← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات نے مل کر سوڈان کو غزہ بنا دیا

By جدوجہد • 2025-12-12 • 13 min read

حارث قدیر

سوڈان آج دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک کے طور پر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق اس خانہ جنگی نے اب تک 1 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، 86 لاکھ افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے اور 40 لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ملک پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ آزاد ذرائع کے مطابق سوڈان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد4لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ صرف الفاشر میں 60ہزار سے زائد افراد مارے گئے یا گمشدہ ہوئے۔

بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تباہی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سوڈان عملی طور پر ملبے کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق70فیصد صحت کے مراکز تباہ یا بند ہو چکے ہیں، 10ہزار400سکول بند یا تباہ ہو چکے ہیں۔ پانی، بجلی، سڑکیں، ہسپتال اور رہائشی علاقے کھنڈر بن چکے ہیں۔ غذائی قلط اور قحط جیسی صورتحال کی وجہ سے 2کروڑسے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

سوڈان تاریخی طور پر نسلی و ثقافتی طور پر ایک متنوع خطہ رہا ہے۔یہ ملک جو افریقہ اور عرب دنیا کے درمیان پل کے طور پر جانا جاتا تھا، دریائے نیل کی تہذیبوں کا وارث تھا اور کبھی مشرقی و شمالی افریقہ کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا، اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دہائیوں سے سامراجی طاقتوں کی لالچ نے سوڈانی معاشرے کو شدید عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔ سوڈان اپنی طویل بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی، اپنے وسیع رقبے،جو اسے 7افریقی ممالک کی سرحدوں سے جوڑتا ہے،اور اپنی معدنی دولت (یورینیم، سونا، دریائے نیل کے وسائل) کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اسی لیے یہ مسلسل بیرونی طاقتوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔

حکمران طبقات، جنگی گروہوں اور سامراجی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں آج بھوک، بیماری، بے گھری، نسل کشی اور تباہی سوڈان کا مقدر بن چکی ہے۔ اس موجودہ تباہی کو سمجھنے کے لیے صرف اپریل 2023 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے سوڈان کی تاریخ کی طویل اور پیچیدہ لکیریں ہیں جن میں آبادیاتی تقسیم، دارفور کا المیہ، عمرالبشیر کی 30سالہ آمریت، عوامی بغاوت کی امید اور پھر اس امید کا خون میں ڈوب جانا شامل ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ علاقائی اور سامراجی طاقتیں ہیں جنہوں نے اس ملک کی داخلی کمزوریوں کو اپنے مفادات اور مذموم مقاصد کی بھینٹ چڑھایا ہے۔

عمر البشیر نے 1989میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا۔ شریعت کے نام پر سخت گیر آمریت میں سیاسی آزادیاں محدود کی گئیں اور ریاستی تشدد کو بڑھاوا دیا گیا اور بالخصوص دارفور میں جنجاوید ملیشیا کی کھلے عام پشت پناہی کی گئی۔ آبادیاتی تقسیم اور نسلی پیچیدگیاں سوڈان کے اندرونی بحران کی ایک بنیادی وجہ ہیں۔ مغربی دارفور میں عرب اور غیر عرب آبادی کے درمیان ٹکراؤ صدیوں پرانا ہے، اور عمر البشیر کے دور میں جنجاوید نامی عرب ذات پرست ملشیا نے غیر عرب قبائل کے خلاف بربریت شروع کی، جو نسل کشی کے جیسے جرائم میں تبدیل ہوئی۔

عمرالبشیر کی تین دہائیوں پر مبنی آمریت سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ، مذہبی انتہا پسندی اور فوجی اشرافیہ کی شراکت داری پر مبنی تھی۔ 2018 سے 2019 کے دوران مہنگائی اور بھوک نے لوگوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا اور پورے ملک میں عوامی بغاوت پھوٹ پڑی۔ اس تحریک کی قیادت انقلابی محلّہ کمیٹیوں اور سویلین قوتوں نے کی، جنہیں ڈاکٹروں اور وکلا کے مضبوط نیٹ ورک کی حمایت حاصل تھی۔عمر البشیر کی حکومت کو ایک ایسی فوجی اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل تھی جو خود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ذریعے ملک کے وسائل کی لوٹ مار سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔ یہ غیر ملکی طاقتیں غیر قانونی راستوں سے سونا اور دیگر قیمتی وسائل اسمگل کرکے اپنے مفادات حاصل کر رہی تھیں۔

عمر البشیرحکومت کے خاتمے کے بعد مغربی طاقتوں نے ایک عبوری حکومت کی حمایت کی۔فورسزفار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) نے اگست 2019 میں فوجی شمولیت کے ساتھ ایک نئی انتظامیہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ بھرپور عوامی طاقت کے باوجود عوامی حمایت کے باوجود تحریک حاشیے پر چلی گئی اور اصل اختیار بدستور فوج کے ہاتھ میں ہی رہا۔ فوج کا معیشت پر مکمل کنٹرول تھا۔ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی ایف ایف سی کی بانی رکن تھی، لیکن اس نے اس وقت تک حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا جب تک فوج کا کردار برقرار رہتا۔یہ عبوری حکومتی عمل محض دو سال ہی چل سکا۔ اکتوبر 2021 میں فوج نے اپنی طاقت کو مرکوز کرتے ہوئے بغاوت کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کو برطرف کر دیا۔

یہ فوجی اقتدار بھی دو سال بعد تنازعات کی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ اقتدار کے لیے قائم کی گئی عبوری کونسل میں شامل باقاعدہ فوج اور دارفور میں نسل کشی سے شہرت پانے والی عرب نسل پرست ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے مابین یہ جنگ اب سوڈان کو برباد کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو ملک کے بڑے شہروں اور خصوصاً دارفور میں قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امدرمان، الخرطوم، الفاشر اور الجنینہ جیسے شہروں میں شدید خونریزی ہوئی۔ الفاشر میں آر ایس ایف کی یلغار نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی۔

آج یہ جنگ محض ایک مقامی تنازع نہیں رہی، بلکہ مختلف غیر ملکی طاقتوں کی ایک پراکسی جنگ بن چکی ہے۔ یہ تمام قوتیں سوڈان کی دولت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) آر ایس ایف کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور مصرباقاعدہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سوڈان کی سونے کی صنعت اس جنگ کا مرکزی محرک ہے، کیونکہ تقریباً تمام سونے کی تجارت امارات کے ذریعے گزرتی ہے اور پھر یہ دولت لڑنے والے فریقوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

یو اے ای کھل کر آر ایس ایف کو مالی، عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے، اور جنگجوؤں کو یمن اور لیبیا کے تجربات پر تربیت دی گئی۔ ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے سفارتی راستے فعال کیے گئے۔ سعودی عرب اور مصر نے جنرل البرہان کو سپورٹ کیا کیونکہ وہ ان کے لیے زیادہ قابل قبول اتحادی ہیں۔ یوں سوڈان ایک پراکسی جنگ کا میدان بن گیا جہاں سوڈانی عوام لڑ رہے ہیں لیکن ان کی بندوقیں، گولیاں، اور پیسہ باہر سے آ رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں لڑنے والے فریقین کو فرانسیسی ساختہ اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی بکتر بند گاڑیوں پر نصب ہے اور آر ایس ایف استعمال کر رہی ہے۔

ملک کے اس منظم انہدام کے مقابلے میں سوڈانی شہری مزاحمت نے جنگ روکنے کے لیے عوامی سطح پر وسیع تر متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔سوڈانی کمیونسٹ پارٹی نے بھی وسیع ترین عوامی قومی محاذ تشکیل دینے، دشمنیوں کے خاتمے اور انقلابی عمل کی بحالی پر زور دیا ہے۔ دونوں حکمران گروہوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور ان کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سوڈان کا مستقبل فوجی آمریت یا غیر ملکی طاقتوں کے تیار کردہ امن منصوبوں میں نہیں بلکہ سوڈانی عوام کی اجتماعی طاقت اور رائے کو مقدم رکھنے میں مضمر ہے۔ نسلی فسادات کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب ریاست کسی نسلی یا مذہبی گروہ کے حق میں نہ کھڑی ہو۔ معیشت کو بیرونی قرضوں اور فوجی مداخلت سے آزاد کیا جائے۔زمین، معدنی وسائل، بندرگاہیں، اور زراعت سب کچھ نجی اور فوجی قبضے سے بچا کر عوام کی نگرانی میں عوام کی اجتماعی ترقی پر خرچ کرنے کی راہ اپنائی جائے۔

اس سب کے لیے سوڈان کے مظلوم اور محکوم عوام کو عالمی سطح پر یکجہتی کی ضورت ہے، تاکہ غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی تسلط کو برقرار رکھنے والے کسی بھی سامراجی معاہدے کو مسترد کیا جا سکے۔اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ خانہ جنگی کا خاتمہ ہو اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد اورجنگی گروہوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

سوڈان، یمن، لیبیا اور غزہ ایک ہی سامراجی نظام کے مختلف المناک مظاہر ہیں۔ سوڈان کا بحران اس وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے۔ اس کا حل بھی اسی بڑی جدوجہد کا حصہ ہے جس میں محنت کش عوام اپنی اجتماعی طاقت کو پہچانیں اور سامراج و مقامی اشرافیہ کے خلاف متحد ہوں۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔