سوڈان میں خانہ جنگی: ڈیڑھ لاکھ ہلاک، ایک کروڑ سے زائد بے گھر ہو چکے
لاہور(جدوجہد رپورٹ) سوڈان میں دو سال سے جاری خانہ جنگی نے انسانی ہولناکی کی نئی حدیں طے کر دی ہیں۔ محدود اعداد و شمار ہونے کے باوجود اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکتوں اورایک کروڑ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ اور امدادی ایجنسیاں اس انسانی بحران کو دنیا کی سب سے بڑی انسانی ایمرجنسی قرار دے رہے ہیں۔
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 12.5 ملین لوگ بے گھر ہیں، زیادہ تر ملک کے اندر جبکہ لاکھوں نے سرحد پار پناہ گزینی اختیار کی ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار بھی ملتے جلتے ہیں، جن کے مطابق تقریباً 11.5 ملین اندرونی بے گھر اور 3.5 ملین سرحد پار افراد بتائے گئے ہیں۔
قحط اور غذائی عدم تحفظ ایک اور سنگین پہلو ہے۔ آئی پی سی کے تجزیوں کے مطابق تقریباً 24.6 ملین افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، اور کم از کم 6لاکھ سے زائد افراد قحط کی بدترین سطح (IPC فیز 5) پر ہیں۔ کچھ کیمپوں جیسے زم زم اور ابو شوک میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے، اور مزید خطرے والے علاقے طے کیے گئے ہیں۔
محتاط اندازوں کے مطابق جنگ، بھوک اور بیماری کی مشترکہ وجہ سے کم از کم ایک لاکھ50ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صحت کا نظام مکمل طور پر جھلس چکا ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کالرا 8 ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے اور اس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امدادی ایجنسیاں خبردار کرتی ہیں کہ صورتحال مزید بھڑک سکتی ہے، جب تک محفوظ امدادی راستے نہیں کھولے جاتے اور مالی تعاون جلدی فراہم نہیں کیا جاتا۔