← Back to Newsroom OS تعلیم

زار اور زارینہ

By جدوجہد • 2025-05-16 • 32 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

یہ کتاب اپنا تعلق نفسیات کی اُن غیر متعلقہ تحقیقات سے کم سے کم رکھے گی جنہیں اکثر سماجی اور تاریخی تجزئیے کی بجائے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہماری بصیرت کے میدان میں سب سے اہم مقام تاریخ کی عظیم متحرک قوتوں کا ہے، جو اپنے کردار میں شخصیات سے بہت ماورا ہیں۔ بادشاہت اِنہی میں سے ایک ہے۔لیکن یہ تمام قوتیں افراد کے ذریعے عمل پذیر ہوتی ہیں۔ بادشاہت تو اپنے بنیادی اصول کے تحت ہی فرد ِ واحد کے ساتھ جڑی ہے۔ یہ مظہر بادشاہ کی شخصیت میں دلچسپی کو ضروری بناتا ہے، جسے سماجی ارتقا کے عمل نے انقلاب کے مدمقابل لا کھڑا کیا تھا۔ مزید برآں ہم کم از کم جزوی طور پر دکھانا چاہتے ہیں کہ ایک شخصیت کی ذاتی خصوصیات اکثر ہماری توقعات سے بھی کافی پہلے کہاں ختم ہوتی ہیں اور کیسے اکثر اوقات کسی فرد کی ”ممتاز خصوصیات“ صرف تاریخ کے بلند قانون کی طرف سے چھوڑے گئے انفرادی نقوش ہوتے ہیں۔

نکولس دوم [۱] نے اپنے اجداد سے نہ صرف ایک وسیع و عریض سلطنت بلکہ ایک انقلاب بھی ورثے میں پایا تھا۔ اور انہوں نے اُسے ورثے میں کوئی ایک قابلیت بھی ایسی نہیں دی جو اُسے ایک سلطنت، حتیٰ کہ ایک صوبے یا ملک پر بھی حکمرانی کا اہل بناتی۔ تاریخ کا وہ سیلاب جس کی ہر لہر اُس کے محل کے دروازے سے قریب ہوتی جا رہی تھی، کا مقابلے کرنے کے لئے رومانوف سلطنت کے اِس آخری فرزند کے پاس صرف بے حسی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اُس کے شعور اور اُس کے عہد کے درمیان کوئی شفاف مگر بالکل بھی نہ عبور کی جا سکنے والی چیزحائل تھی۔

زار کے قریبی لوگ انقلاب کے بعد اکثر بتاتے تھے کہ اُس کے دورِ حکمرانی کے انتہائی المناک لمحات (مثلاًپورٹ آرتھر میں فوجوں کی شکست، سوشیما میں بحری بیڑے کا ڈوب جانا، اِس کے دس سال بعد روسی فوجوں کی گالیشیا سے پسپائی، پھر دو سال بعد اُس کی اقتدار سے معزولی) میں بھی، جب اُس کے آس پاس کے لوگ غمزدہ، دہشت زدہ اور ششدر ہوتے تھے، نکولس وہ واحد شخص تھا جو مطمئن ہوتا تھا۔ جب اُس کے سر کے اوپر طوفان گرج رہے تھے اور بجلیاں کڑک رہی تھیں، وہ معمول کے مطابق پوچھتا تھا کہ روس میں اپنے سفروں کے دوران اُس نے کل کتنا فاصلہ طے کر لیا ہے، ماضی میں شکار کی مہمات کے واقعات اور سرکاری اجلاسوں کے لطیفے یاد کرتا تھا، روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی فضول چیزوں میں دلچسپی لیتا تھا۔اُس کا ایک جرنیل تعجب سے پوچھتا ہے کہ ”ایسا کیوں ہے؟ کیا اُس کی پرورش ہی ایسی ہوئی ہے کہ اُسے تقدیر پر یقین کے وجہ سے خود پر اتنا قابو ہے؟ یا پھر اُس کی عقل ناکافی ہے؟“اِس کا آدھے سے زیادہ جواب سوال میں ہی موجود ہے۔ زار کی نام نہاد ”پرورش“، خود کو انتہائی غیر معمولی حالات میں بھی قابو میں رکھنے کی صلاحیت کی وضاحت صرف بیرونی تربیت کے ذریعے نہیں کی جا سکتی؛ اِس کی اساس اندر کی بے حسی، روحانی قوتوں کی غربت اور عزم کے تحرک کی کمزوری تھی۔ بے حسی کا یہ نقاب، جسے کچھ حلقوں میں پرورش کہا جاتا تھا، پیدائش کے وقت نکولس کا فطری حصہ تھا۔

زار کی ڈائری ہی سب سے بہترین ثبوت ہے۔ سالہا سال اِس کے صفحات پر روح کے خالی پن کا اندراج ہوتا رہا۔ ”لمبا فاصلہ چلا اور دو کوّے مارے۔ دن کے وقت چائے پی۔پیدل مٹر گشت کیا، کشتی کی سواری کی۔ اور پھر کّوے مارے اور پھر چائے پی۔“ سب کچھ علم ِ افعال الاعضا کی طرح ہے۔چرچ کی تقریبات کی یادیں بھی کسی شراب کی محفل کی طرز پر لکھی ہوئی ہیں۔

ریاستی دوما کے کھلنے سے پہلے کے دنوں میں جب پورا ملک افراتفری کے عالم میں تھا، نکولس لکھتا ہے: ”14 اپریل۔ باریک قمیض میں سیر کی اور دوبارہ کشتی چلائی۔بالکونی میں بیٹھ کے چائے پی۔ سٹانا نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا اور سواری کی۔ مطالعہ کیا۔“ مطالعے کے موضوع کے بارے میں ایک لفظ نہیں لکھا۔ کیا پڑھا؟ کوئی جذباتی انگریزی رومانس؟ یا پھر محکمہ پولیس کی کوئی رپورٹ؟ ”اپریل 15۔ وِٹّ کا استعفیٰ قبول کیا۔ مَیری اور دمتری کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ اُنہیں سواری میں گھر سے محل لایا۔“

دوما کو تحلیل کرنے کے فیصلے کے دن، جب دربار اور لبرل حلقے بھی خوف سے مر رہے تھے، زار اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ”7 جولائی۔ جمعہ۔ بڑی مصروف صبح تھی۔ افسروں کے ساتھ ناشتے میں آدھا گھنٹہ لیٹ ہو گیا… طوفان آیا، بڑا مرطوب تھا۔ ہم نے گفتگو کی۔ گوریمائیکن کا استقبال کیا۔ دوما کو تحلیل کرنے والے حکم نامے پر دستخط کئے! اولگا اور پیٹیا کے ساتھ کھانا کھایا۔ ساری شام مطالعہ کیا۔“ دوما کی تحلیل کے سامنے ”!“ اُس کے جذبات کا بلند ترین اظہار تھا۔ منتشر کی جانے والی دوما کے اراکین نے لوگوں سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کی استدعا کر دی تھی۔ اس کے بعد فوجی شورشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا: سویبورگ اور کرونسٹٹ میں، جہازوں پر، فوج کے یونٹوں میں۔ اعلیٰ افسران کے خلاف انقلابی دہشت دوبارہ پہلے کبھی نہ دیکھی گئی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ زار لکھتا ہے: ”9 جولائی۔ اتوار۔ یہ آخر ہو ہی گیا! دوما آج بند تھی۔ دعا کے بعد ناشتے میں کئی لٹکے ہوئے چہرے دیکھے جا سکتے تھے… موسم اچھا تھا۔ سیر کے دوران ہم انکل میشا سے ملے، جو کل گاچینا سے آئے ہیں۔ رات کے کھانے تک تمام شام بہت مصروف رہا۔ چپوؤں والی کشتی میں چپو چلائے۔“ یہ بتایا ہے کہ چپوؤں والی کشتی میں چپو چلائے، یہ نہیں بتایا کہ ساری شام کہاں مصروف تھا۔ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔

اور پھر اُنہی مہلک دنوں میں: ”14 جولائی۔ کپڑے پہنے اور سائیکل چلا کر نہانے والے ساحل پر گیا اور مزے سے سمندر میں نہایا۔“ ”15 جولائی۔ دو مرتبہ نہایا۔ بڑی گرمی تھی۔ رات کے کھانے پر ہم دو ہی تھے۔ طوفان آ کر گزر گیا۔“ ”19 جولائی۔ صبح نہایا۔ فارم پر استقبال کیا۔ انکل ولادیمیر اور چاگن نے ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔“ ایک بغاوت اور ڈائنامائٹ کے دھماکوں کا معمولی سا تذکرہ کرتے ہوئے ایک فقرے میں لکھا ہے:”شاندار کام ہوئے!“ حیران کن حد تک پر اطمینان بے حسی، جو شعوری کلبیت تک بلند نہ ہوئی۔

”صبح 9:30 بجے ہم سواری پر کیسپین رجمنٹ گئے… طویل وقت تک چلتا رہا۔ موسم بڑا شاندا تھا۔ سمندر میں نہایا۔ چائے کے بعد لووف اور گچکوف کا استقبال کیا۔“اِس حقیقت پر ایک لفظ نہیں لکھا کہ ان دو لبرلوں کے غیر متوقع استقبال کی وجہ سٹولیپن کی جانب سے حزب مخالف کے رہنماؤں کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کی کوشش تھی۔ شہزادہ لووف، جو مستقبل کی عبوری حکومت کا سربراہ تھا، اِس استقبال کے بارے میں لکھتا ہے: ”میں بادشاہ سلامت کو غم میں ڈوبا دیکھنے کی توقع کر رہا تھا، لیکن اِس کی بجائے بھڑکیلے سرخ رنگ کی قمیض میں ملبوس ایک خوش باش، ہشاش بشاش انسان سے ملاقات ہوئی۔“ زار کی سمجھ بوجھ پولیس کے کسی معمولی اہلکار سے زیادہ نہیں تھی، فرق صرف یہ تھا کہ پولیس والے کو حقیقت کا زیادہ علم ہوتا ہے اور وہ توہمات میں کم غرق ہوتا ہے۔ واحد اخبار، جو نکولس کئی سال تک پڑھتا رہا اور جس سے وہ اپنے سارے خیالات اخذ کرتا تھا، حکومتی خرچے پر شائع ہونے والا ایک ہفت روزہ تھا، جسے شہزادہ میشچرسکینکالتا تھا، جو ایک رجعتی افسرشاہانہ گروہ کا کمینہ اور رشوت خور صحافی تھا اور جس سے اُس کے اپنے حلقے کے لوگ بھی نفرت کرتے تھے۔ زار نے دو جنگوں اور دو انقلابات کے باوجود بھی اپنا نقطہ نظر نہیں بدلا۔ اُس کے شعور اور واقعات کے درمیان ہمیشہ بے حسی حائل ہوتی تھی۔ نکولس کو بغیر کسی وجہ کے مقدر پرست (Fatalism) نہیں کہا جاتا تھا۔ اُس کی مقدر پرستی تاریخی ارتقا کے خلاف ایک طرح کا مجہول ذاتی دفاع تھی اور اُس کی خودسری کے ساتھ ساتھ چلتی تھی، جس کے نفسیاتی محرکات معمولی مگر نتائج خوفناک ہوتے تھے۔

نواب وِٹّ لکھتا ہے، ”میری خواہش ہے اِس لئے ایسا ہی ہونا چاہئے۔ یہ نعرہ اِس کمزور حکمران کی تمام سرگرمیوں میں نظر آتا تھا جس نے صرف اپنی کمزوری کی وجہ سے وہ سب کیا جو اُس کے دورِ اقتدار کی علامت تھا، یعنی زیادہ تر کسی مقصد کے بغیر کم و بیش معصوم جانوں کا تھوک کے حساب سے ضیاں۔“

نکولس کا موازنہ بعض اوقات اس کے نیم پاگل لکڑ دادے پال (Paul) سے کیا جاتا ہے، جسے اُس کے اپنے بیٹے ”با برکت“ الیگزینڈر Alexander“The Blessed”) (کی مرضی سے اُس کے درباریوں نے گلا گھونٹ کر مار دیا تھا۔ رومانوف خاندان کے یہ دونوں افراد درحقیقت خود پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ہر کسی پر عدم اعتماد، مطلق العنان ہوتے ہوئے بھی بے اختیاری کے احساس، ہر چیز سے دستبرداری کی سوچ اور بادشاہ ہوتے ہوئے بھی خود کو اچھوت محسوس کرنے میں یکساں تھے۔ لیکن پال بڑا رنگین آدمی تھا؛ اُس کی بڑھکیں اگرچہ غیر ذمہ دار ہوتی تھیں، لیکن اُن میں تخیلاتی اڑان کا عنصر شامل ہوتا تھا۔ اُس کے فرزند میں سب کچھ ہی مدہم تھا؛ کوئی بھی کاٹ دار خاصیت نہ تھی۔

نکولس نہ صرف غیر مستحکم بلکہ دغاباز بھی تھا۔درباریوں کے ساتھ اُس کے دھیمے رویے کی وجہ سے خوشامدی اُسے ساحر اور منموہن کہتے تھے۔ لیکن زار کا خصوصی لاڈ پیار صرف اُن حکام کے لئے ہوتا تھا جنہیں وہ فارغ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوتا تھا۔ اپنے استقبال سے بے حد خوش ہو کر جب وزیر گھر جاتا تھا تو اسے استعفیٰ دینے کا حکم نامہ ملتا تھا۔ یہ ایک طرح سے زار کی اپنی نااہلی کا انتقام ہوتا تھا۔

نکولس کسی کی قابلیت اور اہمیت سے خار کھاتا تھا۔ وہ فہم و فراست سے عاری اوسط درجے کے افراد کے درمیان ہی آسائش محسوس کرتا تھا،جیسے کہ نوسرباز قسم کے درویش اور مذہبی شخصیات، جن کے سامنے اُسے خود کو زیادہ بلند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔اُس کی انا بڑی نازک تھی۔لیکن یہ متحرک نہیں تھی اور اس میں جرات کا فقدان تھا، بلکہ یہ حسدناک حد تک دفاعی تھی۔ وہ اپنے وزرا کا انتخاب مسلسل تنزلی کے اصول پر کرتا تھا۔ عقل اور کردار والے لوگ ہمیشہ ایسے انتہائی حالات میں ہی تعینات کئے جاتے تھے جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا تھا، جیسے جان بچانے کے لئے سرجن بلایا جاتا ہے۔ وِٹّ [۲] اور بعد ازاں سٹولیپن کا یہی معاملہ تھا۔ زار اندر ہی اندر دونوں سے خار کھاتا تھا۔ جیسے ہی بحران ٹلا اُس نے اِن دونوں مشیروں، جو اُس کے مقابلے میں بلند قامت تھے، کو فارغ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ چناؤ کا یہ طریقہ کار اتنا منظم تھا کہ آخری دوما کے صدر روڈزیانکو نے 7 جنوری 1917ء کو، جب انقلاب دروازے پر دستک دے رہا تھا، زار سے یہ کہنے کی جسارت کی: ”عالی جاہ، آپ کے گرد کوئی ایک بھی دیانتدار اور قابل اعتماد آدمی نہیں بچا ہے؛ سارے بہترین لوگ فارغ کر دئیے گئے ہیں یا سبکدوش ہو گئے ہیں۔ صرف بدنام زمانہ لوگ ہی باقی بچے ہیں۔“

دربار کے ساتھ مشترک زبان تلاش کرنے کی لبرل بورژوازی کی تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ انتھک اور ہنگامہ خیز روڈزیانکو نے اپنی رپورٹوں کے ذریعے زار کو جھنجوڑنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔ زار نے دلیل یا بے باکی کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے دوما کو تحلیل کر دیا۔ اعلیٰ نواب دمتری، جو پہلے زار کا بڑا پسندیدہ تھا اور جو بعد میں راسپوٹن کے قتل میں بھی شامل تھا، نے اپنے ایک ہم منصب شہزادے یسّوپوف سے شکایت کی کہ زار اپنے صدر دفتر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اردگرد کی ہر چیز سے لاتعلق ہوتا جا رہا ہے۔دمتری کا خیال تھا کہ زار کو کوئی نشہ دیا جا رہا تھا جو اُس کی روحانی صلاحیتوں کو زائل کرتا جا رہا تھا۔ لبرل تاریخ دان ملیوکوف لکھتا ہے: ”افواہیں پھیل رہی تھیں کہ زار کی نفسیاتی اور اخلاقی بے حسی کی وجہ شراب کا زیادہ استعمال تھا۔“ یہ سب تخیل یا مبالغہ آرائی تھی۔ زار کو منشیات کی کوئی ضرورت نہیں تھی: جان لیوا ”نشہ“ اُس کے خون میں شامل تھا۔ بس اِس کی علامات انقلاب تک لے جانے والے داخلی بحران اور جنگ کے دیوہیکل واقعات کے پس منظر میں زیادہ واضح ہو کر سامنے آ رہی تھیں۔ راسپوٹن، جو ایک ماہر نفسیات بھی تھا، نے مختصراً زار کے بارے میں کہا کہ وہ ”اندر سے کھوکھلا“ تھا۔

”اچھی پرورش والا“ یہ مدھم اور بے حس انسان سفاک تھا، لیکن ظالم آئیون (Ivan The Terrible) یا پیٹر کی طرح تاریخی مقاصد کے تحت سفاک نہیں تھا، اُن کے ساتھ نکولس دوم کا بھلا کیا لینا دینا تھا؟ بلکہ یہ ایک ایسے بزدل شخص کی سفاکی تھی جو اپنے انجام سے خوفزدہ تھا۔ اپنے اقتدار کے آغاز میں نکولس نے مزدوروں کے قتل عام پر ’فاناگورٹسی رجمنٹ‘ کی تعریف کی تھی۔ وہ ہمیشہ ”اطمینان سے پڑھتا تھا“ کہ چھوٹے بالوں والی طالبات کو کیسے کوڑے لگائے جاتے تھے یا پھر بے بس یہودیوں پر حملوں میں اُن کے سر کیسے پھوڑے جاتے تھے۔ بلیک ہنڈرڈ جیسے سماج کے رجعتی ترین عناصر کی طرف یہ تاجدار کالی بھیڑ روح کی گہرائی سے راغب ہوتی تھی۔ وہ اُنہیں نہ صرف ریاستی خزانے سے کھلی امداد دیتا تھا بلکہ اُن کے کارناموں کے بارے میں شوق سے گفتگو کرتا تھا اور جب وہ حزب مخالف کے کسی دوما کے رکن کے قتل میں ملوث ہو جاتے تھے تو اُنہیں معاف بھی کر دیتا تھا۔ وٹّ، جو پہلے انقلاب کے کچلے جانے کے وقت حکومت کا سربراہ تھا، اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے: ”جب [انقلاب کو کچلنے کے لئے بھیجے گئے] دستوں کے سربراہوں کے غیر ضروری ظلم و جبر کی خبریں بادشاہ تک پہنچیں تو اُس نے اِن اقدامات کی تعریف کی اور بہر صورت اِن کا دفاع کیا۔“ جب بالٹک ریاستوں کے گورنر جنرل نے مطالبہ کیا کہ رچٹر نامی لیفٹنٹ کپتان کو روکا جائے، جو ”اپنے ہی اختیارسے کسی مقدمے کے بغیر بے ضرر لوگوں کو گولیوں سے اڑا“ رہا تھا تو زار نے رپورٹ پر لکھا: ”واہ! کیا شاندار آدمی ہے!“ اس طرح کی حوصلہ افزائیاں بے شمار ہیں۔ کسی عزم، مقصد اور تخیل سے عاری یہ ”ساحر“ قدیم اور جدید تاریخ کے تمام جابروں سے بدتر تھا۔

زارینہ کے اثر و رسوخ میں زار بری طرح جکڑا ہوا تھا اور یہ اثر و رسوخ وقت اور مشکلات کے ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا۔ دونوں مل کر ایک طرح کی اکائی بناتے تھے۔ یہ امتزاج ظاہر کرتا ہے کہ حالات کے دباؤ کے تحت کس حد تک فرد کی کمی کو گروہ پورا کرتا ہے۔ لیکن پہلے ہم زارینہ کے بارے میں بات کرنا چاہیں گے۔

موریس پیلیولوگ، جو جنگ کے دوران پیٹروگراڈ میں فرانس کا سفیر تھا اور فرانسیسی ماہرین تعلیم اور درباری خادماؤں کی نفسیات سے خوب واقف تھا، بڑی باریک بینی سے آخری زارینہ کی تصویر کشی کرتا ہے: ”اخلاقی بے چینی، لمبے عرصے سے چلی آ رہی اداسی، لامتناہی خواہشات، توانائی میں وقفوں سے آنے والے اتار چڑھاؤ، اَن دیکھے اگلے جہاں کے برے خیالات، توہمات۔ کیا روسی لوگوں کے یہ امتیازی خصائص ملکہ کی شخصیت میں انتہائی واضح نہیں ہیں؟“

شاید عجیب لگے، لیکن اِس میٹھے جھوٹ میں کچھ سچائی موجود ہے۔ روسی طنز نگار سالٹیکوف نے کسی حد تک معقول طور پر بالٹک کے جاگیردار وزیروں اور گورنروں کو ”روسی مزاج کے جرمن“ [۳] قرار دیا تھا۔ یہ مسلمہ ہے کہ عوام سے کٹے ہوئے اِن غیر ملکیوں نے ”مستند روسی“ منتظم کی سب سے خالص روایت پروان چڑھائی۔

لیکن لوگ زارینہ سے نفرت کا اتنا کھلا اظہارکیوں کرتے تھے،جو پیلیولوگ کے الفاظ میں اُن میں مکمل طور پر گھل مل گئی تھی؟ جواب سادہ ہے۔ [روسی شاہی خاندان میں آنے کے بعد] اپنے نئے مقام کو جواز دینے کی کوشش میں اِس جرمن خاتون نے ایک سرد مہر دہشت سے روسی قرون وسطیٰ (Mediaevalism)، جو سب سے خام او ر نحیف قرون وسطیٰ تھا، کی تمام روایات اور تفرقات کو اُس وقت اپنایا جب روس کے لوگ خود اِس سے آزاد ہونے کی دیوہیکل جدوجہد کر رہے تھے۔ اِس جرمن ملکہ پر واقعی مطلق العنانیت کا بھوت سوار تھا۔ ایک دیہات سے اٹھنے والی یہ اُجڈ عورت بازنطینی مطلق العنانیت کی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔مذہبی قدامت میں اُسے وہ تصوف اور طلسم ملا جو اُس کی کھلنے والی قسمت سے مطابقت رکھتا تھا۔ حکمرانی کا بحران جوں جوں بڑھا، اپنے طرز زندگی میں اُس کا کٹر پن بھی بڑھتا گیا۔ اپنے کرخت کردار اور انتہائی خشک و سخت جذبات کی صلاحیت کیساتھ زارینہ کمزور قوت ارادی کے مالک زار کی جگہ لیتی گئی اور اُس پر حکمرانی کرنے لگی۔

انقلاب سے ایک سال پہلے 17 مارچ 1916ء کو جب اذیت میں مبتلا ملک شکست اور تباہی میں سلگ رہا تھا،زارینہ نے فوج کے صدر دفتر میں اپنے خاوند کو لکھا: ”تمہیں بگڑے ہوؤں کو حکومت کی ذمہ داری نہیں دینی چاہئے… وہ جو مانگ رہے ہیں اُنہیں کچھ بھی نہیں دینا چاہئے۔ یہ جنگ اور امن تمہارے ہونے چاہئیں، عظمت تمہارے اور مادر وطن کے لئے ہے اورکسی صورت دوما کے لئے نہیں۔ اِن معاملات میں اُنہیں ایک لفظ کہنے کا حق نہیں ہے۔“یہ ہر طرح سے ایک سخت گیر منصوبہ تھا۔ وہ ہمیشہ اِسی طرح سے مسلسل لڑکھڑاتے ہوئے زار پر چابک چلانے والا ہاتھ رکھتی تھی۔

فوج کے خود ساختہ سپہ سالار کے طور پر نکولس کی روانگی کے بعد زارینہ نے کھل کر داخلی امور کا اختیار سنبھالنا شروع کر دیا۔ وہ ایک حاکم کی حیثیت سے وزیروں سے رپورٹیں لیتی تھی۔ وہ شاہی مشیروں کے ایک حلقے کے ساتھ مل کر دوما، وزیروں، جرنیلوں، پوری دنیا اور کسی حد تک خود زار کے خلاف بھی سازشیں کرنے لگی تھی۔ 6 دسمبر 1916ء کو زارینہ نے زار کو لکھا: ”جب تم نے ایک بار کہہ دیا ہے کہ تم پروٹوپوپوف کو رکھنا چاہتے ہو تو پھر وہ (وزیر اعظم تریپوف) تمہارے خلاف جانے والا کون ہوتا ہے؟ رعب سے بات کرو۔ جھکنا نہیں۔ آقا بن کر بات کرنا۔ اپنی بہادر پیاری بیوی اور ہمارے ’دوست‘ کی بات مانو۔ ہم پر بھروسہ کرو۔“ تین دن بعد پھر: ”تمہیں پتا ہے تم حق پر ہو۔ اپنا سر بلند رکھو۔ ٹریپوف کے ساتھ کام کرنے کے لئے اُس پر حکم چلاؤ… میز پر مکّا مارو!“ ایسا لگتا ہے یہ ساری باتیں من گھڑت ہیں، لیکن یہ مصدقہ خطوط سے لی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ اگر چاہیں بھی تو ایسی باتیں نہیں گھڑ سکتے۔

13 دسمبر 1916ء کو زارینہ نے نکولس کو مشورہ دیا: ”اس ذمہ دار حکومت کے سوا کچھ بھی، جس کے بارے میں ہرکوئی دیوانہ ہوا جا رہا ہے۔ہر چیز خاموش اور بہتر ہو رہی ہے، لیکن لوگ تمہاری آشیر باد محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے کب سے، کئی سالوں سے وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ روس کو چابک کی ضرب سے بڑی محبت ہے۔ یہی ’اُن‘ کی فطرت ہے!“یہ قدامت پرست جرمن عورت، جس کی پرورش برطانوی انداز میں ہوئی اور جس کے سر پر بازنطینی تاج تھا، نہ صرف روسی روح کو ”مجسم شکل“ دیتی تھی بلکہ نامیاتی طور پر اس سے نفرت بھی کرتی تھی۔ ’اُن‘ کی فطرت چابک کی متقاضی ہے، یہ روسی زارینہ روسی زار کو روسی عوام کے بارے میں لکھ رہی ہے، وہ بھی بادشاہت کے پاتال میں غرق ہونے سے صرف ڈھائی ماہ قبل۔

اپنے کردار کی قوت کے برعکس زارینہ کی عقل و دانش کی قوت کچھ زیادہ نہیں تھی، بلکہ اپنے خاوند سے کم ہی تھی۔ اُس میں معاشرے کو احمق دیکھنے کی خواہش زار سے بھی زیادہ تھی۔ زار اور زارینہ کی اپنی خادمہ وائروبووا کے ساتھ قریبی اور دیرپا دوستی اِس مطلق العنان جوڑے کی روحانی قدو قامت کا پتا دیتی ہے۔یہ وائروبووا خود کو احمق قرار دیتی تھی اور یہ کوئی عاجزی نہیں تھی۔ وٹّ، جس کی مردم شناسی کی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اُسے ”پیٹرزبرگ کی انتہائی فرسودہ اور بیوقوف خاتون“ قرار دیتا ہے، جو” بسکٹ کے آٹے میں بلبلے کی طرح گھریلو تھی۔“ اِس عورت، جس سے بوڑھے حکام، سفارتکار اور سرمایہ کار غلامانہ عشق معاشقے چلاتے تھے اور جس کا دماغ صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی جیب کے بارے میں نہیں بھولتی تھی، کے ساتھ زار اور زارینہ کئی کئی گھنٹے گزارتے تھے اور اُس سے معاملات پر مشورہ اور رائے طلب کرتے تھے۔ وہ ریاستی دوما اور حتیٰ کہ حکومت سے بھی زیادہ بااثر تھی۔

لیکن وائروبووا خود اُس ”خاص دوست“ کی صرف ایک آلہ کار تھی جس کی عملداری اِن تینوں سے بڑھ کر تھی۔ زارینہ زار کو لکھتی ہے ”…یہ میری ذاتی رائے ہے… میں دیکھوں گی کہ ہمارے دوست کا کیا خیال ہے۔“ یہاں سے پتا چلتا ہے کہ ”دوست“ کی رائے ذاتی نہیں تھی۔ چند ہفتوں بعد زارینہ زور دیتی ہے کہ ”میری بات سنا کرو، اِس کا مطلب ہے کہ ہمارے دوست کی بات سنا کرو اور ہر معاملے میں ہمارا یقین کیا کرو… میں تمہارے لئے ایسے مشکلات برداشت کرتی ہوں جیسے تم کوئی معصوم نرم دل بچے ہو، جسے رہنمائی کی ضرورت ہے لیکن جو برے صلاح کاروں کی بات سنتا ہے، جبکہ خدا کا بھیجا ہوا ایک بندہ اُسے بتا رہا ہے کہ کیا کرنا چاہئے۔“

خدا کا بھیجا ہوا یہ ’دوست‘ گریگوری راسپیوٹن (Gregory Rasputin)تھا۔
”… ہمارے دوست کی دعائیں اور مدد چاہئے، پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔“
”اگر وہ نہ ہوتا تو سب کچھ بہت پہلے ختم ہو گیا ہوتا۔ میں اِس بات پر پوری طرح قائل ہوں۔“

زار نکولس اور زارینہ الیگزینڈرا کے پورے دور حکمرانی میں نہ صرف روس بلکہ دوسرے ممالک سے بھی جوتشی اورجنونی قسم کے پیر فقیر دربار میں لائے جاتے تھے۔ قسمت کا حال بتانے والے خصوصی سرکاری نوسرباز پروان چڑھے، جن پر بادشاہ سے منسلک بالائی ایوان تشکیل پا گیا۔بیگمات کا سرکاری درجہ رکھنے والی توہمات سے لبریز بوڑھی عورتوں، کچھ نہ کرنے والے عہدیداروں اور پوری پوری وزارتیں کرائے پر لے لینے والے مالداروں کی کمی نہیں تھی۔اپنے مقابلے میں آنے والے مداریوں اور جادو ٹونا کرنے والوں سے حسد کھانے والے آرتھوڈاکس چرچ کے بڑے پادری بھی سازشوں کے اِس دربار عالیہ تک اپنا مقدس راستہ بنانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ وٹّ نے اِس حکمران حلقے، جس کے ساتھ دو بار اُس نے اپنا سر ٹکرایا، کو ”درباری مشیروں  کا کوڑھ زدہ حلقہ“ قرار دیا۔

بادشاہت جوں جوں تنہا ہوتی گئی، بادشاہ خود کو اسی قدر غیر محفوظ محسوس کرنے لگا اور اُسے دوسرے جہاں سے مدد کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی۔کئی جنگلی لوگ اچھے موسم کے لئے دھاگے کے ساتھ کنکر باندھ کر ہوا میں لہراتے ہیں۔ زار اور زارینہ بے شمار مقاصد کے لئے ایسی ہی کنکریوں کا استعمال کرتے تھے۔ زار کی ٹرین میں چھوٹی بڑی تصویروں سے بھرا پورا گرجا گھر اورجادو ٹونے میں استعمال ہونے والی طرح طرح کی چیزیں بھی تھیں، جنہیں پہلے جاپانیوں اور پھر جرمن توپخانے کے خلاف ٹونے کے طور پر استعمال کے لئے رکھا گیا تھا۔

درباری حلقے کا معیار نسل درنسل کچھ خاص نہیں بدلا تھا۔ الیگزینڈر دوم، جسے ”آزادی دہندہ“کہا جاتا تھا، کے عہد میں شاہی نواب سنجیدگی سے جنوں بھوتوں اور چڑیلوں پر یقین رکھتے تھے۔ الیگزینڈر سوم کے عہد میں بھی حالت کچھ بہتر نہیں تھی، بس ذرا خاموشی تھی۔ ”درباری مشیروں کا کوڑھ زدہ حلقہ“ ہمیشہ موجود رہا، صرف اِس کے افراد اور طریقہ واردات بدلے۔ نکولس دوم نے جنگلی قرون وسطیٰ کے وحشیوں کا یہ درباری ماحول تخلیق نہیں کیا تھا، بلکہ اُسے اپنے اجداد سے ورثے میں ملا تھا۔ لیکن اِسی دوران کئی دہائیوں سے ملک تبدیل ہو رہا تھا، اِس کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہو رہے تھے، اِس کا ثقافتی معیار بلند ہو رہا تھا۔ یوں درباری حلقے بہت پیچھے رہ چکے تھے۔

اگرچہ بادشاہت نے نئی قوتوں کو مجبوراً کچھ رعایات دیں، لیکن اندر سے اپنی تجدید میں یہ مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس کے برعکس یہ اپنے ہی اندر دھنستی چلی گئی۔ اس کے اندر قرون وسطیٰ کی روح، خوف اور مخالفت کے دباؤ کے تحت گاڑھی ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ یہ ملک پر مسلط قابل نفرت اور ڈراؤنا خواب بن گئی۔
نومبر 1905ء کے انقلاب کے انتہائی فیصلہ کن لمحات میں زار اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ”ہمارا تعارف آج خدا کے ایک

بندے گریگوری سے ہوا ہے جس کا تعلق صوبہ ٹوبولسک سے ہے۔“ یہ بندہ راسپیوٹن تھا، سائبیریا کا ایک کسان جس کے سر پر گنج کا نشان تھا،جو گھوڑے چوری کرنے پر پڑنے والی مار کا نتیجہ تھا۔ مناسب موقعے کا فائدہ اٹھا کر یہ ”خدا کا بندہ“ سرکاری خدمتگاروں سے مل گیا، بلکہ وہ اِس سے مل گئے، یوں ایک نیا حکمران حلقہ تخلیق پایا، جس نے زارینہ کو مضبوطی سے قابو کر لیا اور بعد ازاں اُس کے ذریعے زار کو بھی۔

1913-14ء کے موسم سرما تک پیٹرزبرگ میں مشہور تھا کہ تمام اعلیٰ تعیناتیاں، عہدے اور ٹھیکے راسپیوٹن کے گروہ پر منحصر تھے۔ اِس ”بزرگ“ نے خود کو رفتہ رفتہ ایک ریاستی ادارے میں تبدیل کر لیا تھا۔ اُسے کڑی حفاظت میں رکھا جاتا تھا اور متحارب وزیر بھی اُس پر ایسی ہی کڑی نظر رکھتے تھے۔ خفیہ پولیس کے جاسوس اُس کے پل پل کی خبر رکھتے تھے اور رپورٹ میں یہ لکھنا بھی نہیں بھولتے تھے کہ کیسے اپنے آبائی دیہات پوکرووسکی کے دورے کے دوران وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اپنے سگے باپ سے سڑک پر مار پیٹ کرتا تھا۔ جس دن 9 ستمبر 1915ء کو یہ واقعہ ہوا، راسپیوٹن نے دو محبت بھرے تار بھیجے، ایک زارسکوئی سیلو [۴] میں زارینہ کو اور دوسرا صدر دفتر میں زار کو۔ رزمی زبان میں پولیس کے جاسوس اِس ’دوست‘ کی روزمرہ کی رنگ رلیاں درج کرتے تھے۔ ”وہ آج صبح پانچ بجے شراب کے نشے میں دھت واپس لوٹا۔“”25 اور 26 کی درمیابی شب اداکارہ ’و‘ نے راسپیوٹن کے ساتھ رات گزاری۔“”وہ شہزادی ’ڈ‘ (زار کے دربار کی خواب گاہ کے نگران کی بیوی) کے ساتھ اسٹوریا ہوٹل آیا۔“اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی: ”رات 11بجے زارسکوئی سیلوسے گھر آیا۔“ ”راسپیوٹن شہزادی ’ش‘ کے ساتھ بہت زیادہ شراب کے نشے میں گھر آیا اور دونوں فوراً ہی اکٹھے باہر چلے گئے۔“ اگلے دن کی صبح یا شام کو زارسکوئی سیلوکا چکر لگایا۔ ایک جاسوس نے ہمدردانہ سوال کیا کہ یہ بزرگ صاحب سوچ میں کیوں ڈوبے رہتے ہیں؟ جواب ملا: ”سمجھ میں نہیں آ رہی کہ دوما کا اجلاس طلب کریں یا نہ کریں۔“اور پھر دوبارہ: ”وہ صبح پانچ بجے شراب کے نشے میں دھت گھر آیا۔“ یوں مہینوں اور سالوں تک یہ دھن تین تاروں پر بجتی رہی: ”شراب کے نشے میں“، ”بہت زیادہ شراب کے نشے میں“، ”شراب کے نشے میں دھت“۔ریاستی اہمیت کی یہ خبریں جمع کی جاتی تھیں اور فوجی پولیس کا جنرل گورباچیف اِن پر بطور گواہ دستخط کرتا تھا۔

راسپیوٹن کے اثر و رسوخ کا عروج چھ سال رہا، یہ بادشاہت کے آخری سال تھے۔ شہزادہ یسوپوف، جو کسی حد تک اس معمول کا حصہ تھا اور جس نے بعد ازاں راسپیوٹن کو قتل کروا دیا، کے مطابق ”پیٹروگراڈ میں اُس کی زندگی ایک مسلسل عیاشی بن چکی تھی۔یہ شراب میں دھت جہاز کے چپو چلانے والے غلام کی عیاشی تھی، جس کی قسمت غیر متوقع طور پر بدل گئی تھی۔“دوما کا صدر روڈزیانکو لکھتا ہے، ”میرے پاس اُن ماؤں کے خطوط کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کی بیٹیوں کی عزت اس گھٹیا اور لچے انسان نے لوٹی۔“ تاہم کم و بیش اَن پڑھ آرچ بشپ ورناوا سے لے کر پیٹروگراڈ کی شہری انتظامیہ کے سربراہ پیٹیرم تک کا عہدہ بھی راسپیوٹن کا مرہون منت تھا۔ کلیسا کی مجلسِ مشائخ کاسربراہ سیبلر بھی اپنے عہدے پر لمبے عرصے تک راسپیٹون کی وجہ سے ہی براجمان رہا؛ ”بزرگ“ کو قبول نہ کرنے پر وزیر اعظم ککٹسیف کو اُس کی اپنی درخواست پر معزول کر دیا گیا۔ بہت سے دوسرے افراد کے علاوہ راسپیوٹن نے سٹرومر کو وزرا کی کونسل کے صدر، پروٹوپوپوف کو وزیر داخلہ اور رائیف کو کلیسا کی مجلس مشائخ کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا۔ فرانس کے سفیر پیلیولوگ نے اپنے ملک کے مفادات پر زارینہ کو راضی کرنے کے لئے راسپیوٹن سے ملاقات کی، اُسے چوما اور چلّا اُٹھا: ”یہی خدا سے نور پانے والا سچا آدمی ہے!“ (Voilà, un véritable illuminé!)۔ ایک یہودی سیمانووچ، جو ”بزرگ“ کا مالی آلہ کار، نائٹ کلب کا جواری اور سود خود تھا، نے خفیہ پولیس کی آنکھ تلے راسپیوٹن کے ذریعے وزارت انصاف میں ڈوبرووولسکی جیسا جعلساز آدمی رکھوایا۔

نئی تعیناتیوں کے بارے میں زارینہ زار کو لکھتی ہے، ”اپنے پاس ایک چھوٹی سی فہرست رکھو۔ ’ہمارے دوست‘ نے کہا ہے کہ تم پروٹوپوپوف سے اِس بارے میں ساری بات کرو۔“ دو دن بعدپھر لکھا: ”ہمارے دوست نے کہا ہے کہ سٹرومر شاید کچھ مزید دنوں تک وزرا کی کونسل کا صدر رہے۔“اور پھر: ”پروٹوپوپوف ہمارے دوست کی بڑی عزت کرتا ہے، اُس پر رحمت ہو گی۔“

اُنہی دنوں جب پولیس کے جاسوس شراب کی بوتلوں اور عورتوں کی گنتی کر رہے تھے، زار کو لکھے گئے ایک خط میں زارینہ آہ بھرتی ہے: ”وہ راسپیوٹن پر عورتوں کے بوسے لینے کا الزام لگاتے ہیں۔ پیغمبر بھی تو ملتے وقت ہر کسی کا بوسہ لیتے تھے۔“پیغمبروں کا یہ حوالہ پولیس کے جاسوسوں کو بہرحال قائل نہیں کر پایا۔ ایک اور خط میں زارینہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے: ”شام کی عبادت کے دوران میں نے ’ہمارے دوست‘ کے بارے میں بہت سوچا۔ کیسے پارسائی کا ناٹک کرنے والے اُن یہودیوں اور ریاکاروں نے مسیح کو اذیتیں دی تھیں… واقعی اپنے ملک میں پیغمبر کو کوئی نہیں مانتا۔“

اِن شاہی حلقوں میں راسپیوٹن اور مسیح کا موازنہ کرنا روایت بن گیا تھا۔ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ شاہی جوڑے کا تاریخ کی ہولناک قوتوں سے خوف اس قدر شدید تھا کہ کسی غیر طبعی خدا اور انجیلی مسیح کے بے اثر سائے سے اُنہیں دلاسہ نہیں ملتا تھا۔ اُنہیں ”خدا کے فرزند“ کے دوبارہ نزول کی ضرورت تھی۔ استرداد اور حالت نزاع سے دوچار بادشاہت نے راسپیوٹن کی شکل میں اپنے سے مشابہ مسیح تلاش کر لیا۔

پرانی حکومت کا ایک سنیٹر ٹاگانٹسیف لکھتا ہے، ”اگر کوئی راسپیوٹن نہ بھی ہوتا تو اُسے پیدا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔“یہ الفاظ لکھاری کی سوچ سے بھی زیادہ معنی خیز ہیں۔ اگر لفظ’غنڈہ گردی‘ کو ہم معاشرے کی تہہ میں موجود سماج دشمن طفیلی عناصر کا انتہائی اظہار سمجھتے ہیں تو ’راسپیوٹن گردی‘ کو معاشرے کی چوٹی کی تاجدار غنڈہ گردی قرار دیا جا سکتا ہے۔

*****

[۱]1894ء سے 1917ء تک روس کا زار نکولس دوم (Nicholas II) تھا۔ وہ آخری زار تھا۔
[۲]سرگی وٹّ 1905ء کے انقلاب کے وقت روس کا وزیر اعظم تھا۔ اِس سے قبل وہ خزانے اور ٹرانسپورٹ کا وزیر بھی رہا تھا۔ وہ قابل آدمی سمجھا جاتا تھا۔مئی 1906ء میں زار نے اُسے عہدے سے ہٹا کر ایوان گوریمائکن کو وزیراعظم بنا دیا۔
[۳]آخری زارینہ کا نام ’الیگزینڈرا فیوڈوروونا‘(Alexandra Feodorovna)تھا اور وہ جرمن نژاد تھی۔
[۴]زارسکوئی سیلو Tzarskoe Selo) (کے قصبے میں روس کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ تھی۔یہ علاقہ پیٹروگراڈ سے 24 کلومیٹر دور ہے۔