سرمایہ دارانہ دنیا: جنگ کیلئے 2.7 ٹریلین ڈالر ہیں، بھوک مٹانے کیلئے 50 ارب نہیں
حارث قدیر
لبرل ازم کے عالمی نمائندہ جریدے ’دی اکانومسٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ(SIPRI) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کی بنیا دپر انکشاف کیا گیا ہے کہ سال2024ء میں دنیا بھر میں دفاعی اخراجات 2ہزار700ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.4فیصد کا اضافہ ہے اور سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ تیز رفتار سالانہ اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل 10واں سال ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے سالانہ 40سے 50ارب امریکی ڈالر درکار ہیں۔ 2021میں ورلڈ فوڈ پروگرام نے تخمینہ لگایا تھا کہ دنیا کے 42ملکوں میں شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 45ملین افراد کی مدد کے لیے کم از کم 7ارب امریکی ڈالر کی ضروری ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر 28کروڑ10لاکھ شدید غذائی قلت کا شکار انسانوں کو فوری بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات درکار ہیں۔مجموعی طور پردنیا بھر سے غذائی قلت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے 300ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
تاہم حکمران طبقات دنیا کی تباہی کے لیے دفاع کے نام پر بھاری بھرکم اخراجات کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے کثیر الجہتی بحران کا ناگزیر اظہار جنگوں، خونریزیوں، بربادیوں اور سب سے بڑھ کر کرہ ارض پر زندگی کو لاحق خطرات میں تیز ترین اضافے کی صورت میں ہو رہا ہے۔ اس تمام تر بحران میں حکمران طبقات اس نظام کی بقاء اور سرمایہ داروں کی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کی کوشش میں دنیا کو برباد تو کر سکتے ہیں، لیکن اسے آباد کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بھی بنانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔
اقوام متحدہ ہی کے اعداد و شمار کے مطابق کرہ ارض کے درجہ حرارت کو صنعتی دور کے آغاز سے قبل کی سطح سے 1.5ڈگری سینٹی گریڈ سے کم سطح پر رکھنے کے لیے 2030تک سالانہ 4ہزار500ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلے میں 1ہزار800ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں جانتے بوجھتے ہوئے اس سیارے کی تباہی کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام کرنے سے گریز برتا جا رہا ہے۔
SIPRIکی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق امریکہ بدستور دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے، جس نے 997 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کیے۔ یہ رقم عالمی دفاعی اخراجات کا تقریباً 37 فیصد بنتی ہے۔ اس کے بعد چین دوسرے نمبر پر ہے، جس کا دفاعی بجٹ 314 ارب ڈالر رہا، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 1.7 فیصد ہے۔
روس نے 149 ارب ڈالر خرچ کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کا دفاعی بجٹ اس کی جی ڈی پی کا 7.1 فیصد بنتا ہے، جو دنیا کے بڑے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ یوکرین نے روس کے ساتھ جنگ کے باعث اپنی جی ڈی پی کا 34 فیصد یعنی تقریباً 64.7 ارب ڈالر دفاع پر لگا دیا، جسے ایک غیرمعمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی ممالک خصوصاً جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بھی اپنے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا۔ جرمنی نے 88.5 ارب، برطانیہ نے 81.8 ارب اور فرانس نے 64.7 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کیے۔ نیٹو کے دباؤ اور یوکرین جنگ کے اثرات کے باعث یورپی اخراجات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
بھارت دنیا کا پانچواں سب سے بڑا دفاعی خرچ کرنے والا ملک ہے، جس نے 86.1 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا، جو اس کی جی ڈی پی کا 2.3 فیصد ہے۔ سعودی عرب نے 80.3 ارب ڈالر خرچ کیے، جو اس کی جی ڈی پی کا 7.3 فیصد بنتا ہے۔ یہ دنیا میں جی ڈی پی کے تناسب سے سب سے زیادہ دفاعی اخراجات میں سے ایک ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپان نے بھی اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ 55.3 ارب ڈالر مختص کیے، جو اس کے جی ڈی پی کا 1.4 فیصد ہے۔ ایشیائی خطے میں مجموعی طور پر دفاعی اخراجات میں اضافہ چین اور دیگر خطوں کے ساتھ مسابقت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں تقریباً 10.2 ارب امریکی ڈالر دفاع پر خرچ کیے، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.7 فیصد ہے۔ عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 29واں رہا۔ اگرچہ یہ رقم عالمی سطح پر کم نظر آتی ہے، لیکن ملکی وسائل اور دیگر سماجی شعبہ جات کے مقابلے میں دفاع کا یہ بوجھ خاصا نمایاں ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرین جنگ، چین امریکہ تناؤ، مشرقی وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی سمیت دنیا بھر میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کا رجحان دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ دفاعی اخراجات میں امریکہ کی برتری بدستور قائم ہے، لیکن چین اور روس جیسے ملک اپنی افواج کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔ مجموعی طور پر حکمران طبقات انسانی مسائل کو حل کرنے کی بجائے بڑی جنگی صورتحال کی تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
بھوک کا راج
دنیا بھر میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ 6سالوں کے دوران یہ شرح تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہی ادارہ ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر بھوک کا شکار افراد کی تعداد73کروڑ50لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 2019ء کے مقابلے میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں 12کروڑ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح شدید غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد بھی 2023کے اعداد و شمار کے مطابق28کروڑ10لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جنہیں فوری امداد نہ ملی تو ان کی جان جا سکتی ہے۔ حالیہ کشیدہ صورتحال، بالخصوص غزہ، سوڈان، یمن اور دیگرممالک میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کے ساتھ ساتھ افریقہ میں خشک سالیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہجرتوں نے اس تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غذائی امداد کی فراہمی، پائیدار زرعی نظام کی بہتری، غذائی ذخائر کی رسائی بہتر بنانے، چھوٹے کسانوں اورخواتین کے استحکام سمیت بنیادی غذائی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سالانہ 50ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
300ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10سالہ منصوبے کے تحت دنیا بھر سے غذائی عدم تحفظ کا مکمل خاتمہ کیا جا سکا ہے۔ اسی طرح دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کے لیے محض امریکہ کے سالانہ دفاعی بجٹ سے بھی کئی گنا کم رقم درکار ہے، جو997ارب ڈالر ہے۔
دوسری طرف اگر عدم مساوات کو دیکھا جائے تو دنیا بھر کی 10بڑی اجارہ داریوں کے پاس اس وقت 4ارب انسانوں (یعنی دنیا کی نصف آبادی) کی مجموعی دولت سے 4گنا زیادہ دولت موجود ہے۔ دنیا کی 50فیصد آبادی کے پاس مجموعی عالمی دولت کا محض1.1فیصد حصہ ہے۔
زندگی کی بقاء کو لاحق خطرات
تاہم مجموعی طور پر نسل انسان اور کرہ ارض پرحیات کی بقاء کے لیے جنگوں کی بجائے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ماحول دوست اخراجات کی ضرورت ہے۔ سرمائے کی ہوس کے خاتمے، منافعوں اور شرح منافع کی دوڑ میں انسانیت کو تاراج کرنے کے سلسلے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں بڑے پیمانے پر قحط سالیوں، ہجرتوں، شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکا ہے، وہیں اگردرجہ حرارت کو بڑھنے سے روکا نہ گیا تو کرہ ارض پر زندگی کی بقاء کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس عمل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ، توانائی کی تبدیلی اورکاربن اخراج میں کمی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ منافعوں کی ہوس کا شکار سرمایہ دار اور حکمران طبقات کرہ ارض کے ماحول کو بچانے کے لیے یہ اخراجات کرنے سے گریزاں ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے بنائی گئی کوئی بھی پالیسی ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناہی نہیں سکتی۔
پیرس معاہدے اور اس کے بعد ہونے والی ماحولیاتی کانفرنسیں حکمران طبقات کی الزام تراشیوں اور مصنوعی یا نمائشی اقدامات کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے تخمینے کے مطابق ہر سال تقریباً 4 سے 6 ہزار ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے،تاکہ دنیا کو 2050 تک کاربن نیوٹرل بنایا جا سکے۔یہ سرمایہ کاری قابل تجدید توانائی، گرین ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، جنگلات کی بحالی، اور صنعتی تبدیلی پر خرچ ہوگی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اگر دنیاکو 1.5ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے اندر رکھا جائے تو 2030تک سالانہ 4ہزار500ارب ڈالر کی ضرورت ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں آج دنیا صرف1ہزار800ارب ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انوائرنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کی رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 1.5ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف2040سے پہلے ہی عبورہو جائے گا۔
2024ء میں دنیا نے جتنی رقم دفاع کے لیے خرچ کی، صرف اتنی ہی رقم اگر سالانہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر خرچ کی جائے تو 1.5ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف قابل حصول ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ اس نظام کے رکھوالوں کی ترجیحات میں شامل نہیں، یا پھر یوں کہیں کہ اس نظام کی بقاء کے لیے ان اخراجات کا نہ ہونا ناگزیرہے۔ دوسرے لفظوں میں اپنی بقاء کی جدوجہد میں یہ نظام کرہ ارض سے زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔
یوں دنیا کے غریب ترین،اور وسائل و دولت سے محروم انسانوں کے پاس بقاء کے لیے جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس نظام کی موجودگی میں ان کی زندگیوں میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سرمایہ داری کا خاتمہ اور وسائل کی سوشلسٹ بنیادوں پر منصفانہ تقسیم ہی اس کرہ ارض کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
