← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

دنیا بھر کی 37 کمیونسٹ پارٹیوں کا ایرانی عوام کی جدوجہد کی حمایت میں مشترکہ بیان

By جدوجہد • 2026-01-27 • 9 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)دنیاکے مختلف ملکوں کی 37 کمیونسٹ پارٹیوں نے ایرانی عوام کی جدوجہد کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ یہ جدوجہد امن، خودمختاری، انسانی حقوق اور جمہوری حقوق، سماجی انصاف، اور سامراجی حملے کے خطرے کے خلاف مزاحمت کے لیے ہے۔

تودہ پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 دسمبر کو تہران میں شروع ہونے والے احتجاج کی صورتحال سے متعلق تفصیلی اور جامع رپورٹس ایک ’برادر پارٹی‘، تودہ پارٹی آف ایران، سے موصول ہوئیں۔ تمام رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے حکام کی جانب سے وسیع پیمانے پر اور سفاکانہ جبر عوام کے جائز احتجاج کے جواب میں کیا گیا، جو قومی کرنسی کی تباہ کن گراوٹ اور عام لوگوں کی زندگی کے حالات کی شدید بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف تھا۔

بیان مزید کہتا ہے کہ 28 دسمبر کو تہران کے بازار میں قومی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج، جو جلد ہی ایران کے دیگر شہروں میں پھیل گئے۔ ان مظاہروں کی جڑیں گہرے عوامی غصے میں تھیں،یہ غصہ ساختی بدعنوانی، دہائیوں کی نیولبرل معاشی پالیسیوں (جنہوں نے لاکھوں ایرانیوں کو بدترین غربت میں دھکیل دیا)، آزادیوں اور جمہوری حقوق کے کچلے جانے، اور دہائیوں سے جاری سامراجی پابندیوں سے پیدا ہوا، جنہوں نے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کمیونسٹ اور مزدور پارٹیاں ایران کے عوام کی جدوجہدکی حمایت کرتی آئی ہیں، جوامن، خودمختاری، انسانی حقوق اور جمہوری حقوق، سماجی انصاف، اور سامراجی حملے کے خطرے کے خلاف مزاحمتی جدوجہد ہے۔ہم اس وقت ایران کی صورتحال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تہران اور دیگر شہروں میں ہونے والی وحشیانہ قتل و غارت اور تباہی کے مناظر دیکھ کر ہم صدمے میں ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ قتل کیے گئے ہیں۔ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے بقول ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جبکہ کچھ سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

ایرانی حکومت نے صورت حال پر مکمل کنٹرول قائم کرنے اور قتل و تشدد کی اصل تعداد اور حد تک اطلاعات پہنچنے سے روکنے کے لیے تقریباً پوری طرح انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ امریکی سامراج اور بنیامین نیتن یاہو کی مجرمانہ حکومت نے مختلف طریقوں سے کوشش کی ہے کہ عوام کے پرامن احتجاجوں کو تشدد کی سمت دھکیلا جائے، ان عوامی تحریکوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جائے، اور ایران میں براہ راست مداخلت کا راستہ ہموار کیا جائے۔ سامراجی میڈیا بھی ایک جعلی بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ گویاایرانی عوام شاہی نظام اور رضا پہلوی کی واپسی چاہتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیونسٹ اور مزدور پارٹیاں امریکہ اور اسرائیل کی مجرمانہ حکومت کی طرف سے ایران پر دوبارہ سامراجی فوجی حملے کی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتی ہیں۔

ہم ایران کے عوام حزب تودہ ایران، اور اس ملک کی ترقی پسند و بائیں بازو کی قوتوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ ایران کے مستقبل کا راستہ طے کرنے کا حق صرف اور صرف ایران کے عوام کو حاصل ہے،اور یہ حق برقرار رہنا چاہیے۔

ان پارٹیوں میں تودہ پارٹی ایران، کمیونسٹ پارٹی آسٹریلیا، کمیونسٹ پارٹی آسٹریا، ورکرز پارٹی آسٹریا، کمیونسٹ پارٹی بنگلہ دیش، بلجیم ورکرز پارٹی، ترقی پسند جمہوری ٹربیون بحرین، کمیونسٹ پارٹی برازیل، کمیونسٹ پارٹی برطانیہ، کمیونسٹ پارٹی کینیڈا، کمیونسٹ پارٹی کاتالونیا، کمیونسٹ پارٹی بوہیمیا و موراویا(چیک ریپبلک)، آکل (AKEL)قبرص، کمیونسٹ پارٹی ڈنمارک، کمیونسٹ پارٹی فرانس، کمیونسٹ پارٹی یونان، کمیونسٹ پارٹی انڈیا، کمیونسٹ پارٹی انڈیا (مارکسسٹ)، کمیونسٹ پارٹی عراق، لیبر پارٹی آئرلینڈ، کمیونسٹ پارٹی اسرائیل، کمیونسٹ پارٹی میکسیکو، کمیونسٹ پارٹی مصر، نیوکمیونسٹ پارٹی نیدرلینڈ، کمیونسٹ پارٹی ناروے، کمیونسٹ پارٹی پاکستان، فلسطین پیپلزپارٹی، کمیونسٹ پارٹی فلپائن، کمیونسٹ پارٹی سربیان، نیو کمیونسٹ پارٹی یوگوسلاویہ، کمیونسٹ پارٹی سوڈان، کمیونسٹ پارٹی سویڈن، کمیونسٹ پارٹی سوئٹزرلینڈ، متحدہ کمیونسٹ پارٹی شام، کمیونسٹ پارٹی ترکی، کمیونسٹ پارٹی امریکہ اورکمیونسٹ پارٹی وینزویلاشامل ہیں۔

ایرانی بلاگر سیاوش شہابی نے لکھا ہے کہ ان پارٹیوں میں سے زیادہ تر قومی روایتوں اور کئی صورتوں میں سٹالن ازم سے متاثر رہی ہیں، لیکن پھر بھی یہ اہم قدم ہے۔