دنیا کے 80 فیصد غریب افراد موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں: اقوام متحدہ
لاہور(جدوجہد رپورٹ)اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ادارے آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (او پی ایچ آئی) کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کثیر الجہتی غربت میں مبتلا تقریباً 80 فیصد افراد براہ راست موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1.1 ارب غریب افراد میں سے 88 کروڑ 70 لاکھ افراد شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی یا فضائی آلودگی جیسے موسمیاتی خطرات سے متاثر ہیں۔
2025 گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس (ایم پی آئی) کی اس رپورٹ میں پہلی بار غربت کے اعداد و شمار کو موسمیاتی خطرات کے ڈیٹا کے ساتھ جوڑ کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ غربت محض ایک سماجی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق ماحولیاتی بحران سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید کثیر الجہتی غربت میں مبتلا افراد میں سے 65 کروڑ سے زائد ایسے ہیں جو ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ 30 کروڑ 90 لاکھ افراد تین یا چار خطرات کی زد میں ہیں۔ یہ افراد صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی جھٹکوں کا بوجھ بھی برداشت کر رہے ہیں۔
یو این ڈی پی کے قائم مقام سربراہ ہاؤلیانگ شو نے کہا کہ عالمی غربت کے خاتمے کے لیے موسمیاتی خطرات سے نمٹنا ناگزیر ہے، کیونکہ تقریباً 90 کروڑ غریب افراد ان خطرات کی زد میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ وہ خطے ہیں جہاں غربت اور موسمیاتی خطرات سب سے زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں 99 فیصد غریب افراد کم از کم ایک موسمیاتی خطرے سے متاثر ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور منصفانہ عالمی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں یہ عدم مساوات مزید بڑھ جائے گی۔