← Back to Newsroom OS خبریں

ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی نیٹ ورک: سامراجیت، جنگیں اور جنوبی ایشیا…کیا کوئی حل ممکن ہے؟

By جدوجہد • 2025-07-12 • 9 min read

شکاگو (ایس اے ایس این) 5 جولائی 2025ء کو، ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی نیٹ ورک (SASN) نے شکاگو میں ہونے والی ’سوشلزم 2025ء‘ کانفرنس میں ”سامراجیت، جنگیں اور جنوبی ایشیا…کیا کوئی کیا کوئی حل ممکن ہے؟“ کے عنوان سے ایک نشست کا انعقاد کیا۔

اس تقریب میں امریکہ، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور دیگر کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان، دانشوروں اورنوجوانوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں مختلف ترقی پسند اور بائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے جن میں ’SALAM‘ (ساؤتھ ایشین لیفٹ ایکٹیوسٹ موومنٹ)، ’FABPPSSWA‘ (فاطمہ امبیدکر برسا پریکاش پھولے ساوتری اسٹوڈنٹس اینڈ ورکرز ایسوسی ایشن)، شکاگو ٹیچرز یونین، فائر برانڈ کمیونسٹ، سوشلسٹ ہورائزنز، جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)، انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL)، (MST) ایم ایس ٹی ارجنٹینا، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) اور دیگر شامل ہیں۔

’PTUDC‘ سے ملک سجاد نے اس تقریب کو چیئر کیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیائی حالیہ جنگ کے تناظر میں موضوع کا تعارف کروایا اور بتایا کہ ’SASN‘ طبقاتی بنیادوں پر یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے کس طرح کام کر رہی ہے۔

ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی نیٹ ورک سے فرہاد نے جنوبی ایشیا میں سامراجیت کی تاریخ اور اس کے خلاف عوامی اور طبقاتی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان میں 68-69ء کی تحریک اور افغانستان میں 1978ء کی ثور انقلاب سمیت مختلف عوامی تحریکوں اور انقلابات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں موجود بدحالی، غربت، جنگوں اور سامراجی لوٹ مار سے نکلنے کا حل صرف سامراج کی جانب سے کھینچی گئی ان سرحدوں کے آر پار محنت کشوں، نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ جدوجہد میں ہے۔

’ISL‘ کے لیڈر الیخاندرو بوڈ ارٹ نے اپنی گفتگو میں امریکہ اور دنیا بھر میں انقلابی تنظیم سازی کی اہمیت پر زور دیا۔

سا ؤ تھ ایشیا سالیڈیرٹی نیٹ ورک سے زاہد نے ’SASN‘ کے مقاصد اور جنوبی ایشیائی تحریکوں اور مغربی دنیا کے محنت کش طبقے کے ساتھ یکجہتی کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔

’JKNSF‘ کے سابقہ جنرل سیکرٹری نوید نے جموں کشمیر پر سامراجی قبضے کی تاریخ بیان کی جو نام نہاد لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب موجود ہے اور بتایا کہ ’JKNSF‘ ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اور کشمیری عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کر تی رہی ہے۔

’تولیدی حقوق‘ کی کارکن کِم گیسپر اور بائیں بازو کے کارکن پیٹر سولونبرگر نے بھی اظہارِ خیال کیا اور ’SASN‘ کے ساتھ یکجہتی اور مستقبل میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

’JKLF‘ کے توقیر گیلانی نے کشمیر کے قومی مسئلے اور دونوں جانب کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ حلیم خان (JKLF) نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور جموں کشمیر میں ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں حاضرین نے ’SASN‘ کے مستقبل کے لائحہ عمل اور جنوبی ایشیا کی مختلف تحریکوں کے کردار کے بارے میں سوالات کیے۔