← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

روس اور چین کے ماڈل کے درمیان ایران - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-04-29 • 3 min read

جلبیر اشقر

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران میں ”رژیم چینج“ کی پالیسی پر کاربند ہیں، مگر وہ جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کے دور کی اس پالیسی سے مختلف ہے، جس کے تحت 2003میں عراق پر حملے کو صدام حسین کی برطرفی کے بعد جمہوریت لانے کے نام پر جائز قرار دیا گیا تھا۔جیسا کہ ہم ان صفحات میں بارہا واضح کر چکے ہیں،حتیٰ کہ ایران پر مشترکہ امریکی واسرائیلی جارحیت سے پہلے بھی کہ ٹرمپ کا اصل مقصد وینزویلا میں آزمائی گئی حکمت عملی کو دہرانا تھا۔ یعنی صدر کو اغوا کر کے ایک ایسا جانشین مسلط کرنا جو واشنگٹن اور اس کے تیل کے مفادات کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں ہدف ”رژیم کے رویے“ کو بدلنا تھا، نہ کہ خود رژیم کو تبدیل کرنا۔

تاہم ایران میں ٹرمپ کی کارروائیوں کا نتیجہ ان کی نیت کے بالکل برعکس نکلا۔ انہوں نے ایرانی ررژیم کے اندر ”عملی“ یا ”اعتدال پسند“ اصلاح پسند دھڑے کو مضبوط نہیں کیا۔ یہ اصلاح پسند کہتے ہیں کہ ایران کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ وہ اپنے یورینیم افزودگی پروگرام کو روکے، جو بے ڈھنگے انداز سے جوہری ہتھیاروں اور پرامن جوہری توانائی کے استعمال کی دو حدوں کے بیچ لٹکا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کو جوہری توانائی کی ضرورت نہیں۔ اس کے پاس فوسل فیول کے وسیع ذخائر ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر قابل تجدید توانائی کی صلاحیت ہے،خصوصاً شمسی توانائی،جس میں چین دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، اور وہ ایران کا اہم معاشی شراکت دار ہے۔

اصلاح پسند مزید دلیل دیتے ہیں کہ عرب دنیا میں ایران کے اثر و رسوخ کو پھیلانے کی پالیسی مخالفین کو روکنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ اس نے ایران اور اس کی لبنانی اتحادی حزب اللہ کو ایسی تباہ کن جنگوں میں دھکیل دیا ہے جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اقتصادی لبرلائزیشن اور مغرب کے ساتھ روابط ایران کی معیشت کو بحال کر سکتے ہیں، اس کے انسانی اور تکنیکی وسائل کو کھول سکتے ہیں، اور حکومت اور ایسی آبادی کے درمیان تعلقات کو درست کر سکتے ہیں جو موجودہ رژیم سے شدید نالاں ہے۔

واشنگٹن کی قیادت میں کی جانے والی دوطرفہ جارحیت نے اصلاح پسندوں کو نہیں، بلکہ ایرانی رژیم کے عسکری دھڑے کو مضبوط کیا ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی، پاسداران انقلاب) کے گرد منظم ہے۔ یہ دھڑا ایک کرایہ دار (rentier) معاشی ماڈل پر قائم ہے جسے تیل اور گیس کی آمدن سہارا دیتی ہے۔ اسے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ ایک ایسی پیداواری معیشت تشکیل دے جو عالمی نظام میں ضم ہو سکے،جیسی کہ چین نے اپنی تاریخی اقتصادی اوپننگ کے ذریعے قائم کی، جس نے جدید تاریخ کا سب سے بڑا معاشی معجزہ ممکن بنایا۔نتیجتاً ایران آج جس راستے پر گامزن ہے، وہ چین کے اصلاح پسندوں کے پسندیدہ ماڈل کے برعکس ولادیمیر پیوٹن کے روس کے ماڈل سے مشابہ ہو رہا ہے،یعنی عسکریت، کرایہ داری، اور وسائل کی معیشت،جو چینی ماڈل کی پیداواری اصلاحات سے بالکل مختلف ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ 1989 میں اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات، اور اس کے نتیجے میں حجت الاسلام علی خامنہ ای کے بطور رہبر ابھرنے کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کی راہنمائی میں مذہبی نظریہ کوئی بنیادی قوت نہیں رہا۔ اس وقت خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے عالم تھے، جنہیں منصب پر بٹھانے کے لیے آئین میں ایسی تبدیلیاں کرنا پڑیں جنہوں نے قیادت کے لیے لازم مذہبی اسناد کے معیار کو موثر طور پر کم کر دیا۔ خامنہ ای کا اقتدار پر پہنچنا،جسے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ممکن بنایا،ایک سیاسی چال کا نتیجہ تھا،جس نے رفتہ رفتہ خمینی دور کی روحانی و مذہبی بالادستی کو گھن لگا دیا۔تاہم علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے عملی (pragmatic) خواب کے برخلاف، ایران ایک فوجی جمہوریہ میں تبدیل ہوگیا، جس پر پاسداران انقلاب کا غلبہ ہے۔ پاسداران خامنہ ای کے ساتھ گہرا اتحاد رکھتے ہیں، اور ایران کے وسیع تر اسلامی نظریاتی دعووں کو ترک کرتے ہوئے فرقہ وارانہ موقع پرستی کی طرف بڑھ گئے ہیں تاکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں۔

اس توسیع پسندی کی ابتدا خمینی دور میں لبنان سے ہوئی، جہاں اسے جنوبی لبنان پر صہیونی قبضے کے خلاف جائز حمایت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس کا دائرہ عراق تک ایسے انداز میں بڑھایا گیا،جسے کسی طور ”جائز“ نہیں کہا جا سکتا۔ وہاں تہران نے اپنے فرقہ وارانہ گروہوں کو امریکی حملے اور قبضے کے ساتھ تعاون پر آمادہ کیا تاکہ ایران کا اثر بڑھ سکے۔

شام میں بشار الاسد رژیم کی حمایت ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھی جس کا مقصد ایک ایسا فرقہ وارانہ محور بنانا تھا جو ایران سے لے کر عراق کے راستے شام اور لبنان کے بحیرہ روم تک پھیلا ہو۔یہاں یہ واضح رہے کہ اسد رژیم بظاہر ”عرب سوشلسٹ بعث“ نظریے کی حامل تھی جس سے ایران ہمیشہ نفرت کرتا آیا تھا۔بعد میں یمنی حوثی بھی اس محور میں شامل ہو گئے۔ابتدا میں انہوں نے 2011 کی عوامی بغاوت اور علی عبداللہ صالح کی برطرفی کے بعد ابھرنے والی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی، پھر کچھ عرصہ اسی معزول آمر کے ساتھ اتحاد کیا، جس سے سوائے فرقہ وارانہ شناخت کے ان کی کوئی قدر مشترک نہیں تھی، اور جلد ہی انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

امریکہ کی قیادت میں ہونے والی یہ دو طرفہ جارحیت اس عسکری توسیع پسندانہ رجحان کو مزید مضبوط کر چکی ہے،اور یہی تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تعطل کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ نتیجہ اسرائیلی حکومت کی خواہشات سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے، جو ٹرمپ کے برعکس، ایران کے محض رویہ بدلنے پر قانع نہیں بلکہ پورے ایرانی نظام کی برطرفی اور ملک کو لسانی بنیادوں پر ٹکڑوں میں بانٹنے کی خواہاں ہے۔ اسی لیے نیتن یاہو اس تعطل کو پسند کرتے ہیں، اس امید میں کہ ایران کے اصلاح پسندوں کی مذاکراتی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

اب ٹرمپ اپنی ہی سیاسی کوتاہ بینی اور ایران میں وینزویلا جیسے منظرنامے کو دہرانے کی خام خیالی کے نتائج بھگت رہے ہیں،بجائے اس کے کہ وہ دونوں ملکوں کے گہرے فرق کو سمجھتے۔ان کے سامنے ایک کڑا انتخاب ہے کہ کیا وہ نیتن یاہو کے دباؤ پر دو طرفہ جارحیت جاری رکھیں اور امریکہ میں بھاری معاشی و سیاسی خطرات مول لیں،خاص طور پر جب کانگریسی انتخابات قریب ہوں؟یا ایک ایسے بہانے سے پسپا ہوں جس پر کوئی یقین نہ کرے، اور یوں خطے اور مغرب میں اپنے اتحادیوں کا بھروسہ مزید کھو دیں؟ہر ایک صورت میں موجودہ کیفیت،جسے نہ جنگ کہا جا سکتا ہے نہ امن، زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔


(بشکریہ: ’جلبیراشقرڈاٹ نیٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)