← Back to Newsroom OS پاکستان

ریکو ڈک کے اصل سونا کھودنے والے

By جدوجہد • 2026-04-20 • 30 min read

اکبر نوتیزئی

دسمبر کی ہوا نوکنڈی کی لندن روڈ پر اس تیزی سے چلتی ہے کہ نامکمل وعدوں کی جانی پہچانی گرد کوبھی اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہے۔ ایرانی ساختہ زمباد پک اپ گاڑیاں قصبے کے معمولی سے بازار کے پاس سے گرجتے ہوئے گزرتی ہیں۔ان کے پہیے دھول کے ایسے بادل اٹھاتے ہیں جو ان دکانداروں کے جھریوں بھرے چہروں پر جا بیٹھتے ہیں ،جنہوں نے خوشحالی کی آنے والی لامتناہی کہانیاں بہت بار سن رکھی ہیں۔

ایک چھوٹے سے چائے خانے کے اندر، جہاں الائچی کی خوشبو لمحہ بھر کو ہر طرف پھیلی مٹی کی بو پر غالب آ جاتی ہے، سرفراز بلوچ یہاں کے حالات کے مطابق ایک طرح کا مزاح پیش کرتے ہیں۔ وہ قصبے کے تجارتی مرکز کی حقیقت بیان کرتی ان چن دکانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’ہمارا بازار شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے۔یہی سب کچھ ہے جو ہمارے پاس ہے،حالانکہ ہم دنیا کی سب سے بڑی انڈرڈویلپڈ تانبے اور سونے کی کانوں میں سے ایک کے میزبان کے طور پر مشہور ہیں۔‘‘

نوکنڈی بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے،جو اپنی معدنی دولت کی کثرت کی وجہ سے’معدنیات کا عجائب گھر‘کہلاتا ہے۔ تاہم اس کی آبادی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف تقریباً 2لاکھ69ہزار192 ہے،جو کسی مضبوط معیشت کا بوجھ اٹھانے کے لیے بہت کم ہے۔لہٰذا یہ پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبے کے غریب ترین ضلعوں میں سے ایک ہے۔ یہ حیران کن تضاد ریکو ڈک کی کہانی کی صرف پہلی جھلک ہے۔ گہرائی میں جائیں تو ایسی کئی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔

ریئرارتھ منرلزکی جنگ

دسمبر 2022 میں کینیڈین مائننگ کمپنی بیریک گولڈ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سامنے ایک وسیع دعوے کے ساتھ پیش ہوئی۔ دعوے کے مطابق اس کی جانب سے ریکو ڈک پر کیے گئے 10 سالہ مطالعات 24 کروڑ ڈالر میں مکمل ہوئے، جن میں ریئرارتھ منرلزکی کوئی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ان کے دعوے کے مطابق کان میں صرف تانبا اور سونا موجود تھا۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے سنگ مرمر سے مزین ہالز میں کارپوریٹ یقین کے ساتھ پیش کیا گیا یہ دعویٰ ان لوگوں کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا جو برسوں سے اس خطے کی معدنی دولت کا مطالعہ کرتے آ رہے تھے۔ یہ بات نہ صرف ارضیاتی منطق بلکہ تاریخی ریکارڈ سے بھی متصادم دکھائی دیتی تھی، اور اس نے پاکستان کے سب سے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبے میں بین الاقوامی مائننگ آپریشنز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

یہ رویہ کسی حد تک بیریک گولڈ کی پیشرو کمپنی، ٹیتہیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی)، کے طرز عمل کی یاد دلاتا تھا، جس کے اقدامات نے گہرا عدم اعتماد پیدا کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ غیر آرام دہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ بین الاقوامی مائننگ کمپنیاں بلوچستان میں کیسے کام کرتی ہیں، اور کس حد تک عالمی سرمایہ پاکستان کی خودمختاری کو روند رہا ہے۔

بیریک گولڈ کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ ریکو ڈک میں ریئر ارتھ منرلزکی کوئی معاشی طور پر قابل عمل مقدار موجود نہیں ہے۔ تاہم کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ماہر ارضیات عنایت اللہ بلوچ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ریکو ڈک کے مقام پر ریئر ارتھ منرلز کی موجودگی کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔‘‘

بلوچستان یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ارضیات ڈاکٹر دین محمد کاکڑ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں بتاتے ہیں کہ ریئر ارتھ منرلز اس نظام میں موجود ہیں، مگر انہیں تانبا، سونا اور چاندی کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔وہ چاغی کے معدنی ذخائر کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’وہ محدودمقدار میں موجود ہیں۔‘‘

بلوچستان یونیورسٹی کے دورے کے دوران سنٹر آف ایکسیلنس ان منرالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد اسحاق سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے صوبے میں ریئر ارتھ منرلز کی بڑھتی ہوئی تذویراتی اہمیت پر تفصیل سے بات کی۔ ان کے مطابق یہ منرلزنایاب ہوتے ہیں اور کم مقدار میں پائے جاتے ہیں،اسی لیے انہیں یہ نام دیا گیا ہے،اور یہ عام طور پر بلسٹر کاپر (خام تانبے) میں موجود ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’ریئر ارتھ منرلز کو اہم معدنیات میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی نایابی ہی دراصل انہیں تذویراتی طور پر قیمتی بناتی ہے۔‘‘یہ زیادہ تر بیرون ملک برآمد کیے جاتے ہیں اور وہیں ان کی پروسیسنگ ہوتی ہے۔ پروفیسر کاکڑ مزید بتاتے ہیں کہ چین دنیا میں ریئر ارتھ منرلز کی پروسیسنگ میں غالب حیثیت رکھتا ہے۔اس نے یہ مقام دنیا بھر سے ان منرلز کو درآمد کر کے اور انہیں ریفائن کر کے حاصل کیا ہے،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دیگر جگہوں پر بھی پائے اور نکالے جاتے ہیں۔

بیریک گولڈ کا دعویٰ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بیانات سے واضح تضاد رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے شخص کے یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں جس نے اپنی معلومات کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ میں اپنی سخت سکیورٹی والے گھر میں ایک طویل انٹرویو کے دوران کہاکہ ’’ریکو ڈک میں صرف سونا اور تانبا ہی نہیں بلکہ نو دیگر عناصر بھی موجود ہیں، جو مستقبل کے معدنیات ہوں گے۔‘‘

جب وہ ان کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آواز میں یقین کے ساتھ ساتھ تھکن کی ہلکی سی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے:’’یورینیم، لیتھیم، اور بہت سے دیگر جن کے بارے میں میں مکمل طور پر نہیں جانتا۔ لیتھیم بہت اہم ہے۔ مستقبل میں راکٹ بھی لیتھیم بیٹریوں پر چلیں گے۔‘‘ اسلم رئیسانی کی باتوں میں ذاتی قربانی کا وزن بھی شامل ہے۔

2010 میں وہ ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے، جس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ اس کا براہ راست تعلق ریکو ڈک کے حوالے سے ان کے فیصلوں سے تھا۔ 2013 تک ان کی حکومت کو بظاہر سرکاری طور پرغیر متعلق وجوہات کی بنا پر برطرف کر دیا گیا۔تاہم بلوچستان میں، بہت کم لوگ ان سرکاری وضاحتوں پر یقین کرتے ہیں، جہاں وسائل کی دولت اور تشدد کا رشتہ طویل عرصے سے جڑا ہوا ہے۔

اسلم رئیسانی فضا میں ایک خیالی نقشہ بناتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ ’’ریکو ڈک افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے سنگم پر ایک تکونی پوزیشن میں واقع ہے،اور معدنیات سے مالا مال ٹیتھیان بیلٹ اس تکون میں پھیلی ہوئی ہے۔ سرحد کے افغان حصے میں، صوبہ نیمروز میں، گودزارہ ہے۔ یہ ریکو ڈک سے کہیں بڑا ہے اور یہ امریکیوں کے کنٹرول میں رہا ہے۔‘‘

ریکو ڈک میں ریئر ارتھ منرلز کا سوال محض ایک اکیڈیمک بحث سے کہیں آگے جاتا ہے۔ یہ معدنیات اسمارٹ فونز سے لے کر میزائل گائیڈنس سسٹمز تک ہر چیز کے لیے ضروری ہیں، اور21ویں صدی کے سب سے تذویراتی وسائل میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی موجودگی، یا مبینہ عدم موجودگی نے پاکستان کے اس معدنیات سے بھرپور خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پیچیدہ رقص کو جنم دیا ہے۔

سعودی عرب کی منارا منرل انویسٹمنٹ کمپنی سلطنت کے کھربوں ڈالر کے خودمختار ویلتھ فنڈ کی پشت پر کھڑی ہے۔ اس کمپنی نے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بدلے منصوبے میں 15 فیصد حصہ حاصل کرنے کا اعلان کیا۔سعودی شمولیت سفارتی حکمت عملی سے آراستہ تھی۔ یہ حصہ پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی نگرانی میں طے پانے والی ایک نازک مصالحت کے تحت حکومت کے اپنے 25 فیصد شیئر میں سے نکالا گیا۔

سعودی سرمایہ کاری بلاشبہ اہم تھی، مگر یہ ریکو ڈک کے وسائل پر قابو پانے کی دہائیوں پر محیط شطرنج کے کھیل کا تازہ ترین قدم تھا۔ یہ داؤ اتنا بلند تھا کہ 2000 کی دہائی کے آخر میں چین نے اپنی ریاستی کمپنیوں میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا اور چائنا من میٹلز کارپوریشن کے ذریعے اس منصوبے میں قدم جمانے کی بارہا کوشش کی۔چین کی مسلسل دلچسپی نے صنعت کے مبصرین کو حیران کیا، خاص طور پر اس لیے کہ ریئر ارتھ منرلزکی عالمی پیداوار میں اس کی تقریباً 97 فیصد تک کی اجارہ داری پہلے ہی قائم ہے۔

سادہ سوال یہ تھا کہ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی ریئر ارتھ منرلز کی عالمی منڈی پر حاوی ہے، وہ اس منصوبے میں کیوں دلچسپی لے گا جس میں بظاہر ریئر ارتھ منرلز ہیں ہی نہیں؟ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کے مشیر رہ چکے معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ’’چین کو بنیادی طور پرریئر ارتھ منرلزکی موجودگی ہی نے اپنی طرف کھینچا تھا۔‘‘

چینی ریاستی کمپنیوں کی مسلسل ضد کہ وہ ریکو ڈک تک رسائی حاصل کریں، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کہانی میں جو کچھ نظر آرہا ہے، اس سے کہیں زیادہ کچھ موجود ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی مزید کہتے ہیں کہ ’’چینی کمپنیوں کی دلچسپی صرف سونے اور تانبے تک محدود نہیں تھی۔ وہ اس منصوبے میں ایسی اسٹریٹجک اہمیت دیکھتے تھے جو ان بنیادی معدنیات سے کہیں آگے جاتی تھی۔‘‘

یہ تذویراتی سوچ ریکو ڈک منصوبے میں عالمی دلچسپی کی شدت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ محض معدنی دولت ہی نہیں، بلکہ ریکو ڈک پر کنٹرول ایک بہت اہم جغرافیائی چوک پوائنٹ پر اثر و رسوخ بھی فراہم کرتا ہے۔ سعودی سرمایہ کاری کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ خطے میں سلطنت کی وسیع از سرنو تذویراتی ترتیب کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔تاہم اس رپورٹ کی تحریر کے وقت اچانک اور غیر متوقع طور پر سعودی عرب کی منارا منرل انوسٹمنٹ کمپنی نے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔

ریکو ڈک کی اسٹریٹجک اہمیت اس کی معدنی دولت سے بھی آگے بڑھتی ہے۔ یہ کان تین مسلسل اہم جیو پولیٹیکل دائروں کے سنگم پر واقع ہے: چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی)، ایران کی مشرقی سرحد، اور وہ امریکی اثر و رسوخ جو طویل عرصے سے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں قدم جمانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس خطے کے وسائل پر کنٹرول عالمی طاقت کے تیزی سے بدلتے ہوئے توازن میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں مقیم جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ ’’بلوچستان ان مقامات میں شامل ہے جو بیک وقت غیر محفوظ بھی ہیں اور اسٹریٹجک بھی۔جغرافیہ اور مقامی وسائل کی وجہ سے یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں قدم جمانا چاہتی ہیں۔ تاہم یہ شورش، مزاحمت اور اس احساس کا بھی گھر ہے کہ بیرونی قوتیں خیرخواہ نہیں ہوتیں،خاص طور پر جب ان کی نظریں بلوچستان کے معدنی اور دیگر قیمتی وسائل پر ہوں۔‘‘

اصل گناہ

موجودہ بحران کے بیج 1993 میں بوئے گئے، جب بلوچستان کی نگراں حکومت کے دوران بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) اور بروکن ہل پروپرائٹری (بی ایچ پی) منرلز کے درمیان اصل چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ ونچر ایگریمنٹ(Chejva) پر دستخط کیے گئے۔

یہ معاہدہ ایک ایسی عارضی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا جس کا مینڈیٹ محدود تھا۔ یہی بات بعد میں اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ابتدا ہی سے یہ معاہدہ کئی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔ بلوچستان حکومت کو نہ تو ایسے جوائنٹ ونچر بنانے کا قانونی حق حاصل تھا اور نہ ہی پاکستان میں رجسٹرڈ نہ ہونے والی غیر ملکی کمپنیوں کو پروسپیکٹنگ لائسنس دینے کا اختیار۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ معاہدے نے ملکیت میں تبدیلی یا سزائیں عائد کرنے کے حکومتی حق کو بھی عملاً ختم کر دیا تھا۔

مسائل اس وقت بڑھ گئے جب 2000 میں ایک اور نگراں حکومت کے دوران بی ایچ پی نے معاہدے میں تبدیلیوں کی درخواست کی۔ ان تبدیلیوں کے تحت بی ایچ پی کو حکومت کی منظوری کے بغیر مائننگ لائسنس کے لیے درخواست دینے اور شراکت داری قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔یہ ایک ایسا راستہ تھا،جس نے بالآخر ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی تشکیل کو ممکن بنایا، جو چلی کی انتوفاگاستا(Antofagasta)اور کینیڈا کی بیرک گولڈ(Barrick Gold)کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔ ریکو ڈک میں 75 فیصد شیئر کے ساتھ ٹی سی سی کو 2006 میں ایکسپلوریشن لائسنس دیا گیا۔

صوبائی حکومت کی دستاویزات ایک ایسے سلسلے کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں زمینوں کے مشکوک سودے اور ریگولیٹری چھوٹ شامل تھیں۔ ایک موقع پر ایک سینئر ریونیو اہلکار نے صرف معمولی سی قیمت پر 750 ایکڑ زمین ایئر اسٹرپ کے لیے لیز پر دینے کی منظوری دے دی۔ مناسب نگرانی یا شفافیت کے بغیر مزید 9ہزار ایکڑ زمین پانی کی پائپ لائنوں اور ٹیوب ویلز کے لیے لیز پر دی گئی۔

2011 تک، جب TCC نے بالآخر اپنی طویل تاخیر کا شکار فیزیبلٹی رپورٹ جمع کرائی، تو حکام اس کی محدود نوعیت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ سابق ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی یاد کرتے ہیں کہ ’’انہوں نے 15 سوراخ کھودے تھے، لیکن رپورٹ میں صرف دو کا ذکر کیا گیا تھا۔ باقی 13 سوراخ بند کر دیے گئے تھے۔ یہ تکنیکی اعتبار سے ایک سنگین خلاف ورزی تھی، اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہم مائننگ لیز کی منظوری نہیں دے سکتے تھے۔‘‘ خود فیزیبلٹی رپورٹ ہی تنازعات کا مرکز بن گئی۔

پاکستان میں ٹی سی سی کے سابق عہدیداران تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اس رپورٹ کے مواد کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔ وہ اسے صرف’’ایک بڑے ڈبے میں بند‘‘فائلوں کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ ایک سینئر افسر کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ 21 جلدوں پر مشتمل تھی اور اس میں تانبے اور سونے کے علاوہ دیگر معدنیات کی موجودگی کا بھی ذکر تھا،جو کمپنی کے بعد کے دعووں کی براہ راست تردید تھی۔

مزاحمت کی قیمت

ریکو ڈک میں ٹی سی سی کی موجودگی کا ارتقا اس منصوبے کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔2002 کے آس پاس کمپنی کا پروسپیکٹنگ لائسنس ایکسپلوریشن لائسنس میں تبدیل کر دیا گیا۔ بظاہر یہ تکنیکی تبدیلی تھی، مگر عملی طور پر اس کے گہرے اثرات تھے۔ اس نئے درجے نے کمپنی کو پچھلی جغرافیائی پابندیوں سے آزاد کر دیا، جس سے وہ اپنے سروے مزید وسیع پیمانے پر کر سکتی تھی۔

ایکسپلوریشن لائسنس کی تین سالہ مدت،جس میں توسیع کی گنجائش بھی تھی،نے ٹی سی سی کو فیزیبلٹی رپورٹ مکمل کرنے کے لیے 9 سال سے زیادہ وقت فراہم کیا۔ اسی دوران ٹی سی سی کی سرگرمیاں خاص طور پر H4/تنزیل سپرجین ڈپازٹ میں تیز ہو گئیں۔ ان کے نتائج اہم تھے، یعنی 0.7 فیصد اوسط شرح کے ساتھ 167 ملین ٹن تانبہ، جس میں 1.1 ملین ٹن کاپر میٹل شامل تھا۔کمپنی کا اندازہ تھا کہ کان کنی کا عمل شروع ہونے کے بعد وہ سالانہ 45 ہزار ٹن تانبہ پیدا کرے گی۔ تاہم جلد ہی کشیدگی بڑھنے لگی۔

دسمبر 2009 میں بلوچستان حکومت نے ڈرامائی طور پر ٹی سی سی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، حکومت کے پاس 25 فیصد حصہ تھا۔وفاقی حکومت نے معاملہ بچانے کی کوشش کی اور تجویز دی کہ ٹی سی سی کسی اسمیلٹنگ کمپنی کے ساتھ جوائنٹ ونچر بنا لے۔ بلوچستان کا موقف واضح تھا ،

وہ خام تانبے کی برآمد نہیں چاہتے تھے۔بلوچستان حکومت چاہتی تھی کہ پہلے صوبے میں اسمیلٹر نصب ہو، پھر پراسیسڈ میٹلز برآمد ہوں۔ مارچ 2010 میں ٹی سی سی نے حکومتی تجویز کو حقارت سے مسترد کرتے ہوئے اسے’’فوائد کے ایک مشکوک تصور‘‘پر مبنی قرار دیا۔

اسلم رئیسانی یاد کرتے ہیں کہ ’’2010 میں، میں ایک خودکش حملے سے بال بال بچا جب میرا قافلہ کوئٹہ کے زرغون روڈ پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی طرف جا رہا تھا۔‘‘یہ گفتگو کرتے ہوئے ان کی آواز میں سختی اور ملال یکجا ہو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’’جیسے ہی ہم سریاب ریلوے کراسنگ پر پہنچے، حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ میں خوش قسمتی سے محفوظ رہا، مگر مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ ریکو ڈک سے متعلق میرے فیصلوں کی وجہ سے ہوا تھا۔‘‘

یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسلم رئیسانی نے ٹی سی سی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہوا تھا۔ وہ کمپنی کے نمائندوں سے ملاقات سے انکاری تھے اور ان کی سرگرمیوں کے متعلق مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسلم رئیسانی پر لگنے والے الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے کمپنی کے ساتھ تمام رابطے بند کر دیے، اور بلوچستان کے جائز تحفظات کو حل کرنے کے لیے بہتر معاہدہ کرنے سے بھی انکار کیا۔تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کی اس ہٹ دھرمی نے پاکستان کو اس قانونی جال میں دھکیل دیا جس کا خمیازہ بعد میں بھگتنا پڑا۔

ان ناقدین میں ترقیاتی تجزیہ کار سید فضل حیدر بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ریکو ڈک منصوبے کی بدانتظامی کی وجہ سے بلوچستان بہت بھاری قیمت ادا کر رہا تھا۔ صوبہ اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے ایسے وقت محروم رہ گیا،جب بیرونی سرمایہ کار پہلے ہی شورش زدہ صوبے میں سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے تھے۔‘‘

اسلم رئیسانی زور دے کر کہتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میں ٹی سی سی کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔میں مذاکرات کرنا جانتا ہوں۔ جس چیز کی میں نے مزاحمت کی وہ رشوت تھی۔ انہوں نے مجھے پیسے کی پیشکش کی، اور میں نے اسے مسترد کر دیا۔ میں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ میں ان سے ملاقات بھی نہیں کروں گا کیونکہ انہوں نے مجھے رشوت دینے کی کوشش کی تھی۔‘‘ایسے الزامات کو آج عدالت میں ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹی سی سی اب ملک میں موجود نہیں ہے۔

ٹی سی سی کا معاہدہ ختم ہونے پر ردعمل فوری اور جارحانہ تھا۔ کمپنی نے قانونی کارروائی شروع کر دی، اور بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ اسے’’تاخیر سے‘‘معلوم ہوا کہ بلوچستان کی جانب سے مائننگ لائسنس مسترد کرنا دراصل دو سال پہلے تیار کی گئی ایک سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد ریکو ڈک منصوبے کا کنٹرول اس سے چھیننا تھا۔

امان اللہ کنرانی نشاندہی کرتے ہیں کہ ’’ٹی سی سی بین الاقوامی فورمز پر چلی گئی، حالانکہ اسے قواعد کی خلاف ورزی کے باعث مائننگ لائسنس دیا ہی نہیں گیا تھا۔ کسی حد تک ہم نقصان کو محدود کرنے میں کامیاب رہے۔ ٹی سی سی نے عبوری ریلیف کے لیے درخواست دی اور موقف اختیار کیا کہ بلوچستان حکومت کو فیصلے تک اس علاقے کی ترقی سے روکا جائے۔ ہماری قانونی ٹیم نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور ٹی سی سی کا دعویٰ صرف ہرجانے اور معاوضے تک محدود ہو سکتا ہے۔ ہم نے دلیل دی کہ پاکستان کو اپنی ہی سرزمین پر اپنی خودمختاری استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ہم نے ان کی عبوری ریلیف کی درخواست مسترد کرا دی۔‘‘

اربوں ڈالر کی جنگ

ریکو ڈک کی کہانی نے 2012 میں سب سے مہنگا رخ اختیار کیا، جب ٹی سی سی پاکستان کو ورلڈ بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) میں لے گئی۔ یہ بہت بڑا داؤ تھا،ٹی سی سی نے 6 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

اس کے بعد ہونے والی قانونی جنگ نے پاکستان کی حکمرانی میں گہری خرابیوں کو بے نقاب کر دیا۔ جیسا کہ قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ’’اس مقدمے کو طول دینے سے اصل فائدہ صرف وکلا کو ہوا۔ ہماری ٹیم لندن جاتی تھی، انہیں فرسٹ کلاس ٹکٹیں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام دینا پڑتا تھا، اور پھر ان کی بھاری فیسیں بھی تھیں۔ یہ سب اخراجات بلوچستان حکومت برداشت کر رہی تھی۔‘‘

یہ مقدمہ ناقدین کے مطابق پاکستانی حکام کے لیے ایک طرح کی’’قانونی سیاحت‘‘بن گیا تھا۔ امان اللہ کنرانی قدرے غصہ چھپاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’نواب اسلم رئیسانی اس کیس میں ایک دن کے لیے بھی بیرون ملک نہیں گئے، حالانکہ یہ ان کے دور میں شروع ہوا تھا۔ تاہم ان کے بعد آنے والے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز، سیکرٹری مائنز، اٹارنی جنرلز اور ان کا عملہ،کسی نے بھی موقع ضائع نہیں کیا۔ وہ بلوچستان کے عوامی خزانے سے بیرون ملک جاتے رہے۔‘‘

یہ بھاری قانونی فیسیں اور سفری اخراجات خاص طور پر اس لیے ناقابل برداشت تھے کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صوبائی حکومت نے ایک وکیل،احمر بلال،پر بھاری رقم خرچ کی، مگر آخرکار انہوں نے بھی وہی عدالت سے باہر تصفیے کی تجویز دی جو پہلے ہی پیش کی جا چکی تھی۔

امان اللہ کنرانی کہتے ہیں کہ ’’جو لوگ ریکو ڈک کے نام پر پیسے کما رہے تھے، انہوں نے ہمیں ہرجانے کے خوف سے ڈرایا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کچھ لوگوں نے خاموشی سے کمپنی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہو اور تنازعہ حل کرنے میں ان کی کوئی حقیقی دلچسپی نہ ہو۔ اس کیس میں بلاوجہ اربوں روپے ضائع کیے گئے۔‘‘

ثالثی ٹریبونل نے مارچ 2017 میں اپنا فیصلہ سنایا، جس میں قرار دیا گیا کہ پاکستان نے آسٹریلیا کے ساتھ اپنے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) کی بعض شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان کا دفاع مسترد کر دیا گیا، اور ٹی سی سی کی آسٹریلیا میں رجسٹریشن کے باعث یہ بی آئی ٹی قابل اطلاق قرار پایا۔

بین الاقوامی مائننگ کمپنیوں کو پاکستان کے خلاف یہ قانونی جنگ جیتنے میں تقریباً ایک دہائی لگ گئی۔ اس تنازعے کا حل دسمبر 2022 میں سامنے آیا۔ پاکستانی حکام تقریباً 6 ارب ڈالر کے ہرجانے کی ادائیگی سے قاصر تھے۔ نہوں بیرک گولڈ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا تاکہ ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈک سائٹ پر دوبارہ کان کنی شروع کی جا سکے۔

پریشان کن سوالات، ناگوار حقیقتیں

آئی سی ایس آئی ڈی کے فیصلے کے بعد کے حالات نے بدعنوانی کے الزامات کا ایک پنڈورا بکس کھول دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، جنہیں یہ بحران ورثے میں ملا، نے خود کو ایک نہایت مشکل صورت حال میں پایا۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’’اگر ٹی سی سی ریکو ڈک میں 50 سال تک کام کرتی، تو بلوچستان کا حصہ صفر ہوتا۔ 50 سالہ منصوبے میں بلوچستان کا حصہ صرف ایک ارب ڈالر رکھا گیا تھا، جبکہ باقی سب کچھ وفاقی حکومت اور کمپنی لے جاتی۔‘‘

اگرچہ بیرک گولڈ کی آمد ایک نئے دور کی نوید کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، مگر بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔آخر بلوچستان کی اس صحرائی زمین کے نیچے کیا کچھ موجود ہے؟ غیر پراسیس شدہ معدنیات جب بحیرۂ عرب کی طرف روانہ ہوں گی تو ان کی نگرانی کیسے کی جائے گی؟ اور سب سے اہم سوال،آخرکار اس دولت سے فائدہ کسے ہوگا؟

ان سوالات کے باوجود گزشتہ سال 12 مئی کو پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ریکو ڈک منصوبے سے بھیجے گئے ایک کنٹینر کو تحویل میں لیا، جسے تفتان میں کسٹمز حکام کی نگرانی میں لے جایا جا رہا تھا۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق اس کنٹینر سے چرس برآمد ہوئی جو اسمگل کی جا رہی تھی۔

دستیاب ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ’’پی آئی اے کوئٹہ نے کوئٹہ سے لکسمبرگ تک سامان لے جانے سے انکار کر دیا کیونکہ وہاں سے پروازیں دستیاب نہیں تھیں۔ نتیجتاً ایم/ایس ڈی ایس وی ایئر سی پاکستان ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس سامان کو کراچی سے لکسمبرگ تک قطر ایئرویز کے ذریعے بک کیا، جیسا کہ ایئر وے بلز میں درج تھا، اور درخواست کی کہ سامان کو زمینی راستے سے کسٹمز کے عملے کی نگرانی میں اے ایف یو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پہنچایا جائے۔‘‘

جب اس بارے میں بیرک گولڈ سے رابطہ کیا گیا تو کمپنی نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ ’’ریکو ڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) سخت سکیورٹی اور کمپلائنس پروٹوکولز پر عمل درآمد کرتی ہے تاکہ کوئی غیر مجاز یا ممنوعہ اشیاء ریکو ڈک سائٹ میں داخل یا خارج نہ ہو سکیں۔‘‘کمپنی کے مطابق سامان لے جانے والی تمام گاڑیوں کی آمد اور روانگی پر مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
کمپنی نے مزید کہا’’مذکورہ واقعے میں شامل گاڑی آر ڈی ایم سی کی ملکیت نہیں تھی۔ سائٹ تک اور وہاں سے سامان کی ترسیل تھرڈ پارٹی کنٹریکٹرز کے ذریعے کی جاتی ہے، جو معاہدے کے تحت آرڈی ایم سی کے سخت سکیورٹی اور حفاظتی معیار پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ جب کوئی گاڑی کسٹمز کی جانب سے سیل اور چیک ہونے کے بعد سائٹ سے روانہ ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد سفر کے باقی حصے میں آر ڈی ایم سی اس سامان کی ذمہ دار نہیں ہوتی۔‘‘

نوکنڈی میں ان اعلیٰ سطحی فیصلوں کا اثر مقامی لوگوں کے لیے مسلسل مایوسی کی صورت میں برآمدہوتا ہے۔جیسا کہ تجال شاہ کڑواہٹ بھری آواز میں بیان کرتے ہیں کہ ’’جو لوگ ان کی خوشامد کرتے ہیں، انہیں کمپنی میں نوکریاں مل جاتی ہیں، جبکہ باقی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’کمپنی مقامی کاروبار کی حمایت کرنے کی بجائے کراچی سے سامان خریدتی ہے۔ جہاں تک مقامی لوگوں کا تعلق ہے، انہیں صرف سکیورٹی کی نوکریاں دی جاتی ہیں، جن کی ماہانہ تنخواہ صرف 32 ہزار روپے ہے،جو اس مہنگائی کے دور میں کچھ بھی نہیں۔‘‘

مقامی آبادی پر اثرات صرف معاشی مایوسی تک محدود نہیں ہیں۔ ماحولیاتی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر جب معدنیات کی ترسیل کے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک مقامی کسان محمد اختر کہتے ہیں کہ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ یہ منصوبہ ہمارے زیر زمین پانی پر کیا اثر ڈالے گا۔ پہلے ہی ٹیسٹ ڈرلنگ نے ہمارے کچھ کنوؤں کو متاثر کیا ہے، مگر ہماری کوئی نہیں سنتا۔‘‘

ریکو ڈک کے تضادات شاید سب سے بہتر ایک ایسی کہانی میں سمٹ جاتے ہیں جو مقامی لوگ ہنسی اور بے بسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ سناتے ہیں۔ کان کنی کے مقام کے قریب ایک ویران علاقہ ڈُک واقع ہے، جو پاک افغان سرحد کے نزدیک ہے،اور جہاں سے افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

جب کینیڈین کان کنوں نے ریکو ڈک تک رسائی کے لیے ایک سڑک تعمیر کی، تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک اور مقصد کے لیے بھی استعمال ہوگی۔ آج وہی سڑک انسانی اسمگلروں کے زیر استعمال ہے، جو افغان مہاجرین کو پک اپ گاڑیوں میں ایران کی طرف لے جاتے ہیں۔

ایک روایت کے مطابق، ایک کینیڈین کارکن نے جب ان بھری ہوئی گاڑیوں کو دیکھا تو حیرت سے کہا کہ ’’یہ آخر ہو کیا رہا ہے!؟‘‘ اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اسمگلر جو زندہ رہنے کے لیے غیر قانونی کام پر مجبور ہیں، اسی زمین کے اصل وارث ہیں، جہاں وہ غیر ملکی کمپنیوں کو دولت نکالتے دیکھتے ہیں ،اورمقامی لوگ بدستور انتہائی تلخ زندگی گزار رہے ہیں۔

نوکنڈی کے رہائشیوں کے لیے اپنی چھوٹی دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے گرد آلود ٹرکوں کو دیکھنا محض ایک منظر نہیں، بلکہ بقاء، وقار اور اپنی زمین کی دولت میں حق کے سوال سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔جیسا کہ سرفراز بلوچ شام ڈھلتے وقت آخری پیالی چائے ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’مختصراً، ہمیں ان کھوکھلے وعدوں پر شدید ناراضی ہے جو ہم سے کیے جا رہے ہیں،اسی لیے ہم اب تک شکایت کنندہ ہیں۔‘‘

ایک اور گزرتا ہوا ٹرک فضا میں گرد بھر دیتا ہے اور لمحہ بھر کے لیے لندن روڈ کا منظر دھندلا جاتا ہے۔ جب گرد بیٹھتی ہے تو وہی معمولی دکانیں باقی رہتی ہیں، جن کے مالک اپنی زمین کی دولت کو اپنے سامنے سے گزرتا ہوا دیکھتے ہیں،ایسے ٹرکوں میں، جنہیں روکنے کی انہیں اجازت نہیں۔ نوکنڈی میں ایسا لگتا ہے کہ بازار آج بھی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے۔

(بشکریہ: ’کانٹرپنٹل‘، ترجمہ: حارث قدیر)