← Back to Newsroom OS پاکستان

راولاکوٹ دھرنا: اگلا مرحلہ، نئی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟

By Roznama Jeddojehad • 2026-06-27 • 8 min read

فاروق سلہریا

10 جون سے راولا کوٹ کے نواح میں شروع ہونے والا دھرنا، تا دمِ تحریر (شام 26 جون )جاری ہے۔ دریں اثناء، پاکستان کے زیر انتظام پوری ریاست جموں کشمیر عام ہڑتال پر ہے۔ اتنی بڑی ہڑتال ، اس ریاست تو کیا شائد پورے برصغیر میں کبھی دیکھنے کو نہ ملی ہو۔ دھرنے سے قبل، راولا کوٹ اور باغ میں جس طرح کا ریاستی تشدد دیکھنے میں آیا، جس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا تھا، اُس کے کے باوجود بھمبر سے لانگ مارچ شروع ہو کر راولا کوٹ پہنچا۔ یہ دھرنا لانگ مارچ منصوبے کا حصہ نہیں تھا مگر ریاستی تشدد نے لانگ مارچ کو دھرنے میں بدل دیا۔ عوامی مزاحمت جس نے دنیا بھر میں پھیلے جموں کشمیر تارکین وطن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، پاکستانی ریاست کو مجبور کیا کہ وہ براہ راست گولیاں برسانے کی بجائے تشدد کے دیگر طریقے اپنائے۔

یاد رہے، لانگ مارچ سے پہلے ہی راولا کوٹ میں گولی چلی۔ کم از کم گیارہ افراد جاں بحق ہوئے۔ لانگ مارچ شروع ہوا تو میر پور میں گولی چلی۔ تین شرکاء جان سے گئے۔ کوٹلی میں مارچ پر گولی چلی۔آٹھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس عرصے میں ہم نے دیکھا کہ مرکز نے راشن بندی کے ذریعے جموں کشمیر میں خوراک اور ادویات کا بحران پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دھرنے کے شرکاء کے خلاف مختلف انتقامی کاروائیاں ہو رہی ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اہل خانہ کو گرفتار یا تنگ کیا جا رہا ہے۔گھر مسمار ہوئے ہیں۔ جائدادیں یا کاروبار سِیل کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ،اسلام آباد کی وہی حکمتِ عملی ہے جو مودی سرکار نے ہندوستان میں پنجاب کے کسانوں کے ٹرالی مارچ اور دلی میں دئیے گئے دھرنے کو ناکام بنانے کے لئے استعمال کی تھی یعنی دھرنے کے شرکاء کو تھکا دُو تا کہ عوام میں اس کی حمایت کم ہو جائے۔

اس دوران، ایک طرف سرمایہ دار میڈیا اور پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے شہباز شریف کی حکومت مسلسل جموں کشمیر کے عوام کے خلاف زہر اگل رہی ہے اور قومی شاونزم کو ہوا دے کر لسانی عصبیت کی بنیادپر اس تحریک کو ڈِس کریڈٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف، 5 جون سے انٹرنیٹ شت ڈاون چل رہا ہے۔ اسلام آباد کے زیر انتظام خطے میں اتنا طویل سرکاری انٹرنیٹ شٹ ڈاون بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں ٓیا ہے۔اب تک کی صورت حال سے مندرجہ ذیل باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں:

1۔ تحریکوں کی اپنی سائنس ہوتی ہے۔ تحریکیں سازشی نظریات کے ساتھ نہیں سمجھی جا سکتیں۔ تحریکیں لوگوں کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ محنت کش طبقے کی creativity اپنا اظہار کرنے لگتی ہے۔ جب لانگ مارچ کو تشدد سے روکنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج نے دھرنے کی شکل اختیار کی۔ اس دھرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ چھوٹے چھوٹے قصبوں، شہروں اور وادیوں میں جلوس نکلنے لگے اور دھرنے قائم ہونے لگے۔ راولا کوٹ میں ہی در اصل پانچ مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ توجہ کا مرکز البتہ دریک کے مقام پر لگا ہوا سب سے بڑا دھرنا ہے۔

2۔ دھرنے پر دو دفعہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ کیا۔ ایک دفعہ ایک قیمتی جان بھی چلی گئی۔ ریاست بطور طاقت اسے ختم کیوں نہیں کرا پا رہی؟ اس کا ایک جواب تو سازشی نظریات کی شکل میں دیا جا سکتا ہے(جن کو سننے والاکم از کم جموں کشمیر میں اس وقت کوئی نہیں) کہ ریاست نے جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود بنوائی تھی، یا یہ سب ہندوستان کروا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یا یہ کہ بارہ مہاجر نشستوں کا مطالبہ کرنے کے پیچھے پیپلز پارٹی تھی تا کہ نواز لیگ کو نقصان پہنچا سکے وغیرہ وغیرہ۔ ایک جواب وہ ہے جو زمینی حقائق سے واقف لوگ دے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دھرنے کی حفاظت لوگوں نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ سیکیورٹی کا متبادل نظام قائم کیا گیا ہے۔ کھائیگلہ سے لے کر باغ تک،سھنیوتی کی پوری بیلٹ اور پاکستان سے کشمیر کی طرفجانے والے بعض راستوں پر متبادل سیکیورٹی کا ایک نظام موجود ہے۔نہ صرف سیکیورٹی بلکہ دھرنا جاری رکھنے کے لئے انتہائی imaginative اور spontaneous حکت عملیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دھرنے کے شرکاء روٹیٹ ہوتے ہیں۔ دوسرا ، ان کے رہن سہن ، حفاظت اور قیام و طعام کے لئے بندوبست موجود ہے۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل نقطے کو سمجھا جائے: دھرنا راولا کوٹ میں لگا ہوا ہے اور دھرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔

3۔راولا کوٹ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کا سب سے ریڈیکل شہر ہے۔ انیسویں صدی کے امریکہ میں جو اہمیت شکاگو کو تھی، اس پار کے جموں کشمیر کے میں وہی حیثیت راولا کوٹ کی ہے۔ موجودہ انتفادہ کا نقطہ آغاز اور مرکز ہی راولا کوٹ رہا ہے۔پھر یہ کہ کئی دہائیوں سے راولا کوٹ جے کے این ایس ایف اور جے کے ایل ایف کی سیاست کا گڑھ رہا ہے۔یا جس طرح ایم آر ڈی تحریک میں لاڑ کانہ ایک سمبل تھا، عین اسی طرح راولا کوٹ ایک علامت ہے۔ دھرنے کے ہزاروں شرکا ء کے لئے راولا کوٹ اور گر د و نواح کے لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ راشن کی قلت کے باوجود ، لوگ روٹی سانجھی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، وسیع عوامی حمایت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شرکا کے لئے میر پور سے جانور بھیجے جا رہے ہیں۔ بنک بند ہیں ۔ اسلام آباد نے خوراک کی سپلائی بند کر دی ہے۔ انٹرنیٹ شٹ ڈاون ختم نہیں ہو رہا۔ ۔۔لیکن دھرنے جاری ہیں۔یہ نہ کوئی معجزہ ہے، نہ کوئی سازش۔ یہ عوامی طاقت ہے۔

4۔ اس عوامی طاقت کا سب سے ریڈیکل اظہار یہ ہے کہ اس خطے کی تاریخ میں پہلی بار عوامی سطح پر خواتین گھروں سے باہرنکلیں اور ریاست مین سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اس کے دیرپا سماجی،سیاسی و معاشی نتائج نکلیں گے جس پر آنے والے دنوں میں بحث کی جائے گی لیکن فی الحال یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ انتفادہ کی عوامی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں ۔ شعور بالکل بدل گیا ہے۔ راقم کی اطلاع کے مطابق بعض قصبوں سے مولوی حضرات خواتین کے جلوس لے کر دریک دھرنے میں پہنچے۔

5۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، ریاست کا خیال ہے کہ وہ خوراک بندی اور تشدد کے دیگر طریقوں سے، دھرنے والوں کو اگنور کر کے اپنا مقصد حاصل کر لے گی۔ ادہر، جموں کشمیر ڈٹا ہوا ہے۔ اب یہ اعصاب کا کھیل ہے۔ پر امن دھرنے اور اس کو ملنے والی ڈائیسپورا کی حمایت اور موبلائزیشن نے پہلے ہی ریاست کو اس حد تک تو مجبور کر دیا ہے کہ مزید گولیاں نہ چلائے۔ ۔۔لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس اب کیا راستہ بچا ہے؟ یہ سوال بھی اب کیا جانے لگا ہے۔ آنے والے دنوں میں ،یہ سوال زیادہ شدت سے کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پاس فوری طور پر تو یہ حکمت عملی ہونی چاہئے کہ اس دھرنے کو طول دے۔ جب تک مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں ہوتی ، یہ دھرنا اس کی طاقت کا اظہار ہے۔ جلد یا بدیر، ریاست زیرو ٹالرینس والا بیانیہ بدلے گی۔ریاست کی بے چینی کا اظہار خواجہ آصف کی بد تمیزیوں کی شکل میں ہو رہا ہے ۔ اب یہ اعصاب کی لڑائی ہے۔ اگر بغیر شرائط منوائے دھرنا ختم ہوا تو انتفادہ کافی عرصے کے لئے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ جب تک وسیع عوامی حمایت موجود ہے، دھرنا جاری رہنا چاہئے جبکہ عوام کو مسلسل باخبر رکھا جائے اور ان کی پیٹھ پیچھے ،غیر جمہوری انداز میں کوئی فیصلہ نہ لیا جائے۔ عوام سے سیکھا جائے اور ان کو فیصلوں میں شامل رکھا جائے۔

6۔ دھرنا ایک دن ختم ہونا ہے۔ دھرنے کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟ اس کی تیاری بھی ہونی چاہئے۔ ریاست نے مستقبل میں انتقامی اقدامات کئے تو کیسے نپٹنا ہے؟ انتخابات کے حوالے سے کیا حکمت عملی بنانی ہے؟ پاکستان کے محنت کش طبقے اور دیگر محکوم قومیتوں سے کیسے جڑت بڑھانی ہے؟ تحریک کو ننظیم کی شکل کیسے دینی ہے؟ جدوجہد کے اگلے مرحلے کیا ہوں گے؟ان سوالوں پر دھرنے میں بحث ہونی چاہئے۔ دھرنے کو ایک اوپن ائریونیورسٹی کی شکل اختیار کرنی چاہئے۔ ان سوالوں پر عوامی بحثوں کے لئے علاوہ یہ بات بار بار دہرانے کی ضرورت ہے کہ یہ تحریک پر امن رہے گی ، کسی قسم کی بیرونی ریاستی سر پرستی کو قبول نہیں کرے گی اور اس کے فیصلے جمہوری انداز میں ہوں گے جس میں خواتین اور بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

7۔ یہ موقع ہے کہ تحریک کی قیادت اپنے پروگرام کو وسیع کرے۔ ماحولیات ، برداشت ، صنفی برابری ، رواداری کو ایجنڈے پر لایا جائے ۔ پدر سری یا ذات برادری اور قبیلے کے ڈھانچوں کی شکل صدیوں سے موجود اندرونی جبر کے خلاف بھی ترقی پسند موقف اپنایا جائے۔

8۔ اس تحریک کا ایک ترقی پسند پہلو یہ ہے کہ تنگ نظر قوم پرستی کی بجائے سیاسی و معاشی اور طبقاتی مطالبات کو تقدم حاصل ہے جبکہ شہباز حکومت اور پاکستان کے سرمایہ دار میڈیا کی شاونسٹ اشتعال انگیزیوں کے باجود تحریک اور تحریک سے باہر سیاسی کی قیادت اور ریاست جموں کشمیر کیعوام کی جانب سے شناخت کی سیاست یا تنگ نظر قوم پرست تعصبات کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ اس عمل کو مضبوط کرنے کے علاوہ ، اسے انٹرنیشنل ازم کے عالمگیر اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔