سرکشی کا فن
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
جنگ کی طرح لوگ انقلاب بھی شوق سے نہیں کرتے۔ تاہم فرق یہ ہے کہ جنگ میں مجبوری ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، جبکہ انقلاب میں حالات کی مجبوری کے سوا کوئی مجبوری نہیں ہوتی۔ ایک انقلاب تبھی رونما ہوتا ہے جب دوسرا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اور سرکشی، جو پہاڑ کی چوٹی کی طرح انقلاب کا بلند ترین مقام ہوتی ہے، انقلاب ہی کی طرح من مرضی سے نہیں کی جا سکتی۔حتمی یلغار کا فیصلہ لینے سے پہلے عوام کئی بار آگے بڑھتے ہیں اور پسپا ہوتے ہیں۔
عام طور پر سازش اور سرکشی میں ایسے ہی فرق کیا جاتا ہے جیسے ایک اقلیت کی کسی کاروائی اور اکثریت کی تحریک میں کیا جاتا ہے۔ اور یہ درست ہے کہ ایک فتح مند سرکشی، جو صرف ایک ایسا طبقہ ہی کر سکتا ہے جو قوم کی قیادت کرنے کا اہل ہو، اپنے طریقہ کار اور تاریخی اہمیت میں ایسے حکومتی دھڑن تختے سے بہت مختلف ہوتی ہے جو کچھ سازشیوں نے عوام سے خفیہ طور پر کیا ہو۔
ہر طبقاتی سماج میں اتنے تضادات ہوتے ہیں کہ سازش اِن دراڑوں میں جڑ پکڑ سکتی ہے۔ تاہم تاریخی تجربہ ثابت کرتا ہے کہ سازشوں کے ماحول کو مسلسل برقرار رکھنے کے لئے سماجی بیماری کی ایک مخصوص شدت درکار ہوتی ہے (مثلاً سپین، پرتگال، جنوبی امریکہ)۔ تاہم ایک خالص سازش اگر کامیاب ہو بھی جائے تو اُسی حکمران طبقے کے ہی ایک دھڑے کو دوسرے سے تبدیل کر سکتی ہے یا محض حکومتی افراد کو ہی بدل سکتی ہے۔ تاریخ میں ایک سماجی نظام کی دوسرے پر فتح صرف عوامی سرکشیوں کے ذریعے ہی ہوئی ہے۔ وقتاً فوقتاً ہونے والی سازشیں بالعموم سماجی جمود اور زوال پذیری کا اظہار ہوتی ہیں، اِس کے برعکس عوامی سرکشیاں بالعموم ایسے تیز ارتقا کا نتیجہ ہوتی ہیں جو ملک کے پرانے توازن کو توڑ دیتا ہے۔ جنوب امریکی جمہوریاؤں کے دیرینہ ’’انقلابات‘‘ اور انقلابِ مسلسل کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں ہے؛ درحقیقت ایک لحاظ سے وہ بالکل متضاد ہیں۔
تاہم اِس کا یہ مطلب نہیں ہے عوامی سرکشی اور سازش تمام صورتوں میں ہی ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔ کسی بھی سرکشی میں سازش کا عنصر ہمیشہ شامل ہوتا ہے۔ عوامی سرکشی، جو انقلاب کے ایک مخصوص مرحلے کا تاریخی نتیجہ ہوتی ہے، خالصتاً خودرو نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ اپنے شرکا کی اکثریت کو بھی غیرمتوقع لگنے کے باوجود اِسے وہی نظریات جنم دیتے ہیں جن میں سرکشی کرنے والے، وجود کی مشکلات سے نجات تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔تاہم عوامی سرکشی کی پیش بینی اور تیاری کی جا سکتی ہے۔ اِسے پیشگی منظم کیا جا سکتا ہے۔ اِس صورت میں سازش، سرکشی کے تابع ہوتی ہے، اِس کی معاونت کرتی ہے، اِس کی راہ ہموار کرتی ہے، اِس کی فتح کو تیز کرتی ہے۔ انقلابی تحریک کا سیاسی معیار جتنا بلند ہوتا ہے اور اِس کی قیادت جتنی سنجیدہ ہوتی ہے، عوامی سرکشی میں سازش کا عمل دخل اُتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
سرکشی اور سازش کا آپسی تعلق دونوں طرح سے سمجھنا بہت ضروری ہے: جب یہ ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں اور جب ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایسا بالخصوص اِس لئے ہے کہ مارکسی لٹریچر میں بھی ’سازش‘کا لفظ سطحی تضاد کا حامل ہے، بعض اوقات اِس سے مراد ایک اقلیت کی کاروائی لی جاتی ہے اور بعض اوقات اقلیت کی جانب سے اکثریت کی سرکشی کی تیاری۔
تاریخ گواہ ہے کہ مخصوص حالات میں عوامی سرکشی ایک سازش کے بغیر بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ عالمگیر غیض و غضب، بکھرے ہوئے احتجاجوں، مظاہروں، ہڑتالوں اور سڑکوں پر جھڑپوں میں سے ’’خودرو‘‘ انداز سے ابھر کر سرکشی دشمن کے ایک حصے کو اپنے ساتھ ملا سکتی ہے، دشمن قوتوں کو مفلوج کر سکتی ہے اور پرانے اقتدار کو اکھاڑ سکتی ہے۔ روس میں فروری 1917ء میں کسی حد تک ایسا ہی ہوا تھا۔ کم و بیش یہی منظر 1918ء کے موسم خزاں میں جرمنی اور آسٹریا ہنگری کے انقلابات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ اِن واقعات میں سرکشی کی قیادت کوئی پارٹی نہیں کر رہی تھی، لہٰذا سرکشی کی فتح نے ناگزیر طور پر اقتدار اُنہی پارٹیوں کے حوالے کر دیا جو آخری وقت تک اِس کی مخالفت کر رہی تھیں۔
پرانے اقتدار کا دھڑن تختہ ایک چیز ہے؛ اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینا ایک دوسری چیز ہے۔ ایک انقلاب میں بورژوازی اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے، اِس لئے نہیں کہ یہ انقلابی ہے، بلکہ اِس لئے کہ وہ بورژوازی ہے: اُس کے پاس جائیداد، تعلیم، پریس، اہم عہدوں کا نیٹ ورک اور اداروں کا سلسلہ وار نظام ہے۔ پرولتاریہ کا معاملہ بالکل برعکس ہے: تمام سماجی مراعات سے محروم سرکش پرولتاریہ صرف اپنی تعداد، اپنی یکجہتی، اپنے کیڈروں اور اپنی باضابطہ قیادت پر ہی بھروسہ کر سکتا ہے۔
جیسے تپتے ہوئے لوہے کو لوہار اپنے ننگے ہاتھوں سے نہیں پکڑ سکتا، ویسے ہی پرولتاریہ بھی اقتدار پر براہِ راست قبضہ نہیں کر سکتا؛ اس کام کے لئے ایک خصوصی تنظیم درکار ہوتی ہے۔ عوامی سرکشی کو سازش سے جوڑنے، سازش کو سرکشی کے تابع کرنے اور سرکشی کو سازش کے ذریعے منظم کرنے کا عمل ہی انقلابی سیاست کا وہ شعبہ تخلیق کرتا ہے جسے مارکس اور اینگلز نے ’’سرکشی کا فن‘‘ قرار دیا تھا۔ اِس کے لئے عوام کی درست قیادت، بدلتے ہوئے حالات میں لچکدار لائحہ عمل، حملے کا سوچا سمجھا منصوبہ،تکنیکی تیاری میں انتہائی احتیاط اور بے باک ضرب درکار ہوتی ہے۔
تاریخ دان اور سیاستدان بالعموم ایسے عوام کی تحریک کو خودرو سرکشی کا نام دے دیتے ہیں جو پرانے اقتدار کی مخالفت میں تو یکجا ہوتے ہیں، لیکن کسی واضح نصب العین، جدوجہد کے شعوری طریقوں یا فتح تک کا راستہ شعوری طور پر واضح کرنے والی قیادت سے محروم ہوتے ہیں۔کم از کم جمہوری مزاج رکھنے والے سرکاری تاریخ دان ایسی خودرو سرکشی کی طرف خیرسگالی کا رویہ اپناتے ہیں جس کی ذمہ داری ایک ضروری برائی کے طور پر پرانے اقتدار پر عائد ہوتی ہے۔ اِس خیر سگالی کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ ایسی ’’خودرو‘‘ سرکشی بورژوا نظام کے ڈھانچے سے تجاوز نہیں کر سکتی۔
سوشل ڈیموکریٹوں کا موقف بھی ایسا ہی ہوتا ہے: وہ سماجی اتھل پتھل کے طور پر انقلاب کو مسترد نہیں کرتے، جیسے وہ زلزلوں، آتش فشانی دھماکوں، سورج گرہنوں اور طاعون کی وباؤں کو مسترد نہیں کر سکتے۔ جس چیز کو وہ ’’بلانکزم‘‘ [۱] یا اِس سے بھی بڑھ کر ’بالشویزم‘ قرار دے کر مسترد کرتے ہیں وہ انقلاب کی شعوری تیاری، منصوبہ اور سازش ہے۔ دوسرے الفاظ میں سوشل ڈیموکریٹ ایسے انقلابات کی اجازت تو دے سکتے ہیں جو اقتدار بورژوازی کے حوالے کریں، لیکن ایسے طریقوں کی بے رحم مذمت کرتے ہیں جو پرولتاریہ کو اقتدار دے سکتے ہیں۔ اِس جعلی معروضیت کی آڑ میں وہ سرمایہ دارانہ سماج کے دفاع کی پالیسی کو چھپاتے ہیں۔
آگسٹ بلانکی نے جن کئی سرکشیوں میں حصہ لیا یا مشاہدہ کیا، اُن کی ناکامیوں پر اپنے مشاہدات اور خیالات میں اُس نے کئی تدبیری قوانین وضع کئے، جن کی خلاف ورزی کی جائے تو سرکشی کی فتح اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو جائے گی۔ بلانکی نے اِن چیزوں کا تقاضا کیا: درست انقلابی دستوں کی بروقت تشکیل، اُن کی مرکزی کمان،اُنہیں سازوسامان کی باقاعدہ فراہمی، ٹھوس منصوبہ بندی سے مورچوں [۲] کا تعین، اُن کی مخصوص ساخت اور اُن کا منظم دفاع۔ سماجی حالات اور عسکری تکنیک کے ساتھ سرکشی کے عسکری مسائل سے برآمد ہونے والے یہ تمام قوانین بھی یقینا تبدیل ہوں گے، لیکن اپنے اندر وہ اِس لحاظ سے ’’بلانکزم‘‘ نہیں ہیں کہ یہ لفظ جرمن ’’خفیہ انقلابیت‘‘ یا انقلابی مہم جوئی کے قریب ہے۔
سرکشی ایک فن ہے اور تمام فنون کی طرح اِس کے اپنے قوانین ہیں۔ بلانکی کے قوانین ، عسکری انقلابی حقیقت پسندی کے تقاضے تھے۔ بلانکی کی غلطی اُس کے براہ راست نہیں بلکہ اُلٹ قضیے میں مضمر ہے۔ تدبیری غلطی ایک سرکشی کو شکست سے دوچار کر دیتی ہے، اِس حقیقت سے بلانکی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف سرکشی کی حکمت عملی کے قوانین کی تعمیل ہی فتح کی ضامن ہے۔ یہاں سے بلانکزم اور مارکسزم میں فرق شروع ہوتا ہے۔ سرکشی کی جگہ سازش نہیں لے سکتی۔ پرولتاریہ کی ایک متحرک اقلیت، چاہے کتنی ہی منظم کیوں نہ ہو، ملک کے عمومی حالات سے آزادانہ طور پر اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اِسی نقطے پر تاریخ نے بلانکزم کو رد کیا ہے۔ لیکن صرف اِسی نقطے پر۔ اُس کا براہِ راست قضیہ درست ہے۔ اقتدار پر قبضے کے لئے پرولتاریہ کو خودرو سرکشی سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُسے ایک مناسب تنظیم اور منصوبے کی ضرورت ہے: اُسے سازش کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی اِس سوال پر لینن اسٹ نقطہ نظر ہے۔
مورچوں کے استصنام (Fetishism) کو اینگلز نے عسکری تکنیک اور بالعموم تمام تکنیک کی ترقی کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ بلانکزم کا یہ طریقہ کار پرانے پیرس، نیم دستکار پرولتاریہ، تنگ سڑکوں اور لوئی فلپ کے عسکری نظام سے مطابقت رکھتا تھا۔ بلانکی کی بنیادی غلطی سرکشی کو ہی انقلاب سمجھنا تھی۔ اُس کی تکنیکی غلطی مورچے کو سرکشی سمجھنا تھی۔ مارکسی تنقید کا ہدف یہ دونوں غلطیاں ہیں۔سرکشی کو ایک فن گرداننے میں بلانکزم کے ساتھ متفق ہونے کے باوجود اینگلز نے نہ صرف ایک انقلاب میں سرکشی کے ماتحت مقام بلکہ سرکشی میں مورچے کا گھٹتا ہوا کردار بھی دریافت کیا۔ بلانکزم پر اینگلز کی تنقید اور پارلیمانیت کے حق میں انقلابی طریقوں کے استرداد (Rejection) کے درمیان کچھ مشترک نہیں ہے۔ اینگلز کے لئے مورچوں کا سوال، سرکشی کے تکنیکی عناصر میں سے محض ایک عنصر کا سوال ہی رہا۔ اُس کی جانب سے مورچے کی فیصلہ کن اہمیت کے استرداد سے اصلاح پسندوں نے بالعموم انقلابی تشدد کے استرداد کا نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے مستقبل کی جنگ میں خندقوں کی اہمیت میں ممکنہ کمی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ جنگ کا ہی خاتمہ ہو گیا ہے۔
سوویتیں ہی وہ تنظیم ہیں جس کے ذریعے پرولتاریہ پرانے اقتدار کو اکھاڑ بھی سکتا ہے اور اُس کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ یہ بعد ازاں تاریخی تجربے کا معاملہ بن گیا، لیکن اکتوبر انقلاب سے پہلے تک ایک نظریاتی مفروضہ تھا، جس کی بنیاد 1905 ء کا تمہیدی تجربہ تھا۔ سوویتیں عوام کو سرکشی کے لئے تیار کرنے کے ادارے ہیں، سرکشی کے ادارے ہیں اور بعد ازاں حکومت کے ادارے ہیں۔
تاہم سوویتیں خود سے ہی مسئلہ حل نہیں کر سکتیں۔ وہ اپنے پروگرام اور قیادت کے مطابق مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتی ہیں۔ پارٹی ہی سوویتوں کو اُن کا پروگرام دیتی ہے۔ اگر انقلابی حالات میں سوویتیں (انقلاب کے بغیر وہ ناممکن ہوتی ہیں) پسماندہ، بے عمل یا مایوس پرتوں کے سوا تمام طبقے پر مشتمل ہوتی ہیں تو انقلابی پارٹی طبقے کا دماغ ہوتی ہے۔ اقتدار پر قبضے کا مسئلہ پارٹی اور سوویتوں یا اُن جیسی دوسری عوامی تنظیموں کے مخصوص امتزاج سے ہی حل ہو سکتا ہے۔
ایک انقلابی پارٹی کی قیادت میں سوویت شعوری طور پر اور بروقت اقتدار پر قبضے کی کوشش کرتی ہے۔ خود کو سیاسی صورتحال اور عوام کے مزاج کے مطابق ڈھالتے ہوئے وہ سرکشی کی عسکری بنیادوں کو تیار کرتی ہے، یلغاری دستوں کو کاروائی کے واحد منصوبے کی بنیاد پر یکجا کرتی ہے، حملے اور حتمی وار کا منصوبہ تیار کرتی ہے۔ اِس سب کا مطلب عوامی سرکشی میں ایک منظم سازش کا عنصر شامل کرنا ہے۔
بالشویک ایک سے زیادہ مرتبہ اور اکتوبر انقلاب سے بھی بہت پہلے خود پر دشمنوں کی جانب سے لگائے جانے والے سازش اور بلانکزم کے الزامات کو مسترد کرنے پر مجبو ر ہوئے۔مزید برآں خالص سازش کے نظام کے خلاف لینن سے بڑھ کر بے رحم جدوجہد کسی نے نہیں کی۔ بین الاقوامی سوشل ڈیموکریسی کے موقع پرستوں نے کئی مرتبہ زارشاہی کے کارندوں کے خلاف انفرادی دہشت گردی کے پرانے سوشل انقلابی طریقہ کار کا دفاع کیا، جبکہ بالشویکوں نے دانشوروں کی اِس انفرادی مہم جوئی کے برخلاف عوامی سرکشی پر اصرار کرتے ہوئے ہمیشہ انفرادی دہشت گردی کے طریقہ کار کو بے رحم تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن بلانکزم اور انارکزم کی تمام شکلوں کو مسترد کرنے کے باوجود لینن ایک لمحے کے لئے بھی عوام کی ’’مقدس‘‘ خودروی کے سامنے نہیں جھکا۔ اُس نے ہرکسی سے پہلے اور زیادہ گہرائی سے ایک انقلاب میں معروضی اور موضوعی عناصر، خودرو تحریک اور پارٹی کی حکمت عملی، عوام اور ہراول طبقے، پرولتاریہ اور اُس کے ہراول دستے، سوویتوں اور پارٹی اور سرکشی اور سازش کے باہمی تعلق پر غوروخوض کیا۔
لیکن اگر یہ درست ہے کہ سرکشی کو من مرضی سے نہیں ابھارا جا سکتا تاہم فتح کے لئے اُسے پیشگی منظم کرنا لازم ہوتا ہے تو ایسے میں انقلابی رہنماؤں پر درست تشخیص کی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ اُنہیں پنپتی ہوئی سرکشی کو بروقت محسوس کرتے ہوئے اُسے سازش سے مکمل کرنا ہوتا ہے۔ ایک خودرو عمل میں اِس شعوری دخل اندازی کی سب سے واضح مثال دردِ زہ میں دائی کی مداخلت ہے۔ ہرزن نے ایک بار اپنے دوست باکونن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنی تمام انقلابی کاروائیوں میں حمل کے دوسرے مہینے کو نواں مہینہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ تاہم خود ہرزن نویں مہینے میں بھی حمل سے انکاری ہوتا تھا۔ فروری میں پیدائش کی تاریخ کا سوال بمشکل ہی ابھرا تھا، کیونکہ سرکشی کسی مرکزی قیادت کے بغیر غیرمتوقع طور پر بھڑک اٹھی تھی۔ لیکن بالکل اِسی وجہ سے اقتدار اُن کے پاس نہیں گیا جنہوں نے سرکشی کی تھی، بلکہ اُن کے پاس چلا گیا جنہوں نے سرکشی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ دوسرے انقلاب کا معاملہ بالکل برعکس تھا۔ اِس کی تیاری بالشویکوں نے شعوری طور پر کی تھی۔ یوں حملے کا اشارہ بروقت کرنے کی ذمہ داری بالشویک قیادت پر عائد ہو گئی۔
’وقت‘ کو یہاں بالکل لفظی معنوں میں کوئی مخصوص دن یا گھنٹہ نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ بچے کی پیدائش میں بھی غیر یقینی کیفیت کا خاصا طویل عرصہ آتا ہے، جس کی حدود سے نہ صرف دائی کی مہارت بلکہ وراثت کے قانونی معاملات کا بھی تعین ہوتا ہے۔ سرکشی کی قبل از وقت کوشش انقلاب کے ناگزیر اسقاطِ حمل پر منتج ہوتی ہے اور دیر کر دینے سے مناسب موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اِن دونوں صورتوں کے درمیان ایک مخصوص عرصہ ہوتا ہے، جو ہفتوں یا چند مہینوں پر محیط ہو سکتا ہے، جس میں کامیابی کے کم و بیش امکانات سے سرکشی کی جا سکتی ہے۔ اِس نسبتاً مختصر عرصے کو پہچاننا اور حتمی حملے کے لئے ایک مخصوص وقت (اب حقیقی معنوں میں عین دِن اور گھنٹے تک) کا تعین ہی انقلابی رہنماؤں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔اِسے بجا طور پر کلیدی مسئلہ قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ انقلاب کی حکمت عملی کو سرکشی کی تکنیک سے جوڑتا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جنگ کی طرح سرکشی بھی دوسرے ذرائع سے سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔
دوسری تمام تخلیقی سرگرمیوں کی طرح انقلابی قیادت کے لئے بھی تجربے اور ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اِس سے بڑھ کر بھی بہت کچھ چاہئے ہوتا ہے۔تجربے اور ادراک سے تو شعبدہ بازی بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم سیاسی شعبدہ بازی معمول کے عہد اور عرصے میں ہی چل سکتی ہے۔ دیوہیکل تاریخی تبدیلیوں کے عہد میں شعبدہ بازکسی کام کے نہیں ہوتے۔ یہاں ادراک سے منور تجربہ بھی ناکافی ہو جاتا ہے۔یہاں کلیدی تاریخی قوتوں کے تعامل کی فہم پر مبنی ترکیبی نظریہ درکار ہوتا ہے۔ یہاں ایک مادی طریقہ کار درکار ہوتا ہے، جو انسان کو پروگرام اور نعروں کی متحرک پرچھائیوں کے پیچھے سماجی اجسام کی حقیقی حرکت دریافت کرنے کے قابل بنا سکے۔
ایک انقلاب کی سب سے بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ مروجہ سماجی ڈھانچہ، قوم کے ارتقا کے فوری مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہوتا ہے۔تاہم ایک انقلاب صرف تبھی ممکن ہوتا ہے جب سماج ایک نئے طبقے کا حامل ہو، جو تاریخ کے پیش کردہ مسائل کو حل کرنے میں قوم کی قیادت کرسکے۔ انقلاب کی تیاری کا عمل صنعت اور طبقات کے تضادات میں موجود معروضی مسائل کو عوام کے شعور میں سرایت کروانے، اِس شعور کو بدلنے اور انسانی طاقتوں کا ایک نیا توازن تخلیق کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔
ملک کو بند گلی سے نکالنے میں اپنی عملی طور پر واضح نااہلی کے نتیجے میں حکمران طبقات خود پر اعتماد کھو دیتے ہیں؛ پرانی پارٹیاں ٹوٹ کر بکھر جاتی ہیں؛ گروہوں اور دھڑوں میں تلخ کشمکش کا دور دورہ ہوتا ہے؛ معجزوں کی امیدیں کی جانے لگتی ہیں۔ یہ سب کچھ انقلاب کی ایک سیاسی شرط ہوتا ہے، ایک بہت اہم لیکن مجہول شرط۔
مروجہ نظام سے شدید نفرت اور ملک کو بحالی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے انتہائی دلیرانہ کوششوں اور قربانیوں پر آمادگی۔ انقلابی طبقے کا یہ نیا سیاسی شعور ایک انقلاب کی سب سے اہم متحرک شرط ہوتی ہے۔
تاہم ملک کی آبادی بڑے جائیداد مالکان اور پرولتاریہ پر ہی مشتمل نہیں ہوتی ہے۔ اُن کے درمیان معاشی اور سیاسی دھنک کے رنگوں کی طرح پیٹی بورژوازی کی وسیع پرتیں ہوتی ہیں۔ اِن درمیانی پرتوں کی بے چینی، حکمران طبقات سے اِن کی مایوسی اور انقلابی پرولتاریہ کی حمایت پر اِن کی آمادگی ایک انقلاب کی تیسری سیاسی شرط ہوتی ہے۔ یہ جزوی طور پر مجہول ہوتی ہے، کیونکہ یہ پیٹی بورژوازی کی بالائی پرت کو غیرجانبدار بنا دیتی ہے، اور جزوی طور پر متحرک ہوتی ہے، کیونکہ یہ پیٹی بورژوازی کی نچلی پرتوں کو مزدوروں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ شرائط ایک دوسرے پر منحصر ہوتی ہیں۔ پرولتاریہ جس قدر فیصلہ کن اور پراعتماد ہو کر عمل پر اترے گا، درمیانی پرتوں کو اُتنی ہی کامیابی سے اپنی طرف مائل کرے گا، حکمران طبقہ اُتنا ہی تنہا ہو جائے گا، اُس کی بددلی اُتنی ہی شدید ہوگی اور یہ بددلی محنت کش طبقے کو مزید تحریک دے گی۔
پرولتاریہ ایک حکومتی دھڑن تختے کے لئے درکار اعتماد اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اُس کے سامنے ایک واضح تناظر کھل رہا ہو، اُسے اپنے حق میں بدلتے ہوئے طاقتوں کے توازن کو آزمانے کا موقع مل رہا ہو اور وہ اپنے اوپر دور اندیش، ٹھوس اور بااعتماد قیادت کو محسوس کر رہا ہو۔ یہ چیز ہمیں اقتدار پر قبضے کی آخری شرط تک لے جاتی ہیں، جو کسی طور بھی اہمیت کے لحاظ سے آخری نہیں ہوتی: طبقے کے پختہ اور یکجا ہراول دستے کے طور پر ایک انقلابی پارٹی۔
داخلی اور بین الاقوامی حالات کے موافق امتزاج کی بدولت روسی پرولتاریہ کی قیادت ایک غیر معمولی سیاسی وضاحت اور بے مثال انقلابی پختگی رکھنے والی پارٹی کر رہی تھی۔ صرف اِسی چیز نے ایک چھوٹے اور نوجوان طبقے کو ایک بے نظیر تاریخی فریضہ ادا کرنے کے قابل بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیرس کمیون سے لے کر 1918ء کے جرمن اور آسٹریائی انقلابات، ہنگری اور بواریا کے سوویت انقلابات، 1919ء کے اطالوی انقلاب، 1923ء کے جرمن بحران، 1925-27ء کے چینی انقلاب اور 1931ء کے ہسپانوی انقلاب تک، ضروری شرائط کی زنجیر میں سب سے کمزور کڑی پارٹی رہی ہے۔ محنت کش طبقے کے لئے سب سے مشکل کام ہی ایک ایسی انقلابی تنظیم کی تشکیل ہوتا ہے جو اُس کے تاریخی فریضے تک خود کو بلند کرنے کے قابل ہو۔ پرانے اور زیادہ مہذب ممالک میں ہراول دستے کو کمزور اور بددل کرنے کے لئے طاقتور قوتیں سرگرم ہوتی ہیں۔اِس کام کا ایک اہم حصہ سوشل ڈیموکریٹوں کی ’’بلانکزم‘‘ کے خلاف مزاحمت ہے، جیسا کہ وہ مارکسزم کی انقلابی اساس کو قرار دیتے ہیں۔
عظیم سماجی و سیاسی بحرانات کی وسیع تعداد کے باوجود، ایک فتح مند اور مستحکم پرولتاری انقلاب کے لئے تمام ضروری شرائط کی مطابقت تاریخ میں صرف ایک بار ہی ہوئی ہے: اکتوبر 1917ء میں روس میں۔ ایک انقلابی صورتحال زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتی۔ پیٹی بورژوازی کا مزاج، انقلاب کی سب سے غیر مستحکم شرط ہوتا ہے۔ قومی بحران کے دوران پیٹی بورژوازی اُس طبقے کی پیروی کرتی ہے جو نہ صرف قول بلکہ فعل سے اعتماد حاصل کرتا ہے۔ ہیجانی جوش اور انقلابی طیش کی قابلیت کے باوجود پیٹی بورژوازی میں ثابت قدمی کا فقدان ہوتا ہے، پسپائیوں میں بہت جلد بددل ہو جاتی ہے اور جوش بھری امید سے مایوسی کی طرف چلی جاتی ہے۔ پیٹی بورژوازی کے مزاج میں یہ گہری اور تیز تبدیلیاں ہی انقلابی صورتحال میں عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ اگر عوام کی امیدوں اور توقعات کو پرولتاری پارٹی بروقت انقلابی کاروائی میں تبدیل نہیں کر پاتی تو انقلابی لہر کے ابھار کے بعد جلد ہی تنزلی آتی ہے۔ درمیانی پرتیں انقلاب سے نظریں ہٹا کر مخالف کیمپ میں پناہ تلاش کرنے لگتی ہیں۔ جیسے ابھار کے دوران پرولتاریہ نے پیٹی بورژوازی کو اپنے پیچھے گھسیٹا ہوتا ہے، ویسے ہی تنزلی کے دوران پرولتاریہ کی وسیع پرتوں کو پیٹی بورژوازی اپنے پیچھے گھسیٹنے لگتی ہے۔ جنگ کے بعد سے یورپ کے سیاسی ارتقا میں دیکھی جانے والی کمیونسٹ اور فاشسٹ لہروں کی یہی جدلیات ہے۔
مارکس کے اِس دعوے کہ کوئی بھی نظام اپنے تمام ممکنات کو استعمال (Exhaust) کئے بغیر تاریخ کا سٹیج نہیں چھوڑتا، کو بنیاد بنانے کی کوشش کرتے ہوئے منشویکوں نے پسماندہ رو س، جہاں سرمایہ داری نے خود کو مکمل استعمال نہیں کیا تھا، میں پرولتاری آمریت کی جدوجہد کے جواز کو جھٹلایا۔اِس دلیل میں دو غلطیاں تھیں اور دونوں مہلک تھیں۔ سرمایہ داری ایک قومی نہیں بلکہ عالمگیر نظام ہے۔ سامراجی جنگ اور اُس کے مضمرات نے ثابت کر دیا کہ سرمایہ داری عالمی سطح پر خود کو استعمال کر چکی تھی۔ روس میں انقلاب درحقیقت عالمی سرمایہ داری کی کمزور ترین کڑی کا ٹوٹنا تھا۔ لیکن قومی نقطہ نظر سے بھی منشویک تصور کی غلطی واضح ہو جاتی ہے۔ معاشی تجرید (Abstraction) کے نقطہ نظر سے درحقیقت یہ دعویٰ کرنا ممکن ہے کہ روس میں سرمایہ داری نے اپنے تمام ممکنات کو استعمال نہیں کیا ہے۔ لیکن معاشی عوامل خلا میں نہیں بلکہ ٹھوس تاریخی ماحول میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ سرمایہ داری کوئی تجرید نہیں بلکہ طبقاتی تعلقات کا ایک زندہ نظام ہے، جسے سب سے بڑھ کر ریاستی اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس بات سے منشویک بھی انکار نہیں کرتے کہ وہ بادشاہت، جس کی چھتری تلے روسی سرمایہ داری ارتقا پذیر ہوئی تھی، اپنے تمام ممکنات کو استعمال کر چکی تھی۔ فروری انقلاب نے ایک عبوری ریاستی نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے اِس کی ساری تاریخ دیکھی ہے: آٹھ مہینوں کے دوران یہ خود کو مکمل طور پر استعمال کر چکا تھا۔ اِن حالات میں کون سا ریاستی نظام روسی سرمایہ داری کی مزید ترقی کی ضمانت دے سکتا تھا؟
’’ جس بورژوا جمہوریہ کا دفاع صرف اعتدال پسند سوشلسٹ کر رہے تھے، وہ عوام میں کوئی حمایت نہ مل پانے پر خود کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ اُس کا سارا نچوڑ بخارات بن کر اُڑ گیا تھا۔ صرف بیرونی خول ہی باقی بچا تھا۔‘‘ یہ بالکل درست وضاحت ملیوکوف نے کی ہے۔ اُس کے الفاظ کے مطابق اُڑ جانے والے اِس نظام کا انجام بالکل زارشاہی بادشاہت والا تھا: ’’دونوں نے انقلاب کی زمین تیار کی اور انقلاب کے دن اُنہیں ایک بھی محافظ نہ مل پایا۔‘‘
جولائی اور اگست میں ہی ملیوکوف نے دو ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب سامنے رکھ دیا تھا: کورنیلوف یا لینن۔ لیکن کونیلوف اب اپنا تجربہ کر چکا تھا اور بری طرح ناکام ہوا تھا۔ کیرنسکی حکومت کی بلاشبہ کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔ سوخانوف تصدیق کرتا ہے، ’’ایک چیز جس پر سب متحد تھے وہ کیرنسکی حکومت سے نفرت تھی۔‘‘ جیسے زارشاہی اپنے آخری دنوں میں اشرافیہ کے بالائی حلقوں اور اعلیٰ نوابوں تک کے لئے ناقابل برداشت ہو گئی تھی، ویسے ہی بالائی مصالحت پسند پرتوں کے ’’اعلیٰ نوابوں‘‘ کے لئے کیرنسکی کی حکومت نفرت انگیز بن چکی تھی۔ یہ ہمہ گیر عدم اطمینان اور تمام طبقات کی بے چینی ایک تیار انقلابی صورتحال کی انتہائی اہم علامت ہوتی ہے۔ جیسے کسی پھوڑے کے پھٹنے سے پہلے جسم کے تمام پٹھے، نسیں اور ریشے شدید تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بالشویکوں کی جولائی کانگریس کی قرارداد نے جہاں مزدوروں کو قبل از وقت تصادموں سے منع کیا تھا وہاں یہ بھی واضح کیا تھا کہ ’’جب بھی عمومی قومی بحران اور گہرا عوامی جوش شہر اور دیہات کے غریب عوام کے مزدوروں سے مل جانے کے موافق حالات پیدا کر دے‘‘ تو لڑائی میں اترنا ہو گا۔ یہ وقت ستمبر اور اکتوبر میں آچکا تھا۔
اب کے بعد سے سرکشی اپنی فتح پر یقین کر سکتی تھی، کیونکہ یہ عوام کی حقیقی اکثریت پر انحصار کر سکتی تھی۔ تاہم اِسے رسمی لحاظ سے نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ اگر سرکشی کے سوال پر ریفرنڈم کروایا جاتا تو انتہائی متضاد اور غیریقینی نتائج برآمد ہوتے۔ ایک انقلاب کی حمایت پر داخلی آمادگی اُس کی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت سے مختلف ہوتی ہے۔مزید برآں جواب کا انحصار بڑی حد تک سوال پیش کرنے کے انداز، ریفرنڈم کروانے والے ادارے اور اگر سادہ بات کی جائے تو برسر اقتدار طبقے پر ہوتا۔
جمہوری طریقوں کے اطلاق کی بھی حدود ہوتی ہے۔ آپ تمام مسافروں سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ وہ کس قسم کی گاڑی میں سفر کرنا چاہیں گے، لیکن جب ٹرین پوری رفتار پر ہو اور حادثے کا خطرہ ہو تو اُن سے یہ نہیں پو چھا جا سکتا کہ بریکیں لگائی جائیں یا نہ لگائی جائیں۔ تاہم اگر بچاؤ کی کاروائی مہارت سے بروقت انجام دی جائے تو مسافروں کی منظوری کی پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔
عوام سے پارلیمانی مشاورت ایک بار ہی کی جاتی ہے، جبکہ انقلاب کے دوران ناگزیر تاہم بعض اوقات بہت معمولی وقفوں سے آبادی کی مختلف پرتیں ایک دوسرے کے پیچھے ایک ہی نتیجے تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ جس وقت ہراول دستہ انقلابی بے صبری میں سلگ رہا ہوتا ہے، پسماندہ پرتوں نے ابھی حرکت شروع ہی کی ہوتی ہے۔ پیٹروگراڈ اور ماسکو میں تمام عوامی تنظیمیں بالشویکوں کے زیر قیادت تھیں۔ جبکہ تیس لاکھ آبادی (دونوں دارالحکومتوں کی مجموعی آبادی سے کچھ ہی کم) والے صوبہ ٹامبوف کی سوویت میں بالشویک دھڑا اکتوبر انقلاب سے کچھ ہی وقت قبل پہلی بار نمودار ہوا۔
معروضی ارتقا کی منطق ، عوامی سوچ کی منطق سے میل نہیں کھاتی۔ جب ایک بڑے عملی فیصلے کو ٹالنا ناممکن ہو جاتا ہے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ریفرنڈم بھی ناممکن ہوتا ہے۔ عوام کی مختلف پرتوں کی سطح اور مزاج کے فرق پر عمل کے ذریعے قابو پایا جاتا ہے۔ ہراول پرتیں اپنے پیچھے متذبذب پرتوں کو گھسیٹ لیتی ہیں اور مخالف پرتوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔ اکثریت کو گِنا نہیں بلکہ جیتا جاتا ہے۔ سرکشی عین اُسی وقت ہوتی ہے جب تضادات سے نکلنے کا واحد راستہ براہِ راست عمل ہی رہ جاتا ہے۔
زمینداروں کے خلاف اپنی جنگ سے ضروری سیاسی نتائج اخذ کرنے کی اہلیت کے فقدان کے باوجود کسانوں نے زرعی کشی کے ذریعے پہلے ہی شہروں کی سرکشی سے وابستگی اختیار کر لی تھی، اُسے ابھارا تھا اور اُس کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ اُنہوں نے اپنی منشا کا اظہار سفید بیلٹ کے ذریعے نہیں بلکہ سرخ بغاوت کے ذریعے کیا، جو ایک زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ریفرنڈم تھی۔ جن حدود میں کسانوں کی حمایت ایک سوویت آمریت کے قیام کے لئے درکار تھی، یہ حمایت پہلے ہی مل چکی تھی۔ لینن نے شک کرنے والوں کو جواب دیا، ’’[پرولتاریہ کی] آمریت کسانوں کو زمین اور تمام علاقوں میں کسان کمیٹیوں کو سارا اقتدار دے گی۔ کوئی ٹھیک دماغ والا انسان کیسے سوچ سکتا ہے کہ کسان اِس آمریت کی حمایت نہیں کرے گا؟‘‘ انتخابی بیلٹ کے برفانی طوفان میں بھٹکتے سپاہی، کسان اور محکوم قومیتیں عمل میں بالشویکوں کو پہچان پائیں، اِس کے لئے ضروری تھا کہ بالشویک اقتدار پر قبضہ کریں۔
لیکن پرولتاریہ کے اقتدار پر قبضے کے لئے طاقتوں کا کیسا توازن درکار تھا؟ لینن نے بعد ازاں اکتوبر انقلاب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا، ’’فیصلہ کن وقت اور فیصلہ کن مرحلے پر قوتوں کی زبردست برتری۔ عسکری کامیابی کا یہ قانون سیاسی کامیابی کا بھی قانون ہے، بالخصوص طبقات کی اُس تلخ اور ہیجان انگیز جنگ میں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔دارالحکومت یا بالعموم صنعت و تجارت کے بڑے مراکز ہی بڑی حد تک عوام کے سیاسی مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم اِس شرط پر کہ اِن مراکز کو دیہی قوتوں کی مناسب حمایت حاصل ہو، اگرچہ اِس حمایت کا فوری ہونا ضروری نہیں۔‘‘ لینن نے اِسی متحرک انداز سے عوام کی اکثریت کی بات کی تھی اور یہی ’اکثریت‘ کے تصور کا واحد حقیقی مطلب تھا۔
دشمن جمہوریت پسندوں نے اِس خیال سے خود کو تسلی دی بالشویکوں کی پیروی کرنے والے لوگ محض خام مال اور تاریخ کی چکنی مٹی تھے۔ کمہار تو اِنہی جمہوریت پسندوں کو ہونا تھا جو پڑھی لکھی بورژوازی کی معاونت سے سرگرم تھے۔ منشویک پرچے نے پوچھا، ’’کیا یہ لوگ دیکھ نہیں سکتے کہ پیٹروگراڈ کا گیریزن اور پرولتاریہ دوسری سماجی پرتوں سے پہلے کبھی اتنا کٹا ہوا نہیں تھا؟‘‘ گویا پرولتاریہ اور گیریزن کی بدبختی یہ تھی کہ وہ اُن طبقات سے ’’کٹے ہوئے‘‘ تھے جن سے وہ اقتدار چھیننا چاہتے تھے!
لیکن کیا صوبوں اور محاذ کے تاریک عوام [۳] کی ہمدردی اور حمایت پر انحصار کرنا واقعی ممکن تھا؟ سوخانوف نے حقارت آمیز انداز سے لکھا، ’’اُن کا بالشویزم مخلوط حکومت سے نفرت اور امن و زمین کی خواہش کے سوا کچھ نہ تھا۔‘‘ گویا یہ ناکافی تھا! مخلوط حکومت سے نفرت کا مطلب بورژوازی سے اقتدار چھیننے کی خواہش تھا۔ زمین اور امن کی خواہش ایک دیوہیکل پروگرام تھا جس پر کسان اور سپاہی، مزدوروں کے زیر قیادت عمل درآمد کرنا چاہتے تھے۔ [سوخانوف جیسے] انتہائی بائیں بازو کے جمہوریت پسندوں کی حقارت بھی اُن تاریک عوام پر ’’مہذب‘‘ شک پرستوں والے عدم اعتماد کا نتیجہ تھی جو تفصیلات اور باریکیوں میں پڑے بغیر کسی مظہر کو بحیثیت مجموعی سمجھتے ہیں۔ عوام کی طرف یہ دانشورانہ، مصنوعی شاہانہ اور وہمی قسم کا رویہ بالشویزم کے لئے بالکل بیگانہ اور اُس کی فطرت کے بالکل برعکس تھا۔ بالشویک عوام کے نازک مزاج قسم کے ادبی دوست اور کتاب پرست نہیں تھے۔ وہ اُن پسماندہ پرتوں سے خوفزدہ نہیں تھے جو پہلی بار خود کو غلاظت سے نکال رہی تھیں۔ بالشویک عوام کو ویسے ہی لیتے تھے جیسے ماضی کی تاریخ نے اُنہیں تخلیق کیا تھا اور جیسے انقلاب نے اُنہیں مخاطب کیا تھا۔ بالشویک عوام کی قیادت کو اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔ بالشویکوں کے سوا ’’ہر کوئی‘‘ سرکشی کے خلاف تھا۔ لیکن یہ بالشویک ہی تو عوام تھے!
اکتوبر انقلاب کی بنیادی طاقت پرولتاریہ تھا اور پرولتاریہ کی صفوں میں پہلی جگہ پیٹروگراڈ کے مزدوروں کے پاس تھی۔ اِن مزدوروں کا ہراول دستہ وائبورگ کا علاقہ تھا۔ سرکشی کے منصوبے میں اِس کلیدی پرولتاری علاقے کو حملے کے نقطہ آغاز کے طور پر منتخب کیا گیا۔
مارٹوف سے شروع ہو کر ہر طرح کے مصالحت پسندوں نے انقلاب کے بعد بالشویزم کو سپاہی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ یورپی سوشل ڈیموکریٹوں نے بڑی خوشی سے اِس نظرئیے کو تھام لیا۔ لیکن اِس معاملے میں بنیادی تاریخی حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا: یہ حقیقت کہ بالشویکوں کی طرف سب سے پہلے پرولتاریہ آیا تھا؛ کہ پیٹروگراڈ کے مزدور ساری دنیا کے مزدوروں کو راستہ دکھا رہے تھے؛ کہ مزدوروں کی نسبت گیریزن اور محاذ کافی لمبے عرصے تک مصالحت پسندی کے حمایتی رہے؛ کہ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں نے سوویت نظام میں مزدور کی قیمت پر سپاہی کو ہر طرح کی مراعات دیں، مزدوروں کو مسلح کرنے کی مخالفت کی اور سپاہیوں کو اُن کے خلاف بھڑکایا؛ کہ سپاہیوں میں تبدیلی صرف مزدوروں کے اثر کی وجہ سے پیدا ہوئی؛ کہ فیصلہ کن وقت پر سپاہیوں کی قیادت مزدوروں کے پاس تھی؛ اور آخر میں یہ کہ ایک سال بعد جرمنی کے سوشل ڈیموکریٹوں نے اپنے روسی ہم خیالوں کی پیروی کرتے ہوئے مزدوروں کے خلاف مزاحمت میں سپاہیوں پر انحصار کیا۔
موسم خزاں تک دائیں بازو کے مصالحت پسند تو فیکٹریوں اور بیرکوں میں تقریر کرنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔ لیکن بائیں بازو والے ابھی تک عوام کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سرکشی ایک پاگل پن کے مترادف تھی۔
مارٹوف، جو جولائی میں ردِ انقلابی حملے کے خلاف جدوجہد کے دوران عوام کی سوچ تک کا راستہ تلاش چکا تھا، اب ایک بار پھر ایک مایوس کن واردات میں مصروف تھا۔ اُس نے 14 اکتوبر کو مرکزی مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں خود تسلیم کیا،’’ہم بالشویکوں سے توقع نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری بات سنیں گے۔‘‘ تاہم ’’عوام کو خبردار کرنے‘‘ کو اُس نے اپنی ذمہ داری سمجھا۔ تاہم عوام اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ عمل چاہتے تھے۔ سوخانوف بتاتا ہے کہ کیسے ایک مرتبہ برستی بارش میں اُس نے پیوٹیلوف کے مزدوروں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ سرکشی کے بغیر بھی معاملات کو درست کر سکتے تھے۔ بے چین آوازوں نے اُسے ٹوک دیا۔ وہ دو یا تین منٹ بات سنتے تھے اور پھر سے ٹوک دیتے تھے۔ ’’کچھ مزید کوشش کے بعد میں نے ہار مان لی۔ کوئی فائدہ نہیں تھا… اور بارش تیز ہوتی جا رہی تھی۔‘‘ اپنے الفاظ کے مطابق بھی یہ بیچارے بائیں بازو کے جمہوریت پسند اکتوبر کے بے چین آسمان تلے بھیگی بلیاں بنے ہوئے تھے۔
کئی بالشویکوں سمیت انقلاب کے ’’بائیں بازو‘‘کے مخالفین کی پسندیدہ دلیل یہ تھی کہ نچلی صفوں میں لڑائی کا جوش و جذبہ موجود نہیں ہے۔ زینوویف اور کامینیف نے 11 اکتوبر کو لکھا، ’’اِس وقت محنت کش اور سپاہی عوام کے مزاج کا موازنہ اُس مزاج سے بھی نہیں کیا جا سکتا جو 3 جولائی سے پہلے موجود تھا۔‘‘ یہ دعویٰ بے بنیاد بھی نہیں تھا: بہت زیادہ انتظار کی وجہ سے پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ میں کچھ مایوسی موجود تھی۔ وہ بالشویکوں سے مایوس ہونے لگے تھے: کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بھی ہمیں دھوکہ دے دیں گے؟ 16 اکتوبر کو پیٹروگراڈ کے ایک لڑاکا بالشویک راخیا نے مرکزی کمیٹی کے ایک اجلاس میں کہا: ’’ہمارا نعرہ متروک ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا ہم وہ کام کریں گے جس کی دعوت دے رہے ہیں۔‘‘ لیکن انتظار کی یہ تھکاوٹ، جو غنودگی جیسی تھی، لڑائی کے پہلے اشارے تک ہی قائم رہی۔
ہر سرکشی کا پہلا کام دستوں کو اپنی طرف لانا ہوتا ہے۔ عام ہڑتال، عوامی مظاہرے، سڑکوں پر تصادم اور مورچوں پر لڑائیاں اِس کام کو انجام دینے کے کلیدی ذرائع ہوتے ہیں۔ اکتوبر انقلاب کی انوکھی بات، جو پہلے کبھی اتنی مکمل شکل میں نہیں دیکھی گئی تھی، یہ تھی کہ حالات کے موافق امتزاج کی بدولت پرولتاری ہراول دستے نے کھلی سرکشی سے قبل ہی دارالحکومت کے گیریزن کو جیت لیا تھا۔ نہ صرف جیت لیا تھا بلکہ اِس جیت کوگیریزن کی مجلس مشاورت تشکیل دے کر مستحکم بھی کر لیا تھا۔ اِس چیز کو مکمل طور پر سمجھے بغیر اکتوبر انقلاب کی حرکیات کو سمجھنا ناممکن ہے کہ سرکشی کا سب سے اہم کام، جس کا حساب کتاب پہلے سے لگانا انتہائی مشکل تھا، مسلح جدوجہد کے آغاز سے پہلے ہی پیٹروگراڈ میں مکمل ہو چکا تھا۔
تاہم اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرکشی غیرضروری ہو چکی تھی۔ یہ درست ہے کہ گیریزن کی وسیع اکثریت مزدوروں کے ساتھ تھی۔ لیکن ایک اقلیت مزدوروں، انقلاب اور بالشویکوں کے خلاف بھی تھی۔ یہ چھوٹی سی اقلیت فوج کے سب سے زیادہ تربیت یافتہ عناصر پر مشتمل تھی: افسران، جنکر، یلغاری بٹالینیں اور شاید کاسک بھی۔ اِن عناصر کو سیاسی طور پر جیتنا ناممکن تھا؛ اِنہیں ایک لڑائی میں ہی مغلوب کیا جا سکتا تھا۔ اِس لئے انقلاب کے کام کا آخری حصہ، جو تاریخ میں اکتوبر کی سرکشی کے نام سے درج ہوا ہے، خالصتاً عسکری کردار کا حامل تھا۔ اِس آخری مرحلے میں فیصلہ رائفلوں، سنگینوں، مشین گنوں اور شاید توپوں سے ہونا تھا۔ اِس راستے کی رہنما بالشویک پارٹی تھی۔
اِس قریب آتے ہوئے تصادم کی عسکری قوتیں کون سی تھیں؟ بورس سوکولوف، جو سوشل انقلابی پارٹی کا عسکری کام سنبھالتا تھا، کہتا ہے کہ سرکشی سے پہلے کے عرصے میں ’’رجمنٹوں میں بالشویکوں کے سوا تمام پارٹی تنظیمیں ٹوٹ کر بکھر چکی تھیں… سپاہیوں کا مزاج واضح طور پر بالشویکوں کی طرف مائل تھا۔ لیکن اُن کا بالشویزم مجہول تھا اور وہ مسلح تحریکوں کی طرف مائل نہیں تھے۔‘‘ سوکولوف مزید بتانا نہیں بھولتا: ’’سارے گیریزن کو قابو کرنے کے لئے پوری طرح لڑنے والی ایک یا دو رجمنٹیں ہی کافی ہوتیں۔‘‘ ویسے شاہ پرست جرنیلوں سے لے کر ’’سوشلزم کی طرف مائل‘‘ دانشوروں تک، سب کے سب اِن ’’ایک یا دو رجمنٹوں‘‘ کی ہی تلاش میں تھے، جو مل جاتیں تو انہوں نے پرولتاری انقلاب کو کچل دینا تھا! تاہم یہ کافی حد تک درست ہے کہ اپنی وسیع اکثریت میں حکومت کے سخت مخالف ہونے کے باوجود یہ گیریزن بالشویکوں کی طرف سے بھی لڑنے کے قابل نہیں تھا۔ اِس کی وجہ دستوں کے پرانے عسکری ڈھانچے اور نئے سیاسی ڈھانچے کا تضاد تھا۔ ایک لڑاکا یونٹ کی ریڑھ کی ہڈی اُس کی کمان کرنے والے افسران ہوتے ہیں۔ یہ افسران ہی بالشویکوں کے خلاف تھے۔ یونٹوں-08 کی سیاسی ریڑھ کی ہڈی بالشویک تھے۔ لیکن اُنہیں نہ صرف یہ کہ کمان کرنا نہیں آتی تھی بلکہ اکثر اوقات تو بندوق چلانی بھی نہیں آتی تھی۔ سپاہی ہجوم یکساں نہیں تھا۔ ہمیشہ کی طرح متحرک لڑاکا عناصر اقلیت میں تھے۔ سپاہیوں کی اکثریت بالشویکوں کی ہمدرد تھی، اُنہیں ووٹ دیتی تھی، منتخب کرتی تھی، لیکن اُن سے فیصلوں کی توقع بھی رکھتی تھی۔ بالشویکوں کے مخالف عناصر اِتنے کمزور تھے کہ کسی کاروائی کی جرات نہیں کر سکتے تھے۔ یوں گیریزن کے سیاسی حالات ایک سرکشی کے لئے انتہائی موافق تھے۔ لیکن اُس کا لڑاکا وزن زیادہ نہیں تھا، یہ شروع سے ہی واضح تھا۔
تاہم گیریزن کو عسکری شمار سے بالکل خارج کرنا ضروری نہیں تھا۔ انقلاب کی طرف سے لڑنے کو تیار ہزاروں سپاہی اِدھر اُدھرنسبتاً مجہول ہجوم میں بکھرے ہوئے تھے اور اُسے اپنے پیچھے گھسیٹ رہے تھے۔ کئی انفرادی یونٹوں نے اپنا ڈسپلن اور لڑاکا صلاحیت بھی برقرار رکھی ہوئی تھی۔ ٹوٹ پھوٹ سے دوچار رجمنٹوں میں بھی مضبوط انقلابی مرکزے موجود تھے۔ پانچ کمپنیوں کے دس ہزار آدمیوں پر مشتمل چھٹی ریزرو بٹالین انقلاب کے آغاز سے بالشویک گردانی جاتی تھی۔ گیریزن کی علامتی رجمنٹیں، رجمنٹوں کے طور پر موجود ہی نہیں تھیں؛ اُن کا انتظامی نظام ٹوٹ چکا تھا؛ وہ کسی طویل عسکری کاروائی کے قابل نہیں تھیں؛ تاہم وہ مسلح آدمیوں کے ایسے ہجوم ضرور تھیں جن کی اکثریت کے پاس جنگ کا تجربہ تھا۔ تمام یونٹوں کو ایک احساس نے یکجا کر رکھا تھا: جتنا جلدی ہو سکے کیرنسکی کو فارغ کرو، منتشر ہو جاؤ، گھروں کو جاؤ اور ایک نئے زمینی نظام کا آغاز کرو۔ یوں ایک بالکل بد دل گیریزن کو بھی بالکل منتشر ہو جانے سے پہلے اکتوبر کے دنوں میں ایک بار پھر مجتمع ہونا تھا اور فیصلہ کن انداز سے اپنے ہتھیار کڑکڑانے تھے ۔
عسکری نقطہ نظر سے پیٹروگراڈ کے مزدوروں کے پاس کیا طاقت تھی؟ یہ سرخ محافظوں (Red Guards) کا سوال ہے۔ اِس پر تفصیل سے بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ سرخ محافظوں نے جلد ہی تاریخ کے عظیم میدان میں اترنا ہے۔
1905 ء سے اپنی روایات اخذ کرتے ہوئے مزدور ملیشیا، فروری انقلاب کے ساتھ ہی دوبارہ پیدا ہو گئی تھی اور بعد کے عرصے میں انقلاب کے ساتھ ہی نشیب و فراز سے گزری۔ کورنیلوف جب پیٹروگراڈ کی فوج کا کمانڈر تھا تو اُس نے دعویٰ کیا تھا کہ بادشاہت کے دھڑن تختے کے دنوں میں فوجی گوداموں سے 30 ہزار ریوالور اور 40 ہزار رائفلیں غائب ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد پولیس کو غیر مسلح کرنے کے دوران اور دوست رجمنٹوں کے ذریعے عوام کے ہاتھ لگی تھی۔ کسی نے بھی ہتھیار واپس کرنے کے مطالبے پر کان نہیں دھرے تھے۔ ایک انقلاب رائفل کی قدر کرنا سکھاتا ہے۔ تاہم اِس تبرک کا چھوٹا سا حصہ ہی منظم مزدوروں کے ہاتھ لگا تھا۔
پہلے چار مہینوں کے دوران تو مزدوروں کا سامنا سرکشی کے سوال سے نہیں ہوا۔ دوہرے اقتدار کے جمہوری نظام حکومت نے بالشویکوں کو سوویتوں کی اکثریت جیتنے کا موقع دیا۔ ملیشیا کا اہم حصہ مزدوروں کی مسلح کمپنیوں پر مشتمل تھا۔ تاہم یہ ابھی تک اساس سے زیادہ ظاہریت تھی۔ ایک ہی رائفل اگر ایک طالب علم کی بجائے مزدور کے ہاتھ میں ہو تو بالکل مختلف تاریخی اصول کی حامل ہو جاتی ہے۔
مزدوروں کے پاس رائفلوں کی موجودگی نے ملکیتی طبقات کو شروع سے ہی تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، کیونکہ اِس سے طاقتوں کا توازن تیزی سے فیکٹری کے حق میں تبدیل ہو گیا تھا۔ پیٹروگراڈ میں مرکزی مجلس عاملہ کی مدد سے چلنے والی ریاستی مشینری پہلے پہل ایک مسلمہ طاقت تھی، لہٰذا مزدور ملیشیا کوئی بڑا خطرہ نہ تھی۔ تاہم صوبائی صنعتی علاقوں میں مزدور ملیشیا کی تقویت کا مطلب نہ صرف فیکٹری میں بلکہ ارد گرد ہر طرف تمام رشتوں کی مکمل تبدیلی تھا۔ مسلح مزدور منیجروں اور انجینئروں کو ہٹا دیتے تھے، حتیٰ کی گرفتار بھی کر لیتے تھے۔ فیکٹری اجلاسوں کے فیصلوں کے مطابق سرخ محافظوں کو اکثر فیکٹری کے خزانے میں سے تنخواہ بھی دی جاتی تھی۔ یورال کے علاقے 1905ء میں چھاپہ مار لڑائی کی متمول روایات کے امین تھے۔ وہاں سرخ محافظوں کی کمپنیوں نے تجربہ کار جنگجوؤں کے زیر قیادت نظم و نسق قائم کیا۔ مسلح مزدوروں نے تقریباً غیرمحسوس انداز میں پرانی حکومت کو تحلیل کر کے اُسے سوویت اداروں سے تبدیل کر دیا۔ مالکان اور انتظامیہ کے سبوتاژ نے پلانٹوں، مشینوں، گوداموں اور کوئلے اور خام مال کے ذخیروں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مزدوروں پر عائد کر دی۔ کردار بدل چکے تھے۔ مزدور اپنی فیکٹری، جسے وہ اپنی طاقت کا ماخذ گردانتا تھا، کے دفاع میں اپنی رائفل مضبوطی سے تھامتا تھا۔ یوں بحیثیت مجموعی پرولتاریہ کے ریاستی اقتدار پر قبضے سے پہلے ہی فیکٹریوں اور علاقوں میں مزدور آمریت کے عناصر نمودار ہو چکے تھے۔
ہمیشہ کی طرح مالکان کے خوف کی غمازی کرتے ہوئے مصالحت پسندوں نے پیٹروگراڈ کے مزدوروں کو مسلح کرنے کی بھرپور مخالفت کی۔ منی چیف کے مطابق ناروا کے علاقے میں مزدوروں کے پاس موجود تمام ہتھیار ’’پندرہ یا بیس رائفلوں اور چند ایک پستولوں‘‘ پر مشتمل تھے۔ عین اسی وقت دارالحکومت میں ڈاکوں اور تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ جولائی کے مظاہرے سے قبل ہر طرف توقع کی جا رہی تھی کہ شہر کو آگ لگ جائے گی۔ مزدور تمام دروازوں پر دستک دے کر اور بعض اوقات اُنہیں توڑ کر ہتھیار ڈھونڈ رہے تھے۔
پیوٹیلوف کے مزدور 3 جولائی کے مظاہرے سے مال غنیمت لوٹ لائے: ایک مشین گن، جس کے ساتھ گولیوں کے پانچ پٹے تھے۔ منی چیف کہتا ہے کہ ’’ہم بچوں کی طرح خوش تھے۔‘‘ کچھ فیکٹریاں زیادہ بہتر طور پر مسلح تھیں۔
لچکوف کے مطابق اُس کی فیکٹری کے مزدوروں کے پاس 80 رائفلیں اور 20 بڑے ریوالور تھے۔ بڑا مال تھا! سرخ محافظوں کے صدر دفتر کے ذریعے اُنہیں دو مشین گنیں بھی مل گئیں۔ اُنہوں نے ایک کو کھانے کے کمرے اور دوسری کو چوبارے پر نصب کر دیا۔ لچکوف بتایا ہے، ’’ہمارا کمانڈر کوچیرووسکی تھا اور اُس کے نائبین ٹامچاک اور ایفی موف تھے۔ ٹامچاک کو ردِ انقلابی سفید محافظوں نے اکتوبر کے دنوں میں زارسکوئی سیلو کے پاس قتل کر دیا اور ایفی موف کو سفید گروہوں نے ہیمبرگ کے قریب گولی مار دی۔‘‘یہ مختصر الفاظ ہمیں اُس فیکٹری تجربہ گاہ میں جھانکنے کے قابل بناتے ہیں جہاں اکتوبر انقلاب کے کیڈر اور مستقبل کی سرخ فوج تخلیق ہو رہی تھی، جہاں ٹامچاک اور ایفی موف جیسے انقلابی چنے جا رہے تھے، پختہ ہو رہے تھے ، کمان کرنا سیکھا رہے تھے اور اُن کے ساتھ لاکھوں گمنام مزدور بھی، جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا، جانثاری سے اُس کا دفاع کیا اور لڑائی کے تمام میدانوں میں اپنی جانیں دیں۔
جولائی کے دنوں نے سرخ محافظوں کی صورتحال میں اچانک تبدیلی پیدا کی۔ مزدوروں کو اب سرعام غیر مسلح کیا جانے لگا تھا، نصیحت کے ذریعے نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے۔ تاہم مزدوروں نے جو کچھ ہتھیاروں کے نام پر حوالے کیا وہ زیادہ تر پرانا کاڑ کباڑ ہی تھا۔ سارے قیمتی ہتھیار بڑی احتیاط سے چھپا لئے گئے۔ رائفلیں پارٹی کے سب سے قابل اعتماد اراکین میں تقسیم کر دی گئیں۔ مشین گنوں کو چربی کی چکنائی سے لیس کر کے زمین میں دفن کر دیا گیا۔ بالشویکوں سے وابستہ سرخ محافظوں کے دستے اپنا کام بند کر کے روپوش ہو گئے۔
مزدوروں کو مسلح کرنے کا کام پارٹی کی فیکٹری اور علاقہ کمیٹیوں کو سونپا گیا تھا۔ جولائی کے دنوں سے بحالی کے بعد ہی بالشویکوں کی فوجی تنظیم، جو پہلے صرف گیریزن اور محاذ پر سرگرم تھی، نے سرخ محافظوں کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا اور مزدوروں کو عسکری استاد اور بعض صورتوں میں ہتھیار بھی فراہم کئے۔ پارٹی کی جانب سے پیش کئے جانے والے مسلح سرکشی کے تناظر نے ہراول مزدوروں کو سرخ محافظوں کی نئی کارگزاری کے لئے بتدریج تیار کیا۔ یہ اب فیکٹریوں اور مزدور علاقوں کی ملیشیا نہیں تھی، بلکہ سرکشی کی فوج کے کیڈر تھے۔
اگست کے دوران کارخانوں اور فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات بڑھ گئے۔ فیکٹریوں اور کارخانہ کمیٹیوں نے پلانٹوں کو اِس طرح کے حملوں سے بچانے کے سخت کام کا آغاز کیا۔ چھپائی ہوئی رائفلیں اب منظر عام پر آ گئی۔ کورنیلوف کی سرکشی نے سرخ محافظوں کو فیصلہ کن طور پر قانونی بنا دیا۔ تقریباً 25 ہزار مزدوروں کو کمپنیوں میں شامل کیا گیا اور رائفلوں اور جزوی طور پر مشین گنوں سے مسلح کیا گیا۔بارود بنانے والی شلسلبرگ فیکٹری کے مزدوروں نے ’’کورنیلوف کے خلاف‘‘ دریائے نیوا پر کشتی بھر دستی بم بھیجے۔ مصالحت پسند مرکزی مجلس عاملہ نے یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وائبورگ کے علاقے کے سرخ محافظوں نے راتوں رات یہ سارا تحفہ پورے علاقے میں تقسیم کر دیا۔
مزدور سکورنکو کہتا ہے، ’’رائفل چلانے کی تربیت، جو پہلے فلیٹوں اور مکانوں میں دی جاتی تھی، اب سرعام پارکوں اور سڑکوں پر دی جانے لگی تھی۔‘‘ ایک اور مزدور راکیٹوف کہتا ہے، ’’کارخانے کیمپوں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ مزدور اپنے کام کی جگہ پر فوجی تھیلا باندھ کر اور رائفل ساتھ رکھ کر کھڑا ہوتا تھا۔‘‘ سیٹی بجنے کے بعد سب کے سب مشق کے لئے فیکٹری کے صحن میں جمع ہو جاتے تھے۔’’داڑھی والے مزدور کے شانہ بشانہ نوجوان شاگرد بھی نظر آتا تھا، دونوں پوری توجہ سے استاد کی بات سنتے تھے… ‘‘ یوں جس وقت زارشاہی فوج ٹوٹ کر بکھر رہی تھی، فیکٹریوں میں مستقبل کی سرخ فوج کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔
جوں ہی کورنیلوف کا خطرہ ٹلا، مصالحت پسند اپنے وعدوں کی پاسداری میں سستی کرنے لگے۔ مثلاً پیوٹیلوف کے 30 ہزار مزدوروں کو صرف 500 رائفلیں دی گئیں۔ جلد ہی ہتھیار دینے کا عمل بالکل رُک گیا۔ مصالحت پسندوں کو اب خطرہ دائیں نہیں بلکہ بائیں جانب سے تھا، حفاظت کے لئے اب پرولتاریوں سے نہیں بلکہ کیڈٹوں سے التجا کرنا ضروری تھا۔
فوری عملی منصوبوں کے فقدان اور ہتھیاروں کی قلت کی وجہ سے مزدور، سرخ محافظوں سے دور ہٹنے لگے۔ لیکن ایسا صرف مختصر وقت کے لئے ہی تھا۔ ہر پلانٹ میں کیڈروں کی ٹھوس بنیاد رکھی جا چکی تھی؛ مختلف کمپنیوں کے درمیان مضبوط روابط استوار ہو چکے تھے۔ اِن تجربہ کار کیڈروں کو معلوم تھا کہ اُن کے پاس سنجیدہ کمک موجود تھی، جسے خطرے کے وقت اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا تھا۔
سوویت کے بالشویکوں کے ہاتھ آ جانے سے سرخ محافظ ملیشیا کی کیفیت میں ایک بار پھر گہری تبدیلی آئی۔ یہ اب اقتدار کی متلاشی سوویت کا باقاعدہ اوزار بن گئی۔ مزدور اب خود سے ہی ہتھیاروں تک رسائی تلاش کر لیتے تھے اور سوویت سے صرف اجازت طلب کرتے تھے۔ ستمبر کے اواخر اور بالخصوص 10 اکتوبر کے بعد سے سرکشی کی تیاری کو سرعام فوری ایجنڈے پر رکھ دیا گیا تھا۔ انقلاب سے ایک مہینہ پہلے تک پیٹروگراڈ کے بے شمار کارخانوں اور فیکٹریوں میں شدید عسکری سرگرمی، بالخصوص رائفل چلانے کی مشق جاری تھی۔اکتوبر کے وسط تک ہتھیاروں میں دلچسپی نئی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی۔ کئی فیکٹریوں میں تو ہر کسی کا نام کمپنی میں درج کر لیا گیا تھا۔
مزدور اب زیادہ سے زیادہ بے قراری سے سوویت سے ہتھیاروں کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ہتھیار اپنے لئے بڑھنے والے ہاتھوں کی نسبت بہت کم تھے۔ انجینئر کوزمن بتاتا ہے، ’’میں ہر روز سمولنی جاتا تھا اور دیکھتا تھا کہ کیسے سوویت کے اجلاس سے پہلے اور بعد میں بھی مزدور اور جہازی ٹراٹسکی کے پاس آتے تھے، مزدوروں کو مسلح کرنے کے لئے ہتھیاروں کی پیش کش یا مطالبہ کرتے تھے، رپورٹ دیتے تھے کہ یہ ہتھیار کہاں اور کیسے تقسیم کئے جائیں گے اور پوچھتے تھے: ’کاروائی آخر شروع کب ہو گی؟‘ بے قراری انتہاؤں پر تھی۔‘‘
پہلے پہل سرخ محافظ کسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھے۔ لیکن جوں جوں وقت قریب آتا گیا، بالشویکوں کا اثرورسوخ بڑھتا گیا۔ وہ ہر کمپنی کا مرکزہ تشکیل دیتے تھے؛ کمان کرنے والوں اور دوسرے پلانٹوں اور علاقوں سے روابط کو کنٹرول کر تے تھے۔ کسی پارٹی سے غیروابستہ مزدور اور بائیں بازو کے سوشل انقلابی بھی بالشویکوں کی پیروی کر رہے تھے۔
تاہم سرکشی سے بالکل قبل بھی سرخ محافظوں کی صفیں بہت وسیع نہیں تھیں۔ 16 تاریخ کو بالشویک مرکزی کمیٹی کے رکن یرٹسکی نے پیٹروگراڈ کی مزدور فوج کا تخمینہ 40 ہزار رائفلیں لگایا۔ یہ شمار بھی شاید مبالغہ آمیز تھا۔ ہتھیاروں کے ذخائر ابھی تک بہت محدود تھے۔ حکومت کے خصی پن کے باوجود بھی کھلی سرکشی کے بغیر اسلحے کے گوداموں پر قبضہ ناممکن تھا۔
22 تاریخ کو سرخ محافظوں کا کُل شہری اجلاس ہوا، جس کے 100 مندوبین تقریباً بیس ہزار جنگجوؤں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اِس شمار کو بالکل حقیقی نہیں سمجھا جا سکتا: اجلا س میں شریک ہر کوئی فعال نہیں تھا۔ تاہم نازک مرحلے پر بڑی تعداد میں رضاکار، کمپنیوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ اگلے دن اجلاس کی جانب سے منظور کئے جانے والے ضابطوں نے سرخ محافظ ملیشیا کو ’’ ردِ انقلاب کے خلاف جدوجہد اور انقلاب کی حاصلات کے دفاع کے لئے پرولتاریہ کی مسلح قوتوں کی تنظیم‘‘ قرار دیا۔ غور کریں: سرکشی سے چوبیس گھنٹے پہلے بھی کاروائی کو جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی انداز میں پیش کیا جا رہا تھا۔
دس لوگوں کا ایک بنیادی لڑاکا یونٹ تھا؛ چار یونٹوں کا ایک سکواڈ؛ تین سکواڈوں کی ایک کمپنی؛ تین کمپنیوں کی ایک بٹالین ۔ کمان کرنے والے افسروں اور خصوصی یونٹوں سمیت ایک بٹالین میں 500 سے زیادہ آدمی تھے۔ ایک ڈویژن ایک پورے علاقے کی بٹالینوں پر مشتمل تھا۔ پیوٹیلوف جیسی فیکٹریوں کے اپنے ڈویژن تھے۔ مورچہ بندی کرنے والوں، سائیکل والوں، ٹیلی گراف والوں ، مشین گن والوں اور توپخانے والوں کے خصوصی تکنیکی دستے متعلقہ فیکٹریوں سے بھرتی کئے گئے تھے اور رائفل برداروں سے منسلک تھے یا دئیے گئے کام کی نوعیت کے مطابق آزادانہ کاروائی کرتے تھے۔ سارے افسران منتخب شدہ تھے۔ اِس میں کوئی خطرہ نہیں تھا: سب لوگ رضاکار تھے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔
محنت کش خواتین نے ریڈ کراس ڈویژن قائم کئے۔ فوج کے لئے جراحی کا سامان بنانے والے کارخانوں میں زخمیوں کی نگہداشت پر خصوصی لیکچر دئیے گئے۔ تاتانیا گراف لکھتی ہے، ’’تقریباً تمام فیکٹریوں میں محنت کش خواتین پہلے ہی ابتدائی طبی امداد کے ضروری سامان کے ساتھ نرسوں کے فرائض ادا کر رہی تھیں۔‘‘ پیسے اور تکنیکی سامان کا انتظام انتہائی کمزور تھا۔ تاہم ہنگامی ہسپتالوں اور ایمبولینسوں کے لئے فیکٹری کمیٹیاں بتدریج سامان بھیج رہی تھیں۔ سرکشی کے دوران یہ کمزور مرکزے تیزی سے نمو پانے لگے۔ 24 تاریخ کو وائبورگ علاقے کی سوویت نے یہ حکم جاری کیا، ’’تمام موٹر گاڑیوں کو فوراً استعمال میں لایا جائے… ابتدائی طبی امداد کے سامان کی فہرست تیار کی جائے اور تمام کلینکوں میں نرسوں کو ڈیوٹی پر بلایا جائے۔‘‘
گولی چلانے کی مشق کرنے والے کسی پارٹی سے غیروابستہ مزدوروں کی تعداد اب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چوکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریوں میں سنتری ہر وقت ڈیوٹی پر ہیں۔ سرخ محافظوں کا صدر دفتر زیادہ کھلے کمروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ 23 تاریخ کو ایک پائپ فونڈری میں سرخ محافظوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ سرکشی کے خلاف ایک منشویک کی تقریر کی کوشش غضبناک طوفان میں ڈوب جاتی ہے: بہت ہو گیا، بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ تحریک ناقابل مزاحمت ہے۔ یہ منشویکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ تاتانیا گراف کہتی ہے، ’’وہ سرخ محافظوں میں شامل ہو رہے تھے، تمام فرائض کی ادائیگی میں حصہ لے رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ پیش قدمی بھی کر رہے تھے۔‘‘ سکورنکو بتاتا ہے کہ کیسے 23 تاریخ کو سوشل انقلابی اور منشویک، بوڑھے اور جوان ، سب بالشویکوں سے مل رہے تھے اور کیسے خود سکورنکو نے خوشی سے اپنے باپ کو گلے لگایا، جو اسی فیکٹری میں ایک مزدور تھا۔ مزدور پیسکووی کہتا ہے کہ اُس کے مسلح دستے میں ’’سولہ سال کے نوجوان مزدور اور پچاس سال کے بوڑھے آدمی تھے۔‘‘ عمروں کے فرق نے ’’خوشی اور لڑنے کی جرات دی۔‘‘
وائبورگ والی طرف لڑائی کی تیاری خصوصی سرگرمی سے جاری تھی۔ متحرک پلوں کی چابیاں چوری، علاقے کے غیرمحفوظ مقامات کا معائنہ اور اپنی عسکری انقلابی کمیٹی منتخب کر کے فیکٹری کمیٹیوں نے مسلسل گشت کرنے والے دستے قائم کر دئیے تھے۔ وائبورگ والوں کے بارے میں خصوصی فخر سے کائیوروف لکھتا ہے: ’’وہ بادشاہت کے خلاف سب سے پہلے لڑے، اُنہوں نے اپنے علاقے میں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار سب سے پہلے متعارف کروائے، اُنہوں نے دس سرمایہ دار وزیروں کے خلاف سب سے پہلے احتجاج کیا، اپنی پارٹی پر جبر کے خلاف 7 جولائی کو سب سے پہلے احتجاج کیا اور 25 اکتوبر کے فیصلہ کن دن بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے۔‘‘ اِس سچ کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
سرخ محافظوں کی تاریخ بڑی حد تک دوہرے اقتدار کی تاریخ ہے۔ اپنے داخلی تضادات اور تنازعات سے دوہرے اقتدار نے سرکشی سے پہلے ہی مزدوروں کو ایک معقول مسلح قوت تخلیق کرنے کے قابل بنایا۔ سرکشی کے وقت پورے ملک میں مزدور دستوں کا شمار کم از کم فی الوقت ممکن نہیں ہے۔ تاہم سرکشی میں شامل متحرک مزدوروں کی تعداد دسیوں ہزار تھی۔ ریزرو دستے کم و بیش لامتناہی تھے۔
تاہم سرخ محافظوں کی تنظیم، تکمیل سے بہت دور تھی۔ سب کچھ جلد اور نامکمل انداز سے کیا جا رہا تھا۔ سرخ محافظوں کی اکثریت کم تربیت یافتہ تھی؛ مواصلات کا نظام ٹھیک سے منظم نہیں تھا؛ رسد کا نظام اپاہج تھا؛ میڈیکل کور پسماندہ تھی۔ لیکن انتہائی جانثار مزدوروں میں سے بھرتی کئے گئے سرخ محافظ اب کی بار کام کو انجام تک پہچانے کے لئے بے چین تھے۔ یہی فیصلہ کن چیز تھی۔
مزدور ڈویژن اور کسان رجمنٹیں صرف سماجی ترکیب کے لحاظ سے مختلف نہیں تھے۔ سماجی فرق کے علاوہ ایک فوری فرق بھی تھا: گیریزن جنگ کے خلاف اپنا دفاع کرنے والے پرانے سپاہیوں کے لازمی اجتماع پر مشتمل تھا، لیکن سرخ محافظوں کے ڈویژنوں کی تعمیر نئے مقاصد کے تحت اور نئی بنیاد پر انفرادی انتخاب کے ذریعے ہوئی تھی۔
عسکری انقلابی کمیٹی کے پاس ایک تیسری قسم کی مسلح قوت بھی تھی: بالٹک کے بحری بیڑے کے جہازی۔ وہ اپنے سماجی اجزا کے لحاظ سے پیادہ فوج کی نسبت مزدوروں سے بہت قریب تھے۔ اُن میں پیٹروگراڈ کے بہت سے مزدور بھی تھے۔ جہازیوں کا سیاسی معیار سپاہیوں سے کہیں زیاد ہ بلند تھا۔ ریزو دستوں کے برعکس یہ جہازی مسلسل میدان جنگ میں رہے تھے۔
فعال کاروائیوں کے لئے مسلح بالشویکوں، سرخ محافظوں کے ڈویژنوں، جہازیوں کے ہراول گروہ اور انحطاط سے بچ جانے والی رجمنٹوں پر انحصار کیا جا سکتا تھا۔ اِس اجتماعی فوج کے مختلف عناصر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ کثرالتعداد گیریزن میں لڑنے کے عزم کا فقدان تھا۔ جہازی دستوں میں افراد کی کمی تھی۔ سرخ محافظوں میں مہارت کی کمی تھی۔ جہازیوں کے ساتھ مل کر مزدور توانائی، جرات اور جذبہ مہیا کر رہے تھے۔ گیریزن کی رجمنٹیں ایک طرح کا بے عمل ذخیرہ تھیں، جس کی تعداد رعب دار اور کمیت زبردست تھی۔
مزدوروں، سپاہیوں اور جہازیوں سے مسلسل رابطے میں رہنے کی وجہ سے بالشویک اِس فوج کے اجزائے ترکیبی کے درمیان گہرے معیاری فرق سے بخوبی واقف تھے جس کی قیادت اُنہوں نے جنگ میں کرنا تھی۔ سرکشی کا منصوبہ بڑی حد تک اِسی فرق کے تخمینے پر مبنی تھا۔
مخالف کیمپ کی سماجی قوت ملکیتی طبقات پر مشتمل تھی۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ اُس کی عسکری کمزوری تھے۔ دارالحکومت کے یہ موٹے لوگ آج تک بھلا کب اور کہاں لڑے تھے؟ وہ تو اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے والی لڑائیوں کے نتائج ٹیلی فون اور ٹیلی گراف سے معلوم کرنے کے عادی تھے۔ اُن کی نوجوان نسل؟ صاحبزادے، طلبہ؟ وہ تقریباً سارے ہی اکتوبر انقلاب کے خلاف تھے [۴] ۔ تاہم اُن کی اکثریت ایک طرف کھڑی رہی۔ وہ اپنے باپوں کی طرح لڑائی کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔ اُن کا ایک حصہ بعد ازاں افسروں اور جنکروں کے ساتھ مل گیا، جو پہلے ہی زیادہ تر طلبہ میں سے بھرتی کئے جاتے تھے۔ جائیداد مالکان کے ساتھ کوئی عوام نہیں تھے۔ مزدور، سپاہی اور کسان اُن کے خلاف ہو چکے تھے۔ مصالحت پسند پارٹیوں کے انہدام کا مطلب تھا کہ ملکیتی طبقات کے پاس اب کوئی فوج نہیں تھی۔
جدید ریاستوں میں ریلوے کی اہمیت کے مطابق دونوں کیمپوں کے سیاسی حساب کتاب میں اہم مقام ریلوے مزدوروں کے سوال کو حاصل تھا۔ یہاں عملے کی درجہ وار ترکیب نے غیرمعمولی سیاسی تنوع کی گنجائش پیدا کر دی تھی اور یوں مصالحت پسندوں کے سفارتکاروں کے لئے موافق حالات پیدا کر دئیے تھے۔ کچھ ہی عرصہ قبل قائم ہونے والی ریلوے یونین کی مرکزی کمیٹی وکزھل کی جڑیں کلرکوں اور مزدوروں میں بھی نسبتاً مضبوط تھیں۔ ریلوے میں ایک اقلیت ہی بالشویکوں کی پیروی کر رہی تھی، جو زیادہ تر سٹیشنوں اور ریلوے کارخانوں کے مزدور تھے۔ ٹریڈ یونین تحریک کے بالشویک رہنما شمت کے مطابق ماسکو اور پیٹروگراڈ جنکشنوں کے مزدور باقیوں کی نسبت پارٹی کے زیادہ قریب تھے۔
تاہم مصالحت پسند کلرکوں اور مزدوروں میں ستمبر کے آخر کی ریلوے ہڑتال کے بعد سے بائیں طرف گہرا جھکاؤ موجود تھا۔ نچلی صفوں میں وکزھل، جس نے باتوں اور تذبذب سے اپنی ساکھ کو مجروح کر لیا تھا، سے عدم اطمینان زیادہ واضح تھا۔ لینن نے تبصرہ کیا: ’’ریلوے اور ڈاک کے کلرکوں کی فوج، حکومت کے ساتھ بدستور گہرے تصادم کی حالت میں ہے۔‘‘ سرکشی کے فوری فرائض کے نقطہ نظر سے یہ تقریباً کافی تھا۔
ڈاک اور ٹیلی گراف کے محکموں میں حالات اِس سے کم موافق تھے۔بالشویک بوکی کے مطابق ’’ڈاک اور ٹیلی گراف کے دفتروں والے زیادہ تر کیڈٹ ہیں۔‘‘ لیکن یہاں بھی نیچے والوں کا رویہ اوپر والوں کی طرف مخاصمانہ تھا۔ ڈاکیوں کا ایک گروہ نازک مرحلے پر ڈاک خانے پر قبضہ کرنے کو تیار تھا۔
بہرحال ریلوے اور ڈاک کے کلرکوں کی سوچ کو محض باتوں کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش مایوس کن ثابت ہوتی۔ اگر بالشویک متزلزل ثابت ہوتے ہیں تو کیڈٹ اور مصالحت پسندوں کے بالائی حلقے حاوی رہیں گے۔ اگر انقلابی قیادت عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتی ہے تو نچلی صفیں ناگزیر طور پر درمیانی پرتوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیں گی اور وکزھل کے بالائی حلقوں کو تنہا کر دیں گی۔ انقلابی حساب کتاب میں اعداد و شمار ہی کافی نہیں ہوتے؛ زندہ عمل کا عددی سر (Coefficient) بھی درکار ہوتا ہے۔
تاہم خود بالشویک پارٹی کی صفوں میں سرکشی کے دشمنوں کو مایوس کن نتائج کی کافی بنیادیں مل گئیں۔ زینوویف اور کامینیف نے دشمن قوتوں کو حقیر جاننے کے خلاف تنبیہ کی۔ ’’پیٹروگراڈ ہی فیصلہ کن ہوگا اور پیٹروگراڈ میں دشمن کے پاس معقول قوتیں ہیں: اچھی طرح سے مسلح اور تربیت یافتہ پانچ ہزار جنکر، فوج کا صدر دفتر،یلغاری دستے، کاسک، گیریزن کا بڑا حصہ، پورے پیٹروگراڈ میں پھیلا توپخانہ۔ مزید برآں مرکزی مجلس عاملہ کی مدد سے دشمن کوشش کرے گا کہ محاذ سے دستے لائے جائیں … ‘‘ یہ فہرست بڑی متاثر کن لگتی ہے، لیکن یہ صرف ایک فہرست ہے۔ فوج بحیثیت مجموعی سماج کی نقل (Copy) ہوتی ہے، جب سماج کھلم کھلا تقسیم ہو جاتا ہے تو دونوں افواج دو متحارب کیمپوں کی نقول ہوتی ہیں۔ ملکیتی طبقات کی فوج کو تنہائی اور ٹوٹ پھوٹ کا گھن کھا چکا تھا۔
کیرنسکی اور کورنیلوف کے درمیان پھوٹ کے بعد سے ہی ہوٹل، ریستوران اور چکلے بھرنے والے افسران حکومت کے مخالف ہو چکے تھے۔ تاہم اُن کی بالشویکوں سے نفرت اِس سے کہیں زیادہ شدید تھی۔ بالعموم شاہ پرست افسران حکومت کی طرف سے سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ ’’پیارے کورنیلوف اور کرائموف، جو کچھ تم نہیں کر سکے اُس میں خدا کی مدد سے شاید ہم کامیاب ہو جائیں… ‘‘ یہ ایک افسر سائنگب کی دعا تھی، جو سرکشی کے دن سرما محل کے سب سے نڈر محافظین میں شامل تھا۔ تاہم افسروں کی بڑی تعداد کے باوجود چند لوگ ہی درحقیقت لڑنے کو تیار تھے۔ کورنیلوف کا معاملہ پہلے ہی ثابت کر چکا تھا کہ یہ بالکل بددل افسران ایک لڑاکا قوت نہیں تھے۔
جنکر اپنی سماجی ساخت میں یکساں نہیں تھے اور اُن میں کوئی اتحاد نہیں تھا۔ موروثی جنگجوؤں، افسروں کے بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے حادثاتی عناصر بھی تھے جنہیں بادشاہت کے تحت بھی جنگی ضروریات کے دباؤ کے تحت بھرتی کیا گیا تھا۔ ایک انجینئرنگ سکول کے سربراہ نے ایک افسر سے کہا: ’’مجھے تمہارے ساتھ مرنا ہو گا… تم تو جانتے ہو ہم شرفا ہیں اور اِس سے برعکس نہیں سوچ سکتے۔‘‘ یہ خوش قسمت معززین، جو آخر کار شرفا والی موت سے بچنے میں کامیاب ہو گئے، جمہوری جنکروں کو ’’احمق چہروں‘‘ والی کسانوں جیسی گھٹیا نسلیں قرار دیتے تھے۔ اعلیٰ اور گھٹیا نسل کی یہ تقسیم جنکر سکولوں میں گہرائی تک سرایت کئے ہوئے تھی۔ یہاں بھی قابل توجہ ہے کہ سب سے زیادہ گرمجوشی سے جمہوری حکومت کا دفاع کرنے والے وہی تھے جو بادشاہت کے گرنے پر سب سے زیادہ روئے پیٹے تھے۔
لیکن کیا پیٹروگراڈ کی سرکشی کو باہر کے ہمسایہ گیریزنوں سے خطرہ نہیں تھا؟ اپنے آخری دنوں میں بھی بادشاہت نے دارالحکومت کے گرد چھوٹے سے فوجی حلقے پر انحصار ترک نہیں کیا تھا۔ بادشاہت کا اندازہ تو غلط ثابت ہوا تھا، لیکن اب کی بار کیا ہو گا؟ہر ممکنہ خطرے سے پاک حالات کا مطلب ہوتا کہ سرکشی کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آخر کار سرکشی کا مقصد ہی اُن رکاوٹوں کو توڑنا تھا جنہیں سیاسی طریقے سے نہیں ہٹایا جا سکتا تھا۔ ہر چیز کا اندازہ پہلے سے نہیں لگایا جا سکتا، لیکن جس بھی چیز کا لگایا جا سکتا تھا، لگا لیا گیا تھا۔
16 تاریخ کو مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں صوبہ سٹیپانوف کے ایک پارٹی کارکن نے صوبے میں طاقتوں کی کیفیت کی رنگ برنگ تصویر کھینچی، تاہم بالشویک رنگ غالب تھے۔ سیسٹروریٹسک اور کولپینو میں مزدور مسلح ہیں؛ اُن کا مزاج لڑاکا ہے۔ نوی پیٹرہاف میں رجمنٹ میں کام ختم ہو گیا ہے؛ رجمنٹ غیر منظم ہے۔ کراسنوئی سیلو میں 176ویں رجمنٹ بالشویک ہے (وہی رجمنٹ جس نے 4 جولائی کو ٹاؤرائڈ محل کی حفاظت کی تھی)، 172 ویں بالشویکوں کے ساتھ ہے، ’’اور اِن کے علاوہ گھڑسوار بھی ہیں۔‘‘ لیوگا میں 30 ہزار کا گیریزن بالشویکوں کی طرف جھکاؤ ظاہر کرنے کے بعد کسی حد تک لڑکھڑا رہا ہے؛ سوویت ابھی تک ڈیفنسسٹ ہے۔ گڈوف میں رجمنٹ بالشویک ہے۔ کرونسٹٹ میں مزاج پست ہو گیا ہے؛ پچھلے مہینوں میں گیریزن سلگ رہا تھا؛ جہازیوں کا بہتر حصہ بیڑے میں ہے۔پیٹروگراڈ سے 60 ورسٹ کی دوری پر شلسلبرگ میں عرصہ قبل ہی سوویت واحد طاقت بن چکی تھی؛ بارود بنانے والی فیکٹری کے مزدور کسی بھی وقت دارالحکومت کی مدد کو تیار ہیں۔
سرکشی کی ریزرو فوج کی پہلی صف کے بارے میں یہ معلومات بالکل حوصلہ افزا سمجھی جا سکتی ہیں۔ فروری کی سرکشی کی حدت ایک وسیع علاقے میں ڈسپلن کو پگھلا دینے کو کافی تھی۔ اب قریبی گیریزنوں کی طرف اعتماد سے دیکھنا ممکن تھا اور اُن کے حالات بڑی حد تک پیشگی معلوم تھے۔
ریزرو فوج کی دوسری صف میں فن لینڈ اور شمالی محاذ کے دستے شامل تھے ۔ یہاں حالات اور بھی سازگار تھے۔ سملگا، اینٹونوف اور ڈائبنکو کے کام نے بیش قیمت نتائج دئیے تھے۔ ہلسنگفورس کے گیریزن کے ساتھ مل کر بحری بیڑا فن لینڈ کی حدود میں اقتدار اعلیٰ بن چکا تھا۔ یہاں حکومت کے پاس کوئی طاقت نہیں بچی تھی۔ ہلسنگفورس میں موجود دو کاسک ڈویژن، جنہیں کورنیلوف دارالحکومت پر حملے کی غرض سے یہاں لایا تھا، اب جہازیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں تھے اور بالشویکوں یا اُن بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کی حمایت کر رہے تھے جو بالٹک کے بحری بیڑے میں بالشویکوں سے کم سے کم مختلف ہوتے جا رہے تھے۔
ہلسنگفورس اپنا ہاتھ ریوال کی بحری بیس کے جہازیوں کی طرف بڑھا رہا تھا، جن کا طرز عمل اُس وقت تک غیر واضح تھا۔شمالی علاقے کی سوویتوں کی کانگریس، جس میں بالٹک کا بحری بیڑا ہی پیش پیش تھا، نے پیٹروگراڈ کے ارد گرد کے گیریزنوں کی سوویتوں کو ایسے وسیع حلقے میں یکجا کر دیا تھا کہ جس کے ایک طرف ماسکو اور دوسری طرف آرچنگل تھا۔ اینٹونوف لکھتا ہے، ’’اِس طرح سے کیرنسکی کے دستوں کے ممکنہ حملوں کے خلاف دارالحکومت کے دفاع کا خیال عملی جامہ پہن چکا تھا۔‘‘ سملگا نے کانگریس سے واپسی پر ہلسنگفورس کا رخ کیا تاکہ جہازیوں، پیادوں اور توپخانے کے ایک خصوصی دستے کو پہلے اشارے پر پیٹروگراڈ بھیجنے کے لئے منظم کر سکے۔ یوں پیٹروگراڈ کی سرکشی کا فن لینڈ والا پہلو مکمل طور پر محفوظ ہو گیا ۔ اِس طرف سے کوئی حملہ نہیں ہو سکتا تھا، صرف بھرپور مدد ہی مل سکتی ہے۔ محاذ کی دوسری اطراف پر بھی معاملات بالکل سازگار تھے، کم از کم اُن دنوں کے انتہائی رجائیت پسند بالشویکوں کی توقع سے زیادہ سازگار تھے۔ اکتوبر کے دوران ساری فوج میں کمیٹیوں کے انتخابات ہوئے تھے اور ہر طرف اُنہوں نے بالشویک کی طرف گہرا جھکاؤ واضح کیا تھا۔ ’’ہر جگہ کمیٹیوں کے انتخابات ہو رہے ہیں اور ہر جگہ صرف بالشویک اور ڈیفیٹسٹ ہی منتخب ہو رہے ہیں۔‘‘ حکومتی کمیسار اپنے یونٹوں کے دوروں سے کترانے لگے تھے۔ نواب بڈبرگ کے مطابق ’’اُن کی صورتحال اب ہم سے بہتر نہیں ہے۔‘‘ اُس کی کور کی دو گھڑسوار رجمنٹیں جو سب سے زیادہ دیر تک کمانڈوں کے تابع رہی تھیں اور باغی یونٹوں کو کچلنے سے انکار نہیں کیا تھا، اچانک رنگ بدل چکی تھیں اور مطالبہ کیا تھا کہ اُنہیں ’’تعزیری دستوں اور فوجی پولیس کے کام سے ہٹایا جائے۔‘‘ اِس تنبیہ کا دھمکی آمیز انداز نواب اور ہر کسی کے سامنے واضح تھا۔ وہ لکھتا ہے، ’’لگڑبگڑوں، گیڈروں اور بھیڑوں کے ریوڑ کی کمان سارنگی بجا کر نہیں کی جا سکتی۔ بچاؤ کا واحد طریقہ بڑے پیمانے پر گرم لوہے کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہی چیز ہمارے پاس نہیں ہے اور کہیں سے نہیں مل رہی ہے۔‘‘
اگر ہم دوسری کوروں اور ڈویژنوں کے بارے میں ایسے بیانات نقل نہیں کر رہے ہیں تو صرف اِس لئے کہ اُن کے سربراہ بڈبرگ جتنے باریک بین نہیں تھے، یا ڈائریاں نہیں رکھتے تھے، یا یہ ڈائریاں ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
5ویں فوج کی مصالحت پسندانہ کمیٹی، جو کافی عرصے سے ہوا میں معلق تھی، پیٹروگراڈ کو تار کے ذریعے مسلسل دھمکیاں دے رہی تھی کہ وہ عقب میں سنگین کے زور پر نظم و نسق بحال کرے گی۔ بڈبرگ لکھتا ہے، ’’یہ سب خالی بڑھکیں تھیں۔‘‘ کمیٹی درحقیقت اپنے آخری دن گزار رہی تھی۔ 23 تاریخ کو یہ دوبارہ منتخب نہیں ہو پائی۔ نئی بالشویک کمیٹی کا صدر ڈاکٹر سکیالنسکی تھا، ایک شاندار نوجوان منتظم ، جس نے جلد ہی سرخ فوج کی تخلیق میں اپنی ہوشیاری کا بھرپور مظاہرہ کیااور جو بعد ازاں ایک امریکی جھیل پر کشتی رانی کرتے ہوئے حادثاتی موت مرا۔
شمالی محاذ کے نائب نے 22 اکتوبر کو وزیر جنگ کو اطلاع دی کہ بالشویزم کے نظریات فوج میں سرایت کرتے چلے جا رہے ہیں، سپاہی امن چاہتے ہیں اور توپخانہ جو آخری وقت تک بچا ہوا تھا اب ’’ڈیفیٹسٹ پراپیگنڈا کے زیر اثر آ رہا ہے۔‘‘ یہ بھی کوئی غیراہم علامت نہیں تھی۔ انقلاب سے صرف تین دن پہلے حکومت کا اپنا براہِ راست کارندہ اطلاع دیتا ہے، ’’عبوری حکومت کی کوئی عملداری نہیں ہے۔‘‘
یہ درست ہے کہ عسکری انقلابی کمیٹی کو اُس وقت اِن تمام دستاویزات کا پتا نہیں تھا۔ لیکن جو کچھ اُسے پتا تھا وہی کافی تھا۔ 23 تاریخ کو پیٹروگراڈ سوویت کے پاس محاذ کے کئی یونٹوں کے نمائندے آئے اور امن کا مطالبہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بصورت دیگر وہ عقب کی طرف مارچ کریں گے اور ’’اُن تمام طفیلیوں کو نیست و نابود کر دیں گے جو مزید دس سال تک جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ محاذ والوں نے سوویت سے کہا، ’’اقتدار پر قبضہ کرو، مورچے تمہاری حمایت کریں گے۔‘‘
جنوب مغربی اور رومانیہ جیسے زیادہ دور دراز اور پسماندہ محاذوں پر بالشویک ابھی تک نایاب نمونے اور ایک تجسس ہی تھے۔ لیکن یہاں بھی سپاہیوں کا مزاج باقی جگہوں جیسا ہی تھا۔ ایفگینیا بوش بتاتی ہے کہ کیسے زھومرنکا میں موجود محافظ فوج کی دوسری کور کے کل 60 ہزار سپاہیوں میں صرف ایک نوجوان کمیونسٹ اور دو ہمدرد تھے۔ تاہم اِس کے باوجود اکتوبر کے دنوں میں یہ کور سرکشی کی حمایت میں نکلی۔
آخری وقت تک حکومتی حلقوں نے کاسکوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لیکن دائیں کیمپ کے سیاستدانوں میں جو کم اندھے تھے وہ سمجھ رہے تھے کہ یہاں بھی حالات بالکل خراب تھے۔ تقریباً تمام کاسک افسران کورنیلوفسٹ تھے۔ عام کاسک زیادہ سے زیادہ بائیں جانب مائل ہو رہے تھے۔ حکومت والے یہ نہیں سمجھ رہے تھے اور گمان کر رہے تھے کہ کاسک رجمنٹوں کی سرما محل کی طرف سرد مہری کی وجہ کالیڈن کے بارے میں مجروح جذبات تھے۔ تاہم آخر کار وزیر جنگ ملیانٹووچ کو بھی سمجھ آ گئی کہ ’’صرف کاسک افسران‘‘ ہی کالیڈن کے حمایتی تھے۔ دوسرے تمام سپاہیوں کی طرح عام کاسک بھی واضح طور پر بالشویک ہو رہے تھے۔
وہ محاذ جس نے مارچ کے ابتدائی دنوں میں لبرل پادریوں کے ہاتھ پیر چومے تھے، کیڈٹ وزیروں کو کندھوں پر اٹھایا تھا، کیرنسکی کی تقریروں سے مست ہو گیا تھا اور جو بالشویکوں کو جرمن ایجنٹ سمجھتا تھا… اُس محاذ کا کچھ باقی نہیں بچا تھا۔ وہ گل رنگ خوش فہمیاں مورچوں کے اُس کیچڑ میں ڈوب چکی تھیں جسے سپاہی نے اپنے پھٹے ہوئے جوتے کیساتھ گوندھنے سے انکار کر دیا تھا۔ بڈبرگ نے پیٹروگراڈ کی سرکشی کے دن لکھا، ’’ڈرامے کا اختتام قریب آ رہا ہے اور اِس کے نتیجے کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ محاذ پر ایک بھی ایسا یونٹ نہیں ہے جو بالشویکوں کے کنٹرول میں نہ ہو۔‘‘
*****
[۱] ’بلانکزم‘(Blanquism) سے مراد یہ نظریہ کہ انقلابیوں کا ایک چھوٹا سا منظم اور خفیہ گروہ ہی سوشلسٹ انقلاب برپا کر سکتا ہے۔اِس نظرئیے کا خالق انیسویں صدی کا مشہور فرانسیسی سوشلسٹ ’لوئی آگسٹ بلانکی‘ تھا۔
[۲] یہاں لفظ ’’Barricade‘‘ استعمال ہوا ہے جس سے مراد سڑک پر کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں ہیں، جیسا کہ آج بھی بالخصوص یورپ وغیرہ میں حکومت کے خلاف بڑے احتجاجوں میں پولیس کا مقابلہ کرنے کے لئے مظاہرین کرتے ہیں۔ اِس باب میں مورچوں کی اصطلاح اِنہی معنوں میں استعمال ہو گی۔
[۳] ٹراٹسکی ’تاریک‘یا ’سیاہ‘ کے لئے جو روسی لفظ استعمال کرتا ہے وہ کثیر المعنی ہے، جس کے معانی شب گرفتہ، تہذیب و تمدن سے بے بہرہ یا غیر مہذب کے ہیں۔ یہ اصطلاح درحقیقت عوام کے بارے میں بورژوازی اور اصلاح پسندوں کا تاثر بیان کر نے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔
[۴] یہاں اُس عہد میں طلبہ کے کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج سے تقریباً سو سال پہلے کے روس میں صرف ملکیتی طبقات ہی کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم تک رسائی رکھتے تھے۔ لہٰذا طلبہ کا کردار بحیثیت مجموعی رجعتی تھا۔ حتیٰ کہ اُس دور میں یورپ کے کئی ممالک میں بھی ہمیں ایسی کیفیات نظر آتی ہیں۔ طلبہ تحریک کی موجودہ شکل دوسری عالمی جنگ کے بعد کا مظہر ہے، جو پہلی بار 1960ء کی دہائی کے عالمگیر انقلابات میں کھل کر سامنے آیا۔