب سے قابل اعتماد دستوں میں سے ایک کے طور پر پیٹر اور پال کے قلعے میں تعینات کر دی گئی تھی۔ اب معلوم ہوا تھا کہ قلعے کے مقدر کا فیصلہ کرنے والے کل کے اجلاس میں یہ سائیکل والے موجود نہیں تھے۔ بٹالین میں پرانا ڈسپلن اِس حد تک قائم تھا کہ افسران سپاہیوں کو قلعے کے صحن میں جانے سے روکنے میں کامیاب رہے تھے۔ اِنہی سائیکل والوں پر بھروسہ کرتے ہوئے قلعے کا کمانڈر اکڑ دکھاتا تھا، اکثر کیرنسکی کے صدر دفتر سے ٹیلی فون پر رابطے میں رہتا تھا، حتیٰ کہ بالشویک کمیسار کو گرفتار کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا تھا۔ صورتحال کو مزید ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سمولنی سے ملنے والے حکم پر بلاگنراووف دشمن کے مدمقابل آ گیا: کرنل کو نظر بند کیا جاتا ہے، تمام افسروں کے اپارٹمنٹوں سے ٹیلی فون ہٹائے جاتے ہیں۔ حکومتی عملے نے پریشانی کے عالم میں فون کیا کہ کمانڈر اچانک خاموش کیوں ہو گیا ہے اور بالعموم قلعے میں ہو کیا رہا ہے؟بلاگنراووف نے بڑی تمیز سے جواب دیا کہ آج کے بعد سے قلعہ صرف عسکری انقلابی کمیٹی کا حکم مانے گا اور حکومت بھی آئندہ اسی سے رابطہ کرے۔
قلعے کے تمام دستوں نے کمانڈر کی گرفتاری بالکل اطمینان سے قبول کر لی، لیکن سائیکل والوں نے کوئی واضح جواب نہ دیا۔ اِس بدمزاج خاموشی کے نیچے دشمنی پوشیدہ ہے یا آخری تذبذب؟ بلاگنراووف لکھتا ہے، ’’ہم نے سائیکل والوں کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا، اپنے بہترین ایجی ٹیٹروں اور سب سے بڑھ کر ٹراٹسکی کو بلایا، جس کی سپاہیوں پر بے حد عملداری اور اثرورسوخ تھا۔‘‘ شام چار بجے ساری بٹالین ’ماڈرن سرکس‘ کی ہمسایہ عمارت میں جمع ہوئی۔ حکومت کی طرف سے کوارٹر ماسٹر پراڈیلوف ، جو سوشل انقلابی سمجھا جاتا تھا، نے بات رکھی۔ اُس کے اعتراضات اتنے محتاط تھے کہ ذومعنی لگتے تھے؛ عسکری انقلابی کمیٹی کے نمائندگان کا حملہ اتنا ہی تباہ کن تھا۔ پیٹر اور پال کے قلعے کے لئے یہ اضافی تقریری لڑائی توقعات کے مطابق اختتام پذیر ہوئی: تیس کے سوا تمام ووٹوں سے بٹالین نے ٹراٹسکی کی قرارداد کی حمایت کی۔ یوں ایک اور ممکنہ خونریز تنازعے کو لڑائی سے قبل اور خونریزی کے بغیر سلجھا لیا گیا۔ یہ اکتوبر کی سرکشی تھی۔ اِس کا انداز ایسا ہی تھا۔
اب قلعے پر پورے اطمینان سے بھروسہ کرنا ممکن تھا۔ اسلحہ خانے سے کسی رکاوٹ کے بغیر ہتھیار دئیے جانے لگے۔ سمولنی میں فیکٹری و کارخانہ کمیٹی کے کمرے میں پلانٹوں کے مندوبین رائفلوں کے آرڈر لینے کے لئے قطار میں کھڑے تھے۔ دارالحکومت نے جنگ کے سالوں میں کئی قطاریں دیکھی تھیں، لیکن رائفلوں کے لئے قطار پہلی بار لگی تھی! سارے علاقوں سے ٹرکوں کا رُخ اسلحہ خانے کی طرف تھا۔ مزدور سکورنکو لکھتا ہے، ’’پیٹر اور پال کے قلعے کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے روایتی سکوت کو موٹر گاڑیوں کی کھنکار اور نعروں نے توڑ دیا تھا۔ گوداموں میں خصوصی کھلبلی تھی… ‘‘ جولائی کی شورش میں شمولیت کی پاداش میں غیر مسلح کر دی جانے والے 180ویں پیادہ ڈویژن کو اُس دن بندوقیں دی گئیں۔
’ماڈرن سرکس‘ کی عمارت میں ہونے والے اجلاس کا ایک اور نتیجہ بھی برآمد ہوا۔ جولائی کے دنوں سے سرما محل کا پہرہ دینے والے سائیکل بٹالین کے سپاہی کسی اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے ہٹ گئے اور اعلان کیا کہ وہ مزید حکومت کی حفاظت نہیں کریں گے۔ یہ ایک بھاری ضرب تھی۔ سائیکل والوں کی جگہ جنکروں کو لانا پڑا ۔ حکومت کی فوجی حمایت اب صرف افسروں کے سکولوں تک محدود ہوتی جا رہی تھی۔ اِس عمل نے نہ صرف اُسے انتہائی محدود کر دیا بلکہ اُس کی سماجی بنیاد بھی بالکل واضح کر دی۔
پیوٹیلوف شپ یارڈ کے مزدوروں نے تجویز پیش کی سمولنی تیزی سے جنکروں کو غیر مسلح کرنا شروع کرے۔ اگر محتاط تیاری کے بعد سکولوں کے غیرعسکری یونٹوں کی مدد سے یہ اقدام 25 تاریخ کو کر لیا جاتا تو سرما محل پر قبضے میں مشکلات پیش نہ آتیں۔ اگر جنکروں کو 26 تاریخ کی رات کو غیر مسلح کر دیا جاتا تو 29 اکتوبر کو ردِ انقلابی سرکشی کی کوشش نہ ہوتی۔ لیکن رہنما ابھی تک کافی ’’رحم دلی‘‘ اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کر رہے تھے اور نیچے والوں کی سنجیدہ رائے کو ہمیشہ توجہ سے نہیں سنتے تھے۔ یہاں لینن کی کمی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ عوام کو ہی اِن غلطیوں اور غفلتوں کو درست کرنا پڑا اور دونوں اطراف نے غیرضروری نقصانات اٹھائے۔ ایک سنجیدہ جدوجہد میں غیر مناسب وقت پر رحم دلی دکھانے سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہوتا۔
عبوری پارلیمنٹ کے دوپہر کے اجلاس میں کیرنسکی نے اپنا آخری گیت گایا۔اُس نے کہا کہ حالیہ دنوں میں روس اور بالخصوص دارالحکومت کی آبادی مسلسل تشویش میں مبتلا رہی ہے۔ ’’بالشویک پرچوں میں مسلسل سرکشی کی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔‘‘ اُس نے ریاست کو مطلوب مجرم ولادیمیر الیانوف لینن کے مضامین کا حوالہ دیا۔ اقتباسات بالکل واضح ہیں اور ناقابل تردید طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ مذکورہ بالا آدمی ایک سرکشی کو ابھار رہا ہے۔ لیکن کب؟ ’’عین اُس لمحے جب حکومت زمین کی کسان کمیٹیوں کو منتقلی اور جنگ کے خاتمے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ حکام نے ابھی تک سازشیوں کو کچلنے میں کوئی جلدی نہیں کی ہے اور اُنہیں اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔‘‘ ’’یہی مسئلہ ہے!‘‘ ملیوکوف کے زیر قیادت حصے سے آواز بلند ہوئی۔ لیکن کیرنسکی مطمئن ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میری بالعموم کوشش ہے کہ حکومت آہستگی اور درستی اور بوقت ضرورت زیادہ فیصلہ کن انداز سے کاروائی کرے… لیکن رعایت کے دن گزر چکے ہیں۔ بالشویکوں کو نہ صرف کوئی پچھتاوا نہیں ہے بلکہ وہ دو کمپنیاں بھی میدان میں لے آئے ہیں اور من مرضی سے ہتھیار اور گولیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ اب کی بار حکومت جاہل لوگوں کے اِس بے لگام ہجوم کی لاقانونیت کا خاتمہ کر دے گی۔ میں دانستہ طور پر یہ الفاظ استعمال کر رہا ہوں: جاہل لوگوں کا بے لگام ہجوم!‘‘ دائیں طرف سے عوام کی اِس تذلیل کا خیر مقدم بھرپور تالیوں سے کیا گیا۔ کیرنسکی نے مزید کہا کہ اُس نے ضروری گرفتاریوں کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ ’’سوویت کے صدر برنسٹائن ٹراٹسکی کی تقاریر پر خصوصی نظر رکھنا ہو گی۔ واضح رہے کہ حکومت کے پاس ضرورت سے زائد قوتیں موجود ہیں؛ محاذ سے مسلسل تار آ رہے ہیں جن میں بالشویکوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔‘‘ اِتنے میں کونووالوف نے مقرر کو گیریزن کے دستوں کے نام عسکری انقلابی کمیٹی کا ٹیلی فونو گرام دیا، جس میں اُنہیں ’’رجمنٹ کو لڑائی کے لئے تیار رکھنے اور مزید احکامات کا انتظار کرنے‘‘ کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ تحریر پڑھنے کے بعد کیرنسکی نے سنجیدگی سے نتیجہ اخذ کیا: ’’قانون کی زبان میں اِسے ہی سرکشی کی کیفیت کہا جاتا ہے۔‘‘ ملیوکوف بتاتا ہے: ’’کیرنسکی نے یہ الفاظ ایک ایسے وکیل کے مطمئن لہجے میں ادا کئے جسے آخر کار اپنے مخالف کے خلاف ثبوت مل گیا تھا۔‘‘ کیرنسکی نے بات ختم کرتے ہوئے کہا، ’’ریاست کے خلاف سر اٹھانے کی جرات کرنے والے گروہ اور پارٹیاں ایک فوری، فیصلہ کن اور مستقل تباہی کے مستحق ہیں۔‘‘ انتہائی بائیں طرف والوں کے سوا سارے ہال نے تالیاں بجائیں اور داد و تحسین کے نعرے لگائے۔ تقریر کا اختتام ایک مطالبے پر ہوا: آج ہی اور اِسی اجلاس میں اِس سوال کا جواب دیا جائے کہ ’’کیا حکومت اِس اعلیٰ اجلاس کی حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کر سکتی ہے؟‘‘خود کیرنسکی کے مطابق کسی ووٹ کا انتظار کئے بغیر وہ پورے اعتماد سے صدر دفتر پہنچا کہ ایک گھنٹے سے پہلے پہلے یہ درکار فیصلہ ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ کس مقصد کے لئے درکار تھا، آج تک پتا نہیں چل سکا!
تاہم نتیجہ کچھ اور ہی نکلا۔ مارینسکی محل میں دو سے چھ بجے تک دھڑوں کے آپسی اور داخلی اجلاس ہوتے رہے، جن میں کسی عبوری کلیے کی تیاری کی کوشش ہوتی رہی۔شرکا کو نہیں پتا تھا کہ وہ اپنے جنازے کا کلیہ تیار کر رہے تھے۔ کسی ایک بھی مصالحت پسند گروہ میں خود کو حکومت سے منسوب کرنے کی جرات نہیں تھی۔ ڈین نے کہا: ’’عبوری حکومت کے لئے ہم منشویک اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کو تیار ہیں؛ لیکن حکومت جمہوریت کو اپنے گرد مجتمع ہونے کا موقع دے۔‘‘ شام تک عبوری پارلیمنٹ کا بایاں دھڑا کسی حل کی سرتوڑ کوشش کے بعد ڈین کے کلیے پر متفق ہو گیا، جو اُس نے مارٹوف سے مستعار لیا تھا، ایک ایسا کلیہ جو سرکشی کی ذمہ داری نہ صرف بالشویکوں بلکہ حکومت پر بھی عائد کر رہا تھا اور زمین کی زمین کمیٹیوں کو فوری منتقلی اور اتحادی ممالک کو امن مذاکرات کی سفارش وغیرہ جیسے مطالبات کر رہا تھا۔ یوں مصالحت کے اِن پیغمبروں نے آخری وقت پر اُنہی نعروں کی نقالی کی کوشش کی جنہیں کل تک مہم جوئی اور فتنہ انگیزی قرار دیا جا رہا تھا۔ کیڈٹوں اور کاسکوں نے حکومت کی غیر مشروط حمایت کا وعدہ کیا۔ یہ وہی دو گروہ تھے جو موقع ملتے ہی کیرنسکی کو فارغ کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اقلیت تھے۔ عبوری پارلیمنٹ کی حمایت حکومت کو کچھ سہارا دے سکتی تھی، لیکن ملیوکوف درست کہتا ہے: حمایت سے اِس انکار نے حکومت کو اسکی عملداری کی باقیات سے بھی محروم کر دیا۔ لیکن کیا خود حکومت نے ہی محض چند ہفتے قبل اِس عبوری پارلیمنٹ کی ترکیب کا تعین نہیں کیا تھا؟
جس وقت مارینسکی محل میں نجات کا کلیہ تلاشا جا رہا تھا، سمولنی میں معلومات کے حصول کے لئے پیٹروگراڈ سوویت کا اجلاس جاری تھا۔ ترجمان نے یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ عسکری انقلابی کمیٹی ’’سرکشی کے اوزار کے طور پر نہیں بلکہ انقلابی دفاع کی بنیاد پر‘‘ ابھری تھی۔ کمیٹی نے کیرنسکی کو پیٹروگراڈ سے انقلابی دستے ہٹانے کی اجازت نہیں دی تھی اور مزدور پریس کو اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔ ’’کیا یہ ایک سرکشی تھی؟‘‘ [حکومتی احکامات کے برخلاف] ’آرورا‘ آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل رات کھڑا تھا۔ ’’کیا یہ سرکشی ہے؟‘‘ آج ہمارے سامنے ایک نیم حکومت ہے، جس پر عوام کو کوئی اعتماد نہیں ہے اور جسے خود پر بھی اعتماد نہیں ہے، کیونکہ یہ اندر سے مر چکی ہے۔ یہ نیم حکومت ایک تاریخی جھاڑو کی منتظر ہے جو انقلابی عوام کی مستند حکومت کے لئے جگہ صاف کرے گا۔ کل سوویتوں کی کانگریس کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ گیریزن اور مزدوروں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تمام قوتوں کو کانگریس کے اختیار میں دیں۔ ’’تاہم اگر حکومت آئندہ چوبیس گھنٹوں میں انقلاب کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم ایک بار پھر واضح کر دیں: انقلاب کا ہراول دستہ وار کا جواب وار اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔‘‘ یہ کھلی دھمکی آنے والی رات کے حملے کی سیاسی آڑ بھی تھی۔ آخر میں ٹراٹسکی نے اجلاس کو مطلع کیا کہ عبوری پارلیمنٹ کے بائیں بازو کے سوشل انقلابی دھڑے نے کیرنسکی کی آج کی تقریر اور مصالحت پسند دھڑوں کی توں تکرار کے بعد اپنا ایک وفد سمولنی بھیجا ہے اور عسکری انقلابی کمیٹی کے عملے میں باضابطہ شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ کسان جنگ کی بڑھتی ہوئی وسعت اور پیٹروگراڈ کی سرکشی کی کامیاب روش کے اِس اظہار کا سوویت نے پرجوش خیر مقدم کیا۔
پیٹروگراڈ سوویت کے صدر کی اِس تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ملیوکوف لکھتا ہے: ’’غالباً یہ ٹراٹسکی کا منصوبہ تھا کہ لڑائی کی تیاری کر لینے کے بعد سوویتوں کی کانگریس میں اپنا اظہار کرنے والی ’عوام کی متفقہ منشا‘ کے ذریعے حکومت کا مقابلہ کیا جائے، تاکہ نئے اقتدار کو قانونی رنگ دیا جا سکے۔لیکن حکومت توقعات سے بھی کمزور ثابت ہوئی اور کانگریس سے بھی پہلے اقتدار خود بخود اُس کے ہاتھ آ گیا۔‘‘ یہاں یہ بات درست کہی گئی ہے کہ حکومت کی کمزوری تمام توقعات سے بڑھ کر تھی۔ تاہم منصوبہ شروع سے ہی کانگریس کے آغاز سے قبل اقتدار پر قبضہ کرنے کا تھا۔ ملیوکوف اِسے ایک دوسرے تناظر میں تسلیم کرتا ہے: ’’انقلاب کے رہنماؤں کے حقیقی ارادے ٹراٹسکی کے اِن باضابطہ اعلانوں سے کافی آگے کے تھے۔ سوویتوں کی کانگریس کے سامنے ایک امر واقعہ [۵] رکھ دیا جانا تھا ۔‘‘
سرکشی کا خالص عسکری منصوبہ یہ تھا کہ بالٹک کے جہازیوں اور وائبورگ کے مسلح مزدوروں کی مشترکہ کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔ جہازیوں کو ٹرین کے ذریعے آنا تھا، وائبورگ کے علاقے میں فن لینڈ سٹیشن [۶] پر اترنا تھا، اِس بیس پر سرخ محافظوں اور گیریزن کے یونٹوں کو اکٹھا کر کے سرکشی نے شہر کے دوسرے علاقوں میں پھیل جانا تھا اور پُلوں پر قبضہ کرتے ہوئے حتمی وار کے لئے مرکز کی طرف بڑھنا تھا۔ حالات میں سے فطری طور پر برآمد ہونے والا یہ منصوبہ، جسے غالباً اینٹونوف نے مرتب کیا تھا، اِس مفروضے پر تیار کیا گیا تھا کہ دشمن ٹھیک ٹھاک مزاحمت کرے گا۔ تاہم یہ مفروضہ جلد ہی غلط ثابت ہو گیا۔ ایک محدود بنیاد سے آغاز کرنا غیر ضروری تھا، کیونکہ جہاں بھی سر کشوں نے حملہ کرنا ضروری سمجھا وہاں حکومت کو کمزور پایا۔
وقت کے لحاظ سے بھی تذویراتی منصوبے میں تبدیلیاں ہوئیں: سرکشی کا آغاجلد اور اختتام مقررہ وقت کے بعد ہوا۔ حکومت کے صبح کے حملوں کے خلاف عسکری انقلابی کمیٹی نے فوری مزاحمت کی۔ یوں حکام کے بے نقاب ہونے والے خصی پن نے سمولنی کو اُسی دن جارحانہ اقدامات پر اکسایا، تاہم اِن اقدامات کا ادھورا، نیم پوشیدہ اور ابتدائی کردار برقرار رکھا گیا۔ اصل حملہ رات کو کیا جانا تھا۔رات کے دوران اقتدار کے تمام ایوانوں پر قبضہ کیا جانا تھا، جن میں سرفہرست سرما محل تھا، جہاں مرکزی حکومت نے پناہ لے رکھی تھی۔ لیکن ایک باقاعدہ جنگ کی نسبت سرکشی میں وقت کا حساب کتاب اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ قوتوں کے اجتماع میں رہنماؤں نے کئی گھنٹوں کی تاخیر کر دی اور محل کے خلاف کاروائی، جس کا آغاز بھی رات کو نہیں ہو سکا، نے انقلاب کا خصوصی باب رقم کیا اور پورے چوبیس گھنٹوں کی تاخیر سے 26 تاریخ کی رات کو کہیں جا کر اپنے انجام کو پہنچ پائی۔ ناکامیوں کے بغیر شاندار کامیابیاں نہیں ملاکرتیں!
عبوری پارلیمنٹ میں کیرنسکی کی تقریر کے بعد حکام نے اپنے حملے کو وسیع کرنے کی کوشش کی تھی۔ ریلوے سٹیشنوں پر جنکروں کے دستوں نے قبضہ کر لیا تھا۔اہم چوراہوں پر ناکے لگا دیئے گئے تھے، جنہیں صدر دفتر کے حوالے نہ کی جانے والی موٹر گاڑیوں کی ضبطی کے احکامات دئیے گئے تھے۔ سہ پیر تین بجے تمام پُل اُٹھا دئیے گئے، ماسوائے دورتسووی پُل کے، جو جنکروں کی نقل و حرکت کے لئے سخت پہرے میں کھلا رہا۔ بادشاہت کی جانب سے تمام نازک وقتوں اور آخری بار فروری کے دنوں میں کئے جانے والے اِس اقدام کی وجہ مزدور علاقوں کا خوف تھا۔ پُلوں کے اٹھائے جانے کو آبادی نے سرکشی کے آغاز کے سرکاری اعلان کے طور پر لیا۔ علاقوں میں سرکشی کے صدر دفاتر نے حکومت کے اِس عسکری اقدام کا جواب پُلوں کی طرف مسلح دستے روانہ کر کے دیا۔ پُلوں کی جدوجہد نے دونوں اطراف کے امتحان کا کردار اختیار کر لیا۔ مسلح مزدوروں اور سپاہیوں نے کبھی مائل کرکے تو کبھی دھمکی دے کر جنکروں اور کاسکوں پر دباؤ ڈالا۔پہریدار آخر کار کھلی لڑائی کا خطرہ مول لئے بغیر پیچھے ہٹ گئے۔
’آرورا‘ کو عسکری انقلابی کمیٹی کا براہ راست حکم ملا: ’’تمام دستیاب ذرائع سے نکولائیوسکی پُل پر نقل و حرکت بحال کرو۔‘‘ جہاز کے کمانڈر نے پہلے پہل حکم ماننے سے انکار کیا، لیکن اپنی اور اپنے افسروں کی علامتی گرفتاری کے فوراً بعد جہاز کو پُل تک لے گیا۔ جہازیوں کے دستے دونوں گودیوں میں پھیل گئے۔ کورکوف بتایا ہے کہ پُل کے سامنے ’آرورا‘ کے لنگر انداز ہونے سے پہلے ہی جنکر ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ جہازیوں نے خود پُل کھولا اور پہرہ بٹھا دیا۔ صرف یہ دورتسووی پُل ہی کئی گھنٹوں تک حکومتی دستوں کے قبضے میں رہا۔
اِس پہلے تجربے کی واضح ناکامی کے باوجود حکومت کی کچھ انفرادی شاخوں نے مزید حملے کرنے کی کوشش کی۔ شام کے وقت پولیس کا ایک دستہ ایک بڑے نجی چھاپہ خانے میں پیٹروگراڈ سوویت کا اخبار ’مزدور اور سپاہی‘بند کرنے کے لئے نمودار ہوا۔ اِس سے بارہ گھنٹے پہلے بالشویک پریس کے مزدور ایسی ہی صورتحال میں مدد کے لئے سمولنی بھاگے تھے۔ لیکن اب اِس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ چھاپہ خانے کے مزدوروں نے دو جہازیوں، جو اتفاقاً وہاں موجود تھے، کے ساتھ مل کر پرچوں سے بھری موٹر گاڑی کو قبضے میں لے لیا؛ پولیس والوں کا ایک حصہ بھی اُن کے ساتھ مل گیا؛ پولیس انسپکٹر بھاگ گیا۔ پرچوں کو کامیابی سے سمولنی پہنچا دیا گیا۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے اشاعت کی حفاظت کے لئے پریوبرازنسکی رجمنٹ کے دو سکواڈ بھیج دئیے۔ خوفزدہ انتظامیہ نے چھاپہ خانے کا انتظام مزدور نگرانوں کی سوویت کے حوالے کر دیا۔
سرکاری حکام نے گرفتاریوں کے لئے سمولنی میں گھسنے کا سوچا تک نہیں: بالکل واضح تھا کہ یہ ایک خانہ جنگی کا اشارہ ہو گا جس میں حکومت کی شکست پہلے سے یقینی تھی۔ تاہم کسی انتظامی تشنج کی طرح لینن کو وائبورگ کے اُس علاقے سے گرفتار کرنے کی ایک کوشش کی گئی جس کی طرف حکام دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے۔ رات گئے ایک درجن جنکروں کے ساتھ کوئی کرنل ایک ہی عمارت میں واقع بالشویکوں کے ادارتی کمروں کی بجائے غلطی سے مزدوروں کے کلب میں گھس گیا۔ اِن بہادر لڑکوں کا خیال تھا کہ لینن ادارتی کمروں میں بیٹھا اُن کا انتظار کر رہا ہو گا۔ کلب والوں نے فوراً سرخ محافظوں کے علاقائی صدر دفتر کو خبر کر دی۔ جس وقت کرنل عمارت کی ایک کے بعد دوسری منزل کی تلاشی لے رہا تھا اور اِس دوران ایک بار منشویکوں کے بیچ بھی جا پہنچا، سرخ محافظوں کے دستے نے وہاں پہنچ کر اُسے جنکروں سمیت گرفتار کر لیا اور وائبورگ کے صدر دفتر اور وہاں سے پیٹر اور پال کے قلعے لے گئے۔ یوں بالشویکوں کے خلاف جس مہم کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا وہ ہر قدم پر ناقابل عبور مشکلات کے سامنے بے ربط چھلانگوں اور لطیفوں میں تبدیل ہو کر ہوا ہو گئی۔
اِسی دوران عسکری انقلابی کمیٹی دِن رات سرگرم عمل ہے۔فوجی یونٹوں میں اِس کے کمیسار مسلسل ذمہ داریاں سرانجام دے ہیں۔ آبادی کو خصوصی اعلانات کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ردِ انقلاب کی کوششوں یا بلووں کی صورت میں کدھر کا رُخ کرنا ہے : ’’فوراً مدد فراہم کی جائے گی۔‘‘ کیکسگومسکی رجمنٹ کے کمیسار کی جانب سے ٹیلی فون ایکسچینج کے معنی خیز دورے کے بعد سمولنی کے فون بحال ہو چکے ہیں۔ ٹیلی فون روابط، جو سب سے تیز ترین ہوتے ہیں، نے آگے بڑھتی ہوئی کاروائیوں کو اعتماد اور باقاعدگی دے دی ہے۔
وہ تمام ادارے جو ابھی تک عسکری انقلابی کمیٹی کے کنٹرول میں نہیں آئے تھے، وہاں اپنے کمیسار تعینات کرتے ہوئے کمیٹی نے آنے والے حملے کی بنیادوں کو وسیع اور مستحکم کرنے کا عمل جاری رکھا۔ اُس دوپہر ڈزرزھنسکی نے پرانے انقلابی پیسٹووسکی کو کاغذ کا ایک ٹکڑا دیا، جس کی رو سے اُسے مرکزی ٹیلی گراف سٹیشن کا کمیسار تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن میں ٹیلی گراف سٹیشن کا قبضہ کیسے لوں گا؟ نئے کمیسار نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’وہاں کیکسگولمسکی رجمنٹ اپنے سنتری بھیج رہی ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے!‘‘ پیسٹووسکی کو مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی۔ ٹیلی گراف مشین کے گرد کھڑے رائفلوں سے مسلح کیکسگولمسکی رجمنٹ کے دو سپاہی، مخالف ٹیلی گراف حکام سے عارضی معاہدے کے لئے کافی ثابت ہوئے۔
شام نو بجے عسکری انقلابی کمیٹی کے ایک اور کمیسار سٹارک نے جہازیوں کے ایک چھوٹے دستے کے ساتھ حکومتی خبر رساں ایجنسی پر قبضہ کر لیا اور نہ صرف اِس ادارے بلکہ کسی حد تک اپنی قسمت کا بھی فیصلہ کیا: سٹارک اِس ایجنسی کا پہلا سوویت ڈائریکٹر بنا، بعد ازاں اُسے افغانستان میں سوویت سفیر تعینات کیا گیا۔
کیا یہ دو معمولی سی کاروائیاں سرکشی کے اقدامات تھے یا محض اُس دوہرے اقتدار کے سلسلے کی کڑیاں تھیں جو اب مصالحت پسندانہ سے بالشویک پٹری پر منتقل ہو چکا تھا؟ اِس سوال کو معقول طور پر تاویلی گردانا جا سکتا ہے، لیکن سرکشی کو چھپانے کے لئے اِس کی خاص اہمیت تھی۔ درحقیقت خبر رساں ایجنسی کی عمارت میں مسلح جہازیوں کے گھسنے کا کردار بھی ایک طرح سے ادھورا تھا: یہ ابھی تک ادارے پر قبضے کا نہیں بلکہ مراسلہ جات پر سنسر شپ قائم کرنے کا سوال تھا۔ یوں 24 تاریخ کی شام تک بھی ’’قانونیت‘‘ کی ناف مکمل طور پر کاٹی نہیں گئی تھی۔ تحریک ابھی تک خود کو دوہرے اقتدار کی روایات کی باقیات میں چھپا رہی تھی۔
سرکشی کا منصوبہ مرتب کرتے وقت سمولنی نے بالٹک کے جہازیوں سے بہت امیدیں وابستہ کی تھیں۔ اُنہیں پرولتاری عزم کو سخت فوجی تربیت سے یکجا کرنے والے لڑاکا دستے گردانا جا رہا تھا۔ جہازیوں کی پیٹروگراڈ آمد کے لئے سوویتوں کی کانگریس کی تاریخ کی مقرر کی گئی تھی۔ بالٹک کے جہازیوں کو اِس سے پہلے بلانے کا مطلب سرِ عام سرکشی کا اعلان ہوتا۔ اِسی سے وہ مشکل برآمد ہوئی جو بعد ازاں تاخیر میں بدل گئی۔
24 تاریخ کی دوپہر کو کرونسٹٹ سوویت کے مندوبین بالشویک فلیرووسکی اور انارکسٹ یارچک(جو بالشویکوں کے ساتھ چل رہا تھا) کانگریس کے لئے سمولنی آئے۔ سمولنی کے ایک کمرے میں اُن کا سامنا چڈنووسکی سے ہوا، جو ابھی ابھی محاذ سے واپس آیا تھااور وہاں سپاہیوں کے مزاج کا حوالہ دے کر مستقبل قریب میں سرکشی کی مخالفت کر رہا تھا۔ فلیرووسکی بتاتا ہے، ’’[چڈنووسکی کے ساتھ] گرما گرم بحث جاری تھی کہ ٹراٹسکی کمرے میں آیا، مجھے ایک طرف بلایا اور فوراً واپس کرونسٹٹ جانے کو کہا: ’واقعات بہت تیزی سے پنپ رہے ہیں، لہٰذا ہر کسی کو اپنی جگہ پر ہونا چاہئے… ‘ چنانچہ بحث کو مختصر کیا گیا۔ حساس اور گرم مزاج چڈنووسکی نے اپنے شکوک و شبہات جھٹک دئیے تاکہ لڑائی کے منصوبوں کی تیاری میں شامل ہو سکے۔فلیرووسکی اور یارچک کے پیچھے ایک ٹیلی فونو گرام بھی بھیجا گیا: ’’کرونسٹٹ کی مسلح افواج کو صبح سوویتوں کی کانگریس کے دفاع کے لئے نکلنا ہے۔‘‘
اُس رات سویڈلوف کے ذریعے عسکری انقلابی کمیٹی نے ہلسنگفورس میں سوویتوں کی علاقائی کمیٹی کے صدر سملگا کو ایک تار بھیجا:’’ضابطے بھیجو۔‘‘ اِس کا مطلب تھا: فوراً 1500 منتخب شدہ سپاہی بھیجو، جو پوری طرح مسلح ہوں۔ اگرچہ جہازی صرف دن کے دوران ہی پیٹروگراڈ پہنچ سکتے تھے، لیکن عسکری کاروائی کو موخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی؛ داخلی قوتیں کافی تھیں۔ تاخیر ویسے بھی ناممکن تھی۔ کاروائیاں شروع ہو چکی تھیں۔ اگر حکومت کی مدد کو محاذ سے کمک آئی تو پہلو یا عقب پر ضرب لگانے کے لئے جہازی بروقت پہنچ جائیں گے۔
دارالحکومت کی فتح کا تذویراتی منصوبہ زیادہ تر بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے رہنماؤں نے مرتب کیا تھا۔ فوج کے اعلیٰ افسران کو شاید اِس میں کافی نقائص نظر آتے، لیکن فنونِ حرب کو پڑھنے پڑھانے والے معززین عام طور پر پرولتاری سرکشی کی تیاریوں میں حصہ نہیں لیتے۔ بہرحال منصوبے میں بنیادی چیزوں کا خیال رکھا گیا تھا۔ شہر کو فوجی ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں سے ہر ایک قریب ترین صدر دفتر کے تابع تھا۔ زیادہ اہم مقامات پر قریبی فوجی یونٹوں سے ہم آہنگ سرخ محافظوں کی کمپنیوں کو مجتمع کیا گیا تھا۔ ہر علیحدہ کاروائی کا مقصد پہلے سے طے تھا۔ اوپر سے نیچے تک، سرکشی میں حصہ لینے والے تمام لوگوں کو پوری امید تھی کہ فتح ہلاکتوں کے بغیر حاصل ہونے والی تھی۔
کلیدی کاروائی کا آغاز رات دو بجے ہوا۔ کمیساروں کی قیادت میں مزدوروں اور جہازیوں پر مشتمل چھوٹے فوجی دستوں نے ریلوے سٹیشنوں، بجلی گھر، اسلحے اور خوراک کے گوداموں، آب رسانی، دورتسووی پُل، ٹیلی فون ایکسچینج، سٹیٹ بینک اور بڑے چھاپہ خانوں پر بیک وقت یا سلسلہ وار قبضہ کر لیا ۔ٹیلی گراف سٹیشن اور ڈاک خانے کو مکمل تحویل میں لے لیا گیا۔ ہر جگہ قابل اعتماد سنتری کھڑے کر دئیے گئے۔
اکتوبر کی رات کے واقعات کا ریکارڈ بہت نامکمل اور پھیکا ہے۔ یہ کسی پولیس رپورٹ کی طرح ہے۔ دراصل تمام شرکا عصبی بخار سے کانپ رہے تھے۔ مشاہدے اور اندراج کا وقت تھا نہ ہی اِس کام کے لئے کوئی بندہ۔ صدر دفتر آنے والی معلومات ہمیشہ لکھی نہیں جاتی تھیں اور اگر لکھی بھی جاتی تھیں تو بہت لاپرواہی سے۔ نوٹس گم ہو گئے۔ بعد کی یادداشتیں خشک ہیں اور ہمیشہ درست نہیں ہوتیں، کیونکہ وہ زیادہ تر حادثاتی لوگوں کی طرف سے ملتی ہیں۔ وہ مزدور اور جہازی جو اِس کاروائی کے حقیقی قائد اور روح رواں تھے، جلد ہی سرخ فوج کے ابتدائی دستوں کے رہنما بنے اور اُن کی اکثریت نے خانہ جنگی کے مختلف محاذوں پر اپنی جانیں قربان کیں۔ الگ الگ واقعات کی ترتیب کے تعین کی کوشش میں محقق بڑے تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے، جسے اخباری رپورٹیں اور بھی پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ 1917ء کے موسم خزاں میں پیٹروگراڈ پر قبضہ، اِس سارے عمل کو پندرہ سال بعد بیان کرنے سے زیادہ آسان تھا!
سیپر بٹالین کی پہلی کمپنی، جو سب سے مضبوط اور انقلابی تھی، کو قریبی نکولائیوسکی ریلوے سٹیشن پر قبضے کا کام سونپا گیا۔ پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں سٹیشن پر بغیر کسی لڑائی کے قبضہ کر لیا گیا۔ حکومتی دستہ کہیں تاریکی میں ہی کھو گیا۔ یہ شدید سرد رات ایسی پراسرار حرکات اور مشکوک آوازوں سے بھرپور تھی۔ اپنے دِلوں میں گہری تشویش دبائے سپاہی تمام پیدل اور گاڑی سوار راہگیروں کو روک رہے تھے اور اُن کی دستاویزت دیکھ رہے تھے۔ اُنہیں ہمیشہ پتا نہیں ہوتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ ہچکچاتے تھے اور اکثر لوگوں کو جانے دیتے تھے۔ لیکن ہر گزرنے والے گھنٹے کے ساتھ اعتماد بڑھنے لگا۔ صبح تقریباً چھ بجے سیپر بٹالین والوں نے جنکروں سے بھرے دو ٹرکوں کو روک لیا، جن میں تقریباً ساٹھ لوگ سوار تھے، اُنہیں غیر مسلح کر کے سمولنی بھیج دیا گیا۔
اِسی بٹالین کو خوراک کے گوداموں کی حفاظت کے لئے پندرہ اور بجلی گھر کی حفاظت کے لئے اکیس آدمی بھیجنے کو کہا گیا۔ کسی نے بھی کوئی معمولی سا اعتراض بھی نہیں کیا۔کمیسار کے مطابق ’’احکامات پر فوراً اور مکمل عملدرآمد کیا گیا۔‘‘ سپاہیوں کی نقل و حرکت نے ایسی درستگی حاصل کر لی جو کافی عرصے سے نہیں دیکھی گئی تھی۔ گیریزن جتنا بھی لاغر اور بوسیدہ تھا، اُس دن فوجی تربیت دوبارہ جاگ اٹھی اور ایک نئے مقصد کے لئے تمام پٹھے اور رگیں تن گئیں۔
کمیسار یورالوف کو دو احکامات ملے: پہلا، رجعتی پرچے ’رسکایا وولیا‘ کے چھاپہ خانے پر قبضہ؛ دوسرا، اُس سیمینوف محافظ رجمنٹ سے فوجی دستہ حاصل کرنا جسے حکومت پرانے وقتوں کی یاد میں ابھی تک اپنا سمجھ رہی تھی۔ سیمینوف رجمنٹ والوں کی ضرورت چھاپہ خانے پر قبضے کے لئے تھی اور چھاپہ خانے کی ضرورت بالشویک پرچے کی بڑے فارمیٹ اور زیادہ تعداد میں اشاعت کے لئے تھی۔ سپاہی سونے کے لئے لیٹ چکے تھے۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے کمیسار نے اُنہیں اپنی آمد کے مقصد سے مختصراً آگاہ کیا۔ ’’میں نے ابھی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ ’آہا!‘ کے نعرے ہر طرف سے بلند ہونے لگے۔ سپاہی اپنے بستروں سے چھلانگیں لگا کر اترے اور ایک تنگ گھیرے میں میرے گرد جمع ہونے لگے۔‘‘ سیمینوف رجمنٹ کے سپاہیوں سے بھرا ٹرک چھاپہ خانے پہنچا۔ رات کی شفٹ کے مزدور جلدی سے روٹری مشینوں والے کمرے میں اکٹھے ہوگئے۔ کمیسار نے بتایا کہ وہ کیوں آیا تھا۔ ’’… اور یہاں بھی بیرکوں کی طرح مزدوروں نے ’آہا!‘ اور ’سوویتیں زندہ باد‘ کے نعروں سے جواب دیا۔‘‘ کام ہو چکا تھا۔ کم و بیش اِسی انداز سے دوسرے اداروں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ کوئی مزاحمت ہی نہیں ہوئی۔ سرکش عوام نے اپنی کہنیوں سے کل کے آقاؤں کو نکال باہر کیا۔
پیٹروگراڈ فوجی ڈسٹرکٹ کے کمانڈر نے بڑے صدر دفتر اور شمالی محاذ کے صدر دفتر کو فوجی تار کے ذریعے اطلاع دی: ’’پیٹروگراڈ میں صورتحال خوفناک ہے۔کوئی بدنظمی یا مظاہرے نہیں ہیں لیکن اداروں اور ریلوے سٹیشنوں پر منظم قبضہ اور گرفتاریاں جاری ہیں… جنکروں کے دستے کسی مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈال رہے ہیں… کوئی ضمانت نہیں ہے کہ عبوری حکومت پر قبضے کی کوشش نہیں ہو گی۔‘‘ پولکونیکوف ٹھیک کہہ رہا تھا: اُن کے پاس کوئی ضمانت نہیں تھی۔
فوجی حلقوں میں افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ عسکری انقلابی کمیٹی کے کارندوں نے پیٹروگراڈ کے کمانڈر کے میز سے گیریزن کے سنتریوں کا پاس ورڈ چرا لیا تھا۔ یہ خارج از امکان نہیں تھا۔ تمام اداروں کے نچلے عملے میں سرکشی کے بہت سے دوست اور ہمدرد تھے۔ تاہم پاس ورڈ چرانے کا یہ قصہ ایک خیالی کہانی ہے جو مخالف کیمپ نے اُس شرمناک آسانی کی وضاحت کے لئے گھڑی جس سے بالشویک دستوں نے شہر کو قبضے میں لے لیا تھا۔
رات کے دوران پورے شہر میں سمولنی نے ایک حکم جاری کیا: عسکری انقلابی کمیٹی کی عملداری کو نہ ماننے والے افسروں کو گرفتار کر لیا جائے۔ کئی رجمنٹوں کے کمانڈر خود ہی بھاگ گئے اور کئی بے چین دِن روپوشی میں گزارے۔ دوسرے یونٹوں میں افسروں کو ہٹا دیا گیا یا گرفتار کر لیا گیا۔ ہر جگہ خصوصی انقلابی کمیٹیاں اور عملے تشکیل دئیے گئے جو کمیساروں کے شانہ بشانہ سرگرم تھے۔ یہ واضح ہے کہ یہ برجستہ کمان عسکری نقطہ نظر سے بہت اعلیٰ نہیں تھی۔ تاہم یہ قابل اعتماد تھی اور یہاں سوال کا فیصلہ سب سے پہلے سیاسی طور پر ہو رہا تھا۔
تاہم یہ بتانا ضروری ہے تجربے کی تمام تر کمی کے باوجود کئی یونٹوں کی قیادتوں نے قابل ذکر عسکری پیش قدمی کا مظاہرہ کیا۔ پیولووسکی رجمنٹ کی کمیٹی نے پیٹروگراڈ کے فوجی صدر دفتر میں جاسوس بھیجے، تاکہ معلوم کیا جائے کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔ کیمیکل ریزرو بٹالین نے اپنے بے چین ہمسایوں، یعنی پیلووسکی اور ولادیمیرسکی سکولوں کے جنکروں اور کیڈٹ کور کے طلبہ پر گہری نظر رکھی۔ وہ وقتاً فوقتاً جنکروں کو غیر مسلح کرتے تھے اور یوں اُنہیں مرعوب رکھتے تھے۔ پیولووسکی سکول کے سپاہیوں سے رابطہ کر کے کیمیکل بٹالین کی قیادت نے یقینی بنایا کہ ہتھیاروں کی چابیاں سپاہیوں کے ہاتھوں میں رہیں۔
دارالحکومت پر اِس شبینہ قبضے میں براہِ راست طور پر شامل قوتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے، نہ صرف اِس لئے کہ کسی نے اُن کی گنتی نہیں کی، بلکہ کاروائیوں کے کردار کی وجہ سے بھی۔ دوسرے اور تیسرے درجے کے ریزرو دستے مجموعی طور پر گیریزن میں ضم ہو گئے تھے۔ لیکن ریزرو دستوں کی مدد کی ضرورت کبھی کبھار ہی پیش آتی تھی۔ کئی ہزار سرخ محافظ، تین ہزار جہازی (کل کرونسٹٹ اور ہلسنگفورس والوں کی آمد کے بعد اِن کی تعداد تین گنا ہو جائے گی) اور کچھ پیادہ کمپنیاں: یہی وہ پہلے یا دوسرے درجے کی قوتیں تھیں جن کی مدد سے سرکشوں نے دارالحکومت پر قبضہ کیا۔
صبح 3:20 بجے وزارت جنگ کی سیاسی انتظامیہ کے سربراہ منشویک شیر نے یہ معلومات براہِ راست تار سے قفقاز بھیجیں: ’’مرکزی مجلس عاملہ کے ساتھ سوویتوں کی کانگریس کے لئے آنے والے مندوبین کی نشست جاری ہے، جس میں وسیع اکثریت بالشویکوں کی ہے۔ ٹراٹسکی کا پرجوش استقبال کیا گیا ہے۔اُس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرکشی کی بے خون فتح کی امید کرتا ہے،کیونکہ اقتدار اُن کے ہاتھوں میں ہے۔ بالشویکوں نے فعال کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اُنہوں نے نکولائیوسکی پُل پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں بکتر بند گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں۔ پیولووسکی رجمنٹ نے سرما محل کے قریب ملیونی شاہراہ پر ناکے لگا دئیے ہیں، ہر کسی کو روک رہے ہیں، گرفتاریاں کر رہے ہیں اور اُنہیں سمولنی انسٹیٹیوٹ بھیج رہے ہیں۔ اُنہوں نے وزیر کارٹاشے اور عبوری حکومت کے منتظم اعلیٰ ہالپیرن کو گرفتار کر لیا ہے۔بالٹک ریلوے سٹیشن بھی بالشویکوں کے قبضے میں ہے۔ اگر محاذ مداخلت نہیں کرتا تو دستیاب قوتوں سے حکومت مزاحمت نہیں کر پائے گی۔‘‘
مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس، جس کا ذکر لیفٹنٹ شیر نے کیا ہے، سمولنی میں آدھی رات کو غیرمعمولی حالات میں شروع ہوا۔ سوویتوں کی کانگریس کے مندوبین نے مہمانوں کی حیثیت سے ہال کو بھر رکھا تھا۔ داخلی راستوں اور راہداریوں پر سخت پہرہ تھا۔ کھڑکیوں پر سرمئی فوجی کوٹ، رائفلیں اور مشین گنیں ہی نظر آ رہی تھیں۔ مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین اِس وسیع اور مخالف ہجوم میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ’’جمہوریت‘‘ کا یہ اعلیٰ ادارہ ابھی سے سرکشی کا قیدی لگ رہا تھا۔ صدر شکائدز کی جانی پہچانی شخصیت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ترجمان سریتیلی بھی غائب تھا۔ واقعات کے پلٹے سے خوفزدہ ہو کر وہ دونوں اپنے ذمہ دار عہدوں سے دستبردار ہو گئے تھے اور پیٹروگراڈ چھوڑ کر اپنے جارجیائی دیس سدھار گئے تھے۔ مصالحت پسند اتحاد کے رہنما کے طور پر ڈین موجود تھا۔ اُس میں شکائدز جیسی مکارانہ حسِ مزاح اور سریتیلی جیسی متاثر کن خطابت کا فقدان تھا۔ لیکن ڈھٹائی بھری تنگ نظری میں اُن دونوں سے آگے تھا۔ صدارتی نشست پر تنہا بیٹھے سوشل انقلابی گوٹز نے اجلاس کا آغاز کیا۔ مکمل خاموشی، جو سوخانوف کو مجہول اور جان ریڈ کو ’’تقریباً خطرناک‘‘ لگ رہی تھی، میں ڈین نے بات کا آغاز کیا۔ ڈین کا موضوع اُس عبوری پارلیمنٹ کی نئی قرارداد تھی جس نے اپنے ہی نعروں کی مرتی ہوئی بازگشت سے سرکشی کی مخالفت کی کوشش کی تھی۔ بالشویکوں کو عوام کی ناگزیر بھوک اور تنزلی سے ڈراتے ہوئے ڈین چلّایا، ’’اگر آپ اِس فیصلے پر غور نہیں کرتے تو بہت دیر ہو جائے گی۔ردِا نقلاب اِس سے پہلے کبھی اتنا مضبوط نہیں تھا۔‘‘ عظیم واقعات کے روبرو کھڑے اِس پیٹی بورژوا کو خطرات اور رکاوٹوں کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اُس کا واحد سہارا خوف کی ہچکیاں تھیں۔ ’’فیکٹریوں اور بیرکوں میں بلیک ہنڈرڈ پریس کو سوشلسٹ پریس سے کہیں زیادہ کامیابی مل رہی ہے۔‘‘ بالکل 1905ء کی طرح ’’جب پیٹروگراڈ سوویت کا صدر یہی ٹراٹسکی تھا‘‘ اب بھی جنونی لوگ انقلاب کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بالکل نہیں، مرکزی مجلس عاملہ کسی صورت سرکشی کی اجازت نہیں دے گی۔’’اِس کی لاش پر سے گزر کر ہی ایسا ہو سکتا ہے۔‘‘ نشستوں سے آواز بلند ہوئی: ’’یہ کب کی مر چکی ہے!‘‘ سارے ہال نے اِس آواز کی مناسبت کو محسوس کیا۔ مصالحت کی لاش پر سے بورژوازی اور پرولتاریہ کب کے گزر چکے تھے۔ مقرر کی آواز مخالفت کے شور میں ڈوب جاتی ہے، اُس کی استدعائیں بے اثر ہیں، اُس کا میز بجانا بے کار ہے، اُس کی دھمکیوں سے کوئی نہیں ڈرتا۔ بہت دیر ہو چکی ہے! بہت دیر!
جی ہاں، یہ سرکشی ہے! عسکری انقلابی کمیٹی، بالشویک پارٹی، پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی طرف سے جواب دیتے ہوئے ٹراٹسکی اب آخری بندش بھی توڑ دیتا ہے: ہاں! عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہم اُنہیں حملے کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں! اجلاس کے شرکا سے مخاطب ہو کر وہ کہتا ہے،’’اگر تم لڑکھڑائے نہیں تو کوئی خانہ جنگی نہیں ہو گی، کیونکہ دشمن فوراً ہار تسلیم کر لے گا اور تم روس کے مالک کا وہ مقام حاصل کر لو گے جس کے تم مستحق ہو۔‘‘ اب تک تمام تر حقائق کے باوجود سمولنی کی دفاعی لفاظی نے مصالحت پسندوں میں امید کی چنگاری بچا رکھی تھی۔ اب وہ بھی بجھ گئی۔ گہری رات کے اُن لمحات میں سرکشی نے اپنا سر بلند کر لیا۔
واقعات سے بھرپور یہ اجلاس صبح چار بجے ختم ہوا۔چبوترے پر نمودار ہونے کے بعد بالشویک مقررین فوراً عسکری انقلابی کمیٹی میں واپس آ جاتے تھے، جہاں شہر کے تمام کونوں سے حوصلہ افزا خبریں آ رہی تھیں۔ سڑکوں پر گشت کرنے والے دستے اپنا کام کر رہے تھے، ایک کے بعد دوسرے حکومتی ادارے پر قبضہ ہو رہا تھا، دشمن کہیں بھی مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔
خیال تھا کہ مرکزی ٹیلی فون ایکسچینج کو خصوصی طور پر حصار بند کیا گیا ہو گا، لیکن صبح سات بجے اس پر بھی کیکسگولمسکی رجمنٹ کی ایک کمپنی نے بغیر کسی لڑائی کے قبضہ کر لیا۔ سرکشی کرنے والوں کو اب نہ صرف اپنے ٹیلیفون رابطوں کی کوئی فکر نہیں تھی بلکہ دشمن کے رابطوں کو بھی کنٹرول کر رہے تھے۔ سرما محل اور مرکزی صدر دفتر کا رابطہ فوراً منقطع کر دیا گیا۔
ٹیلیفون ایکسچینج پر قبضے کے فوراً بعد تقریباً چالیس جہازیوں نے سٹیٹ بینک کی عمارت پر بھی قبضہ کر لیا۔ بینک کا کلرک رالزیوچ یاد کرتا ہے کہ جہازی ’’مستعدی سے کام کر رہے تھے‘‘ اور باہر سے کسی ممکنہ امداد کو روکنے کے لئے ہر ٹیلیفون پر ایک سنتری کھڑا کر دیا۔ عمارت پر قبضہ ’’سیمینووسکی رجمنٹ کے ایک دستے کی موجودگی کے باوجود کسی مزاحمت کے بغیر‘‘ مکمل ہو گیا۔بینک پر قبضہ کسی حد تک ایک علامتی اہمیت کا حامل تھا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 1871ء کے پیرس کمیون کے رہنماؤں نے سٹیٹ بینک پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت نہیں کی تھی۔ پارٹی کیڈروں کی تربیت پیرس کمیون پر مارکسی تنقید کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ بہت سے بالشویک 25 اکتوبر سے بہت عرصہ قبل ہی خود سے کہہ رہے تھے، ’’ہم یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔‘‘ بورژوازی کے سب سے مقدس ادارے پر قبضے کی خبر سارے علاقوں میں خوشی کی لہر دوڑاتے ہوئے تیزی سے پھیل گئی۔
صبح کے ابتدائی اوقات میں وارسا ریلوے سٹیشن، ’سٹاک ایکسچینج نیوز‘ کے چھاپہ خانے اور دورتسووی پُل پر قبضہ کر لیا گیا۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے ایک کمیسار نے کریسٹی جیل میں وولنسکی رجمنٹ کے سنتریوں کو ایک قرارداد دکھائی، جس میں سوویت کی فہرستوں کے مطابق بہت سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جیل انتظامیہ نے وزیر انصاف سے ہدایات لینے کی ناکام کوشش کی: وہ ہدایات دینے کے قابل نہیں رہا تھا۔ رہا ہونے والے بالشویکوں، جن میں کرونسٹٹ کا نوجوان رہنما روشال بھی شامل تھا،کو فو راً عسکری ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔
صبح کے وقت جنکروں کی ایک جماعت، جو خوراک کی تلاش میں سرما محل سے نکلی تھی اور جسے نکولائیوسکی سٹیشن پر دھر لیا گیا تھا، کو سمولنی لایا گیا۔پوڈووئسکی بتاتا ہے: ’’ٹراٹسکی نے اُنہیں کہا کہ وہ اِس شرط پر آزاد ہیں اور واپس اپنے سکول جا سکتے ہیں کہ آئندہ سوویت اقتدار کے خلاف کسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا وعدہ کریں۔ بھیانک انجام کی توقع کرنے والے یہ نوجوان ناقابل بیان حد تک حیران رہ گئے۔‘‘اُن کی رہائی کا فیصلہ کس حد تک معقول تھا؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ دشمن کی کلیدی طاقت یہ جنکر ہی تھے۔ دوسری طرف فوجی سکولوں میں لڑکھڑاتے مزاج کے پیش نظر یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ چپ چاپ ہتھیار ڈال دینے پر جنکروں کو سزا نہیں دی جائے گی۔ دونوں سمتوں میں دلائل مساوی معلوم ہوتے ہیں۔
وزارت جنگ، جس پر ابھی تک قبضہ نہیں کیا گیا تھا، سے جنرل لیوٹسکی نے صدر دفتر میں جنرل ڈخونن کو براہِ راست تار بھیجا: ’’پیٹروگراڈ گیریزن کے دستے بالشویکوں کیساتھ مل گئے ہیں۔کرونسٹٹ سے ایک جنگی جہاز اور جہازی آ گئے ہیں۔اُنہوں نے اٹھائے ہوئے پُل کھول دئیے ہیں۔سارے شہر میں گیریزن کے سنتری پھیلے ہوئے ہیں۔ٹیلیفون ایکسچینج پر گیریزن کا قبضہ ہے۔سرما محل میں موجود دستے صرف رسمی طور پر ہی اِس کا دفاع کر رہے ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ عبوری حکومت خود کو اب ایک ایسی دشمن ریاست کے دارالحکومت میں موجود پا رہی ہے جس نے صف بندی اور تیاری مکمل کر لی ہے لیکن ابھی متحرک کاروائیاں شروع نہیں کی ہیں۔‘‘انمول عسکری اور سیاسی شہادت ہے! عقب کے جرنیلوں اور جمہوریت پسندوں کے پاس محاذ کے بارے میں خوش فہمیوں کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔بہرحال ’’خود کو دشمن ریاست کے دارالحکومت میں موجود ‘‘ پانے والی عبوری حکومت کی منظر کشی کو انقلاب کی تاریخ میں اکتوبر سرکشی کی سب سے بہترین ممکنہ وضاحت شمار کیا جائے گا۔
سمولنی میں مسلسل اجلاس جاری ہیں۔ ایجی ٹیٹر، منتظمین اور فیکٹریوں، رجمنٹوں اور علاقوں کے رہنما چند منٹوں کے لئے خبریں لینے آتے ہیں اور اپنی جگہوں پر واپس چلے جاتے ہیں۔ کمرہ نمبر 18، جو سوویت کے بالشویک دھڑے کا دفتر تھا، کے سامنے ناقابل بیان بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ آنے والے انتہائی تھکے ہوئے ہیں اور اپنے بھاری سر سفید ستون سے لگا کر کمرۂ اجلاس میں ہی سو جاتے ہیں، یا پھر اپنی رائفلوں کو گلے لگا کر راہداریوں میں دیواروں سے ٹیک لگا لیتے ہیں، یا پھر بعض اوقات تو کیچڑ میں لت پت گیلے فرش پر ہی لیٹ جاتے ہیں۔ لاشیوچ آنے والے فوجی کمیساروں سے مل رہا ہے اور اُنہیں حتمی ہدایات جاری کر رہا ہے۔ تیسری منزل پر عسکری انقلابی کمیٹی کے دفتر میں تمام اطراف سے آنے والی اطلاعات کو احکامات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہاں سرکشی کا دِل دھڑک رہا ہے!
علاقائی مراکز ایک چھوٹے پیمانے پر سمولنی کا ہی منظر پیش کر رہے ہیں۔ وائبورگ کے علاقے میں سیمسونیوسکی شاہراہ پر سرخ محافظوں کے صدر دفتر کے سامنے ایک پورا کیمپ لگایا گیا ہے: ویگنوں، مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں سے ساری سڑک بھری ہوئی ہے۔ علاقے کے اداروں میں مسلح مزدور پھیلے ہوئے ہیں۔ سوویت، دوما، ٹریڈ یونینیں، فیکٹری اور علاقہ کمیٹیاں، غرضیکہ علاقے کی ہر چیز سرکشی کے فرائض ادا کر رہی ہے۔ فیکٹریوں، بیرکوں اور کئی دوسرے اداروں میں یہی چیز ایک چھوٹے پیمانے پر ہو رہی ہے: وہ کچھ لوگوں کو نکال باہر کر رہے ہیں اور کچھ دوسروں کو منتخب کر رہے ہیں، پرانے بندھوں کے آخری دھاگے کاٹ رہے ہیں، نئے بندھوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ جو کبھی پسماندہ تھے وہ اب عسکری انقلابی کمیٹی کی اطاعت کی قراردادیں منظور کر رہے ہیں۔ فیکٹریوں کی انتظامیہ اور فوج کے افسروں کے ساتھ منشویک اور سوشل انقلابی بھی ڈر کے مارے سکڑ رہے ہیں۔ مسلسل اجلاسوں میں تازہ معلومات دی جا رہی ہیں، حوصلہ بلند اور روابط مستحکم کئے جا رہے ہیں۔ عوام ایک نئے محور کے گرد مجتمع ہو رہے ہیں۔ انقلاب خود کو برپا کر رہا ہے!
اِس کتاب میں ہم نے اکتوبر کی سرکشی کے ارتقا کو بتدریج دیکھنے کی کوشش کی ہے: مزدور عوام میں گہری ہوتی ہوئی بے چینی، سوویتوں کا بالشویک پرچم تلے آنا، فوج کا غیض و غضب، زمینداروں کے خلاف کسانوں کی مہم، قومی تحریک کا ابھار، ملکیتی اور حکمران طبقات کا بڑھتا ہوا خوف اور آخر میں خود بالشویک پارٹی میں سرکشی کی جدوجہد۔ اِس سب کے بعد انقلاب کی آخری کاروائی بہت مختصر، بہت خشک، بہت عملی سی معلوم ہوتی ہے۔ قاری کو ایک طرح کی مایوسی ہوتی ہے۔ وہ ایک کوہ پیما کی طرح ہے، جو یہ سوچتے ہوئے کہ اصل مشکلات ابھی آنی ہیں، اچانک دریافت کرتا ہے کہ وہ چوٹی پر پہنچ بھی چکا ہے۔ سرکشی کہاں ہے؟ یہ سرکشی کا منظر تو نہیں ہے۔واقعات اِس منظر میں بیٹھ نہیں رہے ہیں۔ وسیع تر عوام کی کوئی کاروائی نہیں ہے۔ کوئی ڈرامائی معرکے نہیں ہیں۔ تاریخ کے حقائق پر پلنے والا تخیل جو کچھ سرکشی کے خیال سے منسوب کرتا ہے ویسا کچھ نہیں ہے۔
دارالحکومت میں انقلاب کے عمومی کردار نے بعد ازاں کئی دوسروں سمیت میسارک کو یہ لکھنے پر اکسایا: ’’اکتوبر انقلاب کم از کم ایک عوامی تحریک نہیں تھا۔ یہ انقلاب ایسے رہنماؤں کی کارستانی تھا جو اوپر سے اور پس پردہ کام کر رہے تھے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی عوامی سرکشی تھی۔ مزدوروں کو یکجا ہونے کے لئے چوراہے پر آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اس کے بغیر ہی سیاسی اور اخلاقی طور پر ایک اکائی بن چکے تھے۔ حتیٰ کہ سپاہیوں کو خود عسکری انقلابی کمیٹی نے بغیر اجازت بیرکوں سے نکلنے سے منع کر دیاتھا۔ لیکن یہ نہ نظر آنے والے عوام ہمیشہ سے زیادہ واقعات کے ساتھ چل رہے تھے۔ فیکٹریوں اور بیرکوں کا رابطہ ایک منٹ کے لئے اپنے علاقائی صدر دفتر اور علاقائی صدر دفتر کا رابطہ ایک منٹ کے لئے سمولنی سے منقطع نہیں ہوا۔ سرخ محافظوں کے پیچھے فیکٹریوں کی حمایت تھی۔ بیرک واپس پہنچنے والے سپاہیوں کو نئی شفٹ تیار ملتی تھی۔ اپنے پیچھے بھاری کمک کے ساتھ ہی انقلابی دستے اتنے اعتماد سے اپنا کام کر سکتے تھے۔ دوسری طرف حکومت کے بکھرے ہوئے دستوں کو اپنی تنہائی کا پیشگی یقین تھا، لہٰذا اُنہوں نے مزاحمت کا خیال ہی ترک کر دیا۔ بورژوا طبقات کو سڑکوں پر مورچوں، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور خون کے دریاؤں کی توقع تھی۔ لیکن حقیقت میں ایک سکوت طاری رہا، جو دنیا کی تمام گھن گرج سے زیادہ خوفناک تھا۔ سماجی زمین کسی شور کے بغیر ایک گھومنے والے سٹیج کی طرح بدل گئی اور کل کے حکمران کو برزخ میں پھینک کر عوام کو سامنے لے آئی۔
25 تاریخ کی صبح دس بجے ہی سمولنی نے دارالحکومت اور سارے ملک میں فتح کا اعلان نشر کرنا ممکن سمجھا: ’’عبوری حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ریاستی اقتدار عسکری انقلابی کمیٹی کو منتقل ہو چکا ہے۔‘‘ ایک لحاظ سے یہ اعلان ابھی قبل از وقت تھا۔ کم از کم سرما محل کی حدود میں حکومت ابھی تک موجود تھی۔صدر دفتر بھی موجود تھا؛ صوبوں نے اپنا اظہار نہیں کیا تھا؛ سوویتوں کی کانگریس کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ لیکن سرکشی کے رہنما کوئی تاریخ دان نہیں ہوتے ہیں؛ تاریخ دانوں کے لئے واقعات مرتب کرنے کے لئے اُنہیں واقعات کی پیش بندی کرنا ہوتی تھی۔ دارالحکومت میں عسکری انقلابی کمیٹی مختارِ کُل بن چکی تھی۔ کانگریس کی منظوری پر کوئی شک نہیں تھا۔ صوبوں کو پیٹروگراڈ کی پیش قدمی کا انتظار تھا۔ حکومت پر مکمل قبضے کے لئے حکومت کی طرح پیش آنا ضروری تھا۔ محاذ اور عقب کی فوجی تنظیموں کے نام اعلانِ عام میں عسکری انقلابی کمیٹی نے سپاہیوں پر زور دیا کہ افسروں کے طرز عمل پر کڑی نظر رکھیں، انقلاب سے وابستہ نہ ہونے والے افسروں کو گرفتار کریں اور پیٹروگراڈ کے خلاف دشمن ڈویژن بھیجنے کی کوشش کی صورت میں طاقت کے استعمال سے گریز نہ کریں۔
ایک رات پہلے صدر دفتر کے اعلیٰ کمیسار سٹینکیوچ نے صبح فوجی انجینئرنگ طلبہ کی آدھی کمپنی کے ذریعے ٹیلی فون ایکسچینج سے بالشویکوں کا صفایا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یوں جنکروں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ایکسچینج پر کس کا قبضہ تھا۔ عمارت پر قابض جہازی بڑے آرام سے کھڑکیوں میں سے جنکروں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ لیکن سرکشی کرنے والوں کی پوری کوشش تھی کہ خونریزی سے بچا جائے۔سٹینکیوچ نے بھی گولی نہ چلانے کے سخت احکامات دئیے تھے کہ کہیں جنکروں پر لوگوں پر گولی چلانے کا الزام نہ لگ جائے۔ لیکن جنکروں کی کمان کرنے والے افسر نے خود سے کہا: ’’ایک بار نظم و نسق بحال ہو گیا تو بولنے کی جرات کون کرے گا؟‘‘ اور سرما محل سے دستی بم اور دھماکہ خیز مواد منگوانے کے لئے بندے روانہ کر دئیے۔ اِسی دوران ایکسچینج کے گیٹ پر ایک شاہ پرست لیفٹنٹ کی ایک بالشویک حوالدار سے تکرار شروع ہو گئی۔ ہومرؔ کی نظموں کے سورماؤں کی طرح وہ لڑائی سے پہلے ایک دوسرے کو القابات سے نواز رہے تھے۔ دونوں طرف سے آگ میں پھنس جانے والی ٹیلی فون آپریٹروں نے ڈر کے مارے شور مچانا شروع کر دیا۔ جہازیوں نے اُنہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔ وہ چیخیں مارتے ہوئے گیٹ سے باہر بھاگ گئیں۔ جہازی کسی نہ کسی طرح سوئچ بورڈ کا کام خود انجام دینے لگے۔ جلد ہی سرخ محافظوں کی ایک بکتر بند گاڑی ایکسچینج کے صحن میں داخل ہوئی۔ جنکروں نے بھی دو ٹرک قبضے میں لے لئے اور ایکسچینج کے گیٹ کے باہر مورچہ لگا لیا۔ نیوسکی والی طرف سے ایک دوسری اور پھر ایک تیسری بکتر بند گاڑی نمودار ہوئی۔ سارا معاملہ ایک دوسرے کو ڈرانے کی کوششوں تک محدود ہو گیا۔ ایکسچینج کی جدوجہد کا فیصلہ بغیر لڑائی کے ہی ہو گیا: سٹینکیوچ نے اپنے جنکروں کو محفوظ راستہ دئیے جانے کی شرط پر محاصرہ اٹھا لیا۔
ہتھیار ابھی تک طاقت کی بیرونی علامت کا کام کر رہے ہیں: اُنہیں استعمال میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ سرما محل جانے والے راستے پر جنکروں کی آدھی کمپنی کا سامنا جہازیوں کے عملے سے ہوتا ہے، جن کی رائفلیں گولی چلانے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ لیکن دشمن ایک دوسرے کو صرف گھورتے ہیں۔ کوئی بھی طرف لڑنا نہیں چاہتی: ایک کو اپنی طاقت کا ادراک ہے اور دوسری کو اپنی کمزوری کا۔ لیکن جہاں کہیں موقع ملتا ہے، سرکشی کرنے والے، بالخصوص مزدور، دشمن کو فوراً غیر مسلح کر دیتے ہیں۔ اِنہی جنکروں کی دوسری آدھی کمپنی کو سرخ محافظوں اور سپاہیوں نے گھیر لیا، بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے غیر مسلح کیا اور قیدی بنا لیا۔ لیکن یہاں بھی کوئی تصادم نہیں ہوا، جنکروں نے لڑائی نہ کی۔ سٹینکیوچ کہتا ہے، ’’یوں، جہاں تک مجھے پتا ہے، بالشویکوں کے خلاف فعال مزاحمت کی واحد کوشش اپنے انجام کو پہنچی۔‘‘
دوپہر تک مارینسکی محل کے ارد گرد کی سڑکوں کو عسکری انقلابی کمیٹی کے دستوں نے قبضے میں لے لیا۔ عبوری پارلیمنٹ کے اراکین ایک اجلاس کے لئے جمع ہی ہو رہے تھے۔ صدارتی انتظامیہ نے تازہ خبریں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب معلوم ہوا کہ محل کے ٹیلی فون کاٹ دئیے گئے ہیں تو اُن کے دل بیٹھ گئے۔ مندوبین کونے کھدروں میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ایوکسنٹیف نے تسلی دی: کیرنسکی محاذ پر گیا ہوا ہے اور جلد ہی آکر سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ داخلی راستے پر ایک بکتر بند گاڑی آ رُکی۔ لیٹووسکی اور کیکسگولمسکی رجمنٹوں کے سپاہی اور بحری محافظ فوج کے جہازی عمارت میں داخل ہوئے، سیڑھیوں پر قطار بنا کر کھڑے ہو گئے اور پہلے ہال پر قبضہ کر لیا۔ دستے کے کمانڈر نے مندوبین سے کہا کہ فوراً محل سے نکل جائیں۔ نابوکوف کے مطابق ’’ہر طرف خوف وہراس پھیل گیا۔‘‘ عبوری پارلیمنٹ کے اراکین نے ’’اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے‘‘ منتشر ہو جانے کا فیصلہ کیا۔ اڑتالیس دائیں بازو کے اراکین نے تشدد کی اطاعت کے خلاف ووٹ دیا، اُنہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ اقلیت میں ہوں گے۔ مندوبین رائفلوں کی دو قطاروں کے درمیان چپ چاپ سیڑھیاں اترنے لگے۔ نیچے داخلی دروازے پر جہازی اُن کے کاغذات دیکھ رہے تھے اور جانے دے رہے تھے۔ ملیوکوف، جسے دوسروں کے ساتھ ہی جانے دیا گیا، لکھتا ہے: ’’ہم توقع کر رہے تھے کہ کچھ اراکین کو الگ کیا جائے گا اور گرفتاریاں ہوں گی۔ لیکن انقلابی صدر دفتر کے پاس کرنے کو اور بھی کافی کام تھے۔‘‘ صرف یہی وجہ نہیں ہے۔ انقلابی قیادت کا تجربہ بھی کم تھا۔ ہدایات دی گئی تھیں: حکومت کے اراکین ملیں تو گرفتار کر لو۔لیکن کوئی نہیں ملا۔ عبوری پارلیمنٹ کے اراکین کو جانے دیا گیا، اُن میں وہ بھی شامل تھے جو جلد ہی خانہ جنگی کے منتظمین بن گئے۔
یہ ناجائز پارلیمنٹ، جو عبوری حکومت سے بارہ گھنٹے قبل ختم ہو گئی، اٹھارہ دن قائم رہی: یہ بالشویکوں کے مارینسکی محل سے نکل کر سڑکوں پر آنے اور سڑک کی مسلح قوتوں کے واپس مارینسکی محل جانے کا درمیانی وقت تھا۔ تاریخ میں موجود عوامی نمائندگی کی بے شمار نقالیوں میں سے یہ ’’روسی جمہوریہ کی کونسل‘‘ سب سے زیادہ واہیات تھی۔
بدبخت عمارت سے نکلنے کے بعد اکتوبرسٹ شیڈلووسکی لڑائیوں کی تلاش میں شہر کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا: اِن معززین کا خیال تھا کہ عوام ان کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن کوئی لڑائی نظر نہیں آئی۔ اُلٹا شیڈلووسکی کے مطابق سڑکوں پر لوگ (یعنی نیوسکی شاہراہ [۷] پر امیروں کے مخصوص ہجوم) ہنس رہے تھے۔ ’’تم نے سنا کہ بالشویکوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا؟ یہ تین دن بھی نہیں چل پائے گا۔ ہا ہا ہا!‘‘ لیکن یہ تین دن کافی لمبے ہو گئے!
نیووسکی والوں نے شام کو ہی ہنسنا شروع کیا تھا۔ صبح کے وقت تو ایسا تشویشناک مزاج حاوی تھا کہ بورژوا علاقوں میں کوئی سڑک پر نکلنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ صبح تقریباً نو بجے ایک صحافی خزھنک اخباروں کی تلاش میں کامینوسترووسکی شاہراہ پر پھرتا رہا، لیکن کوئی سٹینڈ نہ ملا۔ شہریوں کے ایک چھوٹے سے گروہ سے اُسے معلوم ہوا کہ بالشویکوں نے رات کے وقت ٹیلیفون، ٹیلی گراف اور بینک پر قبضہ کر لیا تھا۔ مزدوروں کے مسلح دستے گزر رہے تھے۔ ٹرام گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔ نیوسکی شاہرہ کے بارے میں خزھنک لکھتا ہے، ’’راہگیروں کی قلت نے مجھے پریشان کر دیا۔‘‘ ریستورانوں میں کھانا مل رہا تھا، لیکن زیادہ تر پچھلے کمروں میں۔ دوپہر کے وقت بالشویکوں کے زیر قبضہ پیٹر اور پال کے قلعے سے آنے والی توپ کی آواز معمول سے زیادہ بلند تھی نہ مدھم۔ دیواروں اور جنگلوں پر سرکشی کے خلاف تنبیہ کے اشتہار چسپاں تھے، لیکن سرکشی کی فتح کا اعلان کرنے والے اشتہار ابھی راستے میں تھے ۔ انہیں چسپاں کرنے کا وقت نہیں تھا؛ انہیں موٹر گاڑیوں سے پھینکا جا رہا تھا۔ ابھی ابھی چھاپے جانے والے اِن اشتہاروں سے تازہ سیاہی کی مہک ایسے آ رہی تھی گویا تازہ واقعات کی مہک ہو۔
سرخ محافظوں کے دستے اپنے علاقوں سے نکلے تھے۔ رائفل تھامے مزدور، ٹوپی سے بلند سنگین، سویلین کوٹ کے اوپر رائفل کی بیلٹ… یہی 25 اکتوبر کا بنیادی منظر تھا۔ احتیاط لیکن ابھی تک کچھ ہچکچاہٹ سے مسلح مزدوراُس دارالحکومت میں نظم و نسق بحال کر رہا تھا جسے اُس نے فتح کیا تھا۔ سڑکوں کا سکون دلوں میں بھی سکون پیدا کر رہا تھا۔ بورژوا لوگ اب اپنے گھروں سے نکل رہے تھے۔ شام کے وقت تک وہ پچھلے دنوں کی نسبت کم پریشان تھے۔ حکومتی اور عوامی اداروں میں کام رُک گیا تھا، لیکن بہت سی دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ باقی ضرورت سے زیادہ احتیاط کے تحت بند تھیں۔ کیا یہ ایک سرکشی ہو سکتی ہے؟ کیا سرکشی ایسی ہوتی ہے؟ بس فروری کے سنتریوں کی جگہ اکتوبر کے سنتریوں نے لے لی ہے۔
شام تک نیوسکی شاہراہ اُن لوگوں سے معمول سے بھی زیادہ بھری ہوئی تھی جو بالشویکوں کو تین دن کی زندگی دے رہے تھے۔ پیولووسکی رجمنٹ کے سپاہیوں کی چوکیوں کو اگرچہ بکتر بند گاڑیوں، حتیٰ کہ طیارہ شکن بندوقوں تک سے مضبوط بنایا گیا تھا، لیکن وہ اب دھاک نہیں بٹھا پا رہے تھے۔ ایک امریکی صحافی نے پوستین کے مہنگے کوٹوں میں ملبوس بوڑھے آدمیوں کو پیولووسکی کے سپاہیوں کو مٹھیاں دکھاتے اور زرق برق لباسوں میں ملبوس خواتین کو اُنہیں منہ پر گالیاں بکتے دیکھا۔ ’’سپاہی بچارے کھسیانے ہو رہے تھے۔‘‘ وہ دولت مندوں کی اِس نیوسکی شاہراہ پر عجیب شش و پنج میں مبتلا تھے جسے ابھی ’’25 اکتوبر کی شاہراہ‘‘ میں تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔
پیٹروگراڈ میں سرکاری فرانسیسی صحافی کلاڈ اینٹ واقعی حیران تھا کہ اِن احمق روسیوں کا انقلاب بالکل بھی ویسا نہیں جیسا اُس نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا۔ ’’شہر بالکل خاموش ہے۔‘‘ وہ اپنے دستوں کو ٹیلیفون کرتا ہے، مہمانوں سے ملتا ہے اور دوپہر کو گھر سے نکلتا ہے۔ موئیکا شاہراہ پر اُس کا راستہ روکنے والے سپاہی مکمل نظم و ترتیب سے مارچ کر رہے ہیں،’’جیسے پرانی حکومت کے تحت کرتے تھے!‘‘ ملیونی شاہراہ پر بے شمار دستے گشت کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی گولی باری نہیں ہو رہی ہے۔ دوپہر کے وقت بھی سرما محل کا وسیع چوک کم و بیش خالی ہے۔ مورسکایا اور نیوسکی پر دستے گشت کر رہے ہیں۔ سپاہی بالکل فوجی انداز سے چل رہے ہیں اور صاف ستھری وردیوں میں ملبوس ہیں۔ پہلی نظر میں تو ایسا لگتا جیسے یہ حکومت کے دستے ہیں۔ مارینسکی چو ک سے اینٹ عبوری پارلیمنٹ جانا چاہتا ہے۔ لیکن اُسے ’’واقعی بہت خوش اخلاق‘‘ سپاہی اور جہازی چوک پر روک دیتے ہیں۔ محل کی طرف جانے والی دونوں سڑکوں کو موٹر گاڑیوں اور ویگنوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ سب سمولنی کے ماتحت ہیں۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے سارے شہر میں گشت کے لئے دستے بھیجے ہیں، سنتری تعینات کئے ہیں، عبوری پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے، دارالحکومت کی کمان سنبھال لی ہے اور ایسا نظم و نسق قائم کیا ہے جو ’’انقلاب کے آغاز کے بعد سے نظر نہیں آیا تھا۔‘‘ شام کے وقت جمعدارنی اپنے فرانسیسی مہمان کو بتاتی ہے کہ سوویت کے صدر دفتر نے ٹیلیفون نمبر جاری کئے ہیں، جن سے کسی حملے یا مشکوک تلاشیوں کی صورت میں فوری مدد کے لئے کسی بھی وقت رابطہ کیا جاسکتا ہے۔’’ہم اِس سے زیادہ محفوظ پہلے کبھی نہ تھے۔‘‘
دوپہر 2:35 بجے سوویت کے ہنگامی اجلاس کا آغاز ٹراٹسکی کی رپورٹ سے ہوا، جس نے عسکری انقلابی کمیٹی کی طرف سے اعلان کیا کہ عبوری حکومت کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ ’’وہ ہمیں کہہ رہے تھے کہ سرکشی انقلاب کو خون کے سیلاب میں ڈبو دے گی… لیکن ہمیں تو کسی ایک موت کا بھی نہیں پتا۔‘‘ تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں عوام پر مشتمل کسی انقلابی تحریک کے اتنے بے خون ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔’’سرما محل پر ابھی قبضہ نہیں ہوا تھا، لیکن اس کے مقدر کا فیصلہ اگلے چند منٹوں میں ہو جائے گا۔‘‘ آنے والے بارہ گھنٹوں نے ثابت کیا کہ یہ پیش گوئی کچھ زیادہ ہی رجائیت پسندانہ تھی۔
ٹراٹسکی نے کہا: ’’پیٹروگراڈ کے خلاف محاذ کے دستوں کو متحرک کیا گیا ہے؛ ضروری ہے کہ سوویتوں کے کمیساروں کو فوراً محاذ اور سارے ملک میں یہ بتانے کے لئے بھیجا جائے کہ انقلاب برپا ہو چکا ہے۔‘‘ چھوٹے سے دائیں حصے سے آوازیں: ’’تم سوویتوں کی کانگریس کی منشا کا پیشگی فیصلہ کر رہے ہو۔‘‘ مقرر نے جواب دیا: ’’کانگریس کی منشا کا پیشگی فیصلہ پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی سرکشی کی دیوہیکل حقیقت نے کر دیا ہے۔اب اِس فتح کو آگے بڑھانا باقی ہے۔‘‘
لینن، جو روپوشی سے نکلنے کے بعد یہاں پہلی بار سب کے سامنے نمودار ہوا، نے انقلاب کا پروگرام مختصراً واضح کیا: پرانی حکومتی مشینری کو توڑنا؛ سوویتوں کے ذریعے انتظامیہ کا نیا نظام تخلیق کرنا؛ دوسرے ممالک میں انقلابی تحریکوں پر انحصار کرتے ہوئے جنگ کے فوری خاتمے کے اقدامات اٹھانا؛ زمینداروں کے حقوقِ ملکیت کا خاتمہ کر کے کسانوں کا اعتماد حاصل کرنا؛ پیداوار پر مزدوروں کا کنٹرول قائم کرنا۔ اُس نے کہا کہ ’’روس کے اِس تیسرے انقلاب کو آخر کار سوشلزم کی فتح پر منتج ہونا ہو گا!‘‘

*****

[۱] پیٹروگراڈ کا پرانا نام۔
[۲] زارشاہی کا نشان۔
[۳] درجات کی فہرست (Table of Ranks) فوج، حکومت اور شاہی دربار میں عہدوں اور درجات کی باقاعدہ فہرست ہوتی تھی، جو سب سے پہلے 1722ء میں زار پیٹر نے متعارف کروائی تھی۔ بالشویکوں نے برسراقتدار آ کر اِسے ختم کیا۔
[۴] روسی لوک داستانوں کے مشہور سورماؤں میں سے ایک۔
[۵] ’امر واقعہ‘ یا ’’Fait Accompli‘‘ سے مراد کوئی ایسا واقعہ یا معاملہ جو متاثرین کے علم میں آنے سے پہلے ہی رونما ہو چکا ہو اور اب اُسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔
[۶] اِس سٹیشن کا نام ’فن لینڈ سٹیشن‘ ہے، لیکن واقع یہ پیٹرگراڈ کے علاقے میں ہی ہے۔ یہ وہی سٹیشن ہے جہاں اپریل 1917ء میں جلاوطنی سے واپسی پر لینن اترا تھا۔
[۷] جیسا کہ کتاب میں پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ نیوسکی شاہراہ بورژوازی اور امیر طبقات کی آماجگاہ تھی۔