← Back to Newsroom OS پاکستان

راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی…(قسط پنجم)

By جدوجہد • 2025-09-09 • 12 min read

سیف الرحمان رانا

پاکستان اس وقت دنیا کی صنعتی ترقی سے پیداشدہ منفی اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کرنے والا خطہ ہے۔ پاکستان میں قطبین کے بعد سب سے بڑے اور زیادہ گلیشیرز پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان اپنے اپنے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں کی وجہ سے وسیع وعریض جنگلات کا بھی مالک تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم پاک پتن رہا کرتے تھے تو اس زمانے میں ستلج کی دریائی بیلٹ میں آباد لوگ دریا کے اندر کھڑے درختوں اور درخت نما جھاڑیوں کی شاخوں کو کاٹ کر اونٹ، خچر، گدھوں وغیرہ پر لاد کر شہر میں بیچنے آتے تھے۔ اس زمانے میں چولہے انہیں شاخوں سے دہکتے تھے۔ اسی روزنامہ ’جدوجہد ‘کے ایڈیٹر فاروق سلہریا کے آبائی علاقہ شکرگڑھ میں نالہ ڈیک کے گرد بہت بڑا اور گھنا جنگل ہوا کرتا تھا۔

نااہلی، بدعنوانی اور کام چوری نے آج اس ملک کا یہ حال کردیا ہے کہ ہماری نسلیں صاف ستھری فضاء اور پانی کو ترسنے لگے ترسنے لگی ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملین ایکڑ فٹ بارشی و برفانی صاف ستھرا، منرلز سے بھرپور پانی سمندر میں پھینکنے والی قوم پینے کا پانی خریدنے پر مجبور ہے۔ کراچی کے بعد اب لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد، حیدر آباد، سکھر، ملتان، سرگوددھا، کوہاٹ، بنوں جیسے شہر بھی زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی آفت میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔اسی طرح نسیم سحر کو تو سموگ نامی بیماری کینسر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

پراگندہ ماحول، فضاء میں بڑھتی کاربن ڈائی آکسائیڈ، قدرتی پانی کا بہتر استعمال نہ کرنے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو بیدردی سے استعمال نے ملک کو مختلف خطرناک جغرافیائی و موسمیاتی تبدیلیوں سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کا واحد حل ہے جنگلات کی فوری بحالی اور زمین کے اوپر بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں کے پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے راوی کے اندر جھیلیں اور کناروں پر جنگل اگائے جانے تھے ۔وہ کام تو بوجوہ ہم کر نہ سکے ،لیکن اگر قومی و اجتماعی ذمہ داری کے طور پر درج ذیل اقدامات پر عمل کیا جائے ،تو صورتحال فوری طور پر بہتر ہوسکتی ہے:

دریاؤں کے بیلٹ میں قدرتی ماحول میں پروان چڑھنے والے پودے و درخت لگائے جائیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف توانائی کے لیے قابل تجدید ذرائع اور آکسیجن میں اضافہ ،اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوگی۔

ان جنگلات کے تحفظ سے زیرزمین پانی کی سطح بھی فوری بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔

ماحول دوست حشرات الارض کی افزائش بھی ہوگی۔

دریاؤں کے بیلٹوں میں موجود ہر قسم کے درخت کاٹنے پر فوری پابندی لگائی جائے۔

ندی نالوں اور آب پاشی کے لیے بنائی گئی نہروں، سرکاری عمارتوں، رہائشی و کمرشل ایریاز سمیت شاہرات و ریلوے لائینز کے اردگرد درخت اگائے جائیں اور متعلقہ حکام کی ملازمت درختوں کو پروان چڑھانے اور ان کی دیکھ بھال کے ساتھ مشروط کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے۔

پہاڑوں پر موجود ہر قسم کے درخت کاٹنے پر پابندی لگائی جائے۔

سیلابی خطرات سے نمٹنے اور بارشی و گلیشیرز کے پگھلنے سے آنیوالے پانی کو سٹور کرنے اور زیر زمین پانی کو بچانے اور اس کی سطح کو بلند کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے:

اس خطہ کے دیہاتوں اور شہروں میں صدیوں سے قائم جوہڑ (جھیل) کے نظام کا از سر نو احیاء کیا جائے۔

ماضی قریب میں جھاوریاں جیسے قدیم قصبہ کے اردگرد 6 سے 7 جوہڑ ہوتے تھے۔ ان جوہڑوں میں بہت بڑے پیمانے پر بارشی پانی سٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ان جوہڑوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا تصور تک نہ ہوتا تھا۔ ہر آبادی اور شہر کا پانی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعہ جھیلوں میں جمع کرتے ہوئے اس امر کا لحاظ رکھیں کہ ان میں سیوریج کا پانی نہ مل پائے۔

جوہڑوں کی بحالی کے بعد ان کے اردگرد درخت لگائے جائیں۔

نہری نظام کے بعد آباد ہونے والے ہرچک میں سرکاری رقبہ موجود ہے۔اسی طرح ان کی کھلی گلیوں میں شجرکاری کو لازمی لیا جائے اور رہائشیوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

ہر گھر میں بارشی پانی کی سٹوریج کے لیے زیرزمین ٹینکر بنانا لازمی قرار دیا جائے۔

دور حاضر کے جدید تصور کے تحت بارشی و سیلابی پانی کو کنوئیں میں ڈال کر صاف کرکے بور کے ذریعہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو بڑھایا جائے۔

پانی کی قدرتی گرزگاہوں اور چھوٹی بڑی جھیلوں کو برباد کیے بغیر نئی ہاوسنگ کالونیاں بسائی جائیں۔

مزید رابطہ نہریں اور صحرائی علاقوں کی طرف مزید غیر دوامی نہریں بناکر پانی کا بہتر استعمال کیا جائے۔

پاکستان میں ہر ممکن مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیم اور بیراجز و جھیلیں بناکر پانی کو محفوظ کیا جائے۔

جیسے چنیوٹ کے قریب چھوٹا ڈیم بنا کر نہ صرف بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ،بلکہ فئصک آبد، چنیوٹ، پنڈی بھٹیاں جیسے شہروں میں پینے کا صاف پانی بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔چھوٹے بڑے ڈیم اور بیراجز بنا کر سیلابی پانی کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکتا ہے،لیکن لگتا ہے کہ منفی سیاست کی وجہ سے سیلاب کو کنٹرول کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

پرانے ڈیمز تربیلا ،منگلا وغیرہ کی اپ ریزنگ کی جائے اور ساتھ ہی غازی بروتھا ڈیم کی طرح نئے ڈیم بنائے جائیں۔

چنیوٹ، سوان، تھل، چولستان میں بیراج اور ڈیم بنانے کے علاوہ موجودہ نہروں کی صلاحیت میں اضافہ جبکہ سندھ میں سیہون کے مقام پر ڈیم اور تھر کے لیے دو نہریں نکالنے کی گنجائش ہے۔

بلوچستان میں ہزار سے زائد چھوٹے ڈیم بنانے کی گنجائش ہے۔ اس پر کام کی رفتار کو بڑھایا جائے۔ اسی طرح کے پی کے میں ہر ممکن جگہ پر ڈیم اور پانی کے ذخیرے تعمیر کرنے کے علاوہ نئی نہریں بھی نکالی جائیں۔

جب کبھی سیلاب آئے تو اس کی شدت کے مطابق نہریں بند کی جاتی ہیں۔ اس کا ایک اور تکنیکی حل یہ ہے کہ بیراج میں پہلے سے موجود پانی کو ان نہروں میں چھوڑ دیا جائے جو سٹوریج یا پانی کی کمی کا شکار علاقوں تھل ،تھر اور چولستان میں بڑی بڑی جھیلوں تک پانی پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

دریائے بیاس کی پانی گزرگاہ کو فعال کرکے ستلج اور راوی سے لنک نہریں نکال کر وہاں تک پانی پہنچایا جائے۔ پاک پتن و ساہیوال کے درمیان دریائے بیاس کی پرانی گزرگاہ کم و بیش ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ چوڑی تھی۔ یہ گزرگاہ قصور سے لے کر ملتان تک پھیلی ہوئی ہے۔

دریائے ستلج کے پانی کو چولستان میں دریائے گھاگھرا تک بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔

دریائے سندھ کے پانی کو اس کی قدیم سیلابی گزرگاہ کے ذریعہ مٹھی تھر تک منتقل کرنے کے لیے صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

درج بالا نکات میں سے سوائے ڈیمز اور بیراجز کی تعمیر کے دیگر تجاویز پر عمل کرنے سے پاکستانی حکومت فوری طور پر انتہائی کم وسائل سے کسی بھی بڑے سے بڑے ماحولیاتی و موسمیاتی نقصان کی شدت کو کم کرنے کے علاوہ زراعت میں انقلاب بھی برپا کرسکتی ہے۔

یوں بھارت کی آبی جارحیت کا رونا بھی کم ہوگا اور ملک میں معاشی سرگرمیاں بھی مثبت انداز میں فروغ پائیں گی۔