راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی
سیف الرحمان رانا
(نوٹ: ماحولیاتی تباہیوں اور رئیل اسٹیٹ کی ناکامی حکومتی پالیسیوں پر سیف الرحمان رانا کا یہ تفصیلی مضمون 6اقساط میں ’جدوجہد ‘ میں گزشتہ ہفتے شائع کیا گیا تھا۔ اس مضمون کی تمام اقساط کو ایک ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔)
سیلاب سے بچاؤ کا قدرتی اور دیرپا حل یہ ہے کہ آبی گزرگاہوں کے اردگرد قریب گھنے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اس سے وہاں دلدلی زمین بن جائے اور یہ دلدلی زمین دراصل سیلابی ریلے کو کنٹرول کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ آپ دنیا بھر کے جغرافیائی خدوخال پر غور کریں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جن آبی گزرگاہوں کے اردگرد جنگلات واقع ہیں وہاں سیلاب سے ہونے والے نقصانات بہت کم ہوتے ہیں۔
قدرت کے اسی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں دریائے راوی کے کنارے تعمیر کرکے ان کے اندر جھیل اور اس کے کناروں پر بنے بندوں کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے اردگرد گھنے درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ منصوبہ بڑھتی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک منفرد پراجیکٹ تھا۔
اس منصوبے کے بنیادی اہداف میں لاہور شہر میں تیزی سے پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بچانا، کروڑوں نفوس پر مبنی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے جھیل بنانا، دریائے راوی کے اردگرد ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ، سیوریج کے گندے پانی کو صاف کرنے کے بعد دریا میں ڈالنا، آبی و جنگلی حیات سمیت پرندوں کے لیے قدرتی ماحول کی فراہمی کے ذریعے قدرتی حسن و وسائل کو بڑھانا، بالخصوص فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرنا اور آکسیجن کو بڑھانے کیلئے جنگل کا قیام شامل تھے۔
تاہم بدقسمتی سے اس اچھوتے اور منفرد منصوبے پر چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں کام نہ شروع ہوسکا۔ 2008 میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اس منصوبے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر کام جاری رکھا جائے۔
ایل ڈی اے نے لاہور میں زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے اور اس کی سطح کو بلند کرنے کے لیے دریائے راوی پر کم و بیش 45 کلومیٹر طویل اور وسیع و عریض جھیل کے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے اس کے اردگرد ہزاروں ایکڑ زمین پر جنگل اگانے، تفریحی پارک کی تعمیر، کمرشل و رہائشی ادارہ جاتی و ثقافتی مراکز بنانے کی سفارش کی۔ ایل ڈی اے نے اس منصوبہ کی لاگت کا تخمینہ کم و بیش 7 کھرب روپے لگایا۔
اس قدر خطیر رقم کے دیکھتے ہوئے شہباز شریف کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی گئی کہ مجوزہ پراجیکٹ کے اردگرد رہائشی سکیمیں بنائی جائیں تو خاطر خواہ فنڈز کا حصول ممکن ہے۔ اس تجویز کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اس تجویز کے قابل عمل ہونے کے حوالہ سے ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ بعدازاں جب اس تجویز کو ماہرین آب اور ماحولیات کے سامنے رکھا گیا تو ان کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے شہباز شریف نے دریائے راوی کے اردگرد ہاوسنگ سوسائٹیز کے قیام کی تجویز کو رد کردیا۔
2018ء میں وفاق میں عمران خان کی حکومت کے قیام کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر اور ان سے جڑی صنعتوں کے پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ زون پراجیکٹ کو از سرنو زندہ کرتے ہوئے ایل ڈی اے کا کردار ختم کیا گیااور ایک نئے ادارے ’راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارہ کو عرف عام RUDA کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے قیام کے فوری بعد حکومتی آشیرباد سے مجوزہ منصوبے کے لیے نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہاؤسنگ سکیموں کے قیام کا اعلان کیا، اوردریائے راوی کے اردگرد واقع ضلع لاہور اور شیخوپورہ کے متعدد موضعوں پر لینڈ ایکوزیشن ایکٹ لاگو کردیا۔ یوں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر 46 کلومیٹر طویل پاکستان کی تاریخ کا پہلا ریور فرنٹ شہر قائم کرنے کے مقصد سے ایک لاکھ 10 ہزارایکڑ زمین خریدنے کے لیے نجی ڈویلپرز کو مختلف علاقے الاٹ کردیے۔ بعدازاں ازاں نجی ڈویلپرز نے مارکیٹ کے حساب سے انتہائی مہنگی زمینوں کو سستے داموں حاصل کرنا شروع کردیا۔
عمران خان نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے موقع پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ سے دریائے راوی کے اردگرد جدید سہولیات سے لیس نیا لاہور وجود میں آئے گا جس کے نتیجہ میں 46 کلومیٹر لمبی جھیل، تین بیراجز واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، اربن فاریسٹ، تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بڑے ہسپتال، رہائشی و کمرشل سینٹرز بنیں گے۔
اس پراجیکٹ میں ہاؤسنگ سکیمیں بنانے کا اعلان ہوا تو متاثرہ زمینداروں اور ماہرین ماحولیات نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جج شاہد کریم نے دریائے راوی کی حدود میں ہاؤسنگ سکیمیں بنانے سے منع کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے دریائے راوی کو گندہ نالہ قرار دیتے ہوئے اس پراجیکٹ میں رہائشی سکیمیں بنانے کو ناگزیر قرار دے دیا۔ عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود حکومت نے اس منصوبہ پر عملدرآمد جاری رکھا۔
چند سال قبل لاہور میں محمود بوٹی بند کے علاقہ میں سالڈ ویسٹ سائٹ پر ایمونیا جیسی خطرناک گیس کے بادل منڈلاتے دیکھے گئے۔ اس خطرہ نے لاہور کے وجود کو شدید خطرات سے دوچار کردیا۔ ان اٹھنے والی زہر آلود گیسوں کے انخلاء کو روکنے کے لیے فوری طور پر کوڑا کرکٹ سائٹ کو مٹی سے ڈھانپ کر درخت لگائے گئے تو ماحول سے نہ صرف زہریلی گیسیں کم ہوئیں بلکہ علاقے کی فضا میں پھیلی بدبو بھی ختم ہوتی چلی گئی۔
اگست 2025 میں دریائے راوی میں 1988 کے بعد تاریخ کا دوسرا بڑا سیلاب آیا تو دنیا نے دیکھا کہ راوی کے بیٹ میں قائم ہونے والی ہاؤسنگ سکیمیں ڈوب گئیں۔ ساتھ ہی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کام اور طریقہ کار پر بلند ہوتی آوازیں پر سو سنائی دینے لگیں۔ سیلاب کی آمد سے قبل میں اپنی متعدد تحریروں میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کی خدمت میں عرض کرتا رہا کہ اس کا کام کالونیاں بیچنا نہیں بلکہ راوی میں جھیل بنا کر زیرزمین پانی کی سطح کو بہتر بنانا، سیوریج کے پانی کو قابل استعمال بنا کر دریا میں ڈالنا اور اس کے اردگرد جنگل لگانا تھا۔ یعنی اس کا کام موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرتے ہوئے ماحول کو بہتر بنانا تھا۔ میں اس بات کو تسلیم کرنے سے آج بھی انکاری ہوں کہ اس منصوبہ کے لیے فنڈز کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مدد درکار تھی۔ عمران خان کے دور میں آنیوالے تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی برادری نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس مالی مدد کا اعلان کیا تھا اس میں سے 11 ارب ڈالر آج تک ہم اس لیے حاصل نہ کرسکے کہ ہماری حکومتیں اور ادارے ڈونرز کے سامنے قابل عمل منصوبہ جات بروقت تیار کرکے پیش نہ کرسکے۔
دریائے راوی کے حالیہ سیلاب کے بعد راوی پر کالونیاں بنانے والوں کا انجام اب سب دیکھیں گے۔معاہدہ سندھ طاس کے بعد راوی کے پانیوں پر بھارت کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد 80 کی دہائی میں بھی راوی کے اردگرد کالونیاں بنانے کا چلن عام ہوا تھا،لیکن 1988 میں راوی نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا تو اس سیلاب کے بعد راوی دریا کے پانی کے ڈر کی وجہ سے خوفزدگی کا یہ عالم ہوا تھا کہ مریدکے تک کوئی شخص اس علاقہ میں گھر بنانا تو دور کی بات پلاٹ خریدنے کو بھی تیار نہ تھا۔ راوی کے شمال میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا کام تب دوبارہ شروع ہوا جب رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے بننے کے بعد ان کے شمال میں کالونیاں آباد ہونا شروع ہوئیں۔
تاہم جب عمران خان کے دور میں روڈا کا قیام عمل میں لایا گیا تو انہوں نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو پیسے کمانے کا ذریعہ قرار دیا۔ روڈا والوں نے اس سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے راوی کے بیٹ کے اندر ہی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے ذریعہ زمین کا قانونی اختیار خود حاصل کرکے انویسٹرز کے ذریعہ خریداری شروع کردی۔ بعدازاں انہی انویسٹرز کو دریائے راوی کی قدرتی گزر گاہ میں کالونیاں بنانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے راوی کے بیٹ یعنی پیٹ میں ضائع ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ دریا کبھی اپنا راستہ نہیں چھوڑتا ہے اور اب راوی نے اپنا رنگ دکھایا ہے تو بیچارے انویسٹرز اپنی سرمایہ کاری دریائے راوی کے پانی میں بہتی سب دیکھ رہے ہیں۔
راوی میں سیلاب آنے کے بعد راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین سمیت دیگر حکام قومی و سوشل میڈیا پر بیٹھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اتھارٹی نے لاہور سائفن سے آگے دریائے راوی پر جھیل بنانے کے لیے کنارے بنانے کے کام کا آغاز کردیا ہے اور جب یہ کام مکمل ہوگا تو راوی کناروں کے اندر 6لاکھ کیوسک تک پانی کا بڑا بہاؤ برداشت کرسکے گا۔ اگر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر انہوں نے کناروں کی تکمیل سے پہلے ہی رہائشی سکیمیں بنانے کی اجازت کیوں دی؟
عام آدمی نے تو کھلی آنکھوں سے یہ دیکھا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں بننے والے تمام ہاوسنگ پراجیکٹ راوی کے پانی کی زد میں تھے اور اب عام شہری زندگی بھر کی پونجی کو روڈا پراجیکٹس میں جھونکنے کا کبھی سوچے گا بھی نہیں۔
اس وقت پاکستان زمینی و فضائی آلودگی کے سبب خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے دریائے راوی کے اردگرد روبہ عمل پراجیکٹ کو اس کے طے کردہ اہداف کے مطابق شروع کیا جاتا تو شاید ہم دنیا کے سامنے ایک منفرد پراجیکٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔ بدقسمتی سے روڈا نے عام آدمی کی غصب کردہ قیمتی ترین زمین پرائیویٹ ڈویلپرز کو مہنگے داموں بیچ کر رہائشی کے ذریعہ پیسہ اکٹھا کرنا چاہا جبکہ اپنے بنیادی اہداف ماحول کی بہتری اور زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے کے لیے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت ڈویلپرز کے ساتھ مل کر زمینیں حاصل کرنا شروع کیں تو چہار سو اس ظلم کے خلاف آواز بلند ہونے لگی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے روڈا حکام نے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے زمین خریداری ماڈل میں چند ترامیم و اضافے کرکے اپنی پالیسی تبدیل کی گئی۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے ذریعہ خریداری کا عمل روکتے ہوئے ڈویلپرز اور سرمایہ داروں کو اعتماد میں لے کر زمین کی خریداری کے لیے الگ الگ علاقے الاٹ کردیے، یعنی غیراعلانیہ کارٹل بنا لیا گیا ہے۔
لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کو ختم کرنے کی ایک اور وجہ نیب اور اینٹی کرپشن جیسے اداروں سے روڈا حکام کا اپنے سمیت سرمایہ کاروں کو بھی بچانا تھا۔ ایل ڈی اے سٹی فیروز پور روڈ کی خریداری کے بعد ایل ڈی اے حکام اور زمین فراہم کرنے والے سرمایہ داروں کا انجام سب کے سامنے تھا۔ اسی لیے ڈویلپرز اور سرمایہ داروں کو تحفظ دینے اور زمین کی خریداری کو مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ پر خریدنے کے لیے منظم اور مربوط پلاننگ کی گئی۔
اس منصوبہ بندی کا مرکز و محور یہ نقطہ تھا کہ عام آدمی اور زمین مالک کو یہ باور کروانا تھا کہ روڈا کی حدود میں صرف اس کو کالونی بنانے کی اجازت ملے گی جو کالونی کی منظوری لیتے وقت پیشگی شرائط کے تحت روڈا کو خاطر خواہ فنڈز فراہم کرے گا۔
ویسے بھی پاکستان میں قانون کی آڑ میں ہی غیرقانونی دھندے چلائے جاتے ہیں جبکہ یہ تو ایک ایسا دھندہ ہے جو پاکستان میں سونے کی کان کی ملکیت سے بھی بہتر گردانا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کم و بیش ہر مالدار شخص سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سرمایہ دار سرکاری حکام کو شیشے میں اتارنے کے فن سے ویسے ہی لیس ہوتے ہیں۔ وہ کوئی بھی پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے ہی متعلقہ حکام کو اس قدر نواز دیتے ہیں کہ وہ ممنونیت کے احساس کے ساتھ ان کے ہر قسم کے مطالبات کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس پراجیکٹ میں تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سمیت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی آشیرباد سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو حاصل تھی۔ اس خوبصورت اور حقیقی معنوں میں ماحول کو تبدیل کرنے والے پراجیکٹ کا حشر نشر تب ہوا جب اس میں رہائشی و کمرشل پراجیکٹس کو شامل کیا گیا۔ اب عمران کے حامیوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ عمران کے اس فیصلہ کا دفاع کیسے کریں؟
بدقسمتی سے رئیل اسٹیٹ واحد سیکٹر ہے جو ہر قسم کی اخلاقی و قانونی روایات و اصولوں کو اپنے صارف پر تو لاگو کرتا ہے لیکن خود کوان کی پیروی کا پابند نہیں سمجھتا ہے۔ سرمایہ دار ڈویلپرز نے زمین کی خریداری اور روڈا کو اس کا حصہ دینے کے لیے عام صارف کو ہی لوٹنا شروع کردیا۔ روڈا اور ڈویلپرز نے مجوزہ ریور فرنٹ شہر میں مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے آغاز اور ترقیاتی کاموں کا جھانسہ دینے کے لیے مہم شروع کردی۔ اصولی طور پر روڈا کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے مجوزہ پراجیکٹ کی تشہیر کرتے کہ وہ کیا کام کررہا ہے؟ اسی طرح وہ اس وقت تک ڈویلپرز کو سکیمیں بیچنے کی اجازت نہ دیتا جب تک وہ بقول اپنے پراجیکٹ کے بنیادی اہداف کا حصول یقینی نہ بنا لیتا۔
عام صارف نے روڈا اور نجی ڈویلپرز کی طرف سے مارکیٹنگ مہم سے متاثر ہو کر دھڑا دھڑ اقساط پر پلاٹس کی بکنگ کروالی۔ سرمایہ داروں اور ڈویلپرز نے بکنگ کا کام تب شروع کیا،جب انہوں نے اپنے ذاتی سرمائے سے پراجیکٹ کے لیے کسی حد تک زمین خرید لی اور اس پر کالونی کی منظوری کے لیے روڈا حکام کے سامنے درخواست گزاردی۔ مہنگے ریٹس طے کرکے پلاٹس کی قسطوں پر بکنگ شروع ہوتے ہی ڈویلپر کے اکاونٹ میں پہلے دو سے تین ماہ میں 20سے 25 فیصد عام صارف کی جانب سے رقم منتقل ہو جاتی ہے۔ موٹروے راوی ٹول پلازہ کے کے مغرب میں عین دریا کے اندر بنی کالونی کے پلاٹس کی کم از کم قیمت 10لاکھ روپے مرلہ ہے۔ دریائے راوی کے پل بند کے عین سامنے بننے والی یہ کالونی پانی کے بہاؤ کے اسی ہزار کیوسک تک پہنچتے ہی ڈوب گئی۔
10 لاکھ روپے فی مرلہ قیمت سے اندازہ کرلیں کہ عام آدمی کو کیسے لوٹا جاتا ہے۔ دریا کے بیٹ میں کسی بھی مقام پر زمین کا ریٹ 40سے 50 لاکھ روپے فی ایکڑ سے زیادہ نہ ہے۔ اگر پراجیکٹ کا فی ایکڑ قابل فروخت رہائشی و کمرشل رقبہ 60 فیصد ہو تو 16 مرلے کمرشل اور 80 مرلے رہائشی ڈویلپر کے حصہ میں آئے۔ ان میں سے روڈا کا سرکاری حصہ، ترقیاتی کاموں، مارکیٹنگ و اوپر والوں کا حصہ دینے پر اخرجات پر 8 کمرشل اور 40 رہائشی مرلوں کی مالیت کے برابر بھی ہو تو ڈویلپر کو 8 مرلے کمرشل اور 40 مرلے رہائشی کی بچت ہوگی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے فی ایکڑ زمین کی خریداری پر زیادہ سے زیادہ 7مرلے خرچ کیے ہیں۔ اب مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے 40 رہائشی مرلے 10 لاکھ فی مرلہ اقساط پر دے کر 80 لاکھ روپے پہلے دو سے تین ماہ میں گھر بنانے کے خواہشمند عام شہری سے اینٹھ لیے۔
یوں عام آدمی کے مال کی مدد سے ہی ڈویلپر راتوں اربوں روپے منافع کما لیتا ہے جبکہ عملی طور پر وہ زمین بھی مفت حاصل کرتا ہے۔ بس اس مقصد کے حصول کے لیے منظوری دینے والے سرکاری حکام کی غائبانہ حمایت و مدد، عالیشان دفتر، سلجھا ہوا پڑھا لکھا مارکیٹنگ و سیلز سٹاف اور الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پر بھرپور مارکیٹنگ و سیلز مہم لانچ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اب تو یہ عالم ہے کہ کم و بیش چھوٹے بڑے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں نے اپنے اپنے ٹی وی چینلز بنا لیے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر انفیولینسرز اور ٹک ٹاکرز بھی ان کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں۔
ویسے اب یہ شہری کی قسمت ہے کہ اسے پلاٹ کا قبضہ ملتا ہے یا نہیں یا وہ مارکیٹ گرنے کی صورت میں سستے داموں وہی فائل ڈویلپر یا اس کے ایجنٹ ڈیلر کو نصف سے بھی کم ریٹ پر بیچے گا؟
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ(RUDA)کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔یہ فیصلہ کسانوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر سنایا گیا۔درخواست گزاروں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کی جانب سے زمین کے حصول کے طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا۔
عدالت نے نہ صرف پروجیکٹ کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کی دفعہ 4 کو بھی آئین سے متصادم اور غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
اس وقت پاکستان زمینی و فضائی آلودگی کے سبب خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے دریائے راوی کے اردگرد روبہ عمل پراجیکٹ کو اس کے طے کردہ اہداف کے مطابق شروع کیا جاتا تو شاید ہم دنیا کے سامنے ایک منفرد پراجیکٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
بدقسمتی سے RUDAنے عام آدمی کی قیمتی ترین زمین پرائیویٹ ڈویلپرز کے ذریعہ خرید کر رہائشی منصوبوں کی اجازت سے کر پیسہ اکٹھا کرنے پر زور دیا جبکہ اپنے بنیادی اہداف ماحول کی بہتری اور زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے کے لئے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔
جب سالوں سے سوئے دریائے راوی نے اگست 2025 میں انگڑائی لی اور RUDAکی حدود میں پلاٹ بیچنے والے پراجیکٹس کے ترقیاتی کام سیلاب میں غرق ہوئے تو RUDAحکام کو یاد آیا کہ ہم نے عوام کو بتانا ہے کہ RUDAدریائے راوی کے دونوں کنارے بنا رہا ہے اور ان دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ ایک کلومیٹر ہوگا۔
دریائے راوی کے 46 کلومیٹر لمبے علاقے کو سیلاب اور ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے کی گئی منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ہے کہ لاہور حالیہ سیلاب کے دوران بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔ اسی طرح RUDAحکام اب عوام کو بتا رہے ہیں کہ RUDAکی کاوشوں سے دریا سے پانی گزرنے کی مقدار 3 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ کیوسک ہو جائے گی۔ لاہور کے گندے نالوں کے راوی میں گرنے سے پہلے ان پر 6 واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بننے تھے۔ اسی طرح دریاکے اندر بننے والی جھیلوں سے اضافی پانی کے اخراج کے لیے تین بیراج بننے تھے۔ نئے جنگل اگائے جانے ہیں اور رکھ جھوک جنگل اس کا پہلا منصوبہ ہے۔ سالڈ ویسٹ کو قابل استعمال بنانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر کوڑے کے ڈھیر ختم کرنے ہیں۔ اسی طرح انڈسٹریز کو رہائشی علاقوں سے نکال کر مخصوص انڈسٹریل ایریاز میں جگہ فراہم کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔ دریائے راوی پر بننے والے اس نئے شہر کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے متعدد پل بنائے جائیں گے۔ ہائی رائز بلڈنگز میں 18 لاکھ اپارٹمنٹس بنا کر قومی ترقی میں RUDAنے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
راوی میں سیلاب آنے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس کا تقاضا تھا کہ راوی ریور فرنٹ سٹی بنانے سے قبل اس امر کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی کہ اگر اچانک بڑی مقدار میں پانی آجائے تو اس منصوبہ کو بچانے کے لیے متبادل آپشن کون کون سے ہیں۔ مثلاً جب بھی کوئی ڈیم بنایا جاتا ہے تو سب سے پہلے پانی کے بہاؤ کے لیے متبادل راستہ یعنی سرنگیں بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی دریا پر پل بنایا جاتا ہے تو پانی کو روک کر متبادل راستہ دیا جاتا ہے اور وہ بتدریج مکمل ہوتا جاتا ہے۔تاہم اس پراجیکٹ میں تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی سوچ یہ تھی کہ کہ راوی تو گندہ نالہ ہے۔ اسی سوچ کو محسوس کرتے ہوئے RUDA کے ماہرین ٹاؤن پلاننگ نے شاید مستقبل میں آنے والی کسی سیلابی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں کیا۔
RUDA ماہرین کا کہنا ہے کہ راوی کے کناروں کے درمیان ایک کلومیٹر کا بیڈ خالی ہوگا اور وہ 6 لاکھ کیوسک پانی کا بہاو برداشت کرے گا۔ اب میڈیا پر جاری مہم کا دعویٰ تو یہی ہے لیکن دریائے راوی کے چار پل یعنی ریلوے، شاہدرہ، سگیاں اور ایم 2 موٹروے کے پل 800 میٹر لمبے ہیں اور ان کے نیچے سے زیادہ سے زیادہ تین لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب RUDA کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں کہ ان پلوں کے نیچے سے 6 لاکھ کیوسک پانی کیسے گزرے گا؟
ہاں اتنا ضرور ہے کہ اگر ریلوے پل، شاہدرہ، سگیاں اور موٹروے پل ازسرنو تعمیر کیے جائیں اور ان کے اطراف میں موجود پرانی آبادیوں کو ختم کردیاجائے تو پھر 6لاکھ کیوسک پانی ان پلوں کے نیچے سے گزر کر بلوکی پہنچ جائے گا۔
حالیہ سیلاب کے بعد RUDAحکام کی جانب سے برپا میڈیا مہم کے دوران دریا کے کناروں پر جنگل، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، جھیل اور بیراجز کی تعمیر کب ہوگی اس حوالے سے کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔ ہاں موجودہ میڈیا مہم بھی اس لیے برپا کی گئی ہے کہ انویسٹرز اور ڈویلپرز کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ ویسے بھی اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے انویسٹرز کے اپنے اپنے چینلز مفت میں صرف وہ بتانے اور دکھانے میں لگے ہیں جسے دیکھ کر گھر بنانے والا عام شہری RUDAکے رہائشی و کمرشل پراجیکٹس کی اقساط کی ادائیگی اور مزید خریداری سے راہ فرار اختیار نہ کرسکے۔
اسی طرح اب یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ دریا کے کناروں پر دو دو پختہ بند تعمیر کیے جائیں گے۔ پہلے اور دوسرے بند کے درمیان گرین بیلٹ ہوگی جہاں لاہور کے شہری راوی کے مزے لیں گے جبکہ دوسرے بند کے بعد دونوں اطراف 300 فٹ چوڑی بلیوارڈ تعمیر ہوگی۔ تاہم اگر موٹروے پل کے مغرب میں بننے والی میٹرو سٹی نامی سکیم پر غور کیا جائے تو یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک پانی آنے کے بعد بلیوارڈ سمیت پوری ہاؤسنگ سوسائٹی وینس شہر کا منظر پیش کررہی تھی۔
روزنامہ ’جدوجہد‘ کے صفحات گواہ ہیں کہ RUDAکے آغاز سے ہی میرا موقف یہی رہا ہے کہ RUDAاپنے بنیادی اہداف کی تکمیل پر توجہ دے۔ اگر اوپر مذکورہ اہداف کو کسی ایک مخصوض علاقہ میں بطور پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرکے اس کے اردگرد رہائشی سکیمیں قائم کرنے کی اجازت دی جاتی تو حالیہ سیلاب کے بعد RUDAکے حوالے سے پیدا شدہ منفی خیالات اور خدشات میں شدت پیدا نہ ہوتی۔اس دور کے حاکم کی سوچ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھیوں اور سرکاری ملازمین کی ’جو ملتا ہے آج لے لو کل کس نے دیکھی،والی پالیسی نے پاکستان کے سب سے پہلے ماحول دوست پراجیکٹ کو برباد کرکے رکھ دیا۔
مذکور ہ معاشرتی رویے نے اس ذہین اور قدرتی وسائل سے مالا مال قوم کو بدعنوانی کی اس دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی بھی ناممکن نظر آرہی ہے۔ اس وقت کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کو نظر انداز کیا اور اس حوالے سے غور کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی کہ ہائی کورٹ نے یہ حکم کیوں دیا ہے؟
اسی طرح عمران خان نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ شہباز شریف کے دور میں دریائے راوی کے کناروں کے اردگرد رہائشی سکیمیں بنانے کی تجویز کو کیوں رد کیا گیا؟
نہ ہی پنجاب کی موجودہ حکومت نے یہ زحمت کی کہ وہ یہ جان لے کہ شہباز شریف نے راوی کنارے رہائشی سکیمیں بنانے کی اجازت کیوں نہیں دی تھی؟
بھارت نے 1960 میں طے پانیوالے معاہدہ سندھ طاس کو معطل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس معاہدہ پر ازسرنو غور کیا جائے۔اس کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لاکر اپنی شرائط منوانے گا،لیکن پاکستان نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اسی کش مکش میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی بھی ہوئی۔
سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین دریاؤں راوی،بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کا حق قرار پائے،جبکہ چناب، جہلم اور سندھ کے پانیوں پر پاکستان کا حق ملکیت تسلیم کیا گیا۔ بھارت نے دریائے بیاس اور ستلج کو ہریکے کے مقام پر نیا بیراج تعمیر کرکے آپس میں ملا دیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنے حصہ میں آنیوالے راوی پر تھین، بیاس پر پونگ اور ستلج پر بھاکڑا کے مقام پر ڈیم تعمیر کرکے ان کا سارا پانی روک لیا۔ اسی طرح بعد میں پاکستانی حکام کی نالائقی اور نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے چناب پر بھی سلال اور بگلیہار ڈیم تعمیر کرلیے۔
گزشتہ چار دہائیوں میں بھارت نے راوی اور ستلج کا پانی صر ف اسی صورت پاکستان کی طرف بہنے دیا جب اس کے پاس پانی کو روکنے کا کوئی چارہ نہ رہا۔ 1988 کے بعد راوی میں 2025 اور ستلج میں 2023 اور 2025 میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی۔ عرصہ دراز سے ان دریاوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے ان دریاؤں کے متعلق یہ غلط فہمی عام ہوئی کہ یہ دریا سوکھ چکے ہیں اور ان میں صرف وہی پانی بہتا ہے جو پاکستانی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے بعد ان کا رخ کرتا ہے۔
بہنے والا پانی غائب ہوا تو حکام بھی اس خوش فہمی کا شکار ہوئے کہ کیوں نہ لاہور جیسے شہر میں راوی کے بیلٹ میں موجود زمین کو مالی منفعت کا ذریعہ بنایا جائے۔ دیہاتی علاقوں میں تو صدیوں سے رواج چلا آرہا تھا کہ دریا کے بیلٹ میں جونہی پانی اترے تو اس زرخیز ترین زمین پر کاشتکاری شروع کر دیں۔ راوی کنارے موجود علاقوں شکرگڑھ، نارووال، نارنگ منڈی، شیخوپورہ، لاہور، پھول نگر، پتوکی، ننکانہ صاحب، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ، کمالیہ پیر محل،رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی،میاں چنوں،اور کبیروالہ،جبکہ ستلج کے علاقوں قصور، دیپالپور، حویلی لکھا، پاک پتن، عارف والہ، بہاولنگر، چشتیاں، بورے والا،میلسی، خیر پور ٹامیوالی، کہروڑ پکا، لودھراں،جلال پور،پیروالہ، اچ شریف اور علی پور کے سینکڑوں کلومیٹر لمبے و چوڑے دریائی بیلٹ 95 فیصد آباد ہوگئے اور متعدد مقامات پر مستقل اور پختہ بستیاں بھی آباد کر لی گئیں۔
اتنے وسیع و عریض علاقہ میں لاکھوں لوگ معاشی استحکام کی منزل پاگئے لیکن بھارت سمیت ہم سب یہ بھول گئے کہ اس نظام کا ایک حصہ موسم بھی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے حصہ کا ایک ایک قطرہ روکنے کی بات کی تو موسم نے ایسا رنگ دکھایا کہ آج بھارت کے تین صوبے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب صرف تین دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں سے مکمل طور ڈوب چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان دریاؤں کے علاقوں میں تاریخ کا سب سے بدترین سیلاب تباہی و بربادی کی داستان پھیلائے بحیرہ عرب کا رخ کررہا ہے۔ صرف راوی میں اتنا پانی آیا ہے کہ اگر اسے سٹور کر لیا جاتا تو لاہور جیسے گنجان آباد شہر کی ایک سال کی آبی ضروریات کو باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ہر سال آنیوالے تھوڑے سے سیلابی پانی کو قابو کرنے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سٹوریج کے لیے جھیل بنانے کی آڑ میں ریور راوی فرنٹ سٹی پراجیکٹ شروع کیا ہے جبکہ امسال 1988 جتنا پانی آیا تو پتہ چلا کہ روڈا تو پانی پر عکس بنائے بیٹھا ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا کی صنعتی ترقی سے پیداشدہ منفی اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کرنے والا خطہ ہے۔ پاکستان میں قطبین کے بعد سب سے بڑے اور زیادہ گلیشیرز پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان اپنے اپنے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں کی وجہ سے وسیع وعریض جنگلات کا بھی مالک تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم پاک پتن رہا کرتے تھے تو اس زمانے میں ستلج کی دریائی بیلٹ میں آباد لوگ دریا کے اندر کھڑے درختوں اور درخت نما جھاڑیوں کی شاخوں کو کاٹ کر اونٹ، خچر، گدھوں وغیرہ پر لاد کر شہر میں بیچنے آتے تھے۔ اس زمانے میں چولہے انہیں شاخوں سے دہکتے تھے۔ اسی روزنامہ ’جدوجہد‘کے ایڈیٹر فاروق سلہریا کے آبائی علاقہ شکرگڑھ میں نالہ ڈیک کے گرد بہت بڑا اور گھنا جنگل ہوا کرتا تھا۔
نااہلی، بدعنوانی اور کام چوری نے آج اس ملک کا یہ حال کردیا ہے کہ ہماری نسلیں صاف ستھری فضاء اور پانی کو ترسنے لگے ترسنے لگی ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملین ایکڑ فٹ بارشی و برفانی صاف ستھرا، منرلز سے بھرپور پانی سمندر میں پھینکنے والی قوم پینے کا پانی خریدنے پر مجبور ہے۔ کراچی کے بعد اب لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد، حیدر آباد، سکھر، ملتان، سرگوددھا، کوہاٹ، بنوں جیسے شہر بھی زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی آفت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔اسی طرح نسیم سحر کو تو سموگ نامی بیماری کینسر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
پراگندہ ماحول، فضاء میں بڑھتی کاربن ڈائی آکسائیڈ، قدرتی پانی کا بہتر استعمال نہ کرنے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو بیدردی سے استعمال نے ملک کو مختلف خطرناک جغرافیائی و موسمیاتی تبدیلیوں سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کا واحد حل ہے جنگلات کی فوری بحالی اور زمین کے اوپر بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں کے پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے راوی کے اندر جھیلیں اور کناروں پر جنگل اگائے جانے تھے۔وہ کام تو بوجوہ ہم کر نہ سکے،لیکن اگر قومی و اجتماعی ذمہ داری کے طور پر درج ذیل اقدامات پر عمل کیا جائے،تو صورتحال فوری طور پر بہتر ہوسکتی ہے:
دریاؤں کے بیلٹ میں قدرتی ماحول میں پروان چڑھنے والے پودے و درخت لگائے جائیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف توانائی کے لیے قابل تجدید ذرائع اور آکسیجن میں اضافہ،اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوگی۔
ان جنگلات کے تحفظ سے زیرزمین پانی کی سطح بھی فوری بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔
ماحول دوست حشرات الارض کی افزائش بھی ہوگی۔
دریاؤں کے بیلٹوں میں موجود ہر قسم کے درخت کاٹنے پر فوری پابندی لگائی جائے۔
ندی نالوں اور آب پاشی کے لیے بنائی گئی نہروں، سرکاری عمارتوں، رہائشی و کمرشل ایریاز سمیت شاہرات و ریلوے لائینز کے اردگرد درخت اگائے جائیں اور متعلقہ حکام کی ملازمت درختوں کو پروان چڑھانے اور ان کی دیکھ بھال کے ساتھ مشروط کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے۔
پہاڑوں پر موجود ہر قسم کے درخت کاٹنے پر پابندی لگائی جائے۔
سیلابی خطرات سے نمٹنے اور بارشی و گلیشیرز کے پگھلنے سے آنیوالے پانی کو سٹور کرنے اور زیر زمین پانی کو بچانے اور اس کی سطح کو بلند کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے:
اس خطہ کے دیہاتوں اور شہروں میں صدیوں سے قائم جوہڑ (جھیل) کے نظام کا از سر نو احیاء کیا جائے۔
ماضی قریب میں جھاوریاں جیسے قدیم قصبہ کے اردگرد 6 سے 7 جوہڑ ہوتے تھے۔ ان جوہڑوں میں بہت بڑے پیمانے پر بارشی پانی سٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ان جوہڑوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا تصور تک نہ ہوتا تھا۔ ہر آبادی اور شہر کا پانی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعہ جھیلوں میں جمع کرتے ہوئے اس امر کا لحاظ رکھیں کہ ان میں سیوریج کا پانی نہ مل پائے۔
جوہڑوں کی بحالی کے بعد ان کے اردگرد درخت لگائے جائیں۔
نہری نظام کے بعد آباد ہونے والے ہرچک میں سرکاری رقبہ موجود ہے۔اسی طرح ان کی کھلی گلیوں میں شجرکاری کو لازمی لیا جائے اور رہائشیوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
ہر گھر میں بارشی پانی کی سٹوریج کے لیے زیرزمین ٹینکر بنانا لازمی قرار دیا جائے۔
دور حاضر کے جدید تصور کے تحت بارشی و سیلابی پانی کو کنوئیں میں ڈال کر صاف کرکے بور کے ذریعہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو بڑھایا جائے۔
پانی کی قدرتی گرزگاہوں اور چھوٹی بڑی جھیلوں کو برباد کیے بغیر نئی ہاوسنگ کالونیاں بسائی جائیں۔
مزید رابطہ نہریں اور صحرائی علاقوں کی طرف مزید غیر دوامی نہریں بناکر پانی کا بہتر استعمال کیا جائے۔
پاکستان میں ہر ممکن مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیم اور بیراجز و جھیلیں بناکر پانی کو محفوظ کیا جائے۔
جیسے چنیوٹ کے قریب چھوٹا ڈیم بنا کر نہ صرف بجلی پیدا کی جاسکتی ہے،بلکہ فئصک آبد، چنیوٹ، پنڈی بھٹیاں جیسے شہروں میں پینے کا صاف پانی بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔چھوٹے بڑے ڈیم اور بیراجز بنا کر سیلابی پانی کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکتا ہے،لیکن لگتا ہے کہ منفی سیاست کی وجہ سے سیلاب کو کنٹرول کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔
پرانے ڈیمز تربیلا،منگلا وغیرہ کی اپ ریزنگ کی جائے اور ساتھ ہی غازی بروتھا ڈیم کی طرح نئے ڈیم بنائے جائیں۔
چنیوٹ، سوان، تھل، چولستان میں بیراج اور ڈیم بنانے کے علاوہ موجودہ نہروں کی صلاحیت میں اضافہ جبکہ سندھ میں سیہون کے مقام پر ڈیم اور تھر کے لیے دو نہریں نکالنے کی گنجائش ہے۔
بلوچستان میں ہزار سے زائد چھوٹے ڈیم بنانے کی گنجائش ہے۔ اس پر کام کی رفتار کو بڑھایا جائے۔ اسی طرح کے پی کے میں ہر ممکن جگہ پر ڈیم اور پانی کے ذخیرے تعمیر کرنے کے علاوہ نئی نہریں بھی نکالی جائیں۔
جب کبھی سیلاب آئے تو اس کی شدت کے مطابق نہریں بند کی جاتی ہیں۔ اس کا ایک اور تکنیکی حل یہ ہے کہ بیراج میں پہلے سے موجود پانی کو ان نہروں میں چھوڑ دیا جائے جو سٹوریج یا پانی کی کمی کا شکار علاقوں تھل،تھر اور چولستان میں بڑی بڑی جھیلوں تک پانی پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
دریائے بیاس کی پانی گزرگاہ کو فعال کرکے ستلج اور راوی سے لنک نہریں نکال کر وہاں تک پانی پہنچایا جائے۔ پاک پتن و ساہیوال کے درمیان دریائے بیاس کی پرانی گزرگاہ کم و بیش ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ چوڑی تھی۔ یہ گزرگاہ قصور سے لے کر ملتان تک پھیلی ہوئی ہے۔
دریائے ستلج کے پانی کو چولستان میں دریائے گھاگھرا تک بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔
دریائے سندھ کے پانی کو اس کی قدیم سیلابی گزرگاہ کے ذریعہ مٹھی تھر تک منتقل کرنے کے لیے صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
درج بالا نکات میں سے سوائے ڈیمز اور بیراجز کی تعمیر کے دیگر تجاویز پر عمل کرنے سے پاکستانی حکومت فوری طور پر انتہائی کم وسائل سے کسی بھی بڑے سے بڑے ماحولیاتی و موسمیاتی نقصان کی شدت کو کم کرنے کے علاوہ زراعت میں انقلاب بھی برپا کرسکتی ہے۔
یوں بھارت کی آبی جارحیت کا رونا بھی کم ہوگا اور ملک میں معاشی سرگرمیاں بھی مثبت انداز میں فروغ پائیں گی۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں پینے کے صاف پانی کا سب سے بڑا ذریعہ زیرزمین موجود آبی ذخائر ہیں۔ 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر زمین پانی کے ذخائر میں 5.66 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔تاہم میرے نزدیک یہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ شمسی توانائی کا استعمال جس تیزی سے بڑھا اسی تناسب سے زیر زمین پانی نکالا جارہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اسی طرح شہروں میں تو 90 فیصد لوگ زیر زمین پانی کو ہی استعمال کررہے ہیں۔ لاہور میں علامہ اقبال ٹاون میں ٹیوب ویل کے لیے 800 فٹ کی گہرائی سے پینے کے لائق پانی ملتا ہے۔ بڑھتی آبادی اور کاشتکاری پانی کی کھپت کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہمیں بارشی اور قدرتی پانی کو جمع کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آبی ذخائر بنانے چاہئیں تو اس سمت میں حکومتی سطح پر سب سے اہم اور قابل ذکر منصوبہ راوی پر جھیلیں اور اس کے اردگرد جنگل کا قیام ہے۔ اگر اس منصوبہ پر اس کی روح کے عین مطابق عمل کیا جائے تو لاہور جیسے شہر کی صاف پانی کی ضرورت باآسانی بارشی پانی سے پوری کی جاسکتی ہے۔ اس منصوبہ کو پرویز الٰہی کے دور میں جیسے ڈیزائن کیا گیا تھا اس کی بنیاد پر میں یہ تجویز آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ پاکستان میں دنیا کا سب بہترین نہری نظام پایا جاتا ہے۔ یہ نہری نظام کم و بیش تمام بڑے و چھوٹے شہروں میں بھی موجود ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کی آبادی بڑھنے سے بہت سارے رقبہ سے کاشتکاری ختم چکی ہے۔ مثلاً اس وقت ملتان شہر کے اردگرد بہنے والے متعدد راجباہ ختم ہو چکے ہیں،یہی حال فیصل آباد اور حیدرآباد کا ہے۔ جن علاقوں کی نہریں آبادی کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں یا ان کا قابل کاشت رقبہ کم ہو چکا ہے۔ ان نہروں کا بچ جانے والا پانی انہی علاقوں میں صاف کرکے شہریوں کو مہیا کیا جائے تاکہ زیرزمین پانی کا استعمال کم ہوسکے۔ اسی طرح سیلاب کی صورت میں آنے والے اضافی پانی کو نہری نظام کی موجودہ صلاحیت کو بڑھا کر زیر زمین پانی کو ریچارج کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی قدرتی و بارشی پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں خراب ماحول، پانی اور جنگلات کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم اور بلا سوچے سمجھے وجود میں آنے والی آبادیاں ہیں۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے وفاق، چاروں صوبوں اور زیر انتظام جموں کشمیرو گلگت بلتستان کی حکومتیں فوری طور پر نئی آبادیوں کے قیام کے لیے ماسٹر پلان بنا کر نہ صرف نافذ کریں بلکہ سختی سے ان پر عملدرآمد بھی کروائیں۔
اس کے علاوہ اس وقت ہاؤسنگ کالونیوں کی منظوری دینے کے لیے متعدد محکمے کام کر رہے ہیں۔ نئی ہاؤسنگ کالونیوں کی منظوری دینے کے لیے سب اداروں کو ختم کرکے ایک نئی و خودمختار اتھارٹی قائم کی جانے چاہیے۔ اسی طرح ماسٹر پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے۔
کیا ایسا ممکن ہے؟
پاکستانی افسر شاہی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اوپر کی کمائی کے لیے پیدا ہونے والے ہر امکان کو وہ دل و جان سے قبول کرتے ہوئے پراجیکٹ فوری تیار کرلیں گے۔جیسا کہ حالیہ دنوں میں محکمہ تعلیم سکولز نے ورلڈ بینک سے ٹیچرز کی پیشہ وارانہ تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے لاکھوں ڈالر کی گرانٹ لی اور ساتھ ہی یہ ڈرامہ بھی جاری ہے کہ سکولوں کو پرائیویٹ بھی کیا جارہا ہے۔ یہی کچھ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے کیا۔ ریور راوی فرنٹ سٹی پراجیکٹ کے ذریعہ اوورسیز پاکستانیوں سے رقم اکٹھا کرنے کے لیے اس قدر تیزی سے لانچ کیا گیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس تیزی کے باعث اس منصوبے کی بنیادی اساس ہی گمشدہ داستان بن گئی۔ ان دنوں شاید عمران خان وزیراعظم پاکستان کو بھی غلط فہمی تھی کہ میں آواز دوں گا تو اوورسیز پاکستانی پیسوں کے ڈھیر لگادیں اور پھر انقلاب آیا کہ آیا۔
بدقسمتی سے عمران خان کی توقعات پوری نہ ہوسکیں لیکن اس وقت کے حکمرانوں،افسر شاہی اور کچھ ریٹائرڈ لوگوں کی موجیں لگ گئیں۔۔راوی کے انتقام کے باوجود افسروں کی موج تو اب تک جاری ہے –
