زرعی مزدوروں کے لیے انصاف اور شناخت کا مطالبہ
لاہور(پ ر) عالمی یوم مزدور کے موقع پر پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (PKRC) پاکستان کے لاکھوں محنت کشوں، خصوصاً زرعی شعبے سے وابستہ خواتین، نوجوانوں، بے زمین کسانوں، مزارعوں اور دیہاڑی دار مزدوروں، کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، جو سب سے زیادہ نظر انداز، کم اجرت یافتہ اور استحصال زدہ طبقہ ہیں۔
پاکستان میں تقریباً 37 فیصد لیبر فورس زراعت سے وابستہ ہے، لیکن زیادہ تر مزدور غیر رسمی اور رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی قانونی تحفظ، کم از کم اجرت، یا سوشل سیکیورٹی کی سہولیات نہیں ہیں۔ یہ مزدور غربت، قرضوں، ہراسانی، موسمیاتی آفات اور ریاستی غفلت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
زرعی مزدوروں کا استحصال
پاکستان میں زرعی مزدوروں کی اکثریت غیر رسمی معاہدوں پر کام کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس نہ تو تحریری معاہدے ہوتے ہیں، نہ قانونی حقوق، اور نہ سوشل سیکیورٹی کی سہولت۔
دیہی خواتین زرعی مزدوروں کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں، مگر انہیں رسمی مزدور تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، اکثر اجرت نقد کے بجائے جنس میں دی جاتی ہے، اور وہ صنفی امتیاز، تشدد اور فیصلہ سازی سے اخراج کا شکار رہتی ہیں۔
نوجوان زرعی مزدور، خصوصاً بے زمین یا مزارع خاندانوں سے تعلق رکھنے والے، غربت کی نسل در نسل زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، اور ان کے پاس تعلیم، تربیت یا قرض تک رسائی نہیں ہے۔
سندھ ٹیننسی ایکٹ جیسے قوانین نافذ العمل نہیں ہیں، جس کے نتیجے میں جاگیردار مزارعوں کا استحصال غیر رسمی معاہدوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان جیسے علاقوں میں ریاستی بے حسی، کارپوریٹ زمین پر قبضے، اور موسمیاتی آفات نے دیہی عدم مساوات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
2022 کے سیلاب اور جاری موسمیاتی تبدیلیوں نے دیہی روزگار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 30 ارب ڈالر سے زائد زرعی نقصانات کے بعد بھی حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر کم از کم اجرت 37,000 روپے ماہانہ مقرر ہے، مگر اکثر زرعی مزدور اس سے بہت کم کماتے ہیں۔
قانونی اور سیاسی محرومی
زرعی مزدور لیبر قوانین کے تحفظ سے محروم ہیں اور انہیں یونین سازی یا اجتماعی سودے بازی کا حق حاصل نہیں۔ پنجاب لیبر کوڈ 2024 جیسے نئے قوانین نے مزدوروں کے حقوق مزید محدود کر دیے ہیں۔ سندھ میں ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ اور مزارع قوانین زیادہ تر کاغذی ہیں۔
ریاستی غفلت اور اشرافیہ کا قبضہ
2024-25 کے وفاقی بجٹ میں صحت، تعلیم، اور دیہی ترقی کے لیے قلیل رقم رکھی گئی، جبکہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دی گئی۔ زرعی برآمدات سے حاصل ہونے والے منافع اشرافیہ کی جیبوں میں جا رہے ہیں، جبکہ محنت کشوں کو ان کے جائز حقوق نہیں ملتے۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی یکم مئی کے مطالبات
٭ زرعی مزدوروں کے لیے فوری انصاف
٭ زرعی مزدوروں کو قانونی شناخت دی جائے اور انہیں یونین سازی کا حق حاصل ہو۔
٭زرعی شعبے میں کم از کم اجرت کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد ہو۔
٭ خواتین و نوجوانوں کو زمین، تعلیم، قرض، صحت اور قانونی مدد تک رسائی دی جائے۔
٭ زمینوں کی منصفانہ تقسیم اور جاگیردارانہ و کارپوریٹ قبضوں کا خاتمہ کیا جائے۔
٭دیہی مزدوروں کے لیے یونیورسل سوشل پروٹیکشن (پنشن، میٹرنٹی بینیفٹس، حادثاتی انشورنس، موسمیاتی تحفظ) فراہم کیا جائے۔
٭اقوام متحدہ کے کسانوں کے حقوق کے اعلامیہ (UNDROP) کو پاکستانی قوانین اور پالیسیوں میں شامل کیا جائے۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا یکم مئی پر پیغام
دیہی انصاف کے بغیر مزدوروں کا تحفظ ناممکن ہے!
زرعی مزدوروں کے بغیر خوراک نہیں۔ ان کے حقوق کے بغیر انصاف نہیں!
خواتین قوم کو کھلاتی ہیں۔ ان کے کام کو تسلیم کرو، ان کے حقوق کی حفاظت کرو!
نوجوانوں کو زمین، تعلیم اور بہتر مستقبل دو، غربت اور ہجرت نہیں!