روس کی جنگی معیشت دباؤ میں: بڑھتا بجٹ خسارہ، معاشی بحران اور فوجی کمزوریوں کا انکشاف - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد رپورٹ)روس کی یوکرین جنگ کے دوران جنگی معیشت اس وقت اپنے کئی سنگین ترین دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ریاستی اخراجات میں اضافہ، معاشی سست روی اور فوجی نظام میں کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔
’جیکوبن‘ کے ایک تجزیے کے مطابق اگرچہ روسی حکومت نے اب تک مکمل معاشی یا سیاسی انہدام کا سامنا نہیں کیا، تاہم جنگ کے حق میں عوامی اعتماد میں کمی بڑھ رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے چار مہینوں میں روس کا وفاقی بجٹ خسارہ 5.9 ٹریلین روبل (تقریباً 2.5 فیصد جی ڈی پی) تک پہنچ گیا، جو 2025 کے پورے سال کے 5.6 ٹریلین روبل سے بھی زیادہ ہے۔ حکومت نے پورے سال کے لیے 3.9 ٹریلین روبل خسارے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ خسارہ 2009 کے مالیاتی بحران (تقریباً 6 فیصد جی ڈی پی) اور 2020 کی کووڈ وبا ء(تقریباً 4 فیصد) کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ خطرناک سطح پر ہے۔
اسی دوران صدر ولادیمیر پیوٹن نے خود تسلیم کیا کہ معیشت میں 1.8 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ جنگی اخراجات بڑھنے کے باعث حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں دوسری بار اضافہ شامل ہے، جبکہ یوٹیلیٹی قیمتوں میں بھی 2026 میں دو بار اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بلند شرح سود نے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے اور قرض لینا مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی صنعت میں مزدور منتقل کیے جا رہے ہیں، جبکہ عام صنعتیں، تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے محدود کیے جا رہے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور دیوالیہ پن بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران مبینہ طور پر 1لاکھ سے 1لاکھ 20ہزار فوجی فرار یا ڈرافٹ سے بچنے کے کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ پچھلے ایک سال میں ہوئے۔
ماہرین کے مطابق فوجی بھرتی میں بھی 2026 کے آغاز میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق روسی فوج پہلی بار سکڑنا شروع ہو سکتی ہے۔ جنگی دباؤ کے باعث ریاست اب رضاکارانہ بھرتی کی بجائے دباؤ اور جبری اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی بحران، فوجی کمزوری اور بڑھتی عوامی بے چینی روسی جنگی نظام کے لیے طویل المدتی خطرہ بن سکتی ہے۔