’سزائے موت‘: بھٹو کی زندگی پر تھیٹر پلے کا پریمیئر 9 اکتوبر کو اوسلو میں ہو گا
فاروق سلہریا
ٹونی عثمان کہتے ہیں کہ: ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی پر یہ ڈرامہ صرف پھانسی کے متعلق نہیں بلکہ بھٹو کی ساری زندگی اور پاکستان کی تاریخ و سیاست کے متعلق ہے۔ کھیل شروع تو راولپنڈی جیل کی کال کوٹھری سے ہو گا مگر فلیش بیک سے بھٹو کی ساری زندگی کا احاطہ کیا جائے گا اور نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے بھٹو کی اچھائیوں کے ساتھ اُنکی کمزوریوں اور اُن کے وہ سیاسی اقدامات جنہیں متنازعہ سمجھا جاتا ہے، پر بھی بات ہوگی۔ تاکہ سوچ کا ایک ایسا عمل شروع ہو جس سے بھٹو کو نئے سرے سے دریافت کرنے میں مدد مل سکے۔
ٹونی عثمان طویل عرصے سے ناروے میں مقیم ہیں۔ وہ اداکار، ہدایت کار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کی زندگی پر رواں سال وہ اوسلو میں ایک تھیٹر پلے پیش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جدوجہد نے اس حوالے سے ان کا ایک مختصر انٹرویو کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
آپ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی سے متعلق امسال اوسلو میں ایک تھیٹر پلے پیش کر رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ بارے کچھ تفصیلات ہمارے قارئین کو بتائیں۔
ٹونی عثمان: یہ ایک متنوع پراجیکٹ ہے جس میں ہم فنکارانہ اظہار کی مختلف حکمت عملیوں کو پاکستانی سیاسی منظر نامے سے وابستہ واقعات کے ساتھ ملا کر حقیقت اور فکشن کا امتزاج تیار کریں گے۔ یہ کھیل نارویجن زبان میں ایک انٹریکٹو مونولوگ کی شکل میں ہو گا۔ اس کا پریمیئر 9 اکتوبر کو اوسلو میں ہوگا۔ بھٹو کے متعلق ڈرامہ سیاسی تو ہو گا ہی مگر ساتھ ہی یہ دستاویزی اور اصلاحی بھی ہو گا۔ بطور ہدایت کار، میں حوالہ جات کھوجنے اور تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ ریہرسل کے دوران ہم ہنستے ہوئے بحثیں کریں اور تجزیہ کرتے ہوئے مختلف تجاویز مسترد کرنے کے بعد نئی تجاویز پر کام کر کے حتمی نتیجے پر پہنچیں۔ اس ڈرامہ میں ہم جمہوریت کی اچھائیوں کے ساتھ اس کی حساس کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس ٹریجڈی کہانی میں ہم روشنی کی کرن کو تلاش کرتے ہوئے وہ انسانی اور آفاقی پہلو سامنے لانے کی کوشش کریں گے، جو سیاسی منظر نامے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ یہ وقار سے جینے اور بہادری سے موت کو چومنے کی کہانی ہے۔ میری ٹیم کی پوری کوشش ہو گی کہ یہ سیاسی کھیل تعمیری تفریح سے بھر پور، معلوماتی اور فکر انگیز ہو۔ ویسے ناروے میں سیاسی تھیٹر کی ایک بہت پرانی روایت قائم ہے۔ سنہ 1882 میں ناروے کے عالمی شہرت یافتہ عظیم ڈرامہ نگار ہینرک ابسن نے 5 ایکٹ کا ڈرامہ”عوام دُشمن” لکھا تھا۔ اس سیاسی ڈرامے میں جمہوریت کے بنیادی خیال کو پرکھا گیا۔ سنہ 2007 میں اس ڈرامے کا اردو ترجمہ ناروے کے پاکستانی نژاد صحافی، دستاویزی فلم میکر اور مصنف عطا انصاری نے کیا تھا۔
ہمارے قارئین کو انٹریکٹو تھیٹراور مونولوگ تھیٹر کے متعلق بتائیں۔
ٹونی عثمان: انٹریکٹو تھیٹر کا عمل 1960 اور 70 کی دہائیوں میں اُس وقت شروع ہوا جب اصلاحی تھیٹر، سیاسی تھیٹر اور دستاویزی تھیٹر کو ترقی دینے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس میں کسی خاص حکمت عملی کے تحت آڈینس کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ بھی کھیل کا حصہ ہیں۔ یوں وہ روایتی تماشائیوں سے مختلف طریقے سے کھیل کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے مونولوگ کا، اس میں صرف ایک اداکار ہوتا ہے لہٰذا اُس پر سٹیج پر ہونے والی کارکردگی کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسے تھیٹر کی ایک بہت مشکل صنف مانا جاتا ہے۔ اس کے لئے ایک اچھے متن کا ہونا کافی نہیں، بلکہ آواز کا درست استعمال، سانس لینے کی تکنیک، تلفظ، آنکھوں کا استعمال، بدن بولی، رفتار اور وقفوں کا درست استعمال یعنی ٹائمنگ وغیرہ کے ملاپ سے ایک اچھا مونولوگ بنتا ہے۔
ناروے کی آڈینس کو اس کھیل میں کیا دلچسپی ہے یا ہو سکتی ہے۔ کیا اس کھیل کو سٹیج کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بھٹو وہاں پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں؟
ٹونی عثمان: ساری دُنیا میں ایسی سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں جو طاقتور حلقوں کو پسند نہیں ہوتیں۔ ایسا ہی ایک خوفناک حربہ پھانسی یا عدالتی قتل ہے۔ا یمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق55 ممالک میں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔ اکثر ممالک میں غیر منصفانہ ٹرائلز کے بعد ناپسندیدہ شخصیات کو موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ یوں بھٹو کے عدالتی قتل کی ایک عالمی اہمیت ہے۔ اس کے علاوہ بھٹو کی شخصیت میں وہ سب ملتا ہے جو ڈرامے کے ایک دلچسپ کردار کے لیے اہم لوازمات سمجھے جاتے ہیں۔ ویسے ناروے میں ذوالفقار علی بھٹو کی نسبت لوگ بے نظیر کے نام کو زیادہ جانتے ہیں۔
آپ نے کہا کہ بھٹو سٹیج پلے بنانے کے حوالے سے بہت دلچسپ کردار ہے۔ اس کی کچھ وضا حت کیجئے کہ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں؟
ٹونی عثمان: وہ منہ میں چاندی کا چمچ لے کر ایک جاگیردار کے گھر پیدا ہوئے مگر اُن کا دل غریبوں اور مزدوروں کے لیے دھڑکتا تھا۔ اُنہوں نے اپنے طبقے کی سوچ کے بالکل برعکس عوام کے مسائل حل کرنے کی بات کی۔ وہ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر کے 8سال تک قریبی ساتھی رہے مگر آگے چل کر وہ ڈکٹیٹرشپ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کی اہم ترین علامت بن گئے۔ اُنہیں ایک طرف ردِانقلاب کہا جاتا ہے تو دوسری طرف سامراج کا باغی مانا جاتا ہے۔ ویسے تو دوہرا پن انسانی فطرت کی ایک بنیادی خصوصیت سمجھا جاتا ہے مگر جب تضادات اتنے واضح ہوں تو وہ ڈرامہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کی آنکھوں میں ایک پُراسرا اُداسی، اُن کی مُسکراہٹ میں شرمیلہ پن، اُن میں غضب کی خود اعتمادی اور اُن میں کمال کی حاضرجوابی کے ساتھ اُن کی بدن بولی میں انوکھی توانائی سے بھی ڈرامہ کے کردار میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ پھر جس طرح وہ موت کی کال کوٹھڑی میں رہے اور جس بہادری سے اُنہوں نے موت کو چوما،اس سے بھی ڈرامہ کے کردار کو تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جسے سزائے موت سنائی جائے اُس کی نفسیات کے لیے وقت ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ ایک طرف گزرتے وقت کے ساتھ اُسے اُمید کی کرن نظر آتی ہے کہ شاید کسی وجہ سے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا جائے تو دوسری طرف گزرتا ہوا وقت اُسے احساس دلاتا ہے کہ وہ موت کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ایسی نفسیاتی کشمکش سے بھی ڈرامہ میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ اس ڈرامہ میں بھٹو کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔
اتنے مشکل اور دلچسپ کردار کے لیے اداکار کہاں سے لائیں گے؟
ٹونی عثمان: اس سلسلے میں بھٹو کی برسی 4 اپریل کے روز اسلو میں آڈیشن کیا جا رہا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ایک موزوں اداکار مل جائے گا۔
ناروے بارے کہا جاتا ہے کہ وہاں کی سب سے بڑی نان وائٹ کمیونٹی پاکستانی تارکین وطن یا ان کی دوسری نسل پر مبنی ہے۔ کیا اس پاکستانی کمیونٹی میں بھٹو کی سیاست،پاکستانی تاریخ اور بھٹو کی پھانسی کی سیاسی اہمیت بارے شعور موجود ہے؟عام تاثر تو یہی ہے کہ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد عمران خان کی حامی ہے۔
ٹونی عثمان: ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اُس میں وقت کی کمی کا بہت احساس ہے۔ 30 سیکنڈ کے ٹک ٹاک ویڈیو کو تو انجوائے بھی کیا جاتا ہے اور بڑے شوق سے اسے شیئر بھی کیاجاتا ہے مگر ایک تحقیقی مضمون پڑھنے کے لیے 30 منٹ نہیں نکالے جاسکتے۔ پھر شعور تو محدود ہی ہوگا۔ مزاحمت اور بدتمیزی، سیاسی اختلاف اور نفرت میں فرق ختم کردیا گیا ہے۔ لوگ پاکستانی تاریخ سے ناواقف ہیں۔ بعض تارکین وطن کی معلومات صرف مشرف دور تک محدود ہیں گویا اس سے پہلے پاکستان میں حکومتیں اور اپوزیشن جماعتیں نہیں ہوتی تھیں۔
ایک بار ایک پاکستانی سے، جو بظاہر پاکستان کی تاریخ سے اچھی طرح باخبر شخص ہیں، بات ہو رہی تھی۔ میں نے جب وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے مختصر دور کی بات کی تو وہ بالکل خاموش ہو گئے کیونکہ اُنہوں نے کبھی سہروردی کا نام نہیں سُنا تھا۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی نے مجھے کہا کہ نصرت بھٹو کی وفات پر بے نظیر نے کوشش کی کہ اُنہیں گڑھی خدا بخش میں نہ دفنایا جائے۔ وہ شخص وسائل سے بھر پور ایک زندگی گزار رہا ہے اور اگر چاہے تو بڑی آسانی سے گوگل اور انسائیکلوپیڈیا سے جان سکتا ہے کہ بے نظیر 2007 میں شہید ہوئی تھیں جبکہ نصرت بھٹو 2011 میں فوت ہوئی تھیں مگر شاید انسائیکلوپیڈیا پر وقت لگانے کی بجائے جھوٹی معلومات پھیلانے میں زیادہ مزا آتا ہے۔
اسی طرح ایک اور صاحب سے اقوام متحدہ میں مختلف ممالک کے راہنماؤں کی تقاریر کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ جب میں نے سلامتی کونسل میں کی گئی بھٹو کی اس تقریر کا حوالہ دیا جو اُنہوں نے مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے سے تھوڑی دیر پہلے کی تھی تو وہ صاحب کہنے لگے کہ بھٹو اس وقت نشے کی حالت میں تھے اور اُن سے کھڑا نہیں ہو اجارہا تھا ۔لہٰذا اُن کے ساتھیوں نے اُنہیں دونوں طرف سے پکڑ کر رکھا پھر بھٹو بڑی مشکل سے کھڑے ہو کر تقریر کر سکے۔ اب آپ اگر یو ٹیوب دیکھیں تو وہاں آپ کو یہ تقریر مل جائے گی اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں کھڑے نہیں ہوتے بلکہ تقریر کرنے والا اور سننے والے بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔ تاہم پھر وہی بات کہ جھوٹ بولنے اور غلط معلومات پھیلانے میں بعض لوگوں کو مزا آتا ہے۔
جب شعور کا فقدان ہوتا ہے تو معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ فن اور ثقافت تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے اور اصلاحی تھیٹر کی ضرورت میں اضافہ تو ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ کام مشکل بھی ہوجاتا ہے۔ اس لیے نئی مختلف حکمت عملیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جہاں تک تارکین وطن میں مقبولیت کی بات ہے تو اسے اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انڈین ڈائیاسپورا میں مودی بہت مقبول ہیں۔
ماضی میں آپ نے پاکستانی تارکین وطن کی ناروے آمد، انسانوں کی سمگلنگ کرنے والوں کا شکار بننے والے افراد، سعادت حسن منٹو کے افسانوں بشمول ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ ناروے میں اسٹیج یا فلم کی شکل میں پیش کیے ہیں۔ پاکستانی سیاست اور ادب کو نارویجن قالب میں ڈھال کر نارویجن آرٹ کو پاکستانی ٹچ دینا۔۔۔اس کی خاص وجہ؟
ٹونی عثمان: میں نارویجن اور پاکستانی، دونوں ثقافتی ضابطوں کو جانتا اور سمجھتا ہوں اور اقلیتی نقطہ نظر کے ساتھ کہانیاں اسٹیج کرتا ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ فیصلہ کرنے کا حق کس کا ہے کہ کون سی کہانیاں سنائی جائیں۔ اقلیتوں کے متعلق سٹیریوٹائپ کہانیاں مجھے اپیل نہیں کرتیں۔ اس لیے میں مسلسل ایسی کہانیوں اور حکمت عملیوں کی تلاش میں رہتا ہوں جو سٹیریوٹائپ تصورات کو توڑنے میں مدد دیں۔ میں پاکستان کی ثقافت میں شاعری، رقص، افسانہ نگاری اور موسیقی سے متاثر ہوں۔ اسی طرح ناروے کی ثقافت میں مجسمہ سازی، مصوری، اور ڈرامہ نگاری سے متاثر ہوں۔ میں اپنے کثیر الثقافتی نقطہ نظر کے ساتھ دونوں ثقافتوں کے ثقافتی کوڈز کے ملاپ سے کچھ سیکھنے اور تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بھٹو کی زندگی پر بے شمار کتابیں شائع ہوئیں مگر ان کی پھانسی پر اتنی کتابیں شائع نہیں ہوئیں۔ شاعری البتہ بہت ہوئی۔ کیا اپنی تحقیق یا سکرپٹ رائٹنگ میں آپ نے اس ادبی روایت سے بھی کوئی استفادہ کیا؟
ٹونی عثمان: بھٹو اپنے آپ کو شاعر اور انقلابی مانتے تھے اور اکثر شاعرانہ انداز میں استعارے استعمال کرتے تھے ۔اس لیے اُن کے متعلق ڈرامہ لکھتے وقت شعر وشاعری سے استفادہ کرنا فطری ہے۔ اس کے علاوہ بھٹو کی بدن بولی کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ اُن کے جسم میں ایک شاعرانہ رقاص بھی تھا۔ اُن کی پھانسی پر لکھی ہوئی نظموں کے ایک مجموعے’خوشبو کی شہادت’اور نسرین انجم بھٹی کی پنجابی نظم’بھٹو دی وار’سے میں متاثر ہوں۔
بھٹو کی پھانسی پر فخر زمان نے پنجابی زبان میں ’بندی وان‘کے عنوان سے ایک ناول بھی لکھا۔ آپ کا سکرپٹ ’بندی وان‘سے کس قدر مختلف یا منفرد ہے؟
ٹونی عثمان: یہ ڈرامہ صرف پھانسی کے متعلق نہیں بلکہ بھٹو کی ساری زندگی اور پاکستان کی تاریخ و سیاست کے متعلق ہے۔ کھیل شروع تو راولپنڈی جیل کی کال کوٹھری سے ہو گا مگر فلیش بیک سے بھٹو کی ساری زندگی کا احاطہ کیا جائے گا اور نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے بھٹو کی اچھائیوں کے ساتھ اُنکی کمزوریوں اور اُن کے وہ سیاسی اقدامات جنہیں متنازعہ سمجھا جاتا ہے، پر بھی بات ہوگی۔ تاکہ سوچ کا ایک ایسا عمل شروع ہو جس سے بھٹو کو نئے سرے سے دریافت کرنے میں مدد مل سکے۔
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

