راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی۔۔۔(قسط دوم)
سیف الرحمان رانا
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت ڈویلپرز کے ساتھ مل کر زمینیں حاصل کرنا شروع کیں تو چہار سو اس ظلم کے خلاف آواز بلند ہونے لگی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے روڈا حکام نے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے زمین خریداری ماڈل میں چند ترامیم و اضافے کرکے اپنی پالیسی تبدیل کی گئی۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے ذریعہ خریداری کا عمل روکتے ہوئے ڈویلپرز اور سرمایہ داروں کو اعتماد میں لے کر زمین کی خریداری کے لیے الگ الگ علاقے الاٹ کردیے، یعنی غیراعلانیہ کارٹل بنا لیا گیا ہے۔
لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کو ختم کرنے کی ایک اور وجہ نیب اور اینٹی کرپشن جیسے اداروں سے روڈا حکام کا اپنے سمیت سرمایہ کاروں کو بھی بچانا تھا۔ ایل ڈی اے سٹی فیروز پور روڈ کی خریداری کے بعد ایل ڈی اے حکام اور زمین فراہم کرنے والے سرمایہ داروں کا انجام سب کے سامنے تھا۔ اسی لیے ڈویلپرز اور سرمایہ داروں کو تحفظ دینے اور زمین کی خریداری کو مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ پر خریدنے کے لیے منظم اور مربوط پلاننگ کی گئی۔
اس منصوبہ بندی کا مرکز و محور یہ نقطہ تھا کہ عام آدمی اور زمین مالک کو یہ باور کروانا تھا کہ روڈا کی حدود میں صرف اس کو کالونی بنانے کی اجازت ملے گی جو کالونی کی منظوری لیتے وقت پیشگی شرائط کے تحت روڈا کو خاطر خواہ فنڈز فراہم کرے گا۔
ویسے بھی پاکستان میں قانون کی آڑ میں ہی غیرقانونی دھندے چلائے جاتے ہیں جبکہ یہ تو ایک ایسا دھندہ ہے جو پاکستان میں سونے کی کان کی ملکیت سے بھی بہتر گردانا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کم و بیش ہر مالدار شخص سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سرمایہ دار سرکاری حکام کو شیشے میں اتارنے کے فن سے ویسے ہی لیس ہوتے ہیں۔ وہ کوئی بھی پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے ہی متعلقہ حکام کو اس قدر نواز دیتے ہیں کہ وہ ممنونیت کے احساس کے ساتھ ان کے ہر قسم کے مطالبات کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس پراجیکٹ میں تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سمیت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی آشیرباد سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو حاصل تھی۔ اس خوبصورت اور حقیقی معنوں میں ماحول کو تبدیل کرنے والے پراجیکٹ کا حشر نشر تب ہوا جب اس میں رہائشی و کمرشل پراجیکٹس کو شامل کیا گیا۔ اب عمران کے حامیوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ عمران کے اس فیصلہ کا دفاع کیسے کریں؟
بدقسمتی سے رئیل اسٹیٹ واحد سیکٹر ہے جو ہر قسم کی اخلاقی و قانونی روایات و اصولوں کو اپنے صارف پر تو لاگو کرتا ہے لیکن خود کوان کی پیروی کا پابند نہیں سمجھتا ہے۔ سرمایہ دار ڈویلپرز نے زمین کی خریداری اور روڈا کو اس کا حصہ دینے کے لیے عام صارف کو ہی لوٹنا شروع کردیا۔ روڈا اور ڈویلپرز نے مجوزہ ریور فرنٹ شہر میں مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے آغاز اور ترقیاتی کاموں کا جھانسہ دینے کے لیے مہم شروع کردی۔ اصولی طور پر روڈا کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے مجوزہ پراجیکٹ کی تشہیر کرتے کہ وہ کیا کام کررہا ہے؟ اسی طرح وہ اس وقت تک ڈویلپرز کو سکیمیں بیچنے کی اجازت نہ دیتا جب تک وہ بقول اپنے پراجیکٹ کے بنیادی اہداف کا حصول یقینی نہ بنا لیتا۔
عام صارف نے روڈا اور نجی ڈویلپرز کی طرف سے مارکیٹنگ مہم سے متاثر ہو کر دھڑا دھڑ اقساط پر پلاٹس کی بکنگ کروالی۔ سرمایہ داروں اور ڈویلپرز نے بکنگ کا کام تب شروع کیا،جب انہوں نے اپنے ذاتی سرمائے سے پراجیکٹ کے لیے کسی حد تک زمین خرید لی اور اس پر کالونی کی منظوری کے لیے روڈا حکام کے سامنے درخواست گزاردی۔ مہنگے ریٹس طے کرکے پلاٹس کی قسطوں پر بکنگ شروع ہوتے ہی ڈویلپر کے اکاونٹ میں پہلے دو سے تین ماہ میں 20سے 25 فیصد عام صارف کی جانب سے رقم منتقل ہو جاتی ہے۔ موٹروے راوی ٹول پلازہ کے کے مغرب میں عین دریا کے اندر بنی کالونی کے پلاٹس کی کم از کم قیمت 10لاکھ روپے مرلہ ہے۔ دریائے راوی کے پل بند کے عین سامنے بننے والی یہ کالونی پانی کے بہاؤ کے اسی ہزار کیوسک تک پہنچتے ہی ڈوب گئی۔
10 لاکھ روپے فی مرلہ قیمت سے اندازہ کرلیں کہ عام آدمی کو کیسے لوٹا جاتا ہے۔ دریا کے بیٹ میں کسی بھی مقام پر زمین کا ریٹ 40سے 50 لاکھ روپے فی ایکڑ سے زیادہ نہ ہے۔ اگر پراجیکٹ کا فی ایکڑ قابل فروخت رہائشی و کمرشل رقبہ 60 فیصد ہو تو 16 مرلے کمرشل اور 80 مرلے رہائشی ڈویلپر کے حصہ میں آئے۔ ان میں سے روڈا کا سرکاری حصہ، ترقیاتی کاموں، مارکیٹنگ و اوپر والوں کا حصہ دینے پر اخرجات پر 8 کمرشل اور 40 رہائشی مرلوں کی مالیت کے برابر بھی ہو تو ڈویلپر کو 8 مرلے کمرشل اور 40 مرلے رہائشی کی بچت ہوگی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے فی ایکڑ زمین کی خریداری پر زیادہ سے زیادہ 7مرلے خرچ کیے ہیں۔ اب مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے 40 رہائشی مرلے 10 لاکھ فی مرلہ اقساط پر دے کر 80 لاکھ روپے پہلے دو سے تین ماہ میں گھر بنانے کے خواہشمند عام شہری سے اینٹھ لیے۔
یوں عام آدمی کے مال کی مدد سے ہی ڈویلپر راتوں اربوں روپے منافع کما لیتا ہے جبکہ عملی طور پر وہ زمین بھی مفت حاصل کرتا ہے۔ بس اس مقصد کے حصول کے لیے منظوری دینے والے سرکاری حکام کی غائبانہ حمایت و مدد، عالیشان دفتر، سلجھا ہوا پڑھا لکھا مارکیٹنگ و سیلز سٹاف اور الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پر بھرپور مارکیٹنگ و سیلز مہم لانچ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اب تو یہ عالم ہے کہ کم و بیش چھوٹے بڑے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں نے اپنے اپنے ٹی وی چینلز بنا لیے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر انفیولینسرز اور ٹک ٹاکرز بھی ان کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں۔
ویسے اب یہ شہری کی قسمت ہے کہ اسے پلاٹ کا قبضہ ملتا ہے یا نہیں یا وہ مارکیٹ گرنے کی صورت میں سستے داموں وہی فائل ڈویلپر یا اس کے ایجنٹ ڈیلر کو نصف سے بھی کم ریٹ پر بیچے گا؟
(جاری ہے)
