روس کے ارتقا کی خصوصیات
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
روس کی تاریخ کی سب سے بنیادی اور مستقل خاصیت اس کے ارتقا کی سست روی ہے۔ یہ ارتقا معاشی پسماندگی سے جنم لینے والی سماجی اشکال کی قدامت اور ثقافت کے کم تر معیار پر مبنی تھا۔
مشرقی ہواؤں اور ایشیائی ہجرتوں کے لئے کھلی اِس وسیع اور تلخ سرزمین کی آبادی پر خود فطرت نے طویل پسماندگی مسلط رکھی۔ خانہ بدوشوں کے خلاف جدوجہد تقریباً 17ویں صدی کے اواخر تک جاری رہی، سردیوں کی ٹھنڈ اور گرمیوں کا قحط لانے والی ہوا کے خلاف جدوجہد آج تک جاری ہے۔ زراعت، جو تمام تر ارتقا کی بنیاد تھی، وسیع رقبے پر کم پیداواریت کے طریقوں سے آگے بڑھی۔ شمال میں جنگلات کاٹے اور جلائے گئے، جنوب میں گھاس کے غیر آباد میدانوں کو آبادکیا گیا۔ فطرت کی تسخیر وسیع و عریض تھی، لیکن گہری نہیں۔
مغرب کے وحشی قبائل رومی تہذیب کے کھنڈرات میں آباد ہوئے تھے، جہاں سماج اور ثقافت کی تعمیر کے لیے کئی بنیادیں پہلے سے موجود تھیں، لیکن مشرق میں سلاویوں (Slavs) کو اپنی غیر آباد سرزمین پر وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا: ان کے آبا ؤ اجداد ان سے بھی کم تر تہذیبی معیار کے حامل تھے۔ مغربی یورپ کے لوگوں نے طبعی حدبندیوں کی بنیاد پر جلد ہی وہ معاشی اور ثقافتی جھرمٹ بنا لئے جو تجارتی شہر تھے۔ لیکن مشرقی خطے کی آبادی جوں ہی مجتمع ہونے لگتی تو جنگل کے اندر گہرائی تک چلی جاتی یا پھر گھاس کے میدانوں میں پھیل جاتی۔ مغرب میں کسانوں کے سب سے جارحانہ اور مہم جو عناصر شہری، دستکار اور تاجر بن گئے۔ مشرق میں زیادہ متحرک اور بااعتماد لوگوں میں سے کچھ تاجر بن گئے، لیکن زیادہ تر کاسک، سرحدی (Frontiersmen) اور آباد کار بنے۔سماجی تفریق کا عمل مغرب میں تیز تھا، لیکن مشرق میں یہ تاخیر زدہ اور پھیلاؤ کے عمل کی وجہ سے سست تھا۔ زار پیٹر اول (Peter I) کا ایک ہم عصر ویکو لکھتا ہے کہ ”ماسکو کا زار اگرچہ عیسائی ہے، لیکن سست ذہن لوگوں پر حکومت کرتا ہے۔“ماسکو والوں کا یہ”سست“ دماغ معاشی ارتقا کی سست روی، طبقاتی تعلقات کی بے شکلی اور داخلی تاریخ کی نقاہت کا اظہار تھا۔
مصر، ہندوستان اور چین کی قدیم تہذیبوں کا کردار بڑی حد تک خود کفیل تھا، اُن کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ کم تر پیداواری قوتوں کے باوجود اپنے سماجی رشتوں کی تقریباً اتنی ہی تفصیل سے تکمیل کر سکیں جتنی اُن کے دستکار اپنی مصنوعات کی کرتے تھے۔ روس نہ صرف جغرافیائی طور پر بلکہ سماجی اور تاریخی طور پر بھی یورپ اور ایشیا کے بیچ میں تھا۔ اس کی سرحدیں یورپی مغرب اور ایشیائی مشرق سے لگتی تھیں، جہاں کے مختلف ادوار اور مختلف خدوخال تک اس کی رسائی تھی۔ مشرق سے اسے تاتاریوں کا طوق ملا، جو روسی ریاست کے ڈھانچے کے اندر اہم عنصر کے طور پر داخل ہو گیا۔ مغرب اس سے بھی زیادہ خطرناک دشمن تھا، لیکن ساتھ ہی ایک استاد بھی تھا۔ روس مشرق کی اشکال پرنہیں ڈھل سکا، کیونکہ اسے مغرب کی طرف سے مسلسل معاشی اور عسکری دباؤ کے تحت خود کو ڈھالنا پڑتا تھا۔ روس میں جاگیردارانہ رشتوں کی موجودگی، جس کا انکار ماضی کے تاریخ دان کرتے ہیں، شاید بعد کی تحقیقات سے غیر مشروط طور پر ثابت کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں روسی جاگیر داری کے بنیادی عناصر مغرب والے ہی تھے۔ تاہم یہ حقیقت روسی جاگیر داری کے ادھورے پن،بے شکلی اور تہذیبی ورثے کی غربت کی گواہ ہے کہ جاگیردارانہ عہد کی موجودگی طویل سائنسی دلائل سے ثابت کرنا پڑی۔
ایک پسماندہ ملک ترقی یافتہ ممالک کی مادی اور شعوری کامیابیاں اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ ایک غلام کی طرح اُن کے پیچھے چلتا ہے یا اُن کے ماضی کے تمام مراحل کو دہراتا ہے۔ویکو اور اُس کے نئے پیروکار تاریخی دائروں کے دہرائے جانے کی جو تھیوری پیش کرتے ہیں اُس کی بنیاد پرانی قبل از سرمایہ داری کی تہذیبوں کے تاریخی دائروں کے مشاہدے اور کسی حد تک سرمایہ دارانہ ارتقا کے پہلے تجربات پر مبنی ہے۔ نئی آبادیوں میں تہذیبی مراحل کی ایک خاص حد تک تکرار در اصل اِس پورے عمل کی علاقائی محدودیت اور بے قاعدگی سے جڑی ہوئی تھی۔ تاہم سرمایہ داری کا مطلب ہی اِن حالات پر قابو پانا ہے۔ یہ انسان کی ترقی کے استقلال اور عالمگیریت کو تیار کرتی ہے اور ایک لحاظ سے اُسے عملی جامہ پہناتی ہے۔یوں مختلف اقوام کی جانب سے ارتقا کی اشکال کی تکرار خارج از امکان ہو جاتی ہے۔اگرچہ ایک پسماندہ ملک ترقی یافتہ ممالک کی پیروی پر مجبور ہوتا ہے، لیکن چیزوں کو اسی ترتیب سے نہیں لیتا۔ تاریخی پسماندگی کی فوقیت،جو ایک حقیقت ہے، نہ صرف اجازت دیتی ہے بلکہ مجبور کرتی ہے کہ درمیان کے مراحل کو پھلانگ کے جو کچھ بھی پہلے سے تیار ہے اُسے اپنا لیا جائے۔ وحشی اپنے تیر اور کمان پھینک کر فوراً رائفلیں اٹھا لیتے ہیں اور ماضی میں اِن دونوں ہتھیاروں کے درمیان موجود فاصلے کو پھلانگ جاتے ہیں۔ یورپی نوآبادکاروں نے امریکہ میں تاریخ دوبارہ سے شروع نہیں کی تھی۔ یہ حقیقت کہ جرمنی اور امریکہ اب معاشی طور پر برطانیہ کو پچھاڑ چکے ہیں اُن کے سرمایہ دارانہ ارتقا کی پسماندگی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی۔ دوسری طرف برطانوی کوئلے کی صنعت کا قدامت پسندانہ انتشار، جو میکڈونلڈ اور اُس کے دوستوں کے دماغوں میں بھی پایا جاتا ہے، ماضی میں برطانیہ کے طویل عرصے تک سرمایہ دارانہ رہنما کا کردار ادا کرنے کی قیمت ہے۔ تاریخی طور پر پسماندہ اقوام کا ارتقا لازماً تاریخی عمل کے مختلف مراحل کے مخصوص امتراج پر منتج ہوتا ہے۔ یہ ارتقا بحیثیت مجموعی ایک بے منصوبہ، پیچیدہ اور مشترک کردار اختیار کر لیتا ہے۔
درمیان کے مراحل پھلانگنے کا امکان کسی طور بھی مطلق نہیں ہے۔ اِس کے درجے کا تعین آخر کار ملک کی معاشی اور تہذیبی صلاحیتوں سے ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک پسماندہ قوم باہر سے مستعار لی گئی حاصلات کو اپنی قدیم ثقافت کے تحت ڈھالنے کے عمل میں اکثر اوقات کھوٹا کر دیتی ہے۔ یہاں [ترقی یافتہ سماج کی حاصلات کے پسماندہ سماج میں] جذب ہونے کا پورا عمل اپنے اندر تضاد کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹر اول کے تحت مغربی تکنیک اور تربیت کے متعارف ہونے والے بالخصوص عسکری اور صنعتی عناصر نے محنت کی تنظیم کی بنیادی شکل کے طور پر زرعی غلامی کو مضبوط کیا۔یوں یورپی اسلحے اور یورپی قرضے، جو ایک بلند تہذیب کی مسلمہ پیداوار تھے، نے زار شاہی کو مضبوط کیا، جس سے پھر ملک کا ارتقا تاخیر زدہ ہو گیا۔
تاریخ کے قوانین کسی طور بھی بنے بنائے کتابی خاکے نہیں ہوتے ہیں۔ نا ہمواری، جو تاریخی عمل کا سب سے عمومی قانون ہے، پسماندہ ممالک کی تقدیر میں سب سے پیچیدہ اور واضح انداز میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ بیرونی ضرورت کے کَوڑے کے تحت ان کی پسماندہ تہذیب چھلانگیں لگانے پر مجبور ہوتی ہے۔ یوں نا ہمواری کے آفاقی قانون سے ایک اور قانون برآمد ہوتا ہے، جسے ہم کسی بہتر نام کی عدم موجودگی میں مشترک ترقی کا قانون کہہ سکتے ہیں، جس سے ہماری مراد سفر کے مختلف مراحل کا اکٹھا ہو جانا، الگ الگ قدموں کا مل جانا، قدیم اور جدید صورتوں کا یکجا ہو جانا ہے۔ اس قانون کے بغیر روس یا دوسرے، تیسرے یا دسویں تہذیبی درجے کے کسی ملک کی تاریخ کو سمجھنا نا ممکن ہے۔
امیر یورپ کے دباؤ کے تحت روسی ریاست عوام کی دولت کا کہیں بڑا حصہ ہڑپ کرنے پر مجبور تھی اور یوں نہ صرف اِس نے عوام کو دوہری غربت میں غرق رکھا بلکہ ملکیتی طبقات کی بنیادیں بھی کمزور کر دیں۔ عین اسی وقت اِن ملکیتی طبقات کی حمایت کی ضرورت ہونے پر اس نے طاقت کے زور پر ان کی نمو کو پروان چڑھایا اور منظم کیا۔ نتیجتاً افسر شاہانہ مراعت یافتہ طبقات اپنے پورے قد تک بلند نہیں ہو سکے اور یوں روسی ریاست ایشیائی مطلق العنانیت کے قریب ہوتی چلی گئی۔ بازنطینی مطلق العنانیت، جسے روسی زاروں نے 16ویں صدی کے آغازمیں اپنایا، نے جاگیردار نوابوں کو اشرافیہ کی مدد سے مغلوب کیا، پھر اشرافیہ کی تابع داری کسانوں کو اُن کا غلام بنا کر حاصل کی اور اس بنیاد پر سینٹ پیٹرز برگ کی شاہی آمریت قائم کی۔ اس سارے عمل کی پسماندگی اس حقیقت سے پوری طرح عیاں ہوتی ہے کہ 16ویں صدی کے اواخر میں پیدا ہونے والی زرعی غلامی نے 17ویں صدی میں شکل اختیار کی، 18ویں صدی میں پھلی پھولی اور قانونی طور پر 1861ء میں جا کر منسوخ ہوئی۔
اشرافیہ کے بعد کلیسا نے بھی زار شاہی اشرافیہ کی مطلق العنانیت کی تشکیل میں چھوٹا نہیں بلکہ پوری کاسہ لیسی کا کردار ادا کیا۔ روس میں کلیسا اس فیصلہ کن بلندی تک نہیں پہنچ سکا جو اسے کیتھولک مغرب میں ملی؛ روس میں یہ مطلق العنانیت کے روحانی خادم کے کردار سے مطمئن تھا اور اسے اپنی عاجزی کا ہدیہ گردانتا تھا۔ بشپ اور بڑے پادری اختیارات کے مزے دنیاوی طاقت کے نائبوں کی حیثیت سے لیتے تھے۔ بڑے پادری زاروں کے ساتھ ہی تبدیل ہو جاتے تھے۔ پیٹرز برگ کے عہد میں ریاست پر کلیسا کا انحصار اور بھی زیادہ غلامانہ ہو گیا۔ دو لاکھ پادری اور راہب تمام لوازمات کے ساتھ افسر شاہی کا لازمی جزو تھے، یہ ایک طرح کی مذہبی پولیس تھی۔ اس کے بدلے میں مذہب، زمین اور آمدن کے معاملات میں قدامت پرست آرتھوڈاکس کلیسا کی اجارہ داری کا دفاع ایک زیادہ باقاعدہ قسم کی پولیس کرتی تھی۔
سلاو پرستی نے اپنی بنیاد اس مفروضے کو بنایا ہے کہ روسی لوگ اور اُن کا کلیسا ہر لحاظ سے جمہوری ہیں، جبکہ روسی ریاست اُن پر عظیم پیٹر (Peter The Great) کی جانب سے مسلط کی گئی جرمن افسر شاہی ہے۔ مارک اس موضوع پر تبصرہ کرتا ہے: ”قدیم جرمن احمق، فرانسیسیوں کو فریڈرک دوم کی مطلق العنانیت کا الزام اس طرح دیتے تھے گویا پسماندہ غلاموں کو ہمیشہ تربیت کے لئے مہذب غلاموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔“ یہ مختصرسی رائے نہ صرف سلاو پرستوں کے پرانے فلسفے بلکہ ”نسل پرستوں“ کی نئی تاویلوں کو بھی خاک میں ملا دیتی ہے۔
نہ صرف روسی جاگیر داری بلکہ ساری پرانی روسی تاریخ کی نقاہت کا سب سے گرا ہو اظہار تجارت اور دستکاری کے مراکز کی حیثیت سے حقیقی قرون وسطیٰ کے شہروں کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے۔ روس میں دستکاری خود کو زراعت سے الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی بلکہ گھریلو صنعت کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھا۔ قدیم روسی شہر پیداوار کے نہیں بلکہ تجارتی، انتظامی، عسکری اور جاگیردارانہ کھپت کے مراکز تھے۔ حتیٰ کہ ہانسا کی طرح نووگوروڈ بھی، جو تاتاریوں سے مغلوب نہیں ہوا تھا، صنعتی نہیں بلکہ ایک تجارتی شہر تھا۔ یہ درست ہے کہ کئی اضلاع میں کسانوں سے وابستہ صنعتوں کی تقسیم نے بڑے پیمانے پر تجارتی ربط کی ضرورت پیدا کی۔ لیکن خانہ بدوش تاجر سماجی زندگی میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مغرب میں ’دستکار گلڈ‘ اور ’تاجر صنعتی‘ پیٹی اور درمیانی بورژوازی کو حاصل تھا۔ مزید برآں روسی تجارت کی کلیدی شاہراہیں سرحد کے پار جاتی تھیں، یوں اختیار بیرونی تجارتی سرمائے کے پاس تھا اور یہ پورا عمل نیم نوآبادیاتی کردار اختیار کر گیا تھا، جس میں روسی تجارت مغربی شہروں اور روسی دیہاتوں کے درمیان ربط کا ذریعہ تھی۔ اس طرح کا معاشی رشتہ روسی سرمایہ داری کے عہد میں مزید آگے بڑھا اور اپنا انتہائی اظہار سامراجی جنگ کی شکل میں کیا۔
روسی شہروں کی عدم اہمیت، جس نے سب سے بڑھ کر ایشیائی طرز کے ارتقا کو جنم دیا، نے تجدید (Reformation)، یعنی جاگیردارانہ افسر شاہانہ قدامت پرستی کی عیسائیت کی کسی ایسی جدید شکل سے تبدیلی جو بورژوا سماج کے مطالبات سے ہم آہنگ ہو، کو بھی ناممکن بنا دیا۔ ریاستی کلیسا کے خلاف جدوجہد کسانوں کے فرقوں کی تخلیق سے آگے نہیں گئی، جن میں ’پرانے صاحبانِ ایمان‘ کا دھڑا سب سے زیادہ طاقتور تھا۔
عظیم انقلاب فرانس سے پندرہ سال پہلے روس میں یورال کے پہاڑوں پر کاسکوں، کسانوں اور مزدور زرعی غلاموں کی تحریک اٹھی، جسے ’پیوگاشیف‘ بغاوت کہا جاتا ہے۔ اس جارحانہ وسیع شورش کو انقلاب میں تبدیل کرنے کے لئے کس چیز کی کمی تھی؟ ایک ’تھرڈ اسٹیٹ‘ (Third Estate) [۱] کی۔ شہروں کی صنعتی جمہوریت کے بغیر کسانوں کی جنگ انقلاب میں نہیں بدل سکی، بالکل ایسے جیسے کسانوں کے فرقے تجدید کی بلندی تک نہیں پہنچ سکے۔ پیوگاشیف بغاوت کا انجام بالکل الٹ تھا۔ اس سے اشرافیہ کے مفادات کے محافظ کی حیثیت سے افسر شاہانہ مطلق العنانیت مضبوط ہوئی، ایک ایسا محافظ جس نے ایک بار پھر خطرے کی گھڑی میں اپنا جواز پیش کیا تھا۔
ملک کی ’یورپینائزیشن‘، جو باقاعدہ طور پر پیٹر کے دور میں شروع ہوئی، اگلی صدی میں زیادہ سے زیادہ حکمران طبقے، یعنی اشرافیہ کا مطالبہ بنتی چلی گئی۔ اِسی مطالبے کی سیاسی عمومیت کاری کرتے ہوئے اشرافیہ کے دانشور 1825ء میں مطلق العنانیت کے اختیارات کو محدود کرنے کے لئے فوجی سازش کی نہج تک پہنچ گئے۔ یوں یورپی بورژوا ارتقا کے دباؤ کے تحت ترقی پسند اشرافیہ نے ’تھرڈ اسٹیٹ‘ کی جگہ لینے کی کوشش کی۔ تاہم اُن کی خواہش تھی کہ اُن کا لبرل اقتدار اُن کی اپنی پرت کے تسلط میں ہی ہوا ور اس لئے انہیں سب سے زیادہ خطرہ تھا کہ کہیں کسانوں کو متحرک نہ کر بیٹھیں۔ یہ حیران کن نہیں ہے کہ سازش قابل مگر تنہا فوجی افسروں کی پرت کی کوشش تک ہی محدود رہی اور انہوں نے جدوجہد کے بغیر ہی ہار مان لی۔ یہی ’ڈیکابرسٹ‘ کی شورش کی اہمیت تھی۔
ایسے زمیندار جو فیکٹری مالکان بھی تھے، اپنی پرت میں سب سے پہلے اُنہوں نے ہی زرعی غلامی کو اجرتی محنت سے تبدیل کرنے کی حمایت کی۔ روسی غلے کی بڑھتی ہوئی برآمد نے بھی اسی سمت میں دھکا لگایا۔ 1861ء میں اشرافیہ کی افسر شاہی نے لبرل زمینداروں پر انحصار کرتے ہوئے یہ کسان اصلاحات نافذ کیں۔ خصی بورژوا لبرلزم نے اس عمل کے دوران ہاں میں ہاں ملانے کا کردار ہی ادا کیا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ اِس سے ا گلی دہائی میں جرمنی کا بنیادی مسئلہ، یعنی قومی یکجائی، حل کرنے والی پروشیائی بادشاہت کی نسبت زارشاہی نے روس کا بنیادی مسئلہ، یعنی زرعی مسئلہ، حل کرنے میں کہیں زیادہ بخل کا مظاہرہ کیا اور چوروں جیسا انداز اپنایا۔ ایک طبقے کے مسائل کا کسی دوسرے طبقے کی جانب سے حل ان مشترک طریقوں میں سے ایک ہے جو پسماندہ ممالک کے لئے فطری ہیں۔
تاہم ’مشترک ارتقا‘ کا قانون اپنا سب سے ٹھوس اظہار روسی صنعت کی تاریخ اور کردار میں کرتا ہے۔ تاخیر زدہ روسی صنعت نے ترقی یافتہ ممالک کے ارتقا کو نہیں دہرایا، بلکہ اپنی پسماندگی میں جدید ترین حاصلات کو اپناتے ہوئے خود کو ارتقا میں شامل کیا۔ جس طرح روس کا معاشی ارتقا بحیثیت مجموعی ’دستکار گلڈ‘ اور مینوفیکچر کے عہد سے پھلانگ کر آگے بڑھ گیا، اِسی طرح صنعت کی مختلف شاخوں نے بھی اُن تکنیکی پیداواری مرحلوں کے اوپر سے سلسلہ وار خصوصی چھلانگیں لگائیں جو مغرب میں دہائیوں پر محیط تھے۔یہی وجہ ہے کہ روسی صنعت بعض اوقات بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھی۔ پہلے انقلاب اور جنگ کے درمیان روس میں صنعتی پیداوار تقریباً دو گنا ہو گئی۔ اس نے کچھ روسی تاریخ دانوں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے کی معقول بنیاد فراہم کی کہ ”ہمیں پسماندگی اور سست نمو کی داستان ترک کر دینی چاہئے۔“ درحقیقت اس تیز نمو کے امکانات اُسی پسماندگی نے پیدا کئے تھے جو افسوس کے ساتھ نہ صرف پرانے روس کے خاتمے تک جاری رہی بلکہ جس کی میراث آج تک موجود ہے۔
کسی قوم کی معاشی سطح کا معیار محنت کی پیداواریت (Productivity) ہوتی ہے، جس کا انحصار ملک کی عمومی معیشت میں صنعتوں کے اضافی (Relative) وزن پر ہوتا ہے۔ جنگ کے آغاز پر جب زار شاہی روس اپنی ترقی کے بلند ترین مقام پر تھا، اِس کی فی کس قومی آمدن امریکہ سے 8 سے 10 گنا کم تھی۔ یہ حقیقت حیران کن نہیں ہونی چاہئے اگر آپ دیکھیں کہ اپنے لئے پیداوار کرنے والی روس کی 4/5 آبادی زراعت سے وابستہ تھی، جبکہ امریکہ میں ہر ایک فرد جو زراعت سے وابستہ تھا اُس کے مقابلے میں ڈھائی دوسرے صنعت سے وابستہ تھے۔ہم بتاتے چلیں کہ جنگ کے آغاز پرہر 100 مربع کلومیٹر رقبے میں سے روس میں 0.4 کلومیٹر پر ریل کی پٹر ی تھی، جبکہ جرمنی میں 11.7 کلومیٹر اور آسٹریا ہنگری میں 7 کلومیٹر پر تھی۔ دوسرے تقابلی اعشارئیے بھی ایسے ہی ہیں۔
لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے کہ معیشت کے شعبے میں مشترک ارتقا کا قانون سب سے پرزور طریقے سے نمودار ہوتا ہے۔ انقلاب تک کسانوں کی جانب سے زمین کی کاشت جب 17ویں صدی کی سطح پر تھی، عین اُسی وقت روسی صنعت اپنی تکنیک اور سرمایہ دارانہ ڈھانچے میں نہ صرف ترقی یافتہ ممالک کی سطح پر کھڑی تھی بلکہ کئی لحاظ سے اُن سے بھی آگے تھی۔100سے کم مزدوروں پر مشتمل چھوٹے صنعتی اداروں میں امریکہ میں 1914ء میں مجموعی صنعتی مزدوروں کا 35 فیصد حصہ کام کرتا تھا، لیکن روس میں یہ شرح 17.8 فیصد تھی۔ دونوں مماک میں 100 سے 1000 مزدوروں پر مشتمل کارخانوں کا تناسب تقریباً ایک سا تھا۔ لیکن 1000 مزدوروں سے زائد پر مشتمل بڑی فیکٹریوں میں امریکہ میں 17.8 فیصد مزدور جبکہ روس میں 41.4 فیصد مزدور کام کرتے تھے!سب سے اہم صنعتی علاقوں کے لئے یہ آخری تناسب اور بھی زیادہ ہے: پیٹروگراڈ میں 44.4 فیصد جبکہ ماسکو میں 57.3 فیصد تک۔ اگر روس کا موازنہ برطانیہ یا جرمنی کی صنعت سے کیا جائے تو بھی ایسے ہی نتائج ملتے ہیں۔ یہ حقیقت، جو مصنف نے 1908ء میں ثابت کی تھی، روس کی معاشی پسماندگی کے روایتی اور فرسودہ نظرئیے سے بمشکل ہی میل کھاتی تھی۔ تاہم یہ اِس پسماندگی کو رد نہیں کرتی بلکہ جدلیاتی طور پر اِسے مکمل کرتی ہے۔
صنعتی اور مالیاتی سرمائے کا ادغام بھی روس میں اِس حد تک مکمل تھا کہ آپ کو کسی اور ملک میں نہیں ملے گا۔ لیکن صنعتوں کے بینکوں سے مغلوب ہونے کا مطلب بھی اِنہی وجوہات کی بنیاد پر مغربی یورپ کے مالیاتی سرمائے کی منڈی کی غلامی تھا۔ بھاری صنعت (دھات، کوئلہ، تیل) تقریباً مکمل طور پر اُس بیرونی مالیاتی سرمائے کے تسلط میں تھی جس نے اپنے لئے روس میں معاون اور ثالثی بینکوں کا نظام قائم کیا ہوا تھا۔ ہلکی صنعت بھی اِسی راستے پر گامزن تھی۔ روس کا 40 فیصد سٹاک سرمایہ غیر ملکیوں کی ملکیت تھا، لیکن صنعت کی اہم شاخوں میں یہ شرح کہیں زیادہ تھی۔ ہم مبالغہ آرائی کے بغیر کہہ سکتے ہیں کہ روسی بینکوں، صنعتی پلانٹوں اور فیکٹریوں کے سٹاک کے فیصلے کن حصے بیرون ملک تھے اور اِس میں برطانیہ، فرانس اور بیلجیئم کا حصہ جرمنی سے تقریباً دو گنا تھا۔
روسی بورژوازی کا سماجی کردار اور اُس کے سیاسی خدوخال، روسی صنعت کے ماخذ اور ڈھانچے کے تابع تھے۔ صنعت کے شدید ارتکاز کا مطلب تھا کہ سرمایہ دار رہنماؤں اور عوام کے درمیان عبوری پرتوں کی کوئی درجہ بندی موجود نہیں تھی۔ ہم مزید بتاتے چلیں کہ اہم صنعت، بینکاری اور ٹرانسپورٹ کے اداروں کے مالکان غیر ملکی تھے، جو اپنی سرمایہ کاری پر نہ صرف منافع بلکہ غیر ملکی پارلیمنٹوں میں سیاسی اثر و رسوخ بھی حاصل کرتے تھے اور اسی لئے انہوں نے نہ صرف یہ کہ روسی پارلیمانیت کی جدوجہد کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ اکثر اوقات اس کی مخالفت کی: اِس ضمن میں صرف سرکاری فرانس کا شرمناک کردار ہی سامنے رکھنا کافی ہے۔یہی روسی بورژوازی کی سیاسی تنہائی اور غیر عوامی کردار کی بنیادی اور ناگزیر وجوہات تھیں۔ روسی بورژوازی اپنی تاریخ کی شروعات میں تجدید کی تکمیل کے لئے نابالغ تھی، لیکن جب انقلاب کی قیادت کا وقت آیا تو یہ پک کر گل سڑ چکی تھی۔
ملک کے اِسی عمومی ارتقا کی مناسبت سے روسی محنت کش طبقے نے دستکار گلڈ کی بجائے زراعت سے اور شہر کی بجائے دیہات سے اپنی تشکیل کی۔ مزید برآں روس میں برطانیہ کی طرح پرولتاریہ لمبے عرصے میں رفتہ رفتہ ماضی کا بوجھ ساتھ لے کر نمودار نہیں ہوا، بلکہ ماحول، رشتوں اور بندھنوں میں تیز تبدیلیوں پر مشتمل چھلانگوں کے ذریعے اور ماضی کے ساتھ یکلخت تعلق توڑ کر نمودار ہوا۔ اسی حقیقت نے زارشاہی کے مجتمع شدہ جبر کے ساتھ مشترک ہو کر روسی مزدوروں کو انقلابی سوچ پر مبنی انتہائی جرات مندانہ نتائج اخذ کرنے کے قابل بنایا، بالکل اسی طرح جیسے پسماندہ صنعتوں نے انتہائی جدید سرمایہ دارانہ تنظیم کو اپنا لیا تھا۔
روسی پرولتاریہ ہمیشہ اپنے ماخذ کی مختصر تاریخ کو دہراتا رہا۔ بالخصوص پیٹروگراڈ میں دھاتکاری کی صنعت میں موروثی پرولتاریہ کی ایک پرت تشکیل پا گئی، جبکہ یورال کے علاقوں میں نیم پرولتاری نیم کسان قسم رائج رہی۔ دیہاتوں سے صنعتی علاقوں کی طرف تازہ مزدور قوتوں کی سالانہ آمد نے پرولتاریہ کا رشتہ اُس کے بنیادی سماجی ذخیرے سے برقرار رکھا۔
سیاسی عمل میں بورژوازی کی نااہلی کی فوری وجہ اُس کا پرولتاریہ اور کسانوں سے تعلق تھا۔ وہ اُن مزدوروں کی قیادت نہیں کر سکی جو روز مرہ زندگی میں اُس کے مخالف تھے اور بہت جلد اپنے مسائل سے عمومی نتائج اخذ کرنا سیکھ گئے تھے۔ اسی طرح وہ کسانوں کی قیادت کرنے کے قابل بھی نہیں تھی، کیونکہ وہ زمینداروں کے ساتھ مفادات کے جال میں جکڑی ہوئی تھی اور کسی بھی شکل میں ملکیت کے رشتوں کے لرز جانے سے خوفزدہ تھی۔یوں انقلابِ روس کی تاخیر نہ صرف تاریخی ترتیب بلکہ ملک کے سماجی ڈھانچے کا بھی معاملہ تھا۔
برطانیہ میں پیوریٹن انقلاب (Puritan Revoluion) تب ہوا تھا جب اس کی مجموعی آبادی 55 لاکھ سے زیاد ہ نہیں تھی، اس میں سے پانچ لاکھ لوگ لندن میں آباد تھے۔ فرانس میں انقلاب کے عہد میں کُل ڈھائی کروڑ آبادی میں سے صرف پانچ لاکھ لوگ پیرس میں آباد تھے۔ تاہم بیسویں صدی کے آغاز میں روس کی آبادی پندرہ کروڑ تھی، جس میں سے تیس لاکھ لوگ پیٹروگراڈ اور ماسکو میں تھے۔ ان تقابلی اعداد و شمار میں بیش بہا سماجی فرق پوشیدہ ہیں۔ نہ صرف 17ویں صدی کے برطانیہ بلکہ اٹھارہویں صدی کے فرانس میں بھی جدید پرولتاریہ موجود نہیں تھا۔ تاہم روس میں محنت کے تمام شعبوں میں، شہر اور دیہات میں محنت کش طبقے کی تعداد 1905ء میں ایک کروڑ سے کم نہ تھی، محنت کشوں کے خاندانوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد ڈھائی کروڑ سے زیادہ تھی، یعنی عظیم انقلاب فرانس کے عہد میں جتنی فرانس کی کل آبادی تھی اس سے بھی زیادہ۔ [برطانیہ میں ] زور آور دستکاروں اور آزاد کسانوں پر مشتمل کرومویل کی فوج سے آگے بڑھ کر اور [فرانس] میں پیرس کے نادار طبقات سے گزر کر [روس] میں سینٹ پیٹرز برگ کے صنعتی پرولتاریہ تک پہنچتے ہوئے انقلاب نے اپنا سماجی میکانیہ، اپنے طریقے اور یوں اپنے مقاصد یکسر تبدیل کر لئے۔
1905ء کے واقعات 1917ء میں فروری اور اکتوبر میں برپا ہونے والے دو انقلابات کی تمہید تھے۔ اِس تمہید میں ڈرامے کے تمام عناصر موجود تھے، لیکن مکمل نہیں ہو سکے۔ روس اور جاپان کی جنگ نے زارشاہی کو لڑکھڑا دیا تھا۔ عوامی تحریک کے پس منظر میں لبرل بورژوازی نے بادشاہت کو اپنی مخالفت سے خوفزدہ کر دیا تھا۔ مزدور بورژوازی سے آزادانہ طور پر اور اُس کی مخالفت میں سوویتوں میں منظم ہوئے تھے، یہ تنظیم کی ایک ایسی شکل تھی جو پہلی بار وجود میں آئی تھی۔ زمینوں پر قبضوں کے لئے کسانوں کی شورشیں ملک کے طول و عرض میں برپا ہوئیں۔ نہ صرف کسانوں بلکہ فوج کے انقلابی حصوں کا رجحان بھی سوویتوں کی طرف ہوا اور انہوں نے تناؤ کے عروج پر بادشاہت کے مدمقابل آ کر اس کے اقتدار کو متنازعہ بنا دیا۔ تاہم تمام انقلابی قوتیں پہلی بار عمل میں اتر رہی تھیں اور ان میں تجربے اور اعتماد کی کمی تھی۔ لبرل قطعی طور پر اس وقت انقلاب سے الگ ہوگئے جب یہ واضح ہو گیا کہ زارشاہی کو ہلانا کافی نہیں ہو گا بلکہ اسے اکھاڑنا پڑے گا۔ عوام سے بورژوازی کی اِس اچانک علیحدگی، جس میں وہ جمہوری دانشوروں کے اہم حلقوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئی، نے بادشاہت کے لئے آسان بنا دیا کہ وہ فوج میں تفریق کو پہچان سکے، وفادار یونٹوں کو الگ کر سکے اور مزدوروں اور کسانوں سے خونریز طریقے سے حساب چکتا کر سکے۔ ماسوائے چند ایک ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے، زارشاہی 1905ء کے تجربے سے زندہ اور کافی مضبوط برآمد ہوئی۔
[ 1905-1906ء سے 1917ء تک] تمہید اور ڈرامے کے درمیانی گیارہ سالوں میں طاقتوں کے آپسی توازن میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں؟ اِس عرصے میں زارشاہی کا تاریخی ارتقا کے تقاضوں کے ساتھ تصادم زیادہ شدید ہو گیا۔ بورژوازی معاشی طور پر زیادہ طاقتور ہو گئی، لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کی طاقت کا انحصار صنعت کے زیادہ ارتکاز اور بیرونی سرمائے کے بڑھے ہوئے تسلط پر تھا۔ 1905ء کے اسباق سے متاثر ہو کر بورژوازی زیادہ قدامت پسند اور مشکوک ہو چکی تھی۔ پیٹی اور درمیانی بورژوازی کا اضافی وزن، جو پہلے غیر اہم تھا، مزید نیچے گر چکا تھا۔ عمومی طور پر بات کی جائے تو جمہوری دانشوروں کی کوئی مضبوط سماجی حمایت نہیں تھی۔ عبوری سیاسی اثر و رسوخ ضرور ہو سکتا تھا، لیکن وہ کوئی آزادانہ کردار ادا کرنے سے قاصر تھے: اُن کا انحصار بورژوا لبرلزم پر بہت بڑھ چکا تھا۔ اِن حالات میں صرف نوجوان پرولتاریہ ہی کسانوں کو ایک پروگرام، ایک پرچم اور قیادت فراہم کر سکتا تھا۔ پرولتاریہ کو درپیش دیوہیکل فرائض نے ایک ایسی انقلابی تنظیم کی فوری ضرورت کو ابھارا جو جلد از جلد عوام کو جوڑ سکے اور اُنہیں مزدوروں کی قیادت میں انقلابی عمل کے لئے تیار کر سکے۔ 1905ء کی سوویتیں 1917ء میں ایک بار پھر تیزی سے نمو پزیر ہوئیں۔ ہم یہاں تبصرہ کرنا چاہیں گے کہ سووتیں محض روس کی پسماندگی کی نہیں بلکہ اس کے مشترک ارتقا کی پیداوار تھیں، جیسا کہ اس حقیقت سے پتا چلتا ہے کہ سب سے زیادہ صنعتی ملک جرمنی کا پرولتاریہ بھی انقلاب کے عروج پر 1918ء سے 1919ء تک [سوویتوں کے سوا] تنظیم کی کوئی دوسری شکل اختیار نہیں کر پایا۔
1917ء کے انقلاب کا فوری فریضہ افسرشاہانہ بادشاہت کا خاتمہ تھا، لیکن پرانے بورژوا انقلابات سے اس کا فرق یہ تھا کہ فیصلہ کن قوت اب مرتکز شدہ صنعت کی بنیاد پر تشکیل پانے والا نیا طبقہ تھا اور یہ نئی تنظیموں اور جدوجہد کے نئے طریقوں سے مسلح تھا۔ مشترک ارتقا کا قانون یہاں اپنا سب سے شدید اظہار کرتا ہے: قرون وسطیٰ کے بوسیدہ ڈھانچے کو اکھاڑ پھینکنے سے شروعات کر کے انقلاب نے چند ماہ کے عرصے میں پرولتاریہ اور کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار پر براجمان کر دیا!
انقلابِ روس کا ابتدائی فریضہ جمہوری انقلاب تھا۔ لیکن اِس نے سیاسی جمہوریت کے مسئلے کو نئے انداز میں پیش کیا۔ جس وقت مزدور پورے ملک کو سوویتوں کی گرفت میں لے رہے تھے اور کسانوں کے ایک حصے اور سپاہیوں [۳] کو اُن میں شامل کر رہے تھے، بورژوازی ابھی تک اِس بات پر تول مول کر رہی تھی کہ آئین ساز اسمبلی بلائی جائے یا نہ بلائی جائے۔ ہماری تشریح کے دوران یہ سوال کھل کر ہمارے سامنے آئے گا۔ یہاں ہم صرف انقلابی اشکال اور نظریات کی تاریخی ترویج میں سوویتوں کا کردار واضح کرنا چاہتے ہیں۔
17ویں صدی کے وسط میں برطانیہ میں بورژوا انقلاب مذہبی اصلاحات کے لبادے میں ابھرا تھا۔ اپنی مرضی کے مطابق عبادت کی جدوجہد بادشاہ، اشرافیہ، کلیسا کے شہزادوں اور روم کے خلاف جدوجہد بن گئی تھی۔ پریسبیٹیرین (Presbyterian) اور پیوریٹن فرقے والوں کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کو غیر متزلزل الہامی تحویل میں دے رہے تھے۔ جن مقاصد کے لئے نئے طبقات جدوجہد کر رہے تھے وہ اُن کے شعور میں انجیل اور کلیسائی رسوم کے ساتھ ناقابل علیحدگی حد تک گھلے ملے ہوئے تھے۔ خون سے ثبت اس روایت کو تارکین سمندر کے پار لے گئے۔ ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح برطانیہ عظمیٰ کے ”سوشلسٹ“ وزرا اپنی بزدلی کا جواز اُنہی جادُوئی آیات سے پیش کرتے ہیں جنہیں 17ویں صدی کے عوام اپنی جرات کا جواز بناتے تھے۔
تجدید میں قدم رکھنے والے فرانس میں کیتھولک کلیسا ایک ریاستی ادارے کے طور پر اُس انقلاب تک باقی رہا جس نے بورژوا سماج کے فرائض کے جواز انجیل کی آیات کی بجائے جمہوریت کی تجریدوں میں تلاش کئے۔ فرانس کے موجودہ حکمرانوں کو جیکوبنزم (Jacobinism) سے جتنی بھی نفرت ہو، حقیقت یہ ہے کہ روبسپیر [۴] کی درشت محنت کی وجہ سے ہی وہ اب تک اپنی قدامت پرست حکمرانی پر اُن کلیوں کا پردہ ڈالنے کے قابل ہیں جنہوں نے پرانے سماج کو پھاڑ دیا تھا۔
عظیم انقلابات میں سے ہر ایک انقلاب بورژوا سماج کے نئے مرحلے اور اُس کے طبقات کے شعور کی نئی اشکال کا نقطہ آغاز بنا۔ جس طرح فرانس تجدید سے آگے بڑھ گیا، اسی طرح روس رسمی جمہوریت سے آگے بڑھ گیا۔ روس کی انقلابی پارٹی، جسے نئے عہد پر اپنی مہر ثبت کرنا تھی، نے انقلاب کے فرائض کے اظہار کی تلاش انجیل یا ”خالص“ جمہوریت کہلائی جانے والی سیکولر عیسائیت میں نہیں بلکہ سماجی طبقات کے مادی رشتوں میں کی۔ سوویت نظام نے اِن رشتوں کو اِن کا سب سے سادہ، سب سے برملا اور شفاف اظہار فراہم کیا۔ محنت کرنے والوں کی حکمرانی پہلی بار سوویت نظام کی شکل میں عمل پزیر ہوئی ہے۔ اِس میں جو بھی تاریخی نشیب و فراز آئیں لیکن یہ عوام کے شعور میں اُسی اٹل انداز میں سرایت کر چکی ہے جس طرح اپنے دور میں تجدید کے نظام یا خالص جمہوریت نے کی تھی۔
****
[۱] تھرڈ اسٹیٹ انقلاب فرانس سے قبل سماج کا تیسرا درجہ تھا، جس میں تاجر یا ابھرتی ہوئی بورژوازی اور محنت کش کسان وغیرہ شامل تھے اور جس نے انقلاب میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔پہلے دو درجات میں کلیسا اور شاہی اشرافیہ وغیرہ شامل تھے۔ بادشاہ تینوں درجات کے اوپر براجمان ہوتا تھا۔
[۲] مشترک طرزِ ارتقا کے لئے ’مشترک ترقی‘ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔
[۳] پوری کتاب میں سپاہیوں سے مراد فوج کے سپاہی ہیں۔روس میں زار شاہی فوج کے سپاہیوں کی وسیع اکثریت کا تعلق کسان پس منظر سے تھا۔
[۴] انقلاب فرانس میں جیکوبنوں (Jacobins) کا کردار وہی تھا جو انقلابِ روس میں بالشویکوں کا تھا۔ اُن کا رہنما روبسپیر (Robespierre) تھا۔