← Back to Newsroom OS خبریں

ردائے زخم ہر گل پیرہن پہنے ہوئے ہے

By جدوجہد • 2024-10-26 • 6 min read

احمد فراز

ردائے زخم ہر گل پیرہن پہنے ہوئے ہے
جسے دیکھو وہی چپ کا کفن پہنے ہوئے ہے
وہی سچ بولنے والا ہمارا دوست دیکھو
گلے میں طوق پاؤں میں رسن پہنے ہوئے ہے
اندھیری اور اکیلی رات اور دل اور یادیں
یہ جنگل جگنوؤں کا پیرہن پہنے ہوئے ہے
رہا ہو بھی چکے سب ہم قفس کب کے مگر دل
یہ وحشی اب بھی زنجیر کہن پہنے ہوئے ہے
سنا ہے ایک ایسا طائفہ ہے اہل فن میں
جو دیوانہ نہیں دیوانہ پن پہنے ہوئے ہے
فرازؔ اس شہر میں کس کو دکھاؤں زخم اپنے
یہاں تو ہر کوئی مجھ سا بدن پہنے ہوئے ہے