سویڈن: مہنگائی کا توڑ کرنے کے لئے سپر سٹورز کا بائیکاٹ جاری
فاروق سلہریا
سویڈن میں اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف،رواں ہفتے (17 تا 23 مارچ)سپر سٹورز کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے لئے سوشل میڈیا پر اپیل کی گئی اور اس اپیل کو کافی پزیرائی ملی۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ چھوٹی دکانوں سے سودا خریدیں۔ بعض دیگر تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ کھانا تیار کرنے کی دلچسپ تجویز بھی دی گئی ہے۔
یہ تو شائد اگلے ہفتے ہی پتہ چل سکے کہ عملی طور پر یہ بائیکاٹ کتنا کامیاب رہا مگر اس مہم کے حوالے سے سویڈن کے معروف تاریخ دان اور لیفٹ پارٹی (سٹاک ہولم برانچ)ہوکن بلوم کوست نے اپنے ایک مضمون میں ایسی ہی ایک بائیکاٹ مہم پر روشنی ڈالی ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
عالمی جنگ کے اختتام پر بھی بعض سپر سٹورز کے بائیکاٹ کی مہم چلی۔ بعض اوقات تو یہ بھی ہوا کہ لوگ دکان ہی لوٹ کر لے گئے۔ نہ صرف سویڈن بلکہ دنیا بھر میں ایسی مہم چلیں۔ پھر 1930 کی دہائی میں بھی ایسا ہوا جب سر مایہ داری اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوئی۔
مہنگائی کے خلاف ایک دلچسپ اور کامیاب مہم 1972 میں چلی جو سٹاک ہولم کے محلے خیر ہولم (Skarholm) سے شروع ہوئی۔یاد رہے، ستر کی دہائی وہ دور تھا جب سویڈن میں فلاحی ریاست اپنے عروج پر تھی۔ ملکی تاریخ کے مقبول ترین رہنما،اولف پالمے ملک کے وزیر اعظم تھے(وہ سوشل ڈیمو کریٹ تھے اور اپنی سامراج مخالفت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھے)۔
ہوا یوں کہ ایک سال میں قیمتیں 14 فیصد بڑھ گئیں۔ دودھ، مکھن اور گوشت کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا۔ ایک دن خیر ہولم میں چند ہاوس وائیوز نے ایک رسوئی میں چھوٹا سا اجلاس منعقد کیا۔ ان کا خیال تھا کہ مہنگائی کے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اجلاس میں ملک کے ایک اہم اور بڑے اخبار ایکپریسن (Espressen)کا صحافی بھی موجود تھا۔ 23 سالہ این میری نارمین (Ann-Marie Norman)نے ایکسپریسن کے صحافی سے کہا کہ اس کا ٹیلی فون نمبر اخبار میں شائع کر دو کہ اگر کوئی اور عورت بھی مہنگائی کے سوال پر غصے میں ہے تو ہم سے رابطہ کر سکے۔
پھر یوں ہوا کہ فون ایسا بجنا شروع ہوا کہ این میری نارمین کو فون کا پلگ ہی نکالنا پڑا۔ اس مہم کا آ غاز کرنے والی خواتین کو ’خیر ہولم ہاوس وائیوز‘ (Skarholmsfruar) کا نام دیا گیا۔
پمفلٹ بانٹے گئے۔ پلے کارڈ لے کر جلسے کئے گئے۔ پوسٹر شائع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مہم مقبول ہونے لگی۔ مہنگائی کے خلاف سٹاک ہولم میں چھ ہزار لوگوں کا جلوس نکلا (جو اس شہر اور ملک کے معیار کے مطابق بہت بڑا تھا)۔ خیر ہولم میں دودھ کی فروخت میں 60 فیصد کمی ہوئی۔ سٹاک ہولم میں 6 فیصد کمی ہوئی۔
Priserna stiger och Palme tiger
(قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ پالمے خاموش ہے)
ایک مقبول نعرہ بن گیا۔ سال ختم ہوتے ہوتے حکومت مجبور ہو چکی تھی۔ اعلان کیا گیا کہ اگلے دو سال تک دودھ اور مکھن کی قیمت میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔
(کیا پاکستان میں ایسا نہیں ہو سکتا؟)
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

