← Back to Newsroom OS صحت

راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی۔۔۔(قسط سوم)

By جدوجہد • 2025-09-05 • 12 min read

سیف الرحمان رانا


لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ(RUDA)کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔یہ فیصلہ کسانوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر سنایا گیا۔درخواست گزاروں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کی جانب سے زمین کے حصول کے طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے نہ صرف پروجیکٹ کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کی دفعہ 4 کو بھی آئین سے متصادم اور غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

اس وقت پاکستان زمینی و فضائی آلودگی کے سبب خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے دریائے راوی کے اردگرد روبہ عمل پراجیکٹ کو اس کے طے کردہ اہداف کے مطابق شروع کیا جاتا تو شاید ہم دنیا کے سامنے ایک منفرد پراجیکٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

بدقسمتی سے RUDAنے عام آدمی کی قیمتی ترین زمین پرائیویٹ ڈویلپرز کے ذریعہ خرید کر رہائشی منصوبوں کی اجازت سے کر پیسہ اکٹھا کرنے پر زور دیا جبکہ اپنے بنیادی اہداف ماحول کی بہتری اور زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے کے لئے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔

جب سالوں سے سوئے دریائے راوی نے اگست 2025 میں انگڑائی لی اور RUDAکی حدود میں پلاٹ بیچنے والے پراجیکٹس کے ترقیاتی کام سیلاب میں غرق ہوئے تو RUDAحکام کو یاد آیا کہ ہم نے عوام کو بتانا ہے کہ RUDAدریائے راوی کے دونوں کنارے بنا رہا ہے اور ان دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ ایک کلومیٹر ہوگا۔

منصوبہ کے مجوزہ بند اور بلیوارڈ
منصوبہ کے مجوزہ بند اور بلیوارڈ

دریائے راوی کے 46 کلومیٹر لمبے علاقے کو سیلاب اور ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے کی گئی منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ہے کہ لاہور حالیہ سیلاب کے دوران بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔ اسی طرح RUDAحکام اب عوام کو بتا رہے ہیں کہ RUDAکی کاوشوں سے دریا سے پانی گزرنے کی مقدار 3 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ کیوسک ہو جائے گی۔ لاہور کے گندے نالوں کے راوی میں گرنے سے پہلے ان پر 6 واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بننے تھے۔ اسی طرح دریاکے اندر بننے والی جھیلوں سے اضافی پانی کے اخراج کے لیے تین بیراج بننے تھے۔ نئے جنگل اگائے جانے ہیں اور رکھ جھوک جنگل اس کا پہلا منصوبہ ہے۔ سالڈ ویسٹ کو قابل استعمال بنانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر کوڑے کے ڈھیر ختم کرنے ہیں۔ اسی طرح انڈسٹریز کو رہائشی علاقوں سے نکال کر مخصوص انڈسٹریل ایریاز میں جگہ فراہم کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔ دریائے راوی پر بننے والے اس نئے شہر کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے متعدد پل بنائے جائیں گے۔ ہائی رائز بلڈنگز میں 18 لاکھ اپارٹمنٹس بنا کر قومی ترقی میں RUDAنے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

راوی میں سیلاب آنے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس کا تقاضا تھا کہ راوی ریور فرنٹ سٹی بنانے سے قبل اس امر کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی کہ اگر اچانک بڑی مقدار میں پانی آجائے تو اس منصوبہ کو بچانے کے لیے متبادل آپشن کون کون سے ہیں۔ مثلاً جب بھی کوئی ڈیم بنایا جاتا ہے تو سب سے پہلے پانی کے بہاؤ کے لیے متبادل راستہ یعنی سرنگیں بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی دریا پر پل بنایا جاتا ہے تو پانی کو روک کر متبادل راستہ دیا جاتا ہے اور وہ بتدریج مکمل ہوتا جاتا ہے۔تاہم اس پراجیکٹ میں تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی سوچ یہ تھی کہ کہ راوی تو گندہ نالہ ہے۔ اسی سوچ کو محسوس کرتے ہوئے RUDA کے ماہرین ٹاؤن پلاننگ نے شاید مستقبل میں آنے والی کسی سیلابی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں کیا۔

ڈوبا ہوا نیو میٹرو سٹی ہاوسنگ پراجیکٹ
ڈوبا ہوا نیو میٹرو سٹی ہاوسنگ پراجیکٹ

RUDA ماہرین کا کہنا ہے کہ راوی کے کناروں کے درمیان ایک کلومیٹر کا بیڈ خالی ہوگا اور وہ 6 لاکھ کیوسک پانی کا بہاو برداشت کرے گا۔ اب میڈیا پر جاری مہم کا دعویٰ تو یہی ہے لیکن دریائے راوی کے چار پل یعنی ریلوے، شاہدرہ، سگیاں اور ایم 2 موٹروے کے پل 800 میٹر لمبے ہیں اور ان کے نیچے سے زیادہ سے زیادہ تین لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ممکن ہے۔ اس سوال کا جواب RUDA کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں کہ ان پلوں کے نیچے سے 6 لاکھ کیوسک پانی کیسے گزرے گا؟

ہاں اتنا ضرور ہے کہ اگر ریلوے پل، شاہدرہ، سگیاں اور موٹروے پل ازسرنو تعمیر کیے جائیں اور ان کے اطراف میں موجود پرانی آبادیوں کو ختم کردیاجائے تو پھر 6لاکھ کیوسک پانی ان پلوں کے نیچے سے گزر کر بلوکی پہنچ جائے گا۔

حالیہ سیلاب کے بعد RUDAحکام کی جانب سے برپا میڈیا مہم کے دوران دریا کے کناروں پر جنگل، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، جھیل اور بیراجز کی تعمیر کب ہوگی اس حوالے سے کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔ ہاں موجودہ میڈیا مہم بھی اس لیے برپا کی گئی ہے کہ انویسٹرز اور ڈویلپرز کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ ویسے بھی اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے انویسٹرز کے اپنے اپنے چینلز مفت میں صرف وہ بتانے اور دکھانے میں لگے ہیں جسے دیکھ کر گھر بنانے والا عام شہری RUDAکے رہائشی و کمرشل پراجیکٹس کی اقساط کی ادائیگی اور مزید خریداری سے راہ فرار اختیار نہ کرسکے۔

اسی طرح اب یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ دریا کے کناروں پر دو دو پختہ بند تعمیر کیے جائیں گے۔ پہلے اور دوسرے بند کے درمیان گرین بیلٹ ہوگی جہاں لاہور کے شہری راوی کے مزے لیں گے جبکہ دوسرے بند کے بعد دونوں اطراف 300 فٹ چوڑی بلیوارڈ تعمیر ہوگی۔ تاہم اگر موٹروے پل کے مغرب میں بننے والی میٹرو سٹی نامی سکیم پر غور کیا جائے تو یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک پانی آنے کے بعد بلیوارڈ سمیت پوری ہاؤسنگ سوسائٹی وینس شہر کا منظر پیش کررہی تھی۔

روزنامہ ’جدوجہد‘ کے صفحات گواہ ہیں کہ RUDAکے آغاز سے ہی میرا موقف یہی رہا ہے کہ RUDAاپنے بنیادی اہداف کی تکمیل پر توجہ دے۔ اگر اوپر مذکورہ اہداف کو کسی ایک مخصوض علاقہ میں بطور پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرکے اس کے اردگرد رہائشی سکیمیں قائم کرنے کی اجازت دی جاتی تو حالیہ سیلاب کے بعد RUDAکے حوالے سے پیدا شدہ منفی خیالات اور خدشات میں شدت پیدا نہ ہوتی۔اس دور کے حاکم کی سوچ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھیوں اور سرکاری ملازمین کی ’جو ملتا ہے آج لے لو کل کس نے دیکھی،والی پالیسی نے پاکستان کے سب سے پہلے ماحول دوست پراجیکٹ کو برباد کرکے رکھ دیا۔

مذکور ہ معاشرتی رویے نے اس ذہین اور قدرتی وسائل سے مالا مال قوم کو بدعنوانی کی اس دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی بھی ناممکن نظر آرہی ہے۔ اس وقت کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کو نظر انداز کیا اور اس حوالے سے غور کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی کہ ہائی کورٹ نے یہ حکم کیوں دیا ہے؟

اسی طرح عمران خان نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ شہباز شریف کے دور میں دریائے راوی کے کناروں کے اردگرد رہائشی سکیمیں بنانے کی تجویز کو کیوں رد کیا گیا؟
نہ ہی پنجاب کی موجودہ حکومت نے یہ زحمت کی کہ وہ یہ جان لے کہ شہباز شریف نے راوی کنارے رہائشی سکیمیں بنانے کی اجازت کیوں نہیں دی تھی؟

 

(جاری ہے)