← Back to Newsroom OS تعلیم

سامراج دشمنی سے سمجھوتے تک: ہندوستان کی آزادی کی طبقاتی سیاست

By جدوجہد • 2025-08-19 • 22 min read

سومیا ساہن

ہندوستان کی آزادی 1947 میں جدید تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھی، کیونکہ اس نے تقریباً دو صدیوں پر محیط دنیا کی سب سے بڑی برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس واقعے کو محض ایک قوم کی سیاسی کامیابی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے مظلوم قوموں اور سامراجی طاقتوں کے درمیان وسیع تر عالمی کشمکش کا حصہ سمجھنا ہوگا، جو طبقاتی جدوجہد اور پیداواری قوتوں کی ترقی کے باہمی تعلق سے تشکیل پاتی ہے۔ آزادی کی تحریک نے وسیع تر سماجی نجات کی بڑی امیدیں پیدا کیں، تاہم یہ خواب بڑی حد تک تشنہ ہی رہا۔

برطانوی ہندوستان سرمایہ دارانہ عالمی معیشت میں ایک انحصار کرنے والی نوآبادی تھی۔ 18ویں صدی کے آخر تک برصغیر کی معیشت کو برطانوی کاروباری مفادات کے مطابق ڈھالا گیا۔ یہ برطانوی تیار کردہ مصنوعات کے لیے ایک بڑی منڈی بن گیا اور خام مال اور زرعی اجناس مثلاً کپاس، پٹ سن اور چائے کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ نوآبادیاتی پالیسی نے مقامی صنعتوں کو منظم طریقے سے کمزور کیا۔ کارل مارکس کے مطابق’’برطانوی حملہ آوروں نے ہندوستانی ہینڈلوم کو توڑ ڈالا اور کاتنے کا کام تباہ کر دیا،‘‘ جس سے مقامی معیشت کی خود کفالت ختم ہو گئی اور وہ برطانوی سرمایہ داری پر انحصار کرنے لگی۔ ظاہر ہے یہ کبھی برطانوی حکمرانی کا غیر ارادی نتیجہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی معیشت کے ڈھانچے کو دانستہ طور پر اس طرح تبدیل کیا گیا تھا کہ وہ سرمایہ دارانہ میٹروپولیٹن مقاصد کے مطابق ڈھل جائے۔

قومی تحریک میں طبقاتی قوتیں

ہندوستان کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کوئی یکساں تحریک نہیں تھی، بلکہ یہ مختلف طبقات اور پس منظر رکھنے والے افراد کا ایک اتحاد تھا جن کے مقاصد بھی الگ الگ تھے۔ انڈین نیشنل کانگریس 1885 میں قائم ہوئی، اور اس کے زیادہ تر رہنما مقامی بورژوازی اور زمیندار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا بنیادی مقصد ایک ایسا آزاد ریاستی ڈھانچہ قائم کرنا تھا جو مضبوط سرمایہ دارانہ ملکیتی حقوق کو محفوظ رکھے اور ایک قومی منڈی تشکیل دے جس پر برطانوی کنٹرول نہ ہو۔

1920 کی دہائی تک ہندوستانی سرمایہ دار طبقہ نوآبادیاتی معیشت کے اندر خاصا معاشی زور پکڑ چکا تھا،جو کہ نسبتاً چھوٹا لیکن بااثر گروہ تھا، جس میں صنعتکار، تاجر، بینکار اور مل مالکان شامل تھے۔ اس استحکام کے پیچھے تین اہم تاریخی عوامل کارفرما تھے: نوآبادیاتی پالیسی میں تبدیلیاں، منظم سرمایہ دارانہ مفادات کا ابھرنا، اور قومی سرمایہ داری کا عروج۔

پہلی عالمی جنگ (1914-1918) نے ہندوستانی سرمایہ دار طبقے کے لیے دو بڑے مواقع فراہم کیے۔ اس جنگ نے ہندوستان میں برطانوی درآمدات کو متاثر کیا، جس سے مقامی صنعتی ترقی کی راہ کھلی، یہ ترقی خصوصاً ٹیکسٹائل، پٹ سن، لوہے اور اسٹیل کے شعبوں میں ہوئی۔ جنگ نے جنگی سامان کی طلب کو بھی بڑھا دیا، جس سے ہندوستانی سرمایہ داروں کو بے مثال منافع کمانے کا موقع ملا۔ مورخ بیپن چندر کے مطابق’’جنگ کے دوران معمول کے تجارتی ڈھانچوں کی رکاوٹ نے ہندوستانی خام مال اور غذائی اجناس کی برآمدات میں اضافہ کیا۔‘‘برطانوی حکومت جنگی سامان کی قلت کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی ہندوستانی کاروبار پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہوئی۔

اسی دوران ہندوستانی بورژوازی نے خود کو مختلف طریقوں سے منظم کیا، جن میں انڈین مرچنٹس چیمبر (1907) اور بعد میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی) (1927)نمایاں تھے۔ اس نے بورژوازی کو ایک ادارہ جاتی آواز فراہم کی جس کے ذریعے وہ محصولات، صنعتی پالیسی اور حکمرانی میں زیادہ شمولیت کے لیے لابنگ کر سکے۔ نمایاں ہندوستانی صنعتکار جیسے جی ڈی برلا، جمن لال بجاج اور پرشوتم داس ٹھاکرداس معاشی اور سیاسی دونوں شعبوں میں بااثر شخصیات کے طور پر ابھرے۔

ہندوستانی بورژوازی نے خصوصاً مشہور تحریک عدم تعاون (1920-1922) کے دوران انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے ساتھ خود کو منسلک کیا، اوربھارتی مصنوعات کے استعمال کی حمایت کی، جو ایک ہی وقت میں قومی اور منافع پر مبنی پالیسی تھی۔ اگرچہ مقامی بورژوازی سیاسی طور پر برطانوی اقتدار کے تابع تھی، تاہم وہ بعض شعبوں میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ 1920 کی دہائی میں بمبئی اور احمد آباد میں ہندوستانی مل مالکان کپاس کی صنعت پر حاوی ہو چکے تھے اور کلکتہ و بنگال میں پٹ سن کی صنعت میں بھی اپنی جگہ بنا رہے تھے، جو اس سے پہلے برطانوی سرمائے کے قبضے میں تھی۔ 1907 میں ٹاٹا گروپ نے جمشیدپور میں لوہے اور اسٹیل کا کارخانہ قائم کیا، جو صنعتی خود کفالت کی علامت بنا اور 1920 کی دہائی کے وسط تک برطانوی سلطنت کا سب سے بڑا اسٹیل پلانٹ بن گیا۔ ان تمام عوامل نے تجارت کی پالیسیوں پر ان کے اثر کو بڑھایا، اور ہندوستانی بورژوازی نے کامیابی سے حفاظتی محصولات (مثلاً 1923 کے کپاس پر ڈیوٹی) نافذ کروائے تاکہ مقامی صنعت کو برطانوی درآمدات سے بچایا جا سکے۔

قومی سیاست کے ساتھ ان کی شراکت اور کانگریس کی حمایت نے انہیں یہ سیاسی طاقت دی کہ آزادی کی تحریک کو ایسے مقاصد کی طرف موڑ سکیں جو سرمایہ دارانہ مفادات کی خدمت کرتے تھے، نہ کہ سوشلسٹ انقلاب کی۔ ہندوستانی بورژوازی کی بالادستی بذات خود ایک طبقاتی منصوبہ تھی، اور یہ سب سے زیادہ واضح انداز میں کانگریس کے معاشی پروگرام میں نظر آتی ہے ،جو سرمایہ داری کے تحت قومی آزادی کی خواہاں تھی۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستانی بورژوازی کی معاشی طاقت نے انہیں سیاسی بالادستی فراہم کی، جس کے نتیجے میں وہ قومی تحریک میں قیادت کا طبقہ بن گئے اور مزدوروں اور کسانوں کے زیادہ انقلابی مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ ان کی قیادت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سامراج دشمن جدوجہد سرمایہ دارانہ ملکیتی تعلقات کے خلاف نہ جائے اور حد سے آگے نہ بڑھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات انہوں نے اپنے مفادات کے لیے نوآبادیاتی ریاست کے حصوں کے ساتھ تعاون کیا، جیسے مشترکہ منصوبوں میں برطانوی سرمائے کو قبول کرنا اور مزدوروں کی انقلابی ہڑتالوں کو دبانا۔

اپنی بڑھتی ہوئی معاشی بالادستی کے باوجود مقامی بورژوازی کو ابھی کچھ فاصلہ طے کرنا باقی تھا۔ وہ اب بھی ڈھانچے کی رکاوٹوں کا شکار تھے، کیونکہ برطانوی سرمایہ اب بھی مالیات، جہاز رانی، باغبانی کی صنعت اور دیگر کئی زیادہ منافع بخش شعبوں، بشمول انشورنس اور بینکنگ، پر قابض تھا۔ مزید یہ کہ نوآبادیاتی ریاست بنیادی طور پر سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے ہی بنی تھی، اور ہندوستانی سرمایہ داروں کو دی جانے والی رعایتیں محض وقتی اور حکمت عملی پر مبنی تھیں، یہ کبھی بھی انقلابی نوعیت کی نہیں تھیں۔

خلاصہ یہ کہ 1920 کی دہائی تک ہندوستانی بورژوازی نے کلیدی صنعتوں (ٹیکسٹائل، اسٹیل) میں شعبہ جاتی برتری حاصل کر لی تھی۔ ان کی معاشی طاقت نے انہیں قومی سیاست پر غلبہ دیا، جسے انہوں نے اپنی طبقاتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا، اور اس طرح آزادی کی تحریک کے معاشی ایجنڈے کو سرمایہ دارانہ ترقی کی طرف ڈھال دیا۔ سامراج دشمن اتحاد میں اس بالادست حیثیت کی وجہ سے سوشلسٹ اور مزدور طبقے کے متبادل راستے واضح طور پر حاشیے پر ڈال دیے گئے۔

پہلی عالمی جنگ کے اردگرد پیدا ہونے والی صورت حال نے ہندوستانی بورژوازی کو ایک بڑا سبق دیا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر انہیں تحفظ دیا جائے تو وہ برطانوی سرمائے کے ساتھ برابری کی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں،اور یہ کہ مستقل طور پر اس تحفظ کو یقینی بنانے کی کنجی سیاسی طاقت کے حصول میں ہے۔

بورژوا بیانئے سے آگے

سرکاری تاریخیں ہمیں یہ یاد دلانے سے کبھی نہیں چوکتیں کہ انڈین نیشنل کانگریس نے آزادی کی جنگ کی قیادت کی اور 1947 میں اسے جیت لیا، لیکن یہ وضاحت کہیں نظر نہیں آتی کہ آزادی کس کے لیے حاصل کی گئی تھی؟ کارخانوں کے مزدوروں کا کیا ہوا؟ ان کسانوں کا کیا ہوا جو کرایوں اور قرض کے بوجھ تلے کچلے جا رہے تھے؟ یا ان محنت کش عوام کا کیا بنا جنہوں نے سڑکوں پر خون بہایا؟

اسی دوران روسی انقلاب نے انسانی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایک وسیع اور پسماندہ ملک بھی مزدوروں اور کسانوں کی متحدہ طاقت کے ذریعے اپنی حکمران طبقے اور سامراجی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے۔ اس نے دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا اور ہندوستان میں بھی چند سال بعد کمیونسٹ اور سوشلسٹ آزادی کی تحریک کے طبقاتی شعور رکھنے والے بازو کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے سامراج دشمن جدوجہد کو سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خاتمے کی لڑائی کے ساتھ جوڑا، لیکن کمیونسٹ پارٹی کے وجود میں آنے سے بہت پہلے بیرون ملک ہندوستانی انقلابیوں ( غدر پارٹی کے کارکنان) نے برطانوی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا پرچم بلند کیا۔ وہ ابھی مارکس وادی نہیں تھے، لیکن وہ کمیونسٹوں کے ساتھ نوآبادیاتی استحصال سے نفرت اور عالمی مزدور طبقے کی یکجہتی پر یقین رکھتے تھے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) باقاعدہ طور پر 1925 میں کانپور میں قائم ہوئی۔ آغاز ہی سے یہ مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد میں پیوست تھی۔ پارٹی نے بمبئی کی ٹیکسٹائل ملوں اور بنگال کی پٹ سن ملوں میں ہڑتالوں کی قیادت کی، ریلوے مزدوروں کو انقلابی ٹریڈ یونینوں میں منظم کیا، اور سخت نوآبادیاتی جبر کے باوجود مارکسی لٹریچر پھیلایا۔ ابتدا ہی سے کمیونسٹ اس بات پر واضح تھے کہ سرمایہ داری کے تحت آزادی استحصال کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ ان کا مقصد ایک مزدور،کسان جمہوریہ تھا۔

1934 میں کانگریس سوشلسٹ پارٹی (سی ایس پی) جے پرکاش نارائن، آچاریہ نریندر دیو اور دیگر رہنماؤں نے قائم کی۔ وہ کانگریس کو انقلابی زرعی اصلاحات، ریاستی قیادت میں صنعتی ترقی اور براہ راست سامراج مخالف کارروائی کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔ اگرچہ سی ایس پی اکثر ہڑتالوں اور کسان تحریکوں میں کمیونسٹوں کے ساتھ کام کرتی تھی، لیکن کانگریس کے اندر ان کی موجودگی اکثر ان کے ہاتھ باندھ دیتی تھی، خاص طور پر جب قیادت برطانوی حکمرانوں یا بورژوازی کے ساتھ سمجھوتے کرتی تھی۔

کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں نے عوامی تنظیمیں بنائیں جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کو ایک انقلابی اور محنت کش طبقے کا رنگ دیا۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی) کی قیادت میں ہونے والی ہڑتالوں نے بمبئی، کلکتہ اور پورے ملک کی ریلوے لائنوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کی قیادت میں لاکھوں کسان جاگیردارانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اور بنگال کی تیبھگا تحریک، تلنگانہ کی مسلح جدوجہد اور دیگر بڑے عوامی ابھار سامنے آئے۔ یہ محض علامتی احتجاج نہیں تھے، بلکہ براہ راست نوآبادیاتی اور جاگیرداروسرمایہ دار طاقتوں کو چیلنج کرتے تھے۔

ہندوستانی کمیونسٹ درحقیقت پہلے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کھلے اور مسلسل انداز میں برطانوی راج سے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کی بورژوا قیادت اب بھی درمیانی آئینی اصلاحات اور برطانوی سلطنت کے اندر ڈومینین اسٹیٹس کے درمیان ہچکچا رہی تھی۔ 1920 کی دہائی کے آخر تک مرکزی کانگریسی قیادت (جس پر معتدل رہنماؤں اور بعد میں گاندھی کے ’تعمیراتی پروگرام‘والے دھڑے کا غلبہ تھا) نے مکمل علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ان کے مطالبات عموماً مقننہ میں ہندوستانی نمائندگی میں اضافے اور ڈومینین اسٹیٹس یعنی سلطنت کے اندر کینیڈا یا آسٹریلیا جیسی خود مختاری تک محدود تھے۔ بورژوازی کو خوف تھا کہ مکمل علیحدگی کسی ایسے بے قابو عوامی ابھار کو جنم دے سکتی ہے جو ان کے اپنی ملکیتی تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔ حتیٰ کہ 1928 کی نہرو رپورٹ میں بھی سرکاری ہدف ڈومینین اسٹیٹس ہی تھا، باوجود اس کے کہ نوجوانوں اور بائیں بازو کی صفوں میں مکمل آزادی کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ موجود تھا۔

جنگ کے سال اور طبقاتی تضادات

جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو کمیونسٹوں نے ابتدا میں اس کی مخالفت کی کیونکہ وہ اسے ایک سامراجی جنگ سمجھتے تھے، یعنی نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان منڈیوں اور علاقوں پر قبضے کے لیے ٹکراؤ۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جنگی کوششوں کی مخالفت کی، انقلابی جدوجہد کی اپیل کی، اور ہڑتالوں، کسان بغاوتوں اور احتجاجوں میں دیگر سامراج مخالف قوتوں کے ساتھ شامل ہوئے۔ اس نے محدود تعداد کے باوجود کمیونسٹوں کو ایک وسیع تر برطانیہ مخالف اتحاد کا حصہ بنا دیا۔

تاہم1941 میں ہٹلر کے سوویت یونین پر حملے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ کمنٹرن نے اپنی پالیسی کو ’پیپلز وار‘میں تبدیل کر لیا، یعنی فاشزم کے خلاف اتحادی طاقتوں کی حمایت اپنائی گئی۔ اس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے 1942 کی ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ میں حصہ نہیں لیا۔ اس فیصلے نے کمیونسٹوں اور دیگر سامراج مخالف قوتوں کے درمیان گہری خلیج پیدا کر دی۔

دنیا بھر کے کمیونسٹوں کے لیے فاشزم کو شکست دینا اولین فریضہ بن گیا۔ سامراج مخالف جدوجہد کو اب اتحادیوں کی جنگی کوششوں کے تابع ہونا تھا۔ ہندوستانی تناظر میں یہ سی پی آئی کی ’ہتھیار ڈالنے‘(سرنڈر)کی پالیسی تھی۔ عملی طور پر انہوں نے ہندوستان میں اتحادیوں (یعنی برطانیہ) کی جنگی کوششوں کی حمایت کی، اور مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں تاکہ جنگی پیداوار میں رکاوٹ نہ آئے۔ یہاں تک کہ سی پی آئی نے صنعتی امن قائم رکھنے کے لیے بھی کام کیا، جو حقیقت میں برطانوی سامراج کو تقویت دیتا تھا۔ اگست 1942 کی ’ہندوستان چھوڑ دوتحریک‘ 1857 کے بعد برطانوی راج کے خلاف سب سے بڑی عوامی بغاوت تھی ۔ سی پی آئی نے اس تحریک کی مخالفت کی اور اسے فاشزم کے خلاف لڑائی میں رخنہ ڈالنے والا قدم قرار دیا۔

’ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک کی قیادت بنیادی طور پر کانگریس کے ہاتھ میں تھی، لیکن اس میں نیچے سے ابھرنے والی عوامی خود رو طاقت کا بھی بڑا کردار تھا۔ اس تحریک میں شریک نہ ہو کر، بلکہ بعض مواقع پر ہڑتالوں اور احتجاجوں کو روکنے کی ترغیب دے کر سی پی آئی نے سامراج مخالف عوامی حلقوں کے ایک بڑے حصے کو اپنے سے دور کر لیا۔ بہت سے قوم پرستوں نے اس اقدام کو ’غداری‘یا’برطانویوں کے ساتھ تعاون‘قرار دیا۔

1941 سے پہلے کمیونسٹ ہڑتالوں اور کسانوں کی تحریکوں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہے تھے، لیکن نئی پالیسی نے اس انقلابی سرگرمی کو سرد کر دیا، جس سے تقریباً تین برس تک کمیونسٹوں اور سب سے زیادہ انقلابی برطانوی مخالف دھاروں کے درمیان ربط ٹوٹ گیا۔ اس تبدیلی نے کانگریس کو ایک بار پھر عوامی تحریک کی قیادت واپس دلائی، اور مزدور طبقے کو آزادی کی جدوجہد میں قائدانہ مقام دلانے کا موقع کم از کم وقتی طور پر ضائع ہو گیا۔

سی پی آئی کے اپنے موقف کے مطابق یہ پالیسی سوویت یونین کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کا اظہار تھی، جو اس وقت بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ تاہم ہندوستان میں اس کا مطلب یہ تھا کہ فوری آزادی پر برطانوی جنگی ضروریات کو ترجیح دی گئی۔ اگرچہ یہ موقف عالمی سطح پر فاشزم مخالف تناظر میں قابل دفاع ہو سکتا ہے، لیکن اس نے ہندوستان میں سی پی آئی کی سامراج مخالف ساکھ کو کمزور کر دیا اور 1945 کے بعد بورژوا قیادت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔

جنگ کے بعد سی پی آئی نے دوبارہ انقلابی رفتار حاصل کرنے کی کوشش کی، جیسے تلنگانہ کی مسلح جدوجہد، تیبھگا تحریک اور مزدوروں کی انقلابی ہڑتالیں منظم ہونا شروع ہوئیں۔تاہم اس وقت تک کانگریس دوبارہ بنیادی قومی قوت کے طور پر اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی۔ 1941-45 میں کمیونسٹوں کی ’ہتھیار ڈالنے‘ کی پالیسی نے بائیں بازو کی قیادت میں آزادی کی کسی بھی ممکنہ راہ کو عملاً بند کر دیا۔ مارکسی مفکر آر پالم دت نے سی پی آئی کے اس فیصلے کو فاشزم کو شکست دینے کے لیے تاریخی طور پر ضروری قرار دیا، جبکہ دیگر ناقدین ، بشمول ہندوستانی بائیں بازو کے کئی حلقے اسے کمنٹرن کے احکامات کے سامنے فرقہ وارانہ سرتسلیم خم کرنے سے تعبیر کرتے ہیں، جس نے کمیونسٹوں اور ہندوستان کی عوامی سامراج مخالف تحریک کے درمیان فطری ربط کو توڑ ڈالا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ مقبول بائیں بازو کی تنظیموں، خاص طور پر ٹریڈ یونینوں نے، ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غیر سی پی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے کارکنان ، جیسے آر ایس پی، آر سی پی آئی، بی ایل پی آئی وغیرہ ، نے اس تحریک میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اسی طرح کانگریس سوشلسٹ پارٹی (سی ایس پی) کے کارکنان زیر زمین ہو کر لڑے۔ 1945 کے بعد کمیونسٹ ہڑتالوں، بغاوتوں (جیسے 1946 کی رائل انڈین نیوی کی بغاوت) اور مسلح کسان تحریکوں کی قیادت کرتے ہوئے دوبارہ انقلابی عوامی عمل میں لوٹے ۔

ضائع شدہ موقع اور اس کے نتائج

سی پی آئی (کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا) کی ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں شامل نہ ہونے کی پالیسی نے ایک فیصلہ کن لمحے پر اسے مزدور طبقے اور کسانوں کو آزادی کی تحریک کی منظم اور باشعور رہنما بننے سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں بورژوا قوم پرستی نے 1947 کو اپنی فتح کے طور پر پیش کیا،اور نئی ریاست کو اس طرح تشکیل دیا کہ وہ سرمایہ دارانہ ارتکاز کو تقویت دے اور زمیندارانہ طاقت کو برقرار رکھے۔

1942 میں سی پی آئی کے برطانیہ مخالف محاذ سے دستبردار ہونے کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوا جس میں فرقہ وارانہ قوتوں کو پھیلنے کا موقع ملا، اگرچہ یہ اس کا واحد سبب نہیں تھا۔ یہ رشتہ باریک لیکن طبقاتی سیاست اور سیاسی خلا کے حوالے سے حقیقی ہے۔

اگرچہ سی پی آئی کا دستبردار ہونا فرقہ واریت پیدا کرنے والا عامل نہیں تھا،کیونکہ برطانوی سامراجی پالیسی اور ہندوستانی سماج کی طبقاتی تضادات پہلے ہی اس کو پروان چڑھا چکے تھے،لیکن جب کمیونسٹ تحریک سامراج مخالف محاذ سے ہٹ گئی تو محاذ کی پہلی صفوں سے ایک بڑا سیکولراورمحنت کش طبقے کی مرکزیت والا عنصر غائب ہوگیا۔ اس عنصر کے بغیر، بورژوافرقہ وارانہ تقسیم گہری ہوگئی اور آزادی کی جدوجہد بتدریج طبقاتی بنیادوں کی بجائے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ڈھلنے لگی۔ برصغیر آج بھی اس تباہ کن میراث کا شکار ہے۔

خلاصہ یہ کہ جب کسی نوآبادیاتی خطے کی آزادی کی تحریک کو کسی دوسرے ملک (چاہے وہ ’سوشلسٹ‘ہی کیوں نہ ہو) کی خارجہ پالیسی کی ضروریات کے تابع کر دیا جائے تو اس سے انقلابیوں اور عوام کے درمیان نامیاتی تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور سیاست دوبارہ بورژوازی کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔

نامکمل انقلاب

آخرکار کانگریس کی بورژوا قیادت نے برطانوی سامراج کے ساتھ ایک ایسا سمجھوتہ کیا جس نے زمینداری کو جوں کا توں باقی رکھا اور سرمایہ دارانہ ملکیت کی حفاظت کی۔ کمیونسٹ اور سوشلسٹ کارکنوں کی قربانیوں اور جرات کے باوجود وہ 1947 تک قومی قیادت پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ ریاستی جبر، اندرونی مباحث اور بورژوازی کی سیاسی طاقت نے انقلاب کو درمیان ہی میں روک دیا۔

1947 اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی خودمختاری سرمایہ دارانہ استحصال کے ساتھ باآسانی ساتھ چل سکتی ہے۔

(بشکریہ: ’آلٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘، ترجمہ :حارث قدیر)

Soumya Sahin